پاکستان
ایک سوٹی اپنی قبر کے لیے بھی۔۔۔۔۔۔۔
تحریر:عبدالحکیم کشمیری:
وزیراعظم فاروق حیدر نے چند دن قبل اپنی ایک تقریر میں ایکٹ 74کے حوالے سےپاکستان زیر انتظام کشمیر کے تین سابق سیاستدانوں ،سردار ابراہیم، کے ایچ خورشید اور سردار عبدالقیوم کے بارے میں کہا کہ میرا جی چاہتا ہے کہ ”میں تمہاری قبروں پر جاکر سوٹیاں (لاٹھیاں) ماروں کہ تم نے ہمیں ایکٹ 74دیا“
فاروق حیدر کے اس بیان پرپاکستان زیر انتظام کشمیر بھر میں رد عمل دیکھنے میں آیا تاہم یہ رد عمل مخالفت برائے مخالفت کا ہے۔۔۔ خیال یہ تھا، دلیل سامنے آئے گی اور اس دلیل کی روشنی میں حقائق بھی سامنے آئیں گے اور بحیثیت کشمیری قوم ہم یا ہمارے سیاستدان اپنا محاسبہ کرتے ہوئے ماضی کے برعکس بہتر مستقبل کا تعین کرنے کی کوشش کریں گے، پہلی بات یہ کہ فاروق حیدر نے کو کچھ کہا کہ وہ غلط یا درست اس حوالے سے ہر دو مکتبہ فکر کی اپنی رائے ہے لیکن دوسری اہم بات یہ کہ فاروق حیدر ماضی میں اسی مسلم کانفرنس کا حصہ رہے جس کی اس وقت کی مرکزی قیادت نے ایکٹ 74قبول کیا۔۔۔۔
1985سے لے کر 2010تک 25سال پر مشتمل پارلیمانی نظام میں سے کم و بیش 17سال مسلم کانفرنس اقتدار میں رہی ،فاروق حیدر نے کبھی بھی اس پر بات نہیں کی، ہاں انہوں نے کشمیر کونسل کے خاتمے کی بات 2009میں ضرور کی لیکن ایکٹ 74کے ذمہ داران کے لیے ان کا یہ لب و لہجہ پہلی مرتبہ دیکھنے میں آیا، فاروق حیدر اپنی بات مناسب الفاظ میں بھی کر سکتے تھے لیکن انہوں نے قبروں پر سوٹیاں مارنے کی بات کر کے خود براہ راست سوٹی ماردی جس پر رد عمل آنا فطرتی بات ہے۔۔۔۔
ویسے بھی 1947کے بعد پاکستان زیر انتظام کشمیرکے سیاستدانوں نے اتنی غلطیاں کیں جن کی گنتی مشکل ہے ، فاروق حیدر بحیثیت وزیراعظم آج بھی وہی غلطیاں کر رہے ہیں ،جن پر وہ سابق سیاستدانوں کی قبروں پر سوٹیاں مارنے کی خواہش رکھتے ہیں۔
ایکٹ 74مسلط ہوا۔۔۔۔۔۔ فاروق حیدر کی بات مان لیتے ہیں۔ جنہوں نے اس ایکٹ کو قبول کیا۔۔۔۔بقول فاروق حیدر ایکٹ 74غلامی کی دستاویز ۔۔اس کو قبول کرنے والے قصور وار۔۔۔۔۔۔ ہم سب فاروق حیدر کے ساتھ کھڑے ہو جاتے ہیں اور ان سے پوچھتے ہیں کہ وہ 13ویں ترمیم میں اپنی پوزیشن واضح کریں ، کیا بجلی کا اختیار پاکستان زیر انتظام کشمیر کے پاس ہے؟؟ کیا کارپوریشنز پر ٹیکسز کا اختیار آزادکشمیر کے پاس ہے اگر ہے بھی تو کون سی کارپوریشنز پر؟ کیا کسٹم ڈیوٹیز حکومت پاکستان زیر انتظام کشمیر کے اختیار میں ہے؟ کیا لینٹ آفیسرز کی تعیناتی کا پینل حکومت پاکستان زیر انتظام کشمیر بھیج سکتی ہے؟ کیا ججز کی تقرری کا مکمل اختیار حکومت پاکستان زیر انتظام کشمیر کے پاس ہے؟ کیا الیکشن کمیشن کی تقرری کا اختیار حکومت پاکستان زیر انتظام کشمیر کے پاس ہے؟۔۔۔۔۔۔۔فاروق حیدر ایکٹ 74قبول کرنے والی قبروں پر سوٹیاں ضرور ماریں، لیکن یہ بتائیں کہ ان کے دور میں نیلم جہلم پراجیکٹ مکمل ہوتا ہے اور پاکستان زیر انتظام کشمیر سے معاہدہ کیے بغیر بجلی پیداوار کیسے شروع ہو گئی؟ فاروق حیدر نے جس دن کہا کہ کوہالہ پراجیکٹ پر کام شروع نہیں ہو گا اسی دن اسمبلی میں کوہالہ ہائیڈرل پراجیکٹ پر کام روکنے کے لیے قرار داد پیش ہوئی اور اسی دن کوہالہ ہائیڈرل پراجیکٹ کا سنگ بنیاد رکھا گیا ۔۔۔ ان ہی دو سال میں فاروق حیدر کی انتظامیہ نے کوہالہ پراجیکٹ کے لیے 594کنال جگہ ایوارڈ کی اور 1147کنال جگہ مزید ایوارڈ کرنے کے لیے فہرستیں مرتب ہو رہی ہیں ۔۔۔۔۔۔ یقینا اس سارے عمل سے فاروق حیدر کو اندازہ ہو جانا چاہیے کہ سردار ابراہیم ، کے ایچ خورشید اور سردار عبدالقیوم خان نے ایکٹ74کیوں قبول کیا؟کیا فاروق حیدر نہیں جانتے ایسے معاملات میں پاکستان زیر انتظام کشمیر کے سیاستدانوں سے زبردستی انگوٹھا لگوایا جاتا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ پاکستان زیر انتظام کشمیرکے سیاستدانوں کے درمیان سیاسی اختلافات ہمیشہ پاکستان زیر انتظام کشمیر کے اجتماعی مفادات سے طاقتور رہے اور جس کے نتائج ہمارے سامنے ہیں۔۔۔۔۔ معاہدہ کراچی کن حالات میں ہوا؟ کیا چوہدری غلام عباس کی طرف سے درج ذیل عبارت کہ ”مجھے اس معاہدے کی ان باتوں سے اتفاق ہے جو مسلم کانفرنس کے متعلقہ ہیں“لکھنے کے بعد دستخط کرنا ان کی بے بسی اور ”خوابوں کے محور و مرکز“ کا جبر ثابت نہیں کرتا۔
24اکتوبر 1947کی حکومت کے اعلامیہ کی روشنی میں پاکستان زیر انتظام کشمیر حکومت کے اختیارات اور آج کی پاکستان زیر انتظام کشمیر کی حکومت کے اختیارات میں جو فرق ہے اس کی ذمہ دار مسلم کانفرنس ہے۔1947سے لے کر2018تک 71سال کی اہم ترین شخصیات میں چوہدری غلام عباس، سردار ابراہیم خان، راجا حیدر خان، کے ایچ خورشید، سردار عبدالقیوم خان، سکندر حیات، سردار عتیق ،سلطان محمود، فاروق حیدر، چوہدری عبدالمجید شامل ہیں، 71سال میں 20سے 22سال کا عرصہ ایسا ہے جس میں سے 4دور حکومت مجموعی طور پر 14سال پیپلزپارٹی اور 5سال کے ایچ خورشید اقتدار میں رہے، اور 2سال کا عرصہ ن لیگ کا ہے،جبکہ باقی سارا عرصہ مسلم کانفرنس یا ان کے حمایت یافتہ لوگوں کا تھا ۔سو فاروق حیدر تین قبروں کے ساتھ ساتھ ان دیگر شخصیات کی قبروں کو اپنی فہرست میں شامل کریں۔۔۔۔اور ایک سوٹی مستقبل کی ضرورت کے پیش نظر کسی بینک لاکر میں رکھوا دیں ۔۔۔ نیلم جہلم اور کوہالہ پراجیکٹ میں آزادکشمیر کے لوگوں کے حقوق کے تحفظ میں ناکام ہونے والے کی قبر بھی تو سوٹیوں کی مستحق ہو گی۔
نوٹ: ادارہ کا ان کی رائے سے اتفاق ہونا ضروری نہیں
پاکستان
تحریک انصاف تحریک ختم کرکے مذاکرات کے لیے آگے آئے، شہباز شریف
اسلام آباد، پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایجی ٹیشن اور لانگ مارچ کی سیاست ترک کر کے مذاکرات کے لیے آگے آئیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ مسلسل احتجاج ملک کی اقتصادی ترقی اور بین الاقوامی امیج کو شدید نقصان پہنچا سکتا ہے۔
اسلام آباد اور راولپنڈی کے درمیان ٹریفک کو کم کرنے کے لیے بنائے جانے والے کشمیر چوک انڈر پاس کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے، جناب شریف نے کہا، “میں اب بھی ان سے کہتا ہوں کہ ہوش میں آجائیں، اپنے لانگ مارچ اور دھرنے ختم کریں، جب یہ ختم ہو جائیں گے تو ہم ضرور آپ کے ساتھ بیٹھیں گے اور بات کریں گے تاکہ پاکستان آگے بڑھ سکے، یہ آپسی محنت اورپاکستانی قوم کی آواز ہے ۔”
تقریب میں وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ، وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری، وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری اور کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے چیئرمین سہیل اشرف سمیت متعدد ارکان پارلیمنٹ اور دیگر معززین نے شرکت کی۔
مسٹر شریف نے کہا کہ حکومت کی مخلصانہ کوششوں کے باوجود پی ٹی آئی نے ایک بار پھر دھرنوں اور لانگ مارچ کی سیاست کا سہارا لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ نواز اور پاکستان پیپلز پارٹی کے نمائندوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی نے اپوزیشن کے ساتھ مذاکرات کیے تھے لیکن حتمی مسودہ تیار ہونے کے بعد تحریک انصاف کے آخری لمحات میں تبدیلی کے مطالبات کی وجہ سے یہ عمل تعطل کا شکار ہو گیا۔
انہوں نے کہا کہ دھرنوں اور لانگ مارچ کی سیاست کا براہ راست معیشت پر اثر پڑے گا، برآمدات، مینوفیکچرنگ اور درآمدات متاثر ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی کارکن یا انجینئر وقت پر فیکٹری یا دفتر نہ پہنچ سکے تو پورے ملک کو نقصان پہنچے گا۔
مسٹر شریف نے کہا کہ حکومت نے میکرو اکنامک استحکام کو بحال کیا ہے اور اجتماعی کوششوں کے ذریعے معاشی ترقی کی جانب کام کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ برآمدات، ترسیلات زر اور صنعتی پیداوار میں اضافہ جیسے اشارے مثبت ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ان کامیابیوں کو نقصان پہنچانا ریاست کے مفادات کے خلاف ہوگا۔
انہوں نے کہا، “ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے۔ قانون اپنا راستہ اختیار کرے گا۔ لوگوں کی جان و مال کی حفاظت ہماری ذمہ داری ہے، اور ہم اسے ہر ممکن طریقے سے یقینی بنائیں گے۔”
مسٹر شریف نے کشمیر چوک پروجیکٹ کو ایک ماہ کے اندر مکمل کرنے کا ہدف مقرر کرنے پر مسٹر نقوی اور ان کی ٹیم کی تعریف کی۔ منصوبے کی لاگت 1.6 بلین پاکستانی روپے تھی، جبکہ ٹھیکہ 1.4 بلین روپے میں دیا گیا تھا۔ چار سلپ روڈ بنائے جائیں گے۔ اس چوراہے پر فی الحال تقریباً 107,000 گاڑیاں چلتی ہیں اور خاص طور پر وی آئی پی کی نقل و حرکت کے دوران یہ ٹریفک جام کا شکار ہوتا ہے۔
یو این آئی۔ الف الف ۔ م الف
پاکستان
عمران خان کی رہائی کے مطالبے پر ہزاروں حامیوں کا اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ شروع
پشاور، جیل میں قید پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان کے ہزاروں حامیوں نے ان کی رہائی اور آئینی و سیاسی حقوق میں اضافے کے مطالبے پر اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ شروع کر دیا ہے۔ ان کی جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے پیر کو یہ اطلاع دی۔
لانگ مارچ اتوار کو پی ٹی آئی کے زیر اقتدار صوبہ خیبر پختونخوا سے شروع ہوا۔ شرکا اسلام آباد پہنچنے سے قبل راستے میں کئی مقامات پر قیام کریں گے۔ وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی جلوس کی قیادت کر رہے ہیں اور انہوں نے نوجوانوں سے اس مہم میں شامل ہونے کی اپیل کی ہے۔
حکومت نے کہا ہے کہ وہ مظاہرین کو اسلام آباد میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دے گی۔ وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ حکام مارچ کو دارالحکومت میں امن و امان کی صورت حال متاثر کرنے کی اجازت نہیں دیں گے، جبکہ شہر کے اطراف ہزاروں پولیس اہلکار اور نیم فوجی دستے تعینات کر دیے گئے ہیں۔
اہم شاہراہوں اور سرکاری علاقے کے اطراف رکاوٹوں کے طور پر مال بردار کنٹینر بھی رکھے گئے ہیں۔ اس علاقے میں پارلیمنٹ، وزیر اعظم کی رہائش گاہ اور غیر ملکی سفارت خانے واقع ہیں۔
تازہ کشیدگی ایسے وقت میں پیدا ہوئی ہے جب ہفتے کے اختتام پر پی ٹی آئی اور وزیر اعظم شہباز شریف کی حکومت کے درمیان مذاکرات ناکام ہوگئے۔ یہ مارچ، جو پہلے 27 ستمبر کو ہونا تھا، حکومت کی جانب سے پی ٹی آئی کے مطالبات پر مذاکرات کی پیشکش کے بعد ملتوی کر دیا گیا تھا۔
عمران خان اور پاکستان کی سیاسی قیادت کے درمیان سیاسی تنازع 2022 میں پارلیمنٹ کے ذریعے ان کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے جاری ہے۔ خان نے اپنی حکومت کے خاتمے کا الزام فوج پر عائد کیا تھا، جس کی فوج نے تردید کی ہے۔
مئی 2023 میں ان کی گرفتاری کے بعد پرتشدد احتجاج کے نتیجے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی تھی۔ احتجاج کے دوران مظاہرین نے فوجی تنصیبات پر حملے کیے، جس کے بعد کریک ڈاؤن میں پی ٹی آئی کے ہزاروں کارکنوں کو گرفتار کیا گیا اور بعض کو بعد میں فوجی عدالتوں سے سزائیں سنائی گئیں۔
سابق بین الاقوامی کرکٹ اسٹار اور ملک کی اہم سیاسی شخصیت عمران خان خود کو ’’سیاسی قیدی‘‘ قرار دیتے رہے ہیں۔
فوج اور سویلین حکومت اس موقف کو مسترد کرتے ہوئے پاکستان کی عدلیہ کی آزادی کا حوالہ دیتی ہیں۔ عمران خان کو کئی مقدمات میں سزا سنائی جا چکی ہے، تاہم ان میں سے ایک کے سوا باقی تمام سزائیں بعد میں معطل یا کالعدم قرار دی جا چکی ہیں اور ان کے خلاف اپیلیں زیر سماعت ہیں۔
حکومت نے پی ٹی آئی کی زیر قیادت خیبر پختونخوا حکومت پر یہ الزام بھی عائد کیا ہے کہ وہ افغانستان کی سرحد سے متصل صوبے میں بڑھتے ہوئے عسکریت پسندانہ حملوں سے نمٹنے کے لیے اسلام آباد کی جانب سے وضع کردہ حکمت عملی میں تعاون کرنے میں ناکام رہی ہے۔
پی ٹی آئی نے مذاکرات کے خاتمے کے حوالے سے اسلام آباد کی وضاحت مسترد کر دی ہے۔ حکومتی عہدیداروں نے خبردار کیا ہے کہ اگر صوبائی حکومت وفاقی انسداد دہشت گردی پالیسی پر عمل نہیں کرتی تو اس کے خلاف آئینی اور قانونی اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
پاکستان
پاکستان اور ترکی سعودی عرب کی حوثیوں کے خلاف جنگ میں شمولیت کے قریب
اسلام آباد، سعودی عرب کی جانب سے فوری اجلاس کی درخواست کے بعد پاکستان اور ترکی کے اعلیٰ فوجی سربراہان ریاض پہنچنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ یہ پیش رفت یمن میں حوثیوں کے خلاف جاری جنگ کے سعودی سرزمین تک پھیلنے کے درمیان ہوئی ہے، تاہم دونوں ممالک اب بھی اپنی ممکنہ فوجی شمولیت کی حد کے معاملے میں محتاط ہیں۔
ترک وزارت دفاع نے جمعہ کو تصدیق کی کہ چیف آف جنرل اسٹاف جنرل سلجوق بایراکتار اوغلو سعودی عرب کا دورہ کریں گے۔ پاکستان کے چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر کے بھی جلد ریاض پہنچنے کی توقع ہے، تاہم پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے ان کی روانگی کی تصدیق نہیں کی۔
یہ پیش رفت سعودی عرب کی جانب سے ترکی اور پاکستان سے فوجی سربراہان کا اجلاس بلانے کی درخواست کے بعد سامنے آئی ہے۔ سعودی سرزمین پر کئی ہفتوں سے حوثی ملیشیا کے میزائل اور ڈرون حملے جاری ہیں۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق حوثیوں نے جمعرات کو سعودی اہداف پر درجنوں میزائل اور ڈرون داغنے کا دعویٰ کیا، جن میں ریاض میں ایک ‘حساس ہدف’ اور ینبع میں سعودی آرامکو کی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ بھی شامل ہے۔ سعودی حکام کے مطابق فضائی دفاعی نظام نے طائف اور ینبع کی جانب آنے والے چھ بیلسٹک میزائلوں کو مار گرایا، جبکہ مکہ، جدہ اور ینبع کے لیے ہنگامی انتباہات جاری کیے گئے۔
7 اگست کو طے پانے والے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت سعودی عرب، ترکی یا پاکستان میں سے کسی ایک پر حملہ تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔
تینوں ممالک کے فوجی سربراہان کے اجلاس کا اعلان 24 ستمبر کو نیویارک میں سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان، پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان کی ملاقات کے بعد کیا گیا۔
سعودی وزارت خارجہ کے مطابق اجلاس میں دفاعی معاہدے کے تحت سعودی عرب کی حمایت کے طریقوں پر غور کے لیے فوجی سربراہان کی فوری ملاقات کی تیاریوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ سعودی عرب نے مکہ اور شہری و اقتصادی تنصیبات پر حملوں کی مذمت کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے چارٹر کی دفعہ 51 کے تحت اپنے دفاع کے حق پر زور دیا۔
تاہم پاکستان نے اسی ملاقات کے بارے میں نسبتاً محتاط مؤقف اختیار کیا۔ اسحاق ڈار نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر کہا کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت معاہدے کے ادارہ جاتی ڈھانچے کے قیام کی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا اور علاقائی و بین الاقوامی سلامتی کے معاملات پر تبادلہ خیال ہوا۔
ترکی نے بھی نیویارک ملاقات کو معاہدے کو ادارہ جاتی شکل دینے کے لیے جاری ‘تکنیکی مذاکرات’ کا جائزہ قرار دیا۔
اس کے برعکس ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان نے چند روز قبل ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا تھا کہ دونوں ممالک کا معاہدہ ‘اتحادی عزم’ پر مشتمل ہے اور ترکی اپنے وعدے پر قائم رہے گا۔ ان کے مطابق سعودی عرب کو بعض تکنیکی شعبوں میں فوجی مدد کی ضرورت ہو سکتی ہے اور ترکی کو اسے پورا کرنے میں کوئی مسئلہ نہیں ہوگا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق دونوں ممالک کا محتاط رویہ حوثیوں کی جانب سے براہ راست دھمکیوں سے بھی منسلک ہو سکتا ہے۔
حوثی سیاسی بیورو کے رکن محمد البخیتی نے رواں ہفتے عراقی ٹی وی کو بتایا کہ اگر پاکستان اور ترکی جنگ میں داخل ہوئے تو انہیں ‘آہنی مٹھی’ کا سامنا کرنا پڑے گا۔
اسلام آباد کے انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز کے سینئر ایسوسی ایٹ اور ریٹائرڈ بریگیڈیئر تغرل یامین نے کہا کہ معاہدے کے دونوں فریقوں کو عملی مشکلات کا سامنا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کی فوج اندرونی و بیرونی خطرات کے باعث پہلے ہی کئی محاذوں پر مصروف ہے، جبکہ ترکی کے لیے بھی سعودی عرب میں فوج بھیجنے کا فیصلہ آسان نہیں ہوگا کیونکہ اسے نیٹو سے متعلق ذمہ داریوں اور شام کے ساتھ اپنی سرحدی صورتحال کو بھی دیکھنا ہے۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoقطری ثالثی کی امریکہ، ایران کے درمیان مذاکرات میں معمولی پیش رفت
-
دنیا7 days agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
ہندوستان7 days agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
دنیا1 week agoہیگستھ امریکی جنرل اور ایڈمرل کے عہدوں میں 20 فیصد کمی کریں گے
-
جموں و کشمیر7 days agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
دنیا6 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
ہندوستان1 week agoگیانیش کمار استعفیٰ دیں، ہٹائے گئے ووٹروں کی فہرست عام کی جائے: کھرگے
-
جموں و کشمیر1 week agoبڈگام کے یوسمرگ میں پاکستانی لشکر طیبہ کا جنگجو جھڑپ میں ہلاک
-
ہندوستان1 week agoڈیفنس اکاؤنٹس ڈیپارٹمنٹ کے 279ویں سالانہ دن پر کئی نئی پہل کی شروعات کریں گے راج ناتھ
-
ہندوستان1 week agoشیئر بازاروں میں گراوٹ جاری، سینسیکس 49 پوائنٹس پھسلا
