پاکستان
پاکستان کے کسی وزیر اعظم نے پانچ سال کی مدت پوری نہیں کی
اسلام آباد،یکم اپریل (یو این آئی) پاکستان میں عمران خان کی قیادت والی حکومت کے خلاف قومی اسمبلی میں پیش کی گئی تحریک عدم اعتماد منظور ہو جاتی ہے تو عمران ملک کے 22ویں وزیر اعظم ہوں گے جو اپنی مدت پوری نہیں کر سکے، تاہم پاکستان کی آزادی سے لے کرآج تک کوئی ایک وزیراعظم بھی اپنی مدت کار پوری نہیں کر پایا ہے ۔
جیو ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق لیاقت علی خان 1947 میں آزادی کے بعد پہلے وزیر اعظم تھے لیکن راولپنڈی میں 16 اکتوبر 1951 کو ان کا قتل کر دیا گیا اور وہ صرف چار سال تک اس عہدے پر فائز رہے، ان کے بعد خواجہ ناظم الدین دو سال سے بھی کم عرصے تک اس عہدے پر رہے ۔ ان کے جانشین محمد علی بوگرہ کا دوراقتدار بھی دو سال کا رہا۔
اس کے علاوہ چوہدری محمد علی ایک سال سے بھی کم عرصے کے لیے، حسین شہید سہروردی (ایک سال)، ابراہیم اسماعیل چندریگر (2 ماہ)، فیروز خان نون (ایک سال سے کم) اور نورالامین صرف (13 دن) کے لئے وزیراعظم کے عہدے پر رہے۔ .
اس کے بعد ذوالفقار علی بھٹو وزیراعظم بنے ۔ وہ دو سال تک عہدے پر رہے اور 1979 میں انہیں پھانسی دے دی گئی ۔ بھٹو کے بعد محمد خان جونیجہ نے تین سال تک عہدہ سنبھالا۔ ان کے بعد بے نظیر بھٹو ملک کی پہلی خاتون وزیراعظم بنیں اور دو سال تک اس عہدے پر رہیں۔ ان کے بعد نواز شریف کا دور حکومت بھی تین سال سے کم رہا ۔ بے نظیر بھٹو ایک بار پھر تین سال کے لیے اقتدار میں آئیں۔ شریف پھر اقتدار میں واپس آئے اور دو سال تک اس عہدے پر رہے۔
ان کے بعد میر ظفر اللہ خان جمالی 19 ماہ، چوہدری شجاعت دو ماہ، شوکت عزیز تین سال، یوسف رضا گیلانی چار سال ، راجہ پرویز اشرف ایک سال سے بھی کم عرصے کے لیے عہدے پر رہے۔
اس کے بعد نواز شریف نے چار سال 53 دن کا چارج سنبھالا ، جبکہ شاہد خاقان عباسی کا دور حکومت بھی ایک سال سے کم رہا۔ اس کے بعد عمران خان نے 18 اگست 2018 کو عہدہ سنبھالا۔ ان کی مدت کار 2023 میں ختم
پاکستان
بلوچستان میں خوفناک حادثہ، مسافر بس کھائی میں گرنے سے 39 افراد جاں بحق
کوئٹہ،بلوچستان کے ضلع ژوب میں خوفناک حادثہ پیش آیا ہے جہاں بس گہری کھائی میں گرنے سے 39 مسافر جاں بحق ہو گئے ہیں۔
اے آر وائی نیوز کے نمائندے رفیق ژوب مطابق حادثہ شیرانی کے علاقے دانہ سر میں اس وقت پیش آیا، جب موڑ کاٹتے ہوئے تیز رفتاری کے باعث بس کے بریک فیل ہو گئے، جس کے نتیجے میں بس گہری کھائی میں جا گری۔
حادثے کی اطلاع ملتے ہی پولیس، ضلع انتظامیہ اور ریسکیو ادارے جائے حادثہ پہنچ گئے اور امدادی سرگرمیاں شروع کر دیں۔
حادثہ اتنا سنگین تھا کہ بس مکمل طور پر تباہ ہو گئی اور بس کے حصوں کو کاٹ کر لاشوں اور زخمیوں کو نکالنا پڑا۔ جاں بحق ہونے والوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔
ریسکیو حکام نے لاشوں اور زخمیوں کو قریبی اسپتال پہنچایا، جہاں کئی زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔
ڈی سی ژوب حضرت ولی کاکڑ کے مطابق حادثے میں 16 افراد موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے تھے جب کہ باقی افراد نے امدادی سرگرمیوں اور اسپتال پہنچنے کے بعد دم توڑا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
پاکستان
پاکستان کے افغانستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر حملے، 29 دہشت گرد ہلاک
اسلام آباد، پاکستان نے افغانستان کے مشرقی علاقوں میں دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کو نشانہ بنا کر فضائی حملے اور زمینی کارروائیاں کی ہیں۔
حکام کے مطابق یہ کارروائیاں پاکستان کی سرحد کے اندر ہونے والے مہلک حملوں کے جواب میں کی گئی ہیں۔ کاروائیوں کے نتیجے میں 29 دہشت گرد ہلاک ہوگئے ہیں۔
پاکستان کے وزیرِ اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ “پکتیا، پکتیکا اور کنڑ میں تین اہداف کو انتہائی درست فضائی حملوں کے ذریعے تباہ کر دیا گیا ہے”۔ تارڑ کے مطابق یہ فضائی حملے ایک وسیع آپریشن کا حصہ تھے جس میں پاکستان۔افغانستان سرحد پر خفیہ معلومات کی بنیاد پر زمینی کارروائیاں بھی شامل تھیں۔
انہوں نے کہا ہےکہ اس آپریشن کا ہدف جماعت الاحرار تھا جسے عموماً تحریک طالبان پاکستان سے منسلک ایک دہشت گرد تنظیم قرار دیا جاتا ہے۔ عطا اللہ تارڑ نے کہا ہےکہ رات کے وقت کی جانے والی یہ کارروائی کراچی میں ہفتے کے روز ہونے والے اور تین نیم فوجی اہلکار وں کی ہلاکت کا سبب بننے والےحملے کے جواب میں کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان کے سرحدی صوبوں میں حالیہ پُرتشدد واقعات بھی اس کارروائی کا سبب بنے ہیں۔
ایسوسی ایٹڈ پریس نے حکام کے حوالے سے شائع کردہ خبر میں کہا ہے کہ پاکستان کی سکیورٹی فورسز نے اتوار کے روز پاکستان۔افغانستان سرحد پر خفیہ معلومات کی بنیاد پر زمینی آپریشن کیا جس کے بعد دہشت گردوں کی پناہ گاہوں پر “انتہائی درست حملے” کیے گئے، جن میں 29 دہشت گرد مارے گئے ہیں۔ پاکستان نے رواں مہینے کے آغاز میں کئے گئے حملے سمیت حالیہ مہینوں میں افغانستان کے اندر متعدد فضائی حملے کیے ہیں۔ دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان سرحد اکتوبر میں تشدد میں اضافے کے بعد سے بڑی حد تک بند ہےاور دونوں ممالک کے درمیان تجارتی سرگرمیاں بھی معطل ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
پاکستان
جمعہ کو امریکہ اور ایران میں ’’اسلام آباد معاہدے‘‘ کی میزبانی پاکستان کرے گا
اسلام آباد،جمعہ کو امریکہ اور ایران میں ’’اسلام آباد معاہدے‘‘ کی میزبانی پاکستان کرے گا پاکستان کی سفارتی کوششیں رنگ لے آئیں اور تیسری عالمی جنگ کے بادل چھٹ گئے، پاکستان جمعہ 19 جون 2026، کو سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں امریکہ اور ایران کے درمیان ایک تاریخی امن معاہدے کی دستخطی تقریب کی میزبانی کرے گا وزیر اعظم شہباز شریف اعلیٰ سطح وفد کے ہمراہ تقریب میں شرکت کریں گے، وزیر اعظم نے قومی اسمبلی سے خطاب میں کہا جنگ کی تاریک رات کے بعد امن کا سورج طلوع ہو گیا، عظیم کامیابی پر مؤرخ پاکستان کا نام سنہرے حروف سے لکھے گا۔
شہباز شریف نے پیر کے روز کہا ہم بالآخر آنے والے جمعہ کو جنیوا میں امن معاہدے پر دستخط ہوتے دیکھنے جا رہے ہیں۔
انھوں نے پیر کی صبح اعلان کیا تھا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان طویل اور گہری مذاکراتی کوششوں کے بعد ایک معاہدہ طے پا گیا ہے، جس کے تحت دونوں ممالک نے لبنان سمیت تمام محاذوں پر فوجی کارروائیوں کے فوری اور مستقل خاتمے کا اعلان کیا ہے۔
پاکستان 8 اپریل کو جنگ بندی کرانے میں کامیابی کے بعد سے دونوں فریقوں کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے۔ اور اب فریقین کے درمیان ایک مفاہمتی یادداشت الیکٹرانک طور پر دستخط بھی ہو گئے ہیں، اور امریکہ نے آبنائے ہرمز میں ناکہ بندی بھی ختم کر دی ہے جس کے سبب ایرانی تیل بردار بحری جہاز گزرنا شروع ہو گئے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
