تازہ ترین
پیر پنچال کے آر پار قہر انگیز مو سلا دھار بارشیں،ندی نالوں میں طغیانی
جموں،خطہ پیر پنچال میں سیلابی صورتحال پیدا،پانی وبجلی سپلائی متاثر
ایک شہری جاں بحق، درجنوں مویشی ہلاک،کئی ڈھانچوں اور گاڑیوں کو شدید نقصان،کئی پل ڈھہ گئے،درجنوں زمینی رابطے منقطع
خبراردو:-
سرینگر:محکمہ موسمیات کی پیش گوئی کے عین کے مطابق پیر پنچال کے آر پار موسلا دھار روزہ بارشوں کا سلسلہ 25اور26اگست کی درمیانی رات سے شروع ہوا،جو بدھ کو وقفے وقفے سے دن بھر جاری رہا جسکے نتیجے میں طویل ترین خشک سالی کا موسم ختم ہوگیا۔تاہم موسلا دھار بارشوں کے نتیجے میں جموں اور خطہ پیر پنچال کے کئی علاقوں میں سیلابی صورتحال پیدا ہوئی۔
اس دوران ندی نالوں میں طغیانی آنے، زمین دھنسنے،مٹی کے تودے گرآنے،چٹانیں کھسکنے،پسیاں گرآنے اور فلش فلڈ کے نتیجے میں ایک شہری جاں بحق ہوگیا جبکہ درجنوں مویشی بھی ہلاک ہوئے۔اس کے علاوہ کئی ڈھانچوں اور گاڑیوں کو بھی شدید نقصان پہنچا۔کئی پل ڈھہ جانے سے200دیہات کا زمینی را بطہ منقطع ہوگیا۔
کئی حساس علاقوں سے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔دریں اثناء وادی کشمیر میں بھی بارشوں کے نتیجے میں سڑکیں پانی سے لبا لب ہوگئیں جبکہ دریاؤں اور ندی نالوں میں سطح آب میں تیزی سے اضافہ بھی ہورہا ہے۔کشمیر نیوز سروس کے مطابق جموں وکشمیر میں مغربی ہوائیں داخل ہونے کیساتھ ہی منگلوار اور بدھ کی درمیانی رات سے گرج چمک کیساتھ ساتھ تیز بارشوں کا سلسلہ شروع ہوا۔
بارشوں کے نتیجے میں جموں اور خطہ پیر پنچال بری طرح سے متاثر ہوا۔جموں:بارشوں کے نتیجے میں جموں میں جہاں درجنوں علاقہ زیر آب آگئے اور لوگوں کو عبور ومرور میں شدید ترین مشکلات کا سامنا ہے۔جموں نامہ نگار کے مطابق شدید بارشوں کے نتیجے میں ندی نالوں میں آئی طغیانی کے سبب دراپ نالہ جموں پر تعمیر کئے گئے بابیاں پل صبح9بجکر30منٹ تیز پانی کے ریلے نے اپنے ساتھ بہا لیا۔
پل ڈھہ جانے کے نتیجے میں 200دیہات کا زمینی رابطہ منقطع ہو گیا۔مقامی لوگوں نے پل کی تعمیر پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ’کس طرح کی انجینئر نگ کی گئی؟،چار۔پانچ برس قبل ہی اس پل کی تعمیر کی گئی تھی‘۔ادھر جموں کے کئی نچلے علاقے زیر آب آگئے ہیں جسکی وجہ سے لوگوں کی ایک بڑی تعداد گھروں میں محصور ہو کر رہ گئی۔نانا نگر،جیون نگر،چینانی راما،پمپوش کالونی،اور دیگر کئی علاقے زیر آب گئے جبکہ ان علاقوں میں کئی رہائشی مکانات اور گاڑیوں کو بھی شدید نقصان پہنچا یا۔معلوم ہوا ہے کہ جموں کے کئی علاقوں میں پانی اور بر قی رو کی سپلائی متاثر ہوئی۔
کٹھوعہ میں پولیس نے15خانہ بدوش افراد کو اجھ دریامیں فلش فلڈ آنے کے بعد ریسکیو کرکے محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔پولیس نے بدھ کو کہا کہ کٹھوعہ ضلع میں سیلابی ریلوں کے بیچ پھنسے15افراد کو بحفاظت نکالا گیا ہے۔مختلف گھرانوں سے وابستہ یہ افراد ریائے اْجھ میں آئے سیلابی ریلوں میں پھنس کر رہ گئے تھے۔پولیس کو جونہی اطلاع ملی کہ کٹھوعہ کے راج باغ علاقے میں کچھ خانہ بدوش افراد، جو وہاں عارضی طور قیام پذیر تھے، سیلانی ریلوں میں پھنس گئے ہیں تو پولیس نے فوری بچاؤکارروائی ہاتھ میں لیکر پھنسے افراد کو، جن میں بچے اور خواتین بھی شامل تھیں،محفوظ مقام تک پہنچایا۔جموں خطے کے کئی علاقوں میں زور دار بارشوں کے نتیجے میں سیلابی ریلے آئے ہیں اور ندی نالوں میں پانی کی سطح میں اضافہ ہوا ہے۔
خطہ پیر پنچال:ضلع پونچھ کے مینڈھر علاقے میں ایک جواں سال شہری زمینی تودے کے نیچے آکر دفن ہوگیا جبکہ ایک علیحدہ واقعہ میں کئی مویشی ایک شیڈ کے نیچے آگئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق 35سالہ محمد شوکت ولد محمد حسین ساکن کالر مورا(مینڈھر) ایک زمینی تودے کے نیچے آکر دفن ہوگیا۔یہ تودہ کوٹلی کے گولر نارا ڈھوک علاقے میں شدید بارش ک وجہ سے گر آیا۔شوکت کی لاش مقامی لوگوں کے ہاتھوں بر آمد کی گئی ہے۔
مینڈھر کے ہی سانگیوٹ گاوں میں ایک علیحدہ واقعہ میں بدھ کی صبح مویشیوں کا ایک شیڈ ڈھ گیا جس کے نیچے کئی مویشی آگئے۔مقامی ذرائع کے مطابق کم و بیش چھ بھینسیں شیڈ کے ملبے کے نیچے دبی ہیں اور اْنہیں بچانے کی کوششیں جاری ہیں۔ادھر راجوری ضلع کے سکتوہ اور درہال علاقوں میں بدھ کی صبح شدید بارشوں کی وجہ سے سیلابی ریلے آنے سے کئی سڑکوں اور پلوں کو نقصان پہنچا ہے۔
حکام کے مطابق راجوری میں شدید بارشوں کے نتیجے میں وہاں بہنے والے دو دریاوں کے پانی کی سطح اچانک بڑھ گئی ہے۔حکام کے مطابق بد ھ کی صبح سالانی کے مقام پر، جہاں سکتوہ اور درہالی دریا ملتے ہیں،پانی سطح سیلاب کی حد تک بڑھ گئی۔حکام نے مزید کہا کہ ایسا گذشتہ چالیس برس میں وہاں پہلی بار ہوا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ پانی کی سطح میں اب بتدریج کمی ہورہی ہے تاہم اچانک آئے سیلابی ریلوں کی وجہ سے کئی پلوں اور سڑکوں کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔کئی سومو گاڑیاں نالے پار کے دوران سیلابی ریلوں میں پھنس گئیں،جو کے بعد یہاں ریسکیو آپریشنز بھی عمل میں لائے گئے۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز(منگلوار کے روز)ریاسی ضلعے میں ایک ہی کنبے کے تین افراد سمیت4افراد کی موت ہوئی تھی۔معلوم ہوا ہے کہ خطہ پیر پنچال کے کئی علاقوں میں سیلابی صورتحال پیدا ہونے کے بیچ پانی اور بجلی کی سپلائی متاثر ہوئی۔اس دوران وادی کشمیر میں بھی بدھ کے روز وقفے وقفے سے بارشوں کا سلسلہ جاری رہا۔شہر میں کئی نشیبی علاقہ حسب سابقہ زیر آب آگئے جبکہ سڑکیں اور بازار پانی سے لبا لب ہو نے لوگوں کو عبور ومرور میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ ا۔اری گیشن اینڈ فلڈ کنٹرول کے مطابق دریائے جہلم میں بدھ کی دوپہر ایک بجے تک سنگم کے مقام پر3.76فٹ سطح آب تھی جبکہ سطح آب میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔
اس دوران محکمہ موسمیات نے بتایا کہ گزشتہ4گھنٹوں کے دوران سرینگر میں صبح ساڑھے8بجے تک 0.4ملی میٹر بارش ہوئی تھی جبکہ قاضی گنڈ میں 1.8ایم ایم، پہلگام میں 11.0ایم ایم،جموں میں 18.0ایم ایم، بانہال میں 33.4ایم ایم بارشیں ہوئیں۔سرینگر میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 220-.6ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا جبکہ قاضی گنڈ میں 20.9، پہلگام میں 20.6، کپوارہ میں 21.0، کوکرناگ میں 22.5، گلمرگ میں 15.4ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا۔ترجمان کے مطابق اسی طرح جموں میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 29.8، بانہال میں 21.4، بٹوت میں 20.8اور کٹرا میں 26.3ریکارڈ کیا گیا جبکہ بھدرواہ میں یہ درجہ حرارت21.2ڈگری سیلسیس درج کیا گیا۔
پاکستان
پاکستان اور ترکی سعودی عرب کی حوثیوں کے خلاف جنگ میں شمولیت کے قریب
اسلام آباد، سعودی عرب کی جانب سے فوری اجلاس کی درخواست کے بعد پاکستان اور ترکی کے اعلیٰ فوجی سربراہان ریاض پہنچنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ یہ پیش رفت یمن میں حوثیوں کے خلاف جاری جنگ کے سعودی سرزمین تک پھیلنے کے درمیان ہوئی ہے، تاہم دونوں ممالک اب بھی اپنی ممکنہ فوجی شمولیت کی حد کے معاملے میں محتاط ہیں۔
ترک وزارت دفاع نے جمعہ کو تصدیق کی کہ چیف آف جنرل اسٹاف جنرل سلجوق بایراکتار اوغلو سعودی عرب کا دورہ کریں گے۔ پاکستان کے چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر کے بھی جلد ریاض پہنچنے کی توقع ہے، تاہم پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے ان کی روانگی کی تصدیق نہیں کی۔
یہ پیش رفت سعودی عرب کی جانب سے ترکی اور پاکستان سے فوجی سربراہان کا اجلاس بلانے کی درخواست کے بعد سامنے آئی ہے۔ سعودی سرزمین پر کئی ہفتوں سے حوثی ملیشیا کے میزائل اور ڈرون حملے جاری ہیں۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق حوثیوں نے جمعرات کو سعودی اہداف پر درجنوں میزائل اور ڈرون داغنے کا دعویٰ کیا، جن میں ریاض میں ایک ‘حساس ہدف’ اور ینبع میں سعودی آرامکو کی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ بھی شامل ہے۔ سعودی حکام کے مطابق فضائی دفاعی نظام نے طائف اور ینبع کی جانب آنے والے چھ بیلسٹک میزائلوں کو مار گرایا، جبکہ مکہ، جدہ اور ینبع کے لیے ہنگامی انتباہات جاری کیے گئے۔
7 اگست کو طے پانے والے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت سعودی عرب، ترکی یا پاکستان میں سے کسی ایک پر حملہ تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔
تینوں ممالک کے فوجی سربراہان کے اجلاس کا اعلان 24 ستمبر کو نیویارک میں سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان، پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان کی ملاقات کے بعد کیا گیا۔
سعودی وزارت خارجہ کے مطابق اجلاس میں دفاعی معاہدے کے تحت سعودی عرب کی حمایت کے طریقوں پر غور کے لیے فوجی سربراہان کی فوری ملاقات کی تیاریوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ سعودی عرب نے مکہ اور شہری و اقتصادی تنصیبات پر حملوں کی مذمت کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے چارٹر کی دفعہ 51 کے تحت اپنے دفاع کے حق پر زور دیا۔
تاہم پاکستان نے اسی ملاقات کے بارے میں نسبتاً محتاط مؤقف اختیار کیا۔ اسحاق ڈار نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر کہا کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت معاہدے کے ادارہ جاتی ڈھانچے کے قیام کی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا اور علاقائی و بین الاقوامی سلامتی کے معاملات پر تبادلہ خیال ہوا۔
ترکی نے بھی نیویارک ملاقات کو معاہدے کو ادارہ جاتی شکل دینے کے لیے جاری ‘تکنیکی مذاکرات’ کا جائزہ قرار دیا۔
اس کے برعکس ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان نے چند روز قبل ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا تھا کہ دونوں ممالک کا معاہدہ ‘اتحادی عزم’ پر مشتمل ہے اور ترکی اپنے وعدے پر قائم رہے گا۔ ان کے مطابق سعودی عرب کو بعض تکنیکی شعبوں میں فوجی مدد کی ضرورت ہو سکتی ہے اور ترکی کو اسے پورا کرنے میں کوئی مسئلہ نہیں ہوگا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق دونوں ممالک کا محتاط رویہ حوثیوں کی جانب سے براہ راست دھمکیوں سے بھی منسلک ہو سکتا ہے۔
حوثی سیاسی بیورو کے رکن محمد البخیتی نے رواں ہفتے عراقی ٹی وی کو بتایا کہ اگر پاکستان اور ترکی جنگ میں داخل ہوئے تو انہیں ‘آہنی مٹھی’ کا سامنا کرنا پڑے گا۔
اسلام آباد کے انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز کے سینئر ایسوسی ایٹ اور ریٹائرڈ بریگیڈیئر تغرل یامین نے کہا کہ معاہدے کے دونوں فریقوں کو عملی مشکلات کا سامنا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کی فوج اندرونی و بیرونی خطرات کے باعث پہلے ہی کئی محاذوں پر مصروف ہے، جبکہ ترکی کے لیے بھی سعودی عرب میں فوج بھیجنے کا فیصلہ آسان نہیں ہوگا کیونکہ اسے نیٹو سے متعلق ذمہ داریوں اور شام کے ساتھ اپنی سرحدی صورتحال کو بھی دیکھنا ہے۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر
تنگ دھر میں آنکھوں کے بڑے جراحی کیمپ میں فوجی سربراہ جنرل دھیرج سیٹھ نے مریضوں سے ملاقات کی
سری نگر، فوجی سربراہ جنرل دھیرج سیٹھ نے جمعہ کو کپواڑہ کے تانگدھر میں آپریشن درشٹی کے تحت منعقدہ 10ویں آنکھوں کے بڑے جراحی کیمپ کے دوران مریضوں سے ملاقات کی اور انہیں دوائیں اور تحائف تقسیم کیے۔
مسلح افواج کی طبی خدمات کے جراحوں نے تنگ دھر میں زیر زمین آپریشن تھیٹر میں 220 ایسے جراحی کے عمل انجام دیے جن سے مریضوں کی بینائی بحال ہوئی۔ تانگدھر کشمیر میں لائن آف کنٹرول کے ساتھ واقع ایسا علاقہ ہے جہاں اکثر گولہ باری کا خطرہ رہتا ہے۔
زیادہ تر آپریشن موتیا کے تھے، جب کہ بعض مریضوں کے ریٹینا سے متعلق جراحی کے عمل اور کم تکلیف دہ گلوکوما کے آپریشن بھی کیے گئے۔
دو روزہ کیمپ کے دوران فوجی سربراہ جنرل دھیرج سیٹھ نے کیمپ کا دورہ کیا، مریضوں سے ملاقات کی اور انہیں دوائیں اور تحائف تقسیم کیے۔
مسلح افواج کی طبی خدمات کے ڈائریکٹر جنرل ایئر مارشل سندیپ تھریجا نے بھی کیمپ کا دورہ کیا اور جراحوں اور مقامی ٹیم کی غیر معمولی مہارت اور کوششوں کی تعریف کی۔
اس کیمپ کی قیادت آرمی ہسپتال (ریسرچ اینڈ ریفرل)، دہلی چھاؤنی کے شعبہ چشم کے سربراہ بریگیڈیئر سنجے کمار مشرا نے کی۔ ان کی ٹیم نے دشوار گزار پہاڑی علاقوں سے جدید فیکو ایمولسیفیکیشن، وٹریوریٹینل اور گلوکوما کے علاج کے آلات کیمپ تک پہنچائے۔
خواوارپورہ، تانگدر، ٹڈ، باگبیلا، ینگدر اور آس پاس کے دیہات سے مریض جانچ اور ریڈیو روحِ کرناہ پر نشر ہونے والی اطلاع کے بعد کیمپ پہنچے۔ ہندوستانی فوج نے ہر مریض کی آمد سے لے کر صحت یابی تک رہنمائی کی۔
وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کی ہدایت پر مسلح افواج کی طبی خدمات کی جانب سے منعقد کیے جا رہے آنکھوں کے بڑے جراحی کیمپوں کے سلسلے میں اب تک 1.50 لاکھ سے زیادہ مریضوں کی جانچ کی جا چکی ہے۔ 10 شہروں میں 3,500 سے زیادہ آپریشن کیے گئے ہیں۔
اس سلسلے کا 11واں کیمپ 27 سے 29 ستمبر تک سری نگر میں منعقد ہوگا۔ اس کیمپ کی اختتامی تقریب 30 ستمبر کو جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کی موجودگی میں منعقد ہوگی۔
یو این آئی۔ م س۔ م الف
جموں و کشمیر
مقامی بی جے پی قیادت ریاستی درجہ بحال کرنے کے خلاف، عمر کا الزام؛ کہا قرارداد ملک مخالف نہیں
سری نگر، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعہ کو الزام عائد کیا کہ مقامی بی جے پی قیادت جموں و کشمیر کا مکمل ریاستی درجہ بحال کرنے کے خلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ قانون ساز اسمبلی میں پیش کی گئی قرارداد پر بی جے پی کا اعتراض اس معاملے پر ووٹنگ سے بچنے کی کوشش ہے۔
ریاستی درجہ بحال کرنے کی قرارداد پیش کرنے کے بعد ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ یہ قرارداد صرف ریاستی درجہ بحال کرنے تک محدود ہے اور اس کا مقصد خودمختاری سمیت ماضی میں ایوان کی جانب سے منظور کی گئی قراردادوں کو دوبارہ کھولنا نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ سابقہ قراردادیں ’’ایوان کی ملکیت‘‘ ہیں اور تازہ قرارداد الگ سے مکمل ریاستی درجہ بحال کرنے اور حکومت ہند تک اسمبلی کا موقف پہنچانے کے لیے پیش کی گئی ہے۔
عمر عبداللہ نے بی جے پی کی جانب سے قرارداد کو ’’ملک مخالف‘‘ قرار دیے جانے کو بھی مسترد کرتے ہوئے سوال کیا کہ ریاستی درجہ بحال کرنے کا مطالبہ ملک مخالف کیسے ہو سکتا ہے۔
انہوں نے سوال کیا، ’’اس میں ملک مخالف کیا ہے؟‘‘ انہوں نے کہا کہ قرارداد میں آئین کے خلاف کچھ بھی نہیں ہے اور اس میں صرف جموں و کشمیر کے مکمل ریاستی درجہ کی بحالی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ تازہ قرارداد میں سابقہ قراردادوں کا حوالہ صرف یہ واضح کرنے کے لیے دیا گیا ہے کہ نئی قرارداد ان کے علاوہ ہے اور ان کی جگہ لینے یا ان کی اہمیت کم کرنے کی کوشش نہیں کرتی۔
عمر عبداللہ نے کہا، ’’اگر بی جے پی ان قراردادوں کو تبدیل کرنا چاہتی ہے تو اسے ایک قرارداد پیش کرنی چاہیے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ اس کے بعد اس معاملے کا فیصلہ ایوان میں ووٹنگ کے ذریعے کیا جا سکتا ہے۔
عمر عبداللہ نے الزام لگایا کہ بی جے پی کے 29 ارکان اسمبلی ریاستی درجہ بحال کرنے کی قرارداد پر ووٹ دینے کے لیے تیار نہیں ہیں اور پارٹی کے اعتراضات کو اس معاملے پر اپنا موقف اختیار کرنے سے بچنے کے بہانے کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے بی جے پی کے ارکان اسمبلی کو چیلنج کیا کہ وہ بحث میں حصہ لیں اور اپنی تقریروں اور ووٹ کے ذریعے اپنا موقف واضح کریں۔
انہوں نے کہا، ’’اگر وہ ریاستی درجہ کے حق میں ہیں تو ہاں کہیں۔ اگر وہ ریاستی درجہ کے خلاف ہیں تو نہیں کہیں۔ عوام کو معلوم ہو جائے گا۔‘‘
انہوں نے کہا کہ ریاستی درجہ کا معاملہ کسی خاص حکومت، سیاسی جماعت یا فرد سے متعلق نہیں بلکہ پورے جموں و کشمیر سے متعلق ہے۔
عمر عبداللہ نے کہا، ’’ریاستی درجہ حکومت کے بارے میں نہیں ہے۔ ریاستی درجہ میرے خاندان کے بارے میں نہیں ہے۔ ریاستی درجہ کسی سیاسی جماعت یا فرد کے بارے میں نہیں ہے۔ ریاستی درجہ پورے جموں و کشمیر کے بارے میں ہے۔‘‘
جب ان سے کہا گیا کہ جموں و کشمیر کابینہ پہلے ہی ریاستی درجہ بحال کرنے سے متعلق قرارداد بھیج چکی ہے تو انہوں نے کہا کہ قانون ساز ادارہ سیاسی رائے کے زیادہ وسیع دائرے کی نمائندگی کرتا ہے، جبکہ کابینہ حکمران فریق کی نمائندگی کرتی ہے۔
عمر عبداللہ نے کہا کہ اسمبلی انتخابات کو تقریباً 2 سال گزر چکے ہیں اور قرارداد کا مقصد منتخب جموں و کشمیر اسمبلی کی آواز نئی دہلی تک پہنچانا ہے۔
انہوں نے بی جے پی کی انتخابی مہم اور منشور کا بھی حوالہ دیا اور الزام عائد کیا کہ ریاستی درجہ بحال کرنا پارٹی کے اہم وعدوں میں شامل تھا۔ انہوں نے موجودہ وقت میں قرارداد کی مخالفت پر سوال اٹھایا۔
بی جے پی نے سابقہ خودمختاری کی قرارداد کے حوالے پر اعتراض کیا ہے، جبکہ ریاستی درجہ بحال کرنے کے معاملے پر اپنے موقف کو برقرار رکھا ہے۔ تاہم عمر عبداللہ نے کہا کہ تازہ قرارداد میں خودمختاری یا آرٹیکل 370 پر دوبارہ ووٹنگ کا مطالبہ نہیں کیا گیا ہے، بلکہ اس کا مقصد خاص طور پر مکمل ریاستی درجہ بحال کرنا ہے۔
اس سے قبل وزیر اعلیٰ نے جموں و کشمیر کا ریاستی درجہ بحال کرنے کے لیے قرارداد پیش کی۔ اس کے بعد ایوان میں شدید ہنگامہ برپا ہو گیا۔
وزیر اعلیٰ کی جانب سے پیش کی گئی قرارداد میں کہا گیا ہے، ’’26 جون 2000 اور 6 نومبر 2024 کو اس ایوان کی جانب سے منظور کی گئی قراردادوں کے علاوہ، یہ ایوان حکومت ہند سے جموں و کشمیر کا مکمل ریاستی درجہ فوری اور ترجیحی بنیاد پر بحال کرنے کا مطالبہ کرتا ہے اور فیصلہ کرتا ہے کہ یہ قرارداد حکومت ہند کو بھیجی جائے۔‘‘
یو این آئی۔ م س۔ م الف
-
ہندوستان1 week agoکھرگے اور راہل نے یومِ پیدائش پر مودی کو مبارکباد دی
-
جموں و کشمیر7 days agoگوریز میں مجوزہ ’تنتر سائلنس‘ ریٹریٹ پر تنازع
-
دنیا1 week agoجنوبی کوریا کا آبنائے ہرمز میں جنگی کردار سنبھالنے سے انکار ، جنگی مقاصد کی تعنیاتی نہیں ہو گی
-
جموں و کشمیر6 days agoاپوزیشن لیڈر سنیل شرما کا جموں و کشمیر اسمبلی تحلیل کرنے کا مطالبہ
-
دنیا1 week agoامریکی ویزا سے انکار کے بعد اقوام متحدہ نے فلسطینی صدر عباس کو ویڈیو خطاب کی اجازت دی
-
دنیا1 week agoایران میں جنگ چھڑنے کے بعد حکومت کے حق میں بڑی ترین ریلی، لاکھوں ایرانی شہری یکجا ہوئے
-
دنیا1 week agoباب المندب سے بحری جہازوں کی محفوظ آمدورفت کے لیے اٹلی جنگی بحری جہاز تعینات کرے گا
-
دنیا1 week agoامریکہ کی سعودی عرب کو 48 ایف-35 طیارے فروخت کرنے کی ممکنہ منظوری
-
جموں و کشمیر1 week agoہائی کورٹ نے معزول حضرت بل امام کی عرضی پر نوٹس جاری کیا، 2024 کی عرضداشت پر غور کی ہدایت
-
دنیا6 days agoایرانی وزیر خارجہ عراقچی کا بین الاقوامی قانون کے بلاامتیاز نفاذ پر زور
-
دنیا5 days agoمیں پورے ایران کو ہوا میں اڑا سکتا ہوں:ٹرمپ
-
جموں و کشمیر1 week agoنو قائم شدہ جے کے فور سی متاثرین پر مرکوز طریقہ کار اختیار کرے گا
