جموں و کشمیر
پہلگام حملہ: دہشت گردوں کے سہولت کاروں کے خلاف کریک ڈاون مزید وسیع
سری نگر، سری نگر پولیس نے کالعدم دہشت گرد تنظیموں سے وابستہ افراد کے خلاف کارروائیوں کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام سے متعلق قوانین (یو اے پی اے) کے تحت درج مقدمات کی تفتیش میں مزید تیزی لائی ہے۔ اس سلسلے میں شہر کے مختلف علاقوں میں بڑے پیمانے پر تلاشی مہم جاری ہیں، جن کا مقصد دہشت گردی کے نیٹ ورک کو توڑ کر امن مخالف ڈھانچے کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا ہے۔
پولیس کے مطابق سری نگر کے مختلف علاقوں میں ان افراد کے گھروں پر چھاپے مارے گئے جو ماضی میں مختلف سنگین مقدمات میں ملوث پائے گئے ہیں۔۔
پولیس کے مطابق، چھاپہ مار کارروائیوں کا مقصد دہشت گرد تنظیموں کے نیٹ ورک کو توڑنا اور ان کے سہولت کاروں کو قانون کے کٹہرے میں لانا ہے۔ چھاپے مکمل قانونی عمل، ایگزیکٹو مجسٹریٹس اور آزاد گواہوں کی موجودگی میں مارے گئے۔
پولیس کے مطابق، جن مشتبہ افراد کے گھروں پر چھاپے مارے گئے، ان میں درج ذیل نام شامل ہیں:
بشیر احمد بٹ ولد عبدالعزیز بٹ، ساکن سوزیتھ — جن کے خلاف پولیس تھانہ راجباغ میں سال 2018 میں ایف آئی آر نمبر 73/2018 زیر دفعات 13 اور 16 یو اے پی اے کے تحت مقدمہ درج ہے۔
توحید احمد ولد عبد الخالق، ساکن گوری پورہ سوزیتھ — انہی دفعات اور اسی مقدمہ نمبر کے تحت (73/2018) پولیس تھانہ راجباغ میں نامزد ہیں۔
عاشق بشیر نجار ولد بشیر احمد نجار، ساکن سوئٹنگ — ان کے خلاف پولیس تھانہ مائسمہ میں ایف آئی آر نمبر 05/2022 (دفعہ 302، 307 آئی پی سی، 7/27 آرمز ایکٹ، اور یو اے پی اے کی دفعات 18، 19، 20) اور پولیس تھانہ خانیار میں ایف آئی آر نمبر 19/2022 (دفعہ 304، 468 آئی پی سی، آرمز ایکٹ اور یو اے پی اے) کے تحت مقدمات درج ہیں۔
سالک مہراج ڈار ولد مہراج الدین ڈار، ساکن سوئٹنگ — ان کے خلاف پولیس تھانہ نوگام میں ایف آئی آر نمبر 20/2023 اور زیر دفعہ 121 اے آئی پی سی، 13، 18، 39 یو اے پی اے کے تحت کیس درج ہے۔
عمر عادل ڈار ولد غلام حسن ڈار، ساکن سوئٹنگ — ان پر بھی پولیس تھانہ نوگام میں ایف آئی آر نمبر 20/2023 اور زیر دفعات 120 بی، 121 آئی پی سی اور یو اے پی اے کی متعدد دفعات (13، 18، 39، 40) کے تحت الزامات عائد ہیں۔
بلال احمد میر عرف “ففو” ولد غلام محمد میر، ساکن پاری پورہ — ان کے خلاف قومی تحقیقاتی ایجنسی (NIA) نے ایف آئی آر نمبر 29/DLI/21 کے تحت کیس درج کیا ہے۔
برہان نذیر خشو ولد نذیر احمد خشو، ساکن بیرونی کاٹھی دروازہ، رعنا واری — ان کے خلاف پولیس تھانہ خانیار میں ایف آئی آر نمبر 48/2024 دفعہ 109 بی این ایس اور یو اے پی اے کی دفعات 13، 16، 19، 20، 39 کے تحت کیس درج ہے، جبکہ انہیں پولیس تھانہ رعنا واری میں 2016 میں درج دو مقدمات (FIR No. 70/2016 اور 126/2016) میں بھی پبلک سیفٹی ایکٹ (PSA) کے تحت حراست میں لیا گیا تھا۔
عاشق ملک ولد عبد الخالق ملک، ساکن پنزی نارہ— ان کے خلاف پولیس تھانہ پاری پورہ میں ایف آئی آر نمبر 30/2018 آرمز ایکٹ کی دفعہ 7/27 کے تحت اور ایک الگ مقدمے (FIR No. 280/217) میں متعدد دفعات بشمول 147، 148، 149، 152، 336، 341، 307 آر پی سی، 7/25 آرمز ایکٹ اور ایکسپلوسو سبسٹینس ایکٹ کے تحت کیس درج ہیں۔ انہیں بھی پی ایس اے کے تحت گرفتار کیا گیا تھا۔
اشفاق احمد وانی ولد محمد امین وانی، ساکن ہمدانیہ کالونی، سیکٹر 4/A پولیس نے ان کے گھر کی بھی تلاشی لی تاہم مقدمہ کی تفصیل سامنے نہیں آئی۔
مدثر احمد میر ولد محمد سلطان میر، ساکن ملک پورہ برتھنہ — ان کے خلاف پولیس تھانہ پاری پورہ میں ایف آئی آر نمبر 127/2022 کے تحت آرمز ایکٹ اور یو اے پی اے کی دفعات 13، 16، 18، 38، 39 کے تحت کیس درج ہے۔ یہ بھی پی ایس اے کے تحت نظربند رہے ہیں۔
عرفان احمد لون ولد محمد عبداللہ لون، ساکن بلال کالونی، قمرواری — ان پر ایف آئی آر نمبر 163/2018 کے تحت آرمز ایکٹ کی دفعہ 7/25 کے تحت پولیس تھانہ پٹن میں کیس درج ہے۔
عرفان احمد سیرُو، ساکن خانقاہِ سوختہ، نوا کدل — ان کے خلاف ایف آئی آر نمبر 156/2024 پولیس تھانہ صفاکدل میں درج ہے جس میں یو اے پی اے کی دفعات 13، 19، 39 شامل ہیں۔
نصیر احمد میر ولد محمد اشرف میر، ساکن صدر بل، حضرت بل — ان پر دو مقدمات درج ہیں۔ پہلا کیس پولیس تھانہ نگین میں ایف آئی آر نمبر 02/2020 (دفعہ 307، 120-بی آئی پی سی، ایکسپلوسیو سبسٹینس ایکٹ، اور یو اے پی اے کی دفعات 16، 18) کے تحت جبکہ دوسرا مقدمہ ایف آئی آر نمبر 109/2019 میں انہی دفعات کے تحت درج ہے۔
پولیس کے مطابق، ان کارروائی کا مقصد نہ صرف شواہد جمع کرنا ہے بلکہ دہشت گردی کی کسی بھی ممکنہ سازش کو بے نقاب کرکے قومی سلامتی کو یقینی بنانا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اگر کسی شخص کو ملک دشمن یا تخریبی سرگرمیوں میں ملوث پایا گیا تو اس کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔
سرینگر پولیس نے اعادہ کیا کہ وہ شہر میں امن و امان کی فضا کو برقرار رکھنے کے لیے پرعزم ہے اور دہشت گردی کے کسی بھی نیٹ ورک یا اس کی حمایت کرنے والے افراد کو بخشا نہیں جائے گا۔
یو این آئی- ارشید بٹ
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر پولیس نے 500 گرام گانجا کے ساتھ منشیات کے اسمگلر کو گرفتار کیا
جموں، جموں و کشمیر پولیس نے فوجی کالونی کے علاقے میں منشیات کے 3 اسمگلروں کو گرفتار کرکے ان کے قبضے سے تقریباً 500 گرام گانجا برآمد کیا ہے۔ سرکاری ذرائع نے ہفتہ کو یہ اطلاع دی۔
حکام کے مطابق، معمول کی گشت کے دوران پولیس کی ایک ٹیم نے دشہرہ میدان کے قریب سینک پبلک اسکول کے سامنے 3 افراد کو روکا۔ اس کے بعد ان کی تلاشی لی گئی، جس میں تقریباً 500 گرام گانجا برآمد ہوا۔
ملزمین کی شناخت مغربی بنگال کے رہنے والے ایشَر علی اور مدھیہ پردیش کے چھترپور کے رہنے والے اجے اہروار اور منوج بنسل کے طور پر ہوئی ہے۔ پولیس نے تینوں کو موقع پر ہی گرفتار کرلیا۔ برآمد شدہ منشیات کو مقررہ قانونی کارروائی کے تحت ضبط کرلیا گیا ہے اور ملزمین کے خلاف قانونی کارروائی شروع کردی گئی ہے۔
اس سلسلے میں متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ پولیس یہ معلوم کرنے کے لیے تحقیقات کر رہی ہے کہ برآمد شدہ منشیات کہاں سے لائی گئی تھی۔ اس کے علاوہ منشیات کی مبینہ سپلائی کے نیٹ ورک سے وابستہ تمام رابطوں کا بھی پتہ لگایا جا رہا ہے۔ جموں پولیس نے منشیات کی اسمگلنگ پر روک لگانے اور جموں و کشمیر کو منشیات سے پاک بنانے کے اپنے عزم کو دہرایا ہے۔
پولیس نے عام لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ منشیات کی اسمگلنگ اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں کے بارے میں مستند معلومات ڈائل 112 یا 9858034100 پر فراہم کریں۔ حکام نے کہا کہ اطلاع دینے والوں کی شناخت خفیہ رکھی جائے گی۔
یو این آئی۔ ایم جے
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر پولیس نے جے کے آئی ایم کے خفیہ نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، چار خواتین سمیت چھ افراد گرفتار
سری نگر، جموں و کشمیر پولیس نے ہفتہ کے روز ممنوعہ تنظیم ‘جموں و کشمیر اتحاد المسلمین’ (جے کے آئی ایم) کے ایک خفیہ نیٹ ورک کا پردہ فاش کرتے ہوئے چار خواتین سمیت چھ افراد کو گرفتار کرلیا۔
بانڈی پورہ ضلع پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نیٹ ورک کو پاکستان میں موجود ایک ہینڈلر چلا رہا تھا۔ پولیس کے مطابق، یہ نیٹ ورک علیحدگی پسند نظریات اور گمراہ کن پروپیگنڈے کو فروغ دے رہا تھا، جس میں خاص طور پر خواتین کو نشانہ بنایا جارہا تھا۔
پولیس نے گرفتار افراد میں کاچلو قاضی پورہ کے رہنے والے وحید احمد بھٹ کو اس معاملے کا مرکزی ملزم قرار دیا ہے۔ اس کے علاوہ بانڈی پورہ کے دچی گام کی رہائشی مبینہ بانو، چیک پنجی گام کی خوشبو جان، مہک جان اور عالیہ جان، نیز ہندواڑہ کے انن وان کے رہنے والے عرفان احمد ریشی عرف رئیس کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں اور نیٹ ورک کی سرگرمیوں، اس سے وابستہ دیگر افراد اور اس کے مبینہ رابطوں کے بارے میں معلومات جمع کی جارہی ہیں۔
واضح رہے کہ مرکزی حکومت نے 2025 میں جے کے آئی ایم پر پانچ سال کے لیے پابندی عائد کردی تھی۔ تنظیم پر ملک مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہونے، دہشت گردی کی حمایت کرنے اور علیحدگی پسند سرگرمیوں کو فروغ دینے کے الزامات ہیں۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
لداخ کی خاموشی کو ہتھیار ڈالنا نہ سمجھا جائے: کے ڈی اے کی مرکز کو تنبیہ
سرینگر، مرکزی وزارت داخلہ اور لداخ کے رہنماؤں کے درمیان بات چیت میں تعطل کے درمیان کرگل ڈیموکریٹک الائنس (کے ڈی اے) نے ہفتے کے روز مرکز کو خبردار کیا کہ وہ لداخ کے لیے آئینی تحفظات اور جمہوری حقوق کے مطالبات کو مزید تاخیر کا شکار نہ بنائے۔ الائنس نے کہا کہ عوام غیر معینہ مدت تک خاموش نہیں رہیں گے۔
کرگل میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کے ڈی اے کے رہنماؤں نے مرکزی وزارت داخلہ کی جانب سے پیش کردہ مجوزہ انتظامی ڈھانچے کو مسترد کردیا۔ ان کا الزام تھا کہ یہ تجویز سابقہ اجلاسوں کی کارروائی کے منٹس میں درج وعدوں پر پوری نہیں اترتی اور لداخ کے عوام کی امنگوں کو پورا کرنے میں ناکام ہے۔
کے ڈی اے اور لیہ ایپکس باڈی (ایل اے بی) گزشتہ کئی برسوں سے لداخ کے لیے آئینی تحفظات کے مطالبے کی قیادت کر رہے ہیں اور اس سلسلے میں مرکز کے ساتھ بات چیت بھی کرتے رہے ہیں۔
کے ڈی اے کے شریک چیئرمین سجاد کرگلی نے کہا کہ مجوزہ انتظام عوام کی امنگوں کو مدنظر رکھ کر تیار نہیں کیا گیا، بلکہ ان کے بقول اسے مرکزی زیر انتظام علاقے کی انتظامیہ کے مفادات کو سامنے رکھ کر وضع کیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ کے ڈی اے اور لیہ ایپکس باڈی نے اس تجویز کو مسترد کرتے ہوئے اپنے اعتراضات مرکز کے سامنے پیش کردیے ہیں۔
کرگلی نے لداخ انتظامیہ پر الزام لگایا کہ وہ مسلسل احکامات اور نوٹیفکیشن جاری کرکے جمہوری حقوق کو کمزور کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ الائنس آئینی تحفظات اور عوام کے حقوق کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گا۔
انہوں نے کہاکہ ”ہم مرکزی زیر انتظام علاقے کی انتظامیہ کی اس آمرانہ روش کی مذمت کرتے ہیں، جس کے تحت ہم پر یکے بعد دیگرے احکامات مسلط کیے جا رہے ہیں۔ یہ لداخ کے عوام کے حقوق پر حملہ ہے۔”
ملک کے دیگر حصوں میں انتخابی بے ضابطگیوں کے الزامات کا حوالہ دیتے ہوئے کرگلی نے کہا کہ لداخ کو ایک ”تجربہ گاہ” بنا دیا گیا ہے اور الزام لگایا کہ خطے کی سیاسی نمائندگی کو کمزور کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہاکہ ”لداخ کو ایک تجربہ گاہ بنا دیا گیا ہے۔ یہاں تو عوام کی نمائندگی ہی چھین لی گئی ہے۔”
ان کا کہنا تھا کہ ملک کے دیگر حصوں میں ووٹوں کی چوری کے الزامات سامنے آتے ہیں، جبکہ ان کے مطابق لداخ میں عوام کی سیاسی نمائندگی چھیننے کا معاملہ ہے۔
کے ڈی اے کے دوسرے شریک چیئرمین اسگر علی کربلائی نے کہا کہ لداخ میں چھائی خاموشی کو خوف یا ہتھیار ڈالنے سے تعبیر نہیں کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ یہ ”طوفان سے پہلے کی خاموشی” ہے۔
انہوں نے کہاکہ ”انتظامیہ کو موجودہ خاموشی کو خوف، تابع داری یا ہتھیار ڈالنے کی علامت نہیں سمجھنا چاہیے۔”
کربلائی نے بتایا کہ کے ڈی اے اور لیہ ایپکس باڈی گزشتہ چھ برس سے مرکزی وزارت داخلہ کے ساتھ اپنے چار نکاتی ایجنڈے پر بات چیت کر رہے ہیں۔ ریاست کا درجہ اور آئینی تحفظات ان کے دو اہم مطالبات ہیں۔
انہوں نے کہا کہ 22 مئی کو منعقدہ اجلاس کی کارروائی کے منٹس میں، جن پر 7 جولائی کو دستخط کیے گئے تھے، لداخ کے لیے خصوصی انتظامی ڈھانچے پر اتفاق درج تھا۔ اس انتظام میں قانون سازی، انتظامی اور مالی اختیارات کے ساتھ آئینی تحفظات فراہم کرنے کی بات شامل تھی۔
تاہم، ان کا الزام تھا کہ 15 اکتوبر کے اجلاس میں مرکزی وزارت داخلہ کی جانب سے پیش کردہ خاکہ ان وعدوں کے برعکس تھا اور اس میں بامعنی اختیارات یا آئینی ضمانتوں کے بغیر ایک انتظامی ڈھانچہ پیش کیا گیا۔
کربلائی نے کہاکہ ”جن حقوق کو فراہم کرنے پر تحریری طور پر اتفاق کیا گیا تھا اور جن کے لیے اجلاس کی کارروائی کے منٹس پر دستخط کیے گئے تھے، اب وہی حقوق ہمیں دینے سے انکار کیا جا رہا ہے۔”
انہوں نے کہا کہ مجوزہ کونسل کو بامعنی مالی اختیارات حاصل نہیں ہیں، نہ ہی اسے زمین سے متعلق معاملات پر اختیار دیا گیا ہے اور نہ ہی آزادانہ انتظامی اختیارات فراہم کیے گئے ہیں۔ ان کے مطابق، کے ڈی اے اور لیہ ایپکس باڈی نے آئینی اور قانونی ماہرین سے مشورے کے بعد اس تجویز پر اپنا تفصیلی جواب مرکز کو پیش کردیا ہے۔
کربلائی نے خبردار کیا کہ اگر حکومت اس معاملے میں مزید تاخیر کرتی ہے تو الائنس اپنی احتجاجی تحریک تیز کردے گا۔
انہوں نے کہاکہ ”اگر کل ہمیں اپنے ایجنڈے اور مطالبات کے لیے سڑکوں پر اترنا پڑا، تحریک چلانی پڑی، احتجاج کرنا پڑا، بند کی اپیل کرنی پڑی، ہڑتال کرنی پڑی یا جیلیں بھرنی پڑیں تو ہم ایسا کریں گے۔”
لداخ کے رکن پارلیمنٹ حاجی محمد حنیفہ جان نے کہا کہ مجوزہ انتظامی ڈھانچے نے ان امیدوں کو ختم کردیا ہے جو سابقہ بات چیت کے دوران پیدا ہوئی تھیں، جب دونوں فریق ایک انتظامی نظام کے بنیادی خدوخال پر متفق ہوگئے تھے۔
انہوں نے مرکز سے اپیل کی کہ ملتوی شدہ اجلاس جلد از جلد طلب کیا جائے اور دستخط شدہ منٹس میں درج وعدوں کے مطابق مسودہ پیش کیا جائے۔
جان نے کہا کہ لداخ کے عوام اپنی پالیسیاں خود طے کرنا اور خطے کی ترقی کی سمت کا فیصلہ کرنا چاہتے ہیں۔ تاہم، انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ الائنس لداخ میں امن برقرار رکھنے کا خواہاں ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ مسلسل تاخیر سے عوام میں، خصوصاً نوجوانوں میں، ایک بار پھر غم و غصہ پیدا ہوسکتا ہے۔ انہوں نے حکومت سے اپیل کی کہ مجوزہ انتظامی ڈھانچے کو پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس میں پیش کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔
کے ڈی اے نے ایک بار پھر واضح کیا کہ وہ اپنے ایجنڈے سے دست بردار نہیں ہوگا۔ الائنس نے مرکزی وزارت داخلہ اور مرکزی زیر انتظام علاقے کی انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ وہ ان ضوابط کو واپس لیں جنہیں وہ لداخ کے عوام کے مفادات کے خلاف سمجھتا ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
دنیا1 week agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
دنیا1 week agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
-
دنیا1 week agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
-
ہندوستان1 week agoسی جے پی بانی ابھیجیت دیپکے کو ملی ضمانت
-
ہندوستان1 week agoگیانیش کمار سرکاری گواہ بنیں: راہل
-
دنیا1 week agoایران کا ٹرمپ روٹ پر ردعمل: “ہم خطے میں امریکی موجودگی پر خدشات رکھتے ہیں”
-
ہندوستان1 week agoاقتدار کے لالچ میں آئینی اداروں پر سوال اٹھا کر جمہوریت کے وقار کو ٹھیس پہنچاتے ہیں راہل گاندھی: دھرمیندر پردھان
-
پاکستان1 week agoپاکستان کے صوبہ بلوچستان میں 5.8 شدت کا زلزلہ
-
ہندوستان1 week agoجی ٹی ٹی سی آئی اور شری دھرمک لیلا کمیٹی نے لال قلعے میں ‘عالمی یومِ خوراک’ منایا
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر: رام بن میں چرس اور ہیروئن کے ساتھ تین افراد گرفتار
