جموں و کشمیر
ڈاکٹر فاروق عبداللہ سے متعلق ’را‘کے سابق چیف کے انکشاف کو لیکر سیاسی ماحول گرم
NCچیف نے کی منسوخی 370کی حمایت:دُلت کا دعویٰ
دعوے متضاد :تنویر صادق ،میںحیران نہیں ہوں :سجادلون،دھوکہ کوئی نئی بات نہیں:التجامفتی
سرینگرجے کے این ایس : ملک کی اعلیٰ ترین خفیہ ایجنسی ’را‘کے سابق چیف اے ایس دُلت کے اس سنسنی خیز انکشاف یا دعوے کہ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے نجی طور پر آرٹیکل370 کی منسوخی کی حمایت کی جبکہ عوامی طور پر اس کی مخالفت کی،کولیکر جموں وکشمیرکاسیاسی ماحول گرما گیاہے ۔جے کے این ایس کے مطابق حکمران جماعت نیشنل کانفرنس (این سی) کے چیف ترجمان تنویر صادق نے بدھ کو’ را ‘کے سابق سربراہ اے ا یس دُلت کے دعوو ¿ں کو مسترد کر دیا۔ دُلت اپنی نئی کتاب’دی چیف منسٹر اینڈ دی اسپائی‘میںیہ دعویٰ کیا ہے کہ ڈاکٹر فاروق نے نجی طور پر آرٹیکل370 کی منسوخی کی حمایت کی ۔تنویزصادق نے ان دعووں کو متضاد اور تنازعہ پیدا کرنے کی کوشش قرار دیا۔تنویر صادق نے کہا کہ کتاب خود سے متصادم ہے اور مصنف کی ساکھ پر سوالیہ نشان ہے۔
انہوںنے کہاکہ اگر آپ کتاب کو دیکھیں اور اس میں جو کچھ وہ لکھتے ہیں تو وہ اپنے ہی الفاظ کے خلاف ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ حکومت ہند نے فاروق عبداللہ کی حراست میں ہونے کے بعد ان کے ردعمل کو دیکھنے کیلئے7 ماہ تک انتظار کیا۔تنویر صادق کا کہناہے کہ ااگر ایسا تھا تو پھر باہر آنے کے بعد ڈاکٹر فاروق نے پی اے جی ڈی کو کیوں فروغ دیا؟۔انہوں نے مزید کہا کہ پیپلز الائنس فار گپکر ڈیکلریشن فاروق عبداللہ کی رہائی کے بعد تشکیل دیا گیا تھا اور اسے نیشنل کانفرنس نے نہیں توڑا تھا۔تنویر صادق نے پی ڈی پی اور اس کی قیادت کے بارے میں دُلت کے تبصروں پر بھی سوال اٹھایا۔نیشنل کانفرنس ترجمان کے بقول پی ڈی پی محب وطن کے بارے میں اے ایس دُلت نے جو الفاظ استعمال کیے وہ شاید بے ہودہ ہیں۔ مجھے ان باتوں پر بھروسہ نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اے ایس دُلت نے اس سے قبل پی ڈی پی کے بانی مفتی محمد سعید کے خلاف ریمارکس کئے تھے، جنہیں انہوں نے متعلقہ رہنے کی کوشش قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کے پاس اب اٹھانے کےلئے کوئی ایشو نہیں ہے اور وہ توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہی ہے۔تنویر صادق نے کہا کہ وہ بجٹ یا دیگر معاملات پر کچھ نہیں کہہ سکتے اس لیے وہ کہانیاں بنا رہے ہیں۔انہوںنے کہاکہ ہمارے پاس ترمیمی بل اور ریزرویشن کے مسئلے جیسے بڑے مسائل ہیں۔تنویر صادق نے یہ بھی کہا کہ سری نگر کے رکن پارلیمان سید آغا روح اللہ مہدی کی طرف سے اٹھائے گئے خدشات کو، جنہوں نے طلبہ کے مظاہروں کی حمایت کرنے کے بعد پارٹی کی طرف سے کنارہ کشی کا الزام لگایا ہے، کو اندرونی طور پر دور کیا جائے گا۔اس دوران پیپلز کانفرنس کے صدر اور ممبراسمبلی ہندواڑہ سجادغنی لون نے ایک پوسٹ میں کہا کہ وہ اس انکشاف پر حیران نہیں ہیں اور یہ کہ 4 اگست 2019 کو موجودہ وزیر اعلیٰ اور فاروق عبداللہ کی وزیر اعظم کےساتھ ملاقات ان کے لیے کبھی بھی معمہ نہیں رہی۔سجادلون کے بقول اے ایس دلت کی طرف سے آنے والے اس انکشاف کو بہت قابل اعتبار بناتا ہے۔ دُلت، فاروق صاحب کے قریبی ساتھی اور دوست ہیں۔
سجادلون نے ایکس پر پوسٹ میں لکھاکہ عملی طور پر ان کی بدلی ہوئی انا۔ اتفاق سے دلت صاحب اور انکل انکل انکل انکلز میں شامل ہیں۔سجادلون نے مزید کہاکہ یقیناًنیشنل کانفرنس اس کی تردید کرے گی۔ اسے این سی کے خلاف ایک اور سازش قرار دیں۔ انہوں نے شکار کا کارڈ کھیلنے میں کمال کر دیا، انہوں نے مزید کہا کہ انکل اور آنٹی میرے ٹویٹ اور اس طرح کے دیگر ٹویٹس کا نوٹس لیں گے اور بی جے پی سے التجا کریں گے کہ ایسے ٹویٹ کرنے والوں کو سبق سکھائیں۔ادھر پی ڈی پی کی جواں سال لیڈر التجا مفتی نے کہا کہ یہ واضح ہے کہ فاروق عبداللہ نے جموں و کشمیر کے آئین کو معمول پر لانے اور اس کے نتیجے میں ہونے والی غداری میں مدد کے لیے پارلیمنٹ کے بجائے کشمیر میں رہنے کا انتخاب کیا۔التجاءمفتی نے ایکس پر ایک پوسٹ میں لکھاکہ دُلت صاحب کے ایک پرجوش فاروق عبداللہ کے حامی نے شیئر کیا ہے کہ فاروق صاحب نے آرٹیکل370 کو منسوخ کرنے کے دہلی کے غیر قانونی اقدام سے کیسے اتفاق کیا۔ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کو منسوخ کرنے سے کچھ دن پہلے ہی عبداللہ اور وزیر اعظم کے درمیان کیا ہوا اس کے بارے میں پہلے ہی شکوک و شبہات تھے۔
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر پولیس نے 500 گرام گانجا کے ساتھ منشیات کے اسمگلر کو گرفتار کیا
جموں، جموں و کشمیر پولیس نے فوجی کالونی کے علاقے میں منشیات کے 3 اسمگلروں کو گرفتار کرکے ان کے قبضے سے تقریباً 500 گرام گانجا برآمد کیا ہے۔ سرکاری ذرائع نے ہفتہ کو یہ اطلاع دی۔
حکام کے مطابق، معمول کی گشت کے دوران پولیس کی ایک ٹیم نے دشہرہ میدان کے قریب سینک پبلک اسکول کے سامنے 3 افراد کو روکا۔ اس کے بعد ان کی تلاشی لی گئی، جس میں تقریباً 500 گرام گانجا برآمد ہوا۔
ملزمین کی شناخت مغربی بنگال کے رہنے والے ایشَر علی اور مدھیہ پردیش کے چھترپور کے رہنے والے اجے اہروار اور منوج بنسل کے طور پر ہوئی ہے۔ پولیس نے تینوں کو موقع پر ہی گرفتار کرلیا۔ برآمد شدہ منشیات کو مقررہ قانونی کارروائی کے تحت ضبط کرلیا گیا ہے اور ملزمین کے خلاف قانونی کارروائی شروع کردی گئی ہے۔
اس سلسلے میں متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ پولیس یہ معلوم کرنے کے لیے تحقیقات کر رہی ہے کہ برآمد شدہ منشیات کہاں سے لائی گئی تھی۔ اس کے علاوہ منشیات کی مبینہ سپلائی کے نیٹ ورک سے وابستہ تمام رابطوں کا بھی پتہ لگایا جا رہا ہے۔ جموں پولیس نے منشیات کی اسمگلنگ پر روک لگانے اور جموں و کشمیر کو منشیات سے پاک بنانے کے اپنے عزم کو دہرایا ہے۔
پولیس نے عام لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ منشیات کی اسمگلنگ اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں کے بارے میں مستند معلومات ڈائل 112 یا 9858034100 پر فراہم کریں۔ حکام نے کہا کہ اطلاع دینے والوں کی شناخت خفیہ رکھی جائے گی۔
یو این آئی۔ ایم جے
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر پولیس نے جے کے آئی ایم کے خفیہ نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، چار خواتین سمیت چھ افراد گرفتار
سری نگر، جموں و کشمیر پولیس نے ہفتہ کے روز ممنوعہ تنظیم ‘جموں و کشمیر اتحاد المسلمین’ (جے کے آئی ایم) کے ایک خفیہ نیٹ ورک کا پردہ فاش کرتے ہوئے چار خواتین سمیت چھ افراد کو گرفتار کرلیا۔
بانڈی پورہ ضلع پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نیٹ ورک کو پاکستان میں موجود ایک ہینڈلر چلا رہا تھا۔ پولیس کے مطابق، یہ نیٹ ورک علیحدگی پسند نظریات اور گمراہ کن پروپیگنڈے کو فروغ دے رہا تھا، جس میں خاص طور پر خواتین کو نشانہ بنایا جارہا تھا۔
پولیس نے گرفتار افراد میں کاچلو قاضی پورہ کے رہنے والے وحید احمد بھٹ کو اس معاملے کا مرکزی ملزم قرار دیا ہے۔ اس کے علاوہ بانڈی پورہ کے دچی گام کی رہائشی مبینہ بانو، چیک پنجی گام کی خوشبو جان، مہک جان اور عالیہ جان، نیز ہندواڑہ کے انن وان کے رہنے والے عرفان احمد ریشی عرف رئیس کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں اور نیٹ ورک کی سرگرمیوں، اس سے وابستہ دیگر افراد اور اس کے مبینہ رابطوں کے بارے میں معلومات جمع کی جارہی ہیں۔
واضح رہے کہ مرکزی حکومت نے 2025 میں جے کے آئی ایم پر پانچ سال کے لیے پابندی عائد کردی تھی۔ تنظیم پر ملک مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہونے، دہشت گردی کی حمایت کرنے اور علیحدگی پسند سرگرمیوں کو فروغ دینے کے الزامات ہیں۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
لداخ کی خاموشی کو ہتھیار ڈالنا نہ سمجھا جائے: کے ڈی اے کی مرکز کو تنبیہ
سرینگر، مرکزی وزارت داخلہ اور لداخ کے رہنماؤں کے درمیان بات چیت میں تعطل کے درمیان کرگل ڈیموکریٹک الائنس (کے ڈی اے) نے ہفتے کے روز مرکز کو خبردار کیا کہ وہ لداخ کے لیے آئینی تحفظات اور جمہوری حقوق کے مطالبات کو مزید تاخیر کا شکار نہ بنائے۔ الائنس نے کہا کہ عوام غیر معینہ مدت تک خاموش نہیں رہیں گے۔
کرگل میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کے ڈی اے کے رہنماؤں نے مرکزی وزارت داخلہ کی جانب سے پیش کردہ مجوزہ انتظامی ڈھانچے کو مسترد کردیا۔ ان کا الزام تھا کہ یہ تجویز سابقہ اجلاسوں کی کارروائی کے منٹس میں درج وعدوں پر پوری نہیں اترتی اور لداخ کے عوام کی امنگوں کو پورا کرنے میں ناکام ہے۔
کے ڈی اے اور لیہ ایپکس باڈی (ایل اے بی) گزشتہ کئی برسوں سے لداخ کے لیے آئینی تحفظات کے مطالبے کی قیادت کر رہے ہیں اور اس سلسلے میں مرکز کے ساتھ بات چیت بھی کرتے رہے ہیں۔
کے ڈی اے کے شریک چیئرمین سجاد کرگلی نے کہا کہ مجوزہ انتظام عوام کی امنگوں کو مدنظر رکھ کر تیار نہیں کیا گیا، بلکہ ان کے بقول اسے مرکزی زیر انتظام علاقے کی انتظامیہ کے مفادات کو سامنے رکھ کر وضع کیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ کے ڈی اے اور لیہ ایپکس باڈی نے اس تجویز کو مسترد کرتے ہوئے اپنے اعتراضات مرکز کے سامنے پیش کردیے ہیں۔
کرگلی نے لداخ انتظامیہ پر الزام لگایا کہ وہ مسلسل احکامات اور نوٹیفکیشن جاری کرکے جمہوری حقوق کو کمزور کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ الائنس آئینی تحفظات اور عوام کے حقوق کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گا۔
انہوں نے کہاکہ ”ہم مرکزی زیر انتظام علاقے کی انتظامیہ کی اس آمرانہ روش کی مذمت کرتے ہیں، جس کے تحت ہم پر یکے بعد دیگرے احکامات مسلط کیے جا رہے ہیں۔ یہ لداخ کے عوام کے حقوق پر حملہ ہے۔”
ملک کے دیگر حصوں میں انتخابی بے ضابطگیوں کے الزامات کا حوالہ دیتے ہوئے کرگلی نے کہا کہ لداخ کو ایک ”تجربہ گاہ” بنا دیا گیا ہے اور الزام لگایا کہ خطے کی سیاسی نمائندگی کو کمزور کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہاکہ ”لداخ کو ایک تجربہ گاہ بنا دیا گیا ہے۔ یہاں تو عوام کی نمائندگی ہی چھین لی گئی ہے۔”
ان کا کہنا تھا کہ ملک کے دیگر حصوں میں ووٹوں کی چوری کے الزامات سامنے آتے ہیں، جبکہ ان کے مطابق لداخ میں عوام کی سیاسی نمائندگی چھیننے کا معاملہ ہے۔
کے ڈی اے کے دوسرے شریک چیئرمین اسگر علی کربلائی نے کہا کہ لداخ میں چھائی خاموشی کو خوف یا ہتھیار ڈالنے سے تعبیر نہیں کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ یہ ”طوفان سے پہلے کی خاموشی” ہے۔
انہوں نے کہاکہ ”انتظامیہ کو موجودہ خاموشی کو خوف، تابع داری یا ہتھیار ڈالنے کی علامت نہیں سمجھنا چاہیے۔”
کربلائی نے بتایا کہ کے ڈی اے اور لیہ ایپکس باڈی گزشتہ چھ برس سے مرکزی وزارت داخلہ کے ساتھ اپنے چار نکاتی ایجنڈے پر بات چیت کر رہے ہیں۔ ریاست کا درجہ اور آئینی تحفظات ان کے دو اہم مطالبات ہیں۔
انہوں نے کہا کہ 22 مئی کو منعقدہ اجلاس کی کارروائی کے منٹس میں، جن پر 7 جولائی کو دستخط کیے گئے تھے، لداخ کے لیے خصوصی انتظامی ڈھانچے پر اتفاق درج تھا۔ اس انتظام میں قانون سازی، انتظامی اور مالی اختیارات کے ساتھ آئینی تحفظات فراہم کرنے کی بات شامل تھی۔
تاہم، ان کا الزام تھا کہ 15 اکتوبر کے اجلاس میں مرکزی وزارت داخلہ کی جانب سے پیش کردہ خاکہ ان وعدوں کے برعکس تھا اور اس میں بامعنی اختیارات یا آئینی ضمانتوں کے بغیر ایک انتظامی ڈھانچہ پیش کیا گیا۔
کربلائی نے کہاکہ ”جن حقوق کو فراہم کرنے پر تحریری طور پر اتفاق کیا گیا تھا اور جن کے لیے اجلاس کی کارروائی کے منٹس پر دستخط کیے گئے تھے، اب وہی حقوق ہمیں دینے سے انکار کیا جا رہا ہے۔”
انہوں نے کہا کہ مجوزہ کونسل کو بامعنی مالی اختیارات حاصل نہیں ہیں، نہ ہی اسے زمین سے متعلق معاملات پر اختیار دیا گیا ہے اور نہ ہی آزادانہ انتظامی اختیارات فراہم کیے گئے ہیں۔ ان کے مطابق، کے ڈی اے اور لیہ ایپکس باڈی نے آئینی اور قانونی ماہرین سے مشورے کے بعد اس تجویز پر اپنا تفصیلی جواب مرکز کو پیش کردیا ہے۔
کربلائی نے خبردار کیا کہ اگر حکومت اس معاملے میں مزید تاخیر کرتی ہے تو الائنس اپنی احتجاجی تحریک تیز کردے گا۔
انہوں نے کہاکہ ”اگر کل ہمیں اپنے ایجنڈے اور مطالبات کے لیے سڑکوں پر اترنا پڑا، تحریک چلانی پڑی، احتجاج کرنا پڑا، بند کی اپیل کرنی پڑی، ہڑتال کرنی پڑی یا جیلیں بھرنی پڑیں تو ہم ایسا کریں گے۔”
لداخ کے رکن پارلیمنٹ حاجی محمد حنیفہ جان نے کہا کہ مجوزہ انتظامی ڈھانچے نے ان امیدوں کو ختم کردیا ہے جو سابقہ بات چیت کے دوران پیدا ہوئی تھیں، جب دونوں فریق ایک انتظامی نظام کے بنیادی خدوخال پر متفق ہوگئے تھے۔
انہوں نے مرکز سے اپیل کی کہ ملتوی شدہ اجلاس جلد از جلد طلب کیا جائے اور دستخط شدہ منٹس میں درج وعدوں کے مطابق مسودہ پیش کیا جائے۔
جان نے کہا کہ لداخ کے عوام اپنی پالیسیاں خود طے کرنا اور خطے کی ترقی کی سمت کا فیصلہ کرنا چاہتے ہیں۔ تاہم، انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ الائنس لداخ میں امن برقرار رکھنے کا خواہاں ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ مسلسل تاخیر سے عوام میں، خصوصاً نوجوانوں میں، ایک بار پھر غم و غصہ پیدا ہوسکتا ہے۔ انہوں نے حکومت سے اپیل کی کہ مجوزہ انتظامی ڈھانچے کو پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس میں پیش کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔
کے ڈی اے نے ایک بار پھر واضح کیا کہ وہ اپنے ایجنڈے سے دست بردار نہیں ہوگا۔ الائنس نے مرکزی وزارت داخلہ اور مرکزی زیر انتظام علاقے کی انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ وہ ان ضوابط کو واپس لیں جنہیں وہ لداخ کے عوام کے مفادات کے خلاف سمجھتا ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
دنیا1 week agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا1 week agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
-
دنیا1 week agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
-
ہندوستان1 week agoسی جے پی بانی ابھیجیت دیپکے کو ملی ضمانت
-
دنیا1 week agoایران کا ٹرمپ روٹ پر ردعمل: “ہم خطے میں امریکی موجودگی پر خدشات رکھتے ہیں”
-
ہندوستان1 week agoگیانیش کمار سرکاری گواہ بنیں: راہل
-
ہندوستان1 week agoجی ٹی ٹی سی آئی اور شری دھرمک لیلا کمیٹی نے لال قلعے میں ‘عالمی یومِ خوراک’ منایا
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر: رام بن میں چرس اور ہیروئن کے ساتھ تین افراد گرفتار
-
ہندوستان1 week agoاقتدار کے لالچ میں آئینی اداروں پر سوال اٹھا کر جمہوریت کے وقار کو ٹھیس پہنچاتے ہیں راہل گاندھی: دھرمیندر پردھان
-
دنیا1 week agoٹرمپ نے روس پر نئی پابندیاں عائد کرنے کا فیصلہ مؤخر کردیا
-
پاکستان1 week agoپاکستان کے صوبہ بلوچستان میں 5.8 شدت کا زلزلہ
