جموں و کشمیر
سری نگر اور جموں سمیت میں سبھی اضلاع میں کنٹرول روم قائم، تمام سرکاری ملازمین کی چھٹیاں منسوخ
پُرآشوب حالات میں احتیاطی اقدامات
سرحدی اضلاع میں تعلیمی ادارے بند، 10مئی تک لئے جانے والے یونیورسٹی سطح کے امتحانات ملتوی
قصبہ جات ،دیہات اور سرحدی علاقوں میں شام سے گھروں کی بجلی اوراسٹریٹ لائٹس بندرکھنے کی ہدایت
سرینگر:جے کے این ایس : پہلگام دہشت گردانہ حملے کے جواب میں بھارت کی جانب سے آپریشن سندور کے تحت منگل اوربدھ کی درمیانی رات پاکستان اور پاکستانی زیر قبضہ کشمیرمیں دہشت گردگروپوں کے9ٹھکانوں پر میزائیل حملوں کے بعد لائن آف کنٹرول اور بین الااقوامی سرحد پر بڑھتی کشیدگی کے پیش نظر جموں وکشمیر حکومت نے پوری یونین ٹریٹری میں کچھ اہم سیکورٹی اقدامات اُٹھائے ہیں ،جن کے تحت سری نگر اور جموں میں مرکزی یاصوبائی سطح کے کنٹرول روم قائم کرنے کیساتھ ساتھ باقی سبھی اضلاع میں کنٹرول روم قائم کئے ہیں۔جے کے این ایس کے مطابق ایک اور اہم حفاظتی اقدام کے تحت سری نگراور جموں کے ہوائی اڈوں کو عام پروازوں کیلئے بند کردیاگیاہے ،اور ساتھ ہی کشمیراور جموںکے سرحداضلاع میں تعلیمی اداروںکو بند کرنے کیساتھ ساتھ کشمیر یونیورسٹی ،جموں یونیورسٹی اور دیگر ایسے اعلیٰ تعلیمی اداروںنے 10مئی تک لئے جانے والے تمام امتحانات کو ملتوی کردیاہے ۔اسکے علاوہ شمالی کشمیرکے سرحدی اضلاع میں شام کے وقت لوگوںکو گھروں کی بجلی بند رکھنے کیساتھ ساتھ اسٹریٹ لائٹس کو بھی بند رکھنے کی ہدایت دی گئی ہے اوراس ہدایت پر بدھ سے ہی پورے شمالی کشمیرکے قصبہ جات ،دیہات اور سرحدی علاقوں میں سختی کیساتھ عمل درآمد کیاجارہاہے ۔ بارہمولہ سمیت شمالی کشمیرکے کئی قصبہ جات میں بدھ کی شام لاﺅڈ اسپیکروالی سرکاری گاڑیوں سے اعلان کرکے لوگوںکو ہدایت دی گئی کہ وہ رات 10بجے سے اپنے گھروںکی بجلی بتیاں گل کردیں اور اسٹریٹ لائٹس کو بھی بندرکھاجائے،اسی طرح دیہی اورسرحدی علاقوںمیں لوگوں کو شام 8بجے سے بجلی لیمپ بجلی رکھنے کی ہدایت دی گئی ہے اوراس سلسلے میں متعلقہ حکام نے سوشل میڈیا کے ذریعے ریکارڈ بند اعلانات شیئر کئے ہیں ،جن میں سرپنچوں اور پنچوں سے کہاگیاہے کہ وہ اپنے دائرے والے علاقوں اور دیہات میں اسبات کو یقینی بنائیں گے ،کہ تمام لوگ شام آٹھ بجے سے گھروں میں لگی بجلی بیتیوںکو گل کردیں گے جبکہ پنچوں سے کہاگیاہے کہ وہ اپنے علاقوںمیں نصب اسٹریٹ لائٹس کو بندرکھنے کی دیکھ بھال کری۔ حکام نے پاکستان اور پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر (پی او کے) میں9دہشت گرد کیمپوں پر ہندوستان کے میزائل حملوں کے تناظر میں پیش رفت کی نگرانی کے لیے سری نگر میں ایک مرکزی کنٹرول روم قائم کیا ہے۔ایک حکم نامے میں ضلع مجسٹریٹ سری نگر نے کہا کہ موجودہ صورت حال کے پیش نظر ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آپریشن سینٹر (DEOC)، ڈپٹی کمشنر، سری نگر کے دفتر میں ڈسٹرکٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (DDMA)، سری نگر کی مجموعی نگرانی میں ایک مشترکہ کنٹرول روم قائم کیا گیا ہے۔اسی طرح صوبہ کشمیر کے 10 اضلاع میں کنٹرول روم قائم کیے گئے ہیں۔حکام نے کہا کہ کنٹرول روم چوبیس گھنٹے24×7 کام کریں گے اور ان کو جاری پیش رفت کی نگرانی اور معلومات کی بروقت ترسیل کو یقینی بنانے کے لئے ڈیزائن کیا جائے گا۔آرڈر میں کہا گیاکہ یہ کنٹرول روم عام لوگوں کے لئے شکایت کے ازالے کے پلیٹ فارم کے طور پر بھی کام کریں گے، جو حقیقی وقت میں پیدا ہونے والے مسائل کے موثر حلکو یقینی بنائیں گے۔اُدھرجموں صوبہ میں بھی تمام دس اضلاع میں کنٹرول روم قائم کیے گئے ہیں،جو چوبیس گھنٹے کام کریں گے ،اور ضرورت پڑنے پر عام لوگوںکو فوری مدد اور راحت پہنچانے کے اقدامات روبہ عمل لائیں گے۔ایک اوراقدام کے تحت جموں وکشمیرمیں تمام سرکاری ملازمین کی چھٹیاں منسوخ کردی گئی ہیں ۔اس حوالے سے جموں و کشمیر حکومت نے تمام انتظامی سیکرٹریوں اور محکموں کے سربراہوں سے کہا ہے کہ وہ غیر معمولی حالات کے علاوہ ملازمین کی کسی بھی چھٹی کو منظور نہ کریں۔
جموں و کشمیر
سری نگر میں پاکستانی لشکر طیبہ کے دہشت گردوں کو پناہ دینے والی جائیداد این آئی اے نے ضبط کی
سری نگر، قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) نے پیر کو سری نگر میں ایک رہائشی جائیداد کو ضبط کر لیا۔ یہ کارروائی لشکر طیبہ (ایل ای ٹی) سے مبینہ طور پر وابستہ سرحد پار دہشت گردی کی سازش کے سلسلے میں کی گئی ہے۔ ایجنسی کے مطابق، اس جائیداد کا استعمال پاکستانی دہشت گردوں کو پناہ دینے اور دہشت گرد نیٹ ورک سے متعلق مجرمانہ شواہد چھپانے کے لیے کیا گیا تھا۔
این آئی اے نے بتایا کہ سری نگر کے حضرت بل علاقے کے گاؤں دانی ہامہ میں واقع یہ رہائشی جائیداد ملزم غلام محمد میر عرف ماما گیس کی ملکیت ہے۔ ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل سے پیشگی منظوری حاصل کرنے کے بعد غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ، 1967 کی دفعہ 25 کے تحت جائیداد ضبط کی گئی۔
ایجنسی کے مطابق سال 2026 کے اس معاملے کی تحقیقات سے جائیداد اور مبینہ دہشت گردانہ سازش کے درمیان براہ راست تعلق ثابت ہوا ہے۔
این آئی اے نے بتایا کہ یہ معاملہ ابتدائی طور پر 31 مارچ 2026 کو سری نگر کے زکورہ پولیس اسٹیشن میں درج کیا گیا تھا، جس کے بعد ایجنسی نے اسے اپنے ہاتھ میں لے کر دوبارہ درج کیا۔
ایجنسی کے مطابق، تحقیقات میں مقامی اوور گراؤنڈ ورکرز (او جی ڈبلیوز) کے ایک ایسے نیٹ ورک کا انکشاف ہوا ہے، جو مبینہ طور پر پاکستان میں موجود لشکر طیبہ کے سرغنوں کے ساتھ مل کر کام کر رہا تھا۔ اس نیٹ ورک کا مقصد پاکستانی دہشت گردوں کی دراندازی، نقل و حرکت، قیام اور دیگر ضروری انتظامات میں مدد فراہم کرنا تھا، تاکہ وہ سرکاری اداروں، سکیورٹی فورسز اور عام شہریوں کو نشانہ بنا سکیں۔
این آئی اے نے بتایا کہ 6 اپریل 2026 کو حضرت بل کے دانی ہامہ علاقے میں میر کی رہائشی جائیداد پر تلاشی کے دوران دو مشتبہ پاکستانی دہشت گردوں کا پتہ چلا، جن کی شناخت ابو ہریرہ اور خبیب کے طور پر کی گئی ہے۔ دونوں مبینہ طور پر لشکر طیبہ سے وابستہ تھے۔
ایجنسی نے کہاکہ ”جائیداد سے دھماکہ خیز مادے جیسا ایک مشتبہ مادہ، ڈیجیٹل آلات اور دیگر مجرمانہ شواہد بھی برآمد کرکے ضبط کیے گئے۔ تحقیقات سے مزید انکشاف ہوا کہ ملزم نے جان بوجھ کر دہشت گردوں کو محفوظ پناہ گاہ فراہم کرنے کے لیے اپنی رہائشی جائیداد ان کے حوالے کی تھی اور انہیں اپنی سرگرمیوں کے لیے اس جائیداد کے استعمال کی اجازت دی تھی۔”
انسداد دہشت گردی کی ایجنسی نے مزید بتایا کہ تحقیقات جاری ہیں، جن کا مقصد دہشت گردوں کی معاونت کرنے والے پورے نیٹ ورک کا پتہ لگانا اور اسے بے نقاب کرنا ہے۔ اس میں دیگر اوور گراؤنڈ ورکرز، سہولت کاروں اور پاکستان میں موجود دہشت گرد سرغنوں سے وابستہ افراد کی شناخت بھی شامل ہے۔
یواین آئی۔ ط ا
جموں و کشمیر
ستمبر میں لداخ کی سیاحت میں 60 فیصد اضافہ، 55 ہزار سے زائد سیاحوں کی آمد
سری نگر، لداخ میں سیاحوں کی آمد میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ ستمبر میں یہاں 55,582 سیاح پہنچے، جبکہ ستمبر 2025 میں یہ تعداد 34,610 تھی۔ اس طرح گزشتہ سال کے اسی مہینے کے مقابلے میں سیاحوں کی آمد میں 60.60 فیصد اضافہ درج کیا گیا۔
عہدیداروں کے مطابق، یکم جنوری سے 30 ستمبر 2026 کے دوران لداخ آنے والے سیاحوں کی تعداد 4,60,667 رہی، جبکہ پورے سال 2025 میں یہاں 3,35,872 سیاح آئے تھے۔ اس طرح 2026 کے ابتدائی نو ماہ میں ہی سیاحوں کی آمد گزشتہ پورے سال کے مقابلے میں 37.16 فیصد زیادہ ہوگئی ہے، جبکہ رواں سال کے اختتام میں ابھی تین ماہ باقی ہیں۔
یہ اعداد و شمار ثقافتی تجربات، مہم جوئی پر مبنی سیاحت، کھیلوں کی سرگرمیوں اور قدرتی ورثے کے باعث لداخ کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کی عکاسی کرتے ہیں۔
لداخ کے لیفٹیننٹ گورنر ونے کمار سکسینہ نے سیاحوں کی آمد میں اس نمایاں اضافے کا سہرا بہتر رابطہ سہولتوں اور مختلف تقریبات کے فروغ کو دیا۔ ان تقریبات میں لداخ بائیک ویک، لداخ میراتھن اور لداخ فیسٹیول شامل ہیں۔ اس کے علاوہ دنیا کے سب سے زیادہ بلندی پر واقع للیئم پھولوں کے کھیتوں اور ہندوستان کی پہلی بلند پہاڑی جنگلی حیات کی سفاری جیسی نئی اور منفرد اقدامات نے بھی لداخ کی کشش میں اضافہ کیا ہے۔
گزشتہ سال اور رواں سال کے ابتدائی نو ماہ کے اعداد و شمار کا تقابل بھی سیاحت میں نمایاں اضافے کی تصدیق کرتا ہے۔ جنوری سے ستمبر 2025 کے دوران لداخ میں 2,78,599 سیاح آئے تھے، جبکہ اسی مدت میں 2026 کے دوران یہ تعداد بڑھ کر 4,60,667 ہوگئی۔ اس طرح سیاحوں کی آمد میں 65.38 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
ملکی اور غیر ملکی، دونوں زمروں کے سیاحوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ 2026 کے ابتدائی نو ماہ میں لداخ آنے والے ملکی سیاحوں کی تعداد 4,20,927 رہی، جبکہ غیر ملکی سیاحوں کی تعداد 39,740 تھی۔ اس کے مقابلے میں 2025 کی اسی مدت کے دوران 3,03,838 ملکی اور 32,034 غیر ملکی سیاح لداخ پہنچے تھے۔ اس طرح ملکی سیاحوں کی آمد میں تقریباً 38.54 فیصد اور غیر ملکی سیاحوں کی آمد میں 24.06 فیصد اضافہ درج کیا گیا۔
یواین آئی۔ ط ا
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر کے سابق وزیر ہربنس سنگھ کا جموں میں انتقال
جموں، جموں و کشمیر کے سابق وزیر ہربنس سنگھ کا پیر کے روز یہاں ایک نجی اسپتال میں انتقال ہوگیا۔ ان کی عمر 84 برس تھی۔
ہربنس سنگھ نے 1996 سے 2002 تک اس وقت کے وزیر اعلیٰ فاروق عبداللہ کی قیادت والی حکومت میں کابینی وزیر کی حیثیت سے خدمات انجام دی تھیں۔
گزشتہ سال دسمبر میں انہیں نیشنل کانفرنس کے صدر اور سابق وزیر اعلیٰ فاروق عبداللہ کا سیاسی مشیر مقرر کیا گیا تھا۔
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے ہربنس سنگھ کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا۔ انہوں نے جموں و کشمیر کے لیے آنجہانی کی نمایاں خدمات کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ ان کا انتقال مرکز کے زیر انتظام علاقے کے لیے ایک بڑا نقصان ہے۔
عمر عبداللہ نے سوگوار خاندان سے تعزیت کا اظہار کیا اور مرحوم کی روح کے ابدی سکون کے لیے دعا کی۔
ہربنس سنگھ پسماندگان میں اہلیہ، دو بیٹے اور تین بیٹیاں چھوڑ گئے ہیں۔
یواین آئی۔ ظا
-
ہندوستان1 week agoمودی حکومت غیر قانونی ہے، دوبارہ انتخابات کرائے جائیں: کھڑگے
-
دنیا1 week agoایرانی وزیر تیل مستعفی، نیشنل آئل کمپنی کے سربراہ قائم مقام وزیر مقرر
-
جموں و کشمیر1 week agoریاستی حیثیت سے متعلق قرارداد این سی کی حکمرانی کی ناکامی چھپانے کی سیاسی چال: چگ
-
جموں و کشمیر7 days agoکشمیر سے تقریباً 150 بنگلہ دیشی شہری ملک بدر
-
دنیا1 week agoیمن کی سرکاری فوج کا حوثیوں کے خلاف بڑا حملہ، باب المندب کے قریب ذباب پر قبضہ
-
ہندوستان1 week agoسی ای سی کے خلاف احتجاجی مظاہرے کی درخواست پر سپریم کورٹ غور کرے گی
-
ہندوستان1 week agoجی ایس ٹی میں اگلی نسل کی اصلاحات سے کاروبار میں آسانی بڑھے گی، اعتماد مضبوط ہوگا: مودی
-
ہندوستان1 week agoراہل نے مدھیہ پردیش میں اساتذہ کی بھرتی کی آسامیوں میں اضافہ اور دوسرے مرحلے کی کونسلنگ شروع کرنے کا مطالبہ کیا
-
دنیا5 days agoوسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کی کامیابی ہی امریکہ کو دیوالیہ ہونے سے بچا سکتی ہے:ٹرمپ کا دعویٰ
-
پاکستان7 days agoعمران خان کی رہائی کے مطالبے پر ہزاروں حامیوں کا اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ شروع
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر: بارہمولہ میں پولیس نے موبائل، سم اور جراثیم کش دوا کی دکانوں پر جانچ مہم چلائی
-
جموں و کشمیر5 days agoعمر عبداللہ نے ایس آئی آر پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا جموں و کشمیر پہلے ہی انتخابی ‘ہیرا پھیری’ دیکھ چکا ہے
