جموں و کشمیر
اسپتال اور عملہ موجودہ صورتحال سے نمٹنے کےلئے مکمل تیار: وزیر صحت سکینہ ایتو
سرحدی علاقوںمیں محکمہ صحت پوری طرح سے الرٹ
سرینگر:جے کے این ایس : لائن آف کنٹرول اور بین الاقوامی سرحد پر متواترگولہ باری کے نتیجے میں پیدا شدہ صورتحال کے بیچ جموں کشمیر کی وزیر صحت سکینہ ایتو نے عوام سے خوفزدہ نہ ہونے کی اپیل کرتے ہوئے یقین دہانی کرائیہے کہ جموں کشمیر کے اسپتال اوروہاں تعینات طبی ونیم طبی عملہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے پوری طرح سے تیار ہیں۔جے کے این ایس کے مطابق صحت و طبی تعلیم کی وزیر سکینہ ایتو نے ایک انٹرویوکے دوران کہا کہ’ڈائریکٹوریٹ آف ہیلتھ کشمیر اور جموں کے تحت آنے والے سبھی اسپتالوں، تمام گورنمنٹ میڈیکل کالجوں سے منسلک اسپتالوں کے علاوہ SKIMS صورہ اور SKIMS بمنہ کو بھی کسی بھی امکانی صورتحال سے نمٹنے کےلئے تیار رکھا گیا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ اسپتال کسی بھی ایمرجنسی کے نمٹنے کے ہمیشہ تیار ہوتے ہیں البتہ موجودہ جنگی صورتحال کے پیش نظر سبھی اسپتالوں میں مزید انتظامات عمل میں لائے گئے ہیں۔وزیر صحت کا کہنا ہے کہ اسپتالوں میں منی آئی سی یوز (Mini-ICUs) اور علیحدہ بیڈ دستیاب رکھے گئے ہیں۔ ڈاکٹروں اور نیم طبی عملے کی خصوصی ٹیمیں بھی تیار رکھی گئی ہیں۔ ساتھ ہی تمام اسپتالوں میں ادویات کی فراہمی کو یقینی بنایا گیا ہے اور اسپتالوں کے بلیڈ بینکوں کو بھی خون کی دستیابی کو یقینی بنانے کےلئے الرٹ پر رکھا گیا ہے۔انہوںنے کہاکہ خصوصی ہیلپ لائنز کے علاوہ کنڑول رومز بھی قائم کئے گئے ہیں۔ سکینہ ایتو کا کہنا ہے کہ موجودہ ہنگامی صورتحال کے پیش نظر وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ بذات خود محکمہ صحت کی نگرانی کر رہے ہیں۔جموں وکشمیر میں 8 اضلاع سرحد کے متصل ہیں جن میں3 کشمیر میں اور 5 جموں صوبے میں ہیں۔ ان اضلاع میں سرحد پار کی گولہ باری سے شہری ہلاکتوں، زخمی ہونے ہونے کے زیادہ امکانات ہیں، جس کے پیش نظر زخمیوں کے بروقت علاج کو یقینی بنانے کےلئے ان مذکورہ اسپتالوں کو تمام ضروری طبی ساز و سامان سے لیس کیا گیا ہے۔ صحت و طبی تعلیم کی وزیر سکینہ ایتونے کہا کہ گورنمنٹ میڈیکل کالج اسپتال جموں جو خطے میں صحت کی دیکھ بھال کا ایک اہم ادارہ ہے، جاری سرحدی کشیدگی سے پیدا ہونے والی طبی ہنگامی صورتحال کو نمٹنے کےلئے پور طرح سے تیار ہے۔ جہاں وینٹی لیٹرز اور مانیٹر والے چھوٹے آئی سی یوز کام کر رہے ہیں اور وہاں ادویات کا بھی کافی ذخیرہ کیا گیا ہے۔
گورنمنٹ میڈیکل کالج اسپتال جموں میں200 سے زائد بستر علیحدہ رکھے گئے ہیں۔ وہیں میڈیکل ٹیمیں اور لاجسٹک سپورٹ کے ساتھ مزید اسٹاف دستیاب ہے تاکہ چوبیس گھنٹے دیکھ بھال فراہم کی جا سکے، خاص طور پر شیلنگ سے متاثرہ افراد کو بروقت بہتر طبی سہولیات مہیا کی جاسکیں۔سکینہ ایتونے کہاکہ سرحدی اضلاع خاص کر راجوری، پونچھ، کٹھوعہ اور سانبہ میں بھی محکمہ صحت کو الرٹ پر رکھا گیا ہے اور ہر طرح کی تیاری کی گئی ہے۔ اسی طرح شمالی کشمیر کے تمام اضلاع کے اسپتالوں کو بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار رکھا گیا ہے۔
جموں و کشمیر
سینٹرل ایشیا کے دورے پر مودی کی روانگی سے قبل محبوبہ نے خطے سے دوبارہ جڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کی وکالت کی
سری نگر، وزیراعظم نریندر مودی کے 29 اگست سے شروع ہونے والے سینٹرل ایشیا کے چار روزہ دورے سے قبل پی ڈی پی صدر اور جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے جمعہ کے روز اس خطے کے سینٹرل ایشیا سے جڑنے والے تاریخی راستوں کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ جموں و کشمیر کی اہم جغرافیائی موقعیت اسے تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک بڑا ذریعہ بنا سکتی ہے۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں محبوبہ نے کہا کہ مودی اپنے دورے کے دوران جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کے تصور پر بات کریں۔ انہوں نے کہا، “جب وزیراعظم مودی سینٹرل ایشیا کے دورے پر جا رہے ہیں، تو انہیں جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کی تجویز پر بات چیت کرنی چاہیے۔
جموں و کشمیر کا اہم جغرافیائی موقع نہ صرف اس خطے بلکہ پورے ملک کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ثابت ہو سکتا ہے۔” انہوں نے مزید کہا، “خوتان، یارقند اور کاشغر کی طرف راستے کھولنے سے جموں و کشمیر تنازع کے علاقے سے بدل کر تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک مرکزی ذریعہ بن سکتا ہے۔ جغرافیائی مواقع کو امن اور خوشحالی کے لیے استعمال کرنے دیں تاکہ کشمیر میں ایک نیا سورج طلوع ہو۔”
واضح رہے کہ وزیراعظم مودی ایس سی او سمٹ کے لیے ازبکستان کے ساتھ ساتھ کرغزستان کے دورے پر جا رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ایف اے۔ م الف
جموں و کشمیر
ایم کے سنہا نے جموں و کشمیر کے نئے انٹیلی جنس چیف کا عہدہ سنبھال لیا
سری نگر، 1996 بیچ کے آئی پی ایس افسر ایم کے سنہا نے جمعہ کو جموں و کشمیر کے نئے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (اے ڈی جی پی)، کرائم انویسٹی گیشن ڈپارٹمنٹ (سی آئی ڈی) کا عہدہ سنبھال لیا۔ انہوں نے نتیش کمار کی جگہ یہ ذمہ داری سنبھالی ہے، جنہیں اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
ایم کے سنہا اس سے قبل جموں و کشمیر پولیس ہیڈکوارٹرز (پی ایچ کیو) میں اے ڈی جی پی (ہیڈکوارٹرز) کے عہدے پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ انہیں اب سی آئی ڈی کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق عہدہ سنبھالنے کے فوراً بعد ایم کے سنہا نے سی آئی ڈی کے سینئر افسران کے ساتھ میٹنگ کی اور محکمہ کے انٹیلی جنس ونگ کی مجموعی کارکردگی کا جائزہ لیا۔ انہیں محکمہ کی مختلف شاخوں کے کام کاج اور سرگرمیوں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے جمعرات کو ایم کے سنہا کو مرکز کے زیر انتظام علاقے کا نیا انٹیلی جنس چیف مقرر کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔
دریں اثنا، 1999 بیچ کے آئی پی ایس افسر نتیش کمار، جو اس سے قبل اے ڈی جی پی سی آئی ڈی اور جموں و کشمیر اسٹیٹ انویسٹی گیشن ایجنسی (ایس آئی اے) کے ڈائریکٹر کے عہدے پر فائز تھے، کو اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
کشتواڑ ضلع کے سینکڑوں بااثر اساتذہ کئی برس سے ایک ہی جگہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوئے ہیں: اجیت بھگت
کشتواڑ، جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے سینئر لیڈر اور چناب ویلی کے ترجمان اجیت بھگت نے الزام عائد کیا کہ محکمہ اسکول ایجوکیشن عملاً بدعنوانی کا گڑھ بن چکا ہے، جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ کشتواڑ ضلع کے ساتھ ساتھ ڈوڈہ اور رامبن اضلاع میں سینکڑوں اساتذہ ہیں۔ جو کہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوۓ ہیں۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے یہاں جاری ایک پریس ریلیز میں کہا کہ ٹرانسفر پالیسی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے وہ اپنی مرضی کی جگہ پر بیٹھے ہیں، حیرت کی بات یہ ہے کہ ان میں سے کئی رہائشی اساتذہ جو دور دراز علاقوں میں تعینات ہیں، بغیر کوئی کام کیے محکمہ سے تنخواہ لے رہے ہیں،
مسٹر بھگت نے کہا کہ بہت سے ایسے اساتذہ ہیں جو پچھلے کئی سالوں سے اعلیٰ حکام سے رابطہ کر رہے ہیں جب کہ حقیقی اساتذہ جو اسٹریم لائن جگہوں پر پوسٹنگ کے مستحق ہیں، وہ محکمے میں گہرے گٹھ جوڑ کی وجہ سے ہیں،
مسٹر بھگت نے الزام لگایا کہ شہر میں اسکول سب سے پسندیدہ جگہ ہیں جہاں صرف بااثر اساتذہ ہی تعینات ہیں جب کہ شہر میں بہت سے اچھے اساتذہ کو کبھی موقع نہیں دیا جاتا۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے کہا کہ تبادلوں میں غیر جانبداری کے مسائل سامنے آئے لیکن اعلیٰ حکام کی دانستہ لاعلمی اور انتظامیہ کے کمزور عزم کی وجہ سے اس لعنت پر قابو نہیں پایا جا سکا۔
انھوں نے کہا کہ انتظامیہ اساتذہ کے مسائل سے بخوبی واقف ہے، جنہیں گٹھ جوڑ کا خمیازہ بھگتنا پڑا جس نے انہیں اپنے آبائی علاقوں میں واپس جانے کی اجازت نہیں دی، اس لیے انہوں نے اپنی زیادہ تر خدمات دور دراز علاقوں میں گزاریں۔
یو این آئی۔ ظ ا۔م الف
-
دنیا1 week agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا1 week agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
تازہ ترین1 week agoیوم آزادی اور مسلمان
-
دنیا6 days agoایرانی صدر مسعود پزشکیان کو ملک کو درپیش ’’بہت سے مسائل‘‘ کا اعتراف، امریکہ کے ساتھ معاہدہ جنگ سے نکلنے کا بہترین راستہ
-
جموں و کشمیر1 week agoای او ڈبلیو کشمیر نے فرضی ملازمت فراڈ کیس میں عادی مجرم کے خلاف فردِ جرم عائد کردی
-
دنیا6 days agoنئی اقتصادی پابندیوں سے قبل ایران ’’مکمل طور پر تباہی کی طرف بڑھ رہا ہے‘‘:ٹرمپ کا دعویٰ
-
جموں و کشمیر1 week agoدہشت گردی کے معاملے میں این آئی اے کی کشمیر کے کئی اضلاع میں چھاپہ مار کارروائی
-
ہندوستان5 days agoہندستانی دفاعی صنعتوں کو ملے گی ڈی آر ڈی او کے روایتی میزائل نظام کی ٹیکنالوجی
-
ہندوستان5 days agoذات پرمبنی مردم شماری کے طریقۂ کار پر کھرگے اور راہل نے تشویش کا اظہار کیا، مودی کو لکھا مشترکہ خط
-
دنیا7 days agoایران کا آبنائے ہرمز میں قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے بحری جہازوں کے خلاف کارروائی کا انتباہ
-
ہندوستان6 days agoاشیائے خوردونوش کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور روزگار کے بحران پر جے رام رمیش نے مرکزی حکومت کو نشانہ بنایا
