ہندوستان
مودی کی صدارت میں وزارت سیاحت کی اعلیٰ سطحی جائزہ میٹنگ
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی کی صدارت میں منگل کو مرکزی وزارت سیاحت کی ایک اعلیٰ سطحی جائزہ میٹنگ ہوئی۔ میٹنگ میں وزارت کے کام کاج اور آئندہ کے لائحہ عمل کے حوالے سے تفصیلی فیڈ بیک حاصل کیا گیا۔
اس میٹنگ میں ثقافت اور سیاحت کے مرکزی وزیر گجیندر سنگھ شیخاوت کے ساتھ محکمہ کے سینئر افسران موجود تھے۔ مسٹر شیخاوت نے کہا کہ وزیر اعظم مودی نے ہندوستان کے سیاحت کے شعبے کو فروغ دینے کے بارے میں جائزہ میٹنگ میں رہنمائی فراہم کی۔
انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم مودی سیاحت کی ترقی کو ملک کی سماجی و اقتصادی زندگی میں بہتری سے جوڑتے ہیں، اس لیے وہ ہ ہندوستان کو دنیا کا ایک قابل اعتماد اور آسان سیاحتی مقام بنانے کے لیے پالیسی میں مسلسل بہتری کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے ہر بار ’انکریڈیبل انڈیا‘ دیتے ہیں۔
مودی حکومت کی مختلف اسکیمیں ہندوستان کو دنیا کا ایک قابل اعتماد اور آسان سیاحتی مقام بنانے میں اہم کردار ادا کررہی ہیں جن میں پرساد اور سودیش درشن اسکیمیں خاص ہیں۔ پرساد اسکیم کا مقصد ملک میں اہم تیرتھ استھلوں کی جامع ترقی کرنا ہے، اس طرح مذہبی سیاحت کو فروغ دینا اور مقامی معیشت کو مضبوط کرنا ہے۔ اس اسکیم کے تحت اب تک 1,646.99 کروڑ روپے کے 48 پروجیکٹوں کو منظوری دی گئی ہے، جن میں سے 23 پروجیکٹ مکمل ہوچکے ہیں۔ سودیش درشن اسکیم کا مقصد تھیم پر مبنی ٹورسٹ سرکٹس تیار کرنا ہے۔
یو این آئی۔ این یو۔
ہندوستان
ٹرمپ کا ہندوستان کے انتخابی نظام کو ماڈل قرار دے کر۔ دو آخری واشنگٹن
ہندوستان میں امریکی سفیر سرجیو گور نے بھی ٹرمپ کے بیان کی حمایت کرتے ہوئے ایکس پر لکھا، ’’صدر ڈونالڈ جے ٹرمپ بالکل درست ہیں!ہندوستان کے گزشتہ انتخابات میں 646 ملین ووٹرز تھے اور ہر ایک کے لیے شناختی دستاویز لازمی تھی۔
کانگریس کو سیو امریکہ ایکٹ منظور کرنا چاہیے۔‘‘مجوزہ قانون میں ڈاک کے ذریعے ووٹنگ کے لیے مزید سخت ضوابط، ووٹرز کی اہلیت کی مضبوط جانچ اور انتخابی فہرستوں سے نااہل افراد کی شناخت کرکے انہیں خارج کرنے کے لیے اختیارات میں توسیع بھی شامل ہے۔
وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کی ضرورت غیر شہریوں کو ووٹ ڈالنے سے روکنے اور انتخابی عمل پر عوام کے اعتماد کو مضبوط بنانے کے لیے ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ بارہا ہندوستان اور برازیل کو ایسے ممالک کی مثال کے طور پر پیش کر چکی ہے جہاں ووٹر شناخت کو بایومیٹرک نظام سے منسلک کیا گیا ہے، جبکہ اس کے مقابلے میں امریکہ میں شہریت کے خود اقراری نظام پر زیادہ انحصار کی نشاندہی کی جاتی ہے۔
مارچ 2025 میں ٹرمپ کے دستخط کردہ ایک ایگزیکٹو آرڈر میں بھی ہندوستان اور برازیل کو ایسے ممالک کی مثال کے طور پر پیش کیا گیا تھا جہاں ووٹر شناخت بایومیٹرک نظام سے منسلک ہے۔ حکم نامے میں امریکی انتخابات کے لیے زیادہ مضبوط حفاظتی اقدامات، بشمول ووٹر کے ذریعے قابل تصدیق کاغذی ریکارڈ اور ڈاک و غیرحاضری کے بیلٹ کی مزید سخت جانچ کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
ٹرمپ یہ مؤقف بھی بارہا اختیار کر چکے ہیں کہ ڈاک کے ذریعے ووٹنگ سے دھوکہ دہی اور غلطیوں کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ انتظامیہ نے ووٹر شناخت اور شہریت کے ثبوت کی لازمی شرط کے لیے حمایت بڑھانے کی غرض سے ان رائے عامہ کے جائزوں کا بھی حوالہ دیا ہے جن کے بارے میں اس کا کہنا ہے کہ ان میں عوام کی بڑی تعداد ان تقاضوں کی حمایت کرتی ہے۔
ٹرمپ نے مارچ 2026 میں ایک اور ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کیے، جس کے تحت وفاقی انتخابات کے لیے شہریت کی تصدیق کو مضبوط بنانے اور ڈاک و غیرحاضری کے بیلٹ سے متعلق طریقہ کار کو مزید سخت کرنے کی ہدایت دی گئی۔
سیو ایکٹ کیپٹل ہل پر بدستور سیاسی تنازع کا باعث بنا ہوا ہے۔ ڈیموکریٹس اس کی متعدد شقوں کی سخت مخالفت کر رہے ہیں، جبکہ ریپبلکنز کے درمیان بھی بعض معاملات پر اختلافات سامنے آئے ہیں۔ سینیٹ نے اس ماہ کے آغاز میں قانون پر فیصلہ کن کارروائی کیے بغیر پانچ ہفتوں کی تعطیلات شروع کر دی تھیں۔
اس کے باوجود ٹرمپ نے اس بل کو اپنے انتخابی سالمیت کے ایجنڈے کا اہم حصہ بنائے رکھا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکی انتخابات کے تحفظ کے لیے ووٹر کی لازمی شناخت اور شہریت کی تصدیق ضروری ہے۔
ہندوستان کے بڑے پیمانے پر انتخابی عمل اور ووٹر شناخت کی لازمی شرائط کا حوالہ دے کر ٹرمپ امریکہ کے انتخابی قوانین میں تبدیلی کی اپنی مہم میں ہندوستانی نظام کو ایک اہم مثال کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔
زیادہ سخت پابندیوں کے حامی طویل عرصے سے ڈاک کے ذریعے ووٹنگ کی شفافیت پر سوال اٹھاتے رہے ہیں۔ کمیشن آن فیڈرل الیکشن نے خبردار کیا ہے کہ ڈاک کے ذریعے ووٹنگ سے دھوکہ دہی اور متنازع انتخابات کے خطرات بڑھ سکتے ہیں، تاہم کمیشن نے یہ بھی کہا ہے کہ غیرحاضری کے بیلٹ میں ووٹوں کی خرید و فروخت کی اسکیموں کا پتہ لگانے میں خاص مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔
2012 میں نیویارک ٹائمز کی ایک تحقیق میں بھی ڈاک کے ذریعے ڈالے جانے والے بیلٹ سے متعلق خدشات کا جائزہ لیا گیا تھا، جن میں یہ امکان بھی شامل تھا کہ ذاتی طور پر ڈالے گئے ووٹوں کے مقابلے میں ایسے بیلٹ کو چیلنج یا متاثر کیے جانے کے امکانات زیادہ ہو سکتے ہیں۔
حال ہی میں ہاوس ری پبلکن پالیسی کمیٹی نے بھی مؤقف اختیار کیا ہے کہ بڑے پیمانے پر ڈاک کے ذریعے ووٹنگ سے غلطیوں اور دھوکہ دہی کے امکانات بڑھ سکتے ہیں، خاص طور پر ان ریاستوں میں جہاں ووٹر فہرستوں کو باقاعدگی سے اپ ڈیٹ نہیں کیا جاتا اور اس سے انتخابی نظام پر عوام کا اعتماد متاثر ہو سکتا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
ذات پرمبنی مردم شماری پر مودی حکومت نے پھر ماری پلٹی: کانگریس
نئی دہلی، کانگریس نے ذات پر مبنی مردم شماری کے تعلق سے مودی حکومت پر ایک بار پھر یو ٹرن لینے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ذات پر مبنی مردم شماری کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہی ہے کانگریس کے شعبہ مواصلات کے انچارج جے رام رمیش نے منگل کے روز سوشل میڈیا ایکس پر کہا کہ 21 ستمبر 2021 کو مودی حکومت نے سپریم کورٹ میں داخل کردہ حلف نامے میں ذات پر مبنی مردم شماری کے مطالبے کو واضح طور پر مسترد کر دیا تھا۔ تاہم، حلف نامے کے پیرا 12 (ڈی) میں حکومت نے کہا تھا کہ 2011 کی مردم شماری سے پہلے ذاتوں کا کوئی رجسٹر تیار نہیں کیا گیا تھا اور بہتر ہوتا کہ ذاتوں کے انتخاب کے لیے ‘ڈراپ ڈاؤن مینو’ یعنی ذاتوں کی پہلے سے تیار شدہ فہرست ہوتی، جس سے یکساں اور قابلِ اعتماد اعداد و شمار جمع کیے جا سکتے۔
مسٹر رمیش نے سوال کیا کہ جب حکومت نے خود ایسے نظام کو مثالی بتایا تھا تو مردم شماری 2027 میں ذاتوں کی ایسی فہرست کیوں نہیں ہے؟ انہوں نے کہا کہ بہار اور تلنگانہ میں ذات پر مبنی سروے سے پہلے ایسی فہرست تیار کی گئی تھی۔
کانگریس صدر نے بھی 5 مئی 2025 کو وزیرِ اعظم کو لکھے گئے خط میں ایسے نظام کی تجویز دی تھی۔
انہوں نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ اس سے یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ مودی حکومت ذات پرمبنی مردم شماری کے نظام کو ناکام بنانا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیرِ اعظم نریندر مودی نے 30 اپریل 2025 کو ذات پرمبنی مردم شماری کرانے کا اعلان کر کے اپنے پرانے موقف سے یو ٹرن لیا تھا، لیکن اب وہ اپنے اسی فیصلے سے بھی پیچھے ہٹ رہے ہیں۔ مسٹر رمیش نے وزیرِ اعظم کو ‘یو ٹرن استاد’ بھی قرار دیا۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
جھارکھنڈ کے طلبہ کی بھوک ہڑتال کا ختم ہونا اچھا، لیکن ان کے سوالوں کے جواب ملنے چاہئیں: راہل
نئی دہلی، کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی نے جھارکھنڈ کے طلبہ اور ریاستی حکومت کے درمیان اتفاقِ رائے بننے اور طلبہ کی بھوک ہڑتال ختم ہونے پر مسرت کا اظہار کیا، لیکن کہا کہ طلبہ کے سوالوں کے جواب ملنے چاہئیں مسٹر گاندھی نے منگل کے روز سوشل میڈیا ایکس پر کہا کہ وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین اور جھارکھنڈ حکومت نے بات چیت کا راستہ چنا اور حل نکالا۔ طلبہ نے صبر و ضبط کا مظاہرہ کیا اور اپنی بات منوائی۔
انہوں نے کہا، “یہی درست طریقہ ہے- طلبہ سوال پوچھیں، تو جواب ملنا چاہیے۔ میں ہر طالب علم کے ساتھ کھڑا ہوں اور ‘اس وصولی کے نظام’ کو جڑ سے بدل کر رہیں گے، تاکہ ہر طالب علم کو اس کی محنت کا پورا پھل اور منصفانہ مسابقت کا حق ملے۔”
انہوں نے کہا کہ پورے ملک میں یہ نظام بدلے گا اور ایسا نظام بنے گا جو طلبہ کو آگے بڑھائے، انہیں پیچھے نہ دھکیلے۔
یو این آئی ایف اے
-
جموں و کشمیر6 days agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
جموں و کشمیر1 week agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا1 week agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا1 week agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا1 week agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا1 week agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
ہندوستان5 days agoملک کی اجتماعی یادداشت کے محافظ اور مستقبل کے تصور کے خالق ہیں فنکار: مرمو
-
دنیا1 week agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا1 week agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا1 week agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا1 week agoموساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
