دنیا
ایران جنگ کے دوران ٹرمپ کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس میں تیل اور گیس کمپنیوں کے حصص کی خرید و فروخت جاری رہی
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس نے ایران کے ساتھ جنگ کے دوران بھی تیل اور قدرتی گیس کمپنیوں کے حصص کی خرید و فروخت جاری رکھی۔ 2026 کی دوسری سہ ماہی تک کے مالیاتی گوشواروں کے مطابق، ان لین دین میں توانائی کے شعبے کے حصص کی لاکھوں ڈالر مالیت کی خرید و فروخت شامل تھی۔
سی بی ایس نیوز کی جانب سے جائزہ لیے گئے مالیاتی گوشواروں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کے ساتھ تنازع کے دوران، جنگ میں عارضی جنگ بندی اور پھر دوبارہ جنگ شروع ہونے کے مرحلے میں ٹرمپ کے اکاؤنٹس نے ایکسون موبل، شیورون اور کونکو فلپس سمیت مختلف کمپنیوں کے حصص خریدے اور فروخت کیے۔
ٹرمپ کا مجموعی سرمایہ کاری پورٹ فولیو وسیع ہے۔ سی بی ایس نیوز کے مطابق سال کے پہلے تین ماہ کے دوران ان کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس نے تقریباً 3,600 اسٹاک اور سیکیورٹیز لین دین کیے، جن کی مجموعی مالیت 21 کروڑ 20 لاکھ ڈالر سے 69 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کے درمیان تھی۔
جوائنٹ اکنامک کمیٹی کے ڈیموکریٹ ارکان نے الگ سے اندازہ لگایا ہے کہ 2026 کے آغاز میں ٹرمپ کے تیل اور گیس کے اثاثوں کی مالیت ایک کروڑ 30 لاکھ سے 4 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کے درمیان تھی، جو اگست کے وسط تک بڑھ کر ایک کروڑ 70 لاکھ سے 6 کروڑ 10 لاکھ ڈالر کے درمیان ہوگئی۔
یہ اندازے لازمی طور پر غیر حتمی ہیں کیونکہ وفاقی مالیاتی گوشواروں کے قواعد کے تحت حکام کو لین دین کی درست رقم کے بجائے مالیت کی ایک حد ظاہر کرنا ہوتی ہے۔ ان اعداد و شمار میں 2025 کے بعد ٹرمپ کی جانب سے کیے گئے تمام لین دین بھی شامل نہیں ہیں۔
گوشواروں میں نمایاں کیے گئے ایک لین دین کے مطابق 7 اپریل کو، جس روز ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ میں جنگ بندی کا اعلان کیا، ان کے اکاؤنٹس نے 5 لاکھ سے 10 لاکھ ڈالر مالیت کے ایکسون موبل کے حصص فروخت کیے۔
ایکسون موبل کا حصص اس روز 163.91 ڈالر پر بند ہوا تھا، جبکہ ٹرمپ نے اسی شام جنگ بندی کا اعلان کیا۔ اگلے روز کمپنی کے حصص 6.5 فیصد کمی کے ساتھ 153.52 ڈالر پر کھلے۔
ٹرمپ کے اکاؤنٹس نے سال کی پہلی ششماہی کے دوران شیورون، کونکو فلپس اور دیگر تیل و گیس کمپنیوں کے حصص میں بھی لاکھوں ڈالر کی خرید و فروخت کی۔
وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کا ان لین دین کے وقت یا فیصلوں میں کوئی کردار نہیں۔ ترجمان ڈیوس انگل نے کہا کہ صدر کا پورٹ فولیو “تیسرے فریق کے مالیاتی اداروں کی جانب سے آزادانہ طور پر منظم کیا جاتا ہے” اور ان کے اثاثے ایسے اختیاری اکاؤنٹس میں رکھے گئے ہیں جن میں کمپیوٹر پر مبنی ماڈل پورٹ فولیو استعمال ہوتے ہیں اور جو خودکار طور پر معروف انڈیکسز کی نقل کرتے ہیں۔
انگل کے مطابق نہ تو ٹرمپ اور نہ ہی ان کے خاندان کے ارکان سرمایہ کاری کے فیصلوں کو “براہ راست ہدایت، متاثر یا ان میں رائے شامل” کرسکتے ہیں۔
اس کے باوجود ان لین دین پر اس لیے بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں کہ جنگ کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں اضافے سے توانائی کمپنیوں کے حصص کو فائدہ پہنچا تھا۔ ٹرمپ نے اپنے اثاثے بلائنڈ ٹرسٹ میں رکھنے سے انکار کیا ہے، جس کا مطلب ہے کہ وہ انفرادی کمپنیوں کے حصص بدستور رکھتے ہیں، بجائے اس کے کہ اپنی سرمایہ کاری کو صرف انڈیکس فنڈز، میوچل فنڈز یا دیگر وسیع پیمانے پر متنوع سرمایہ کاری تک محدود کریں۔
کچھ سرمایہ کاری ماہرین نے کہا ہے کہ کم از کم بعض لین دین کا تعلق مخصوص کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں پر شرط لگانے کے بجائے ٹیکس مینجمنٹ سے ہوسکتا ہے۔
ہیج آئی ایسٹ مینجمنٹ کے پورٹ فولیو مینیجر ڈیوڈ سیلم نے اس سے قبل ان لین دین کو “روایتی ٹیکس لاس ہارویسٹنگ سرگرمی” قرار دیا تھا، جس میں ایک جگہ ہونے والے منافع کو دوسری جگہ کے نقصان سے متوازن کرنے کے لیے بعض سیکیورٹیز نقصان پر فروخت کی جاتی ہیں۔ ان کے مطابق جدید ڈائریکٹ انڈیکسنگ سسٹمز کے ذریعے ایسی حکمت عملی خودکار طور پر بھی اختیار کی جاسکتی ہے۔
آفس آف گورنمنٹ ایتھکس کے قواعد کے تحت حکام کو مقررہ مدت کے اندر 1,000 ڈالر سے زیادہ مالیت کے اسٹاک کی خرید و فروخت ظاہر کرنا ہوتی ہے، تاہم ان گوشواروں میں اصل لین دین کے مقابلے میں تاخیر ہوسکتی ہے۔ ٹرمپ نے 2026 میں کیے گئے بعض لین دین کی اطلاع بھی مقررہ وقت کے بعد دی۔
اس معاملے پر سرکاری اخلاقیات کے حامیوں نے بھی تنقید کی ہے۔ سِٹیزنز فار ریسپانسبلٹی اینڈ ایتھکس اِن واشنگٹن کے صدر ڈونلڈ شرمن نے کہا کہ ٹرمپ کو ایران جنگ کے نتائج سے مالی فائدہ نہیں اٹھانا چاہیے۔
شرمن نے کہا، “ٹرمپ کے بروکرز ان کی جانب سے تیل اور گیس کے حصص کی خرید و فروخت کررہے ہیں،” اور ان کا مؤقف تھا کہ صدر کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے مالی مفادات اور امریکی عوام کے مفادات کے درمیان ممکنہ تضاد سے گریز کریں۔
امریکہ میں صدر، کانگریس کے ارکان اور دیگر تمام وفاقی حکام کو قانونی طور پر انفرادی کمپنیوں کے حصص میں سرمایہ کاری اور ان کی خرید و فروخت کی اجازت ہے، اگرچہ دونوں بڑی سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے قانون ساز اس عمل پر پابندی عائد کرنے کی تجاویز بارہا پیش کرچکے ہیں۔
امریکی تاریخ کے دولت مند ترین صدور میں شمار ہونے والے ٹرمپ نے اپنے حالیہ پیش روؤں کے مقابلے میں بالکل مختلف طریقہ اختیار کیا ہے۔ مثال کے طور پر جارج ڈبلیو بش نے اپنے اثاثے بلائنڈ ٹرسٹ میں رکھے تھے، جبکہ بارک اوباما نے زیادہ تر انڈیکس اور میوچل فنڈز اور امریکی ٹریژری سیکیورٹیز میں سرمایہ کاری رکھی۔ دوسری جانب جو بائیڈن کے پاس انفرادی کمپنیوں کے حصص نہیں تھے۔
یو این آئی۔ ع ا
دنیا
چین میں مال بردار جہاز میں آگ لگنے سے کم از کم 25 افراد ہلاک
بیجنگ، سرکاری میڈیا نے بتایا کہ چین کی ایک بندرگاہ پر کھڑے غیر ملکی پرچم بردار مال بردار جہاز میں آگ لگنے کے بعد کم از کم 25 افراد ہلاک ہوگئے۔
سرکاری نشریاتی ادارے سی سی ٹی وی کے مطابق جہاز پر سوار 42 افراد میں سے 12 کو بحفاظت نکال لیا گیا، جبکہ پانچ زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا گیا جہاں ان کی حالت مستحکم بتائی گئی ہے۔
سرکاری خبر رساں ایجنسی ژنہوا کے مطابق آگ تقریباً صبح 11:15 بجے (گرین وچ مین ٹائم کے مطابق 03:15 بجے) اس وقت لگی جب جہاز شمال مشرقی چین کے ساحلی علاقے کی ایک بڑی بندرگاہ چنگ ڈاؤ میں واقع بے ہائی شپ بلڈنگ کمپنی میں مرمت کے لیے کھڑا تھا۔
آگ لگنے کی وجہ فوری طور پر معلوم نہیں ہوسکی اور یہ بھی واضح نہیں تھا کہ آگ پر قابو پالیا گیا ہے یا نہیں۔
ژنہوا کی جانب سے جاری تصویر میں جہاز کی شناخت اوشن میلوڈی کے طور پر کی گئی ہے۔ عوامی سطح پر دستیاب بحری جہازوں کی نگرانی کرنے والی ویب سائٹ ویسل فائنڈر کے مطابق یہ جہاز لائبیریا کے پرچم تلے چلتا ہے۔
چین کے صدر شی جن پنگ نے فوری طور پر تلاش اور بچاؤ کی کارروائیاں شروع کرنے کی ہدایت دی۔
ژنہوا کے مطابق انہوں نے ’’لاپتہ افراد کی فوری تلاش اور بچاؤ‘‘ کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے ذمہ دار افراد کے خلاف ’’سخت کارروائی‘‘ کرنے کی ہدایت دی۔
وزیر اعظم لی چیانگ نے پھنسے ہوئے افراد کی تلاش اور بچاؤ اور زخمیوں کو طبی امداد فراہم کرنے کی ہدایت کی۔
انہوں نے حکام پر ’’ثانوی حادثات کی روک تھام کے لیے سخت اقدامات‘‘ کرنے پر بھی زور دیا۔
شی جن پنگ نے کہا کہ ’’تمام علاقوں اور متعلقہ محکموں کو اس واقعے سے گہرا سبق حاصل کرنا چاہیے، آگ لگنے کے تمام ممکنہ خطرات کی مکمل تحقیقات کرکے انہیں دور کرنا چاہیے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
وزیر اعظم طارق رحمان کو ہندوستان میں ہونے والی برکس سربراہی کانفرنس میں بھیجنے کی گنجائش نہیں: بنگلہ دیش
ڈھاکہ، بنگلہ دیش کے خارجہ امور کے وزیر مملکت ہمایوں کبیر نے جمعرات کو کہا کہ وزیر اعظم طارق رحمان آئندہ برکس سربراہی کانفرنس میں شرکت نہیں کریں گے، کیونکہ انہیں وزیر اعظم کی حیثیت سے مدعو نہیں کیا گیا ہے۔
تاہم انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیش کی جانب سے کانفرنس میں حکومت کے کسی نمائندے کو بھیجنے کی گنجائش ہوسکتی ہے۔
خارجہ سروس اکیڈمی میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کبیر نے طارق رحمان کی کانفرنس میں شرکت کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے کہا، ’’ہم کیسے جائیں؟ کیا بنگلہ دیش حکومت کے کسی فرد کو مدعو کیا گیا ہے؟ ہمارے وزیر اعظم کو مدعو نہیں کیا گیا۔ آپ کو کس نے بتایا کہ ہمارے وزیر اعظم کو مدعو کیا گیا ہے؟ بمسٹیک کے چیئرمین کو مدعو کیا گیا ہے۔ پھر آپ یہ سوال کیوں کر رہے ہیں؟‘‘
بنگلہ دیش کی شرکت سے متعلق سوالات کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اس کے بجائے حکومت کا کوئی نمائندہ کانفرنس میں شرکت کرسکتا ہے۔
کبیر نے مزید کہا کہ طارق رحمان کا ہندوستان کا پہلا دورہ کسی کثیر ملکی اجلاس کے سلسلے میں نہیں ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق حکومت مناسب وقت پر دو طرفہ دورے کا انتظام کرنے کے لیے کام کر رہی ہے۔
بنگلہ دیش نے گزشتہ سال اپریل میں بمسٹیک کی دو سالہ مدت کے لیے صدارت سنبھالی تھی۔ اس کا مقصد علاقائی تعاون اور ترقی کو فروغ دینا ہے۔
بمسٹیک میں بنگلہ دیش، بھوٹان، ہندوستان، میانمار، نیپال، سری لنکا اور تھائی لینڈ شامل ہیں۔
ہندوستان نے تصدیق کی ہے کہ طارق رحمان کو بمسٹیک کے چیئرمین کی حیثیت سے برکس سربراہی کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ انہیں ہندوستان کے دو طرفہ دورے کی الگ دعوت بھی رواں سال فروری سے دی جا چکی ہے۔
18ویں برکس سربراہی کانفرنس 12 اور 13 ستمبر کو نئی دہلی میں منعقد ہوگی، جس میں رکن اور شراکت دار ممالک کے رہنماؤں کے علاوہ دیگر مدعو شرکا بھی شرکت کریں گے۔ اقوام متحدہ کے مطابق اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انٹونیو گوتریس بھی کانفرنس میں شرکت کرنے والے ہیں۔
2026 میں برکس کے چیئرمین کی حیثیت سے ہندوستان نئی دہلی کے بھارت منڈپم میں سربراہی کانفرنس کی میزبانی کرے گا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
روسی حملوں میں یوکرین میں 7 افراد ہلاک، کیف کا آرکٹک میں گیس پلانٹس پر حملہ
کیف، یوکرین کے حکام کے مطابق روسی افواج نے یوکرین کے مختلف علاقوں میں حملے کیے، جن میں کم از کم سات افراد ہلاک ہوئے۔ دوسری جانب کیف نے ایک ڈرون حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے نتیجے میں روس کے آرکٹک خطے میں واقع ایک قدرتی گیس پلانٹ میں آگ بھڑک اٹھی۔
یوکرینی حکام کے مطابق جمعرات کی رات جنوبی یوکرین کے میکولائیف شہر میں روسی حملے میں چار افراد ہلاک ہوئے، جبکہ شمال مشرقی شہر سومی میں ایک شاپنگ سینٹر پر ڈرون حملے میں تین افراد مارے گئے۔
میکولائیف کے قائم مقام گورنر ہیورہی ریشیتیلوف نے کہا کہ روسی حملوں میں شہری اور صنعتی بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا، جس میں دو مرد اور دو خواتین ہلاک ہوئے۔ انہوں نے ٹیلی گرام پر بتایا کہ کم از کم 19 دیگر افراد زخمی بھی ہوئے۔
سومی کے علاقائی فوجی انتظامیہ کے سربراہ اولیہ ہریہوروو نے بتایا کہ حملے میں کم از کم 14 افراد زخمی ہوئے، جن میں تین بچے بھی شامل ہیں۔
روس کی وزارت دفاع نے میکولائیف میں حملے کی تصدیق کی، تاہم اس کا کہنا تھا کہ اس کا ہدف ڈرون کا ایک گودام تھا۔ وزارت نے دعویٰ کیا کہ اس نے بحیرہ اسود میں یوکرین کی بندرگاہ چورنومورسک اور اوڈیسا کے قریب دو بحری جہازوں کو بھی نشانہ بنایا۔
روسی وزارت دفاع کے مطابق ان حملوں میں جن مقامات کو نشانہ بنایا گیا، انہیں فوجی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔
یہ حملے ایسے وقت میں ہوئے جب روسی حکام نے بتایا کہ یوکرینی فورسز نے یامال-نینیتس خطے پر ڈرون حملہ کیا ہے، جو یوکرین کی سرحد سے تقریباً 2,800 کلومیٹر (1,700 میل) دور واقع ہے۔
خطے کے گورنر دمتری آرتیوخوف نے بتایا کہ حملے کا ہدف نووی یورینگوئی میں ایک صنعتی تنصیب تھی۔ ان کے مطابق حملے کو ناکام بنا دیا گیا، تاہم ڈرون کا ملبہ گرنے سے وہاں آگ لگ گئی۔
انہوں نے مزید کہا، ’’سب سے اہم بات یہ ہے کہ کوئی ہلاکت یا زخمی نہیں ہوا۔ نقصان کی نوعیت اور شدت کا تعین کیا جا رہا ہے۔‘‘
کریملن کے یورال خطے کے نمائندے آرتیم ژوگا نے کہا کہ بدھ کے روز ہونے والا حملہ اس خطے کے آرکٹک حصے کو نشانہ بنانے والا اپنی نوعیت کا پہلا حملہ تھا۔
یوکرین کی اسپیشل آپریشنز فورسز (ایس او ایف) نے ایکس پر متعدد پوسٹس کے ذریعے حملے کی تصدیق کی۔
فورسز نے کہا، ’’پہلی بار! جنگ کا سب سے گہرا حملہ: یوکرین کی اسپیشل آپریشنز فورسز نے 3,000 کلومیٹر سے زیادہ فاصلے پر واقع روسی اہم صنعتی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔‘‘
یوکرینی فورسز نے دعویٰ کیا کہ اس نے نووی یورینگوئی اور پورووسکی کے دو گیس پلانٹس کو ’’کامیابی سے نشانہ‘‘ بنایا۔
انہوں نے کہا، ’’آج تک اس علاقے کو جارح ملک کے لیے ایک محفوظ عقبی علاقہ تصور کیا جاتا تھا۔‘‘
یوکرینی فورسز کے مطابق مذکورہ تنصیبات روس کی گیس صنعت میں اہم کردار ادا کرتی ہیں اور یامال خطے کے مختلف گیس فیلڈز سے حاصل ہونے والی بڑی مقدار میں گیس کنڈینسیٹ کو پراسیس کرتی ہیں۔ ان تنصیبات میں سالانہ لاکھوں ٹن کنڈینسیٹ کی پروسیسنگ کی جاتی ہے۔
روس کی سرکاری گیس کمپنی گیزپروم 2022 میں یوکرین کے خلاف جنگ شروع ہونے کے بعد روس اور مغربی ممالک کے تعلقات خراب ہونے تک یامال سے مغربی یورپ تک گیس برآمد کرتی رہی تھی۔
گیز کے مطابق 2020 تک اس خطے میں گیس کے ذخائر کا تخمینہ 26.5 ٹریلین مکعب میٹر تھا، جو عالمی طلب کو چھ سال سے زیادہ عرصے تک پورا کرنے کے لیے کافی ہے۔
یوکرین نے حالیہ مہینوں کے دوران روس کے اندر دور تک مار کرنے والے حملوں میں اضافہ کیا ہے۔ کیف کا کہنا ہے کہ یہ حملے یوکرینی قصبوں اور شہروں پر روس کی روزانہ کی بمباری کے جواب میں کیے جا رہے ہیں۔
یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے رواں ماہ کے اوائل میں کہا تھا کہ جنگ کے دوران یوکرینی ڈرون روسی فضائی حدود کو ’’مکمل طور پر غیر محفوظ‘‘ بنا دیں گے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر5 days agoبڈگام انکاؤنٹر میں مارے گئے لشکر طیبہ کے دہشت گرد کی شناخت پاکستانی شہری کے طور پرہوئی
-
جموں و کشمیر1 week agoیاسین ملک کا سرلا بھٹ کے قتل میں ملوث ہونے سے انکار، کہا وہ بے قصور تھیں
-
دنیا1 week agoامریکہ-ایران جنگ: لڑائی میں شدت کے ساتھ ایران نے میزائلوں اور ڈرونز سے اردن اور بحرین کو نشانہ بنایا
-
جموں و کشمیر5 days agoاین سی بی نے جموں و کشمیر میں ہیروئن سپلائی کے دو راستوں کا انکشاف کیا، ایک مہینے میں تقریباً سات کلوگرام ہیروئن ضبط
-
جموں و کشمیر5 days agoکشمیر میں جنگلی سوروں کی اصل کا پتہ لگانے کے لیے جینیاتی مطالعہ شروع
-
دنیا1 week agoٹرمپ نے ایران کے خلاف جوہری ہتھیار استعمال کرنے کا امکان مسترد کردیا، تہران کو ’’مکمل فوجی شکست‘‘ دینے کا دعویٰ
-
دنیا1 week agoمصر کے سینا میں بس حادثے میں 16 افراد ہلاک
-
ہندوستان1 week agoجے رام رمیش نے 7.8 فیصد جی ڈی پی نمو کے دعوے کو چیلنج کیا، سابق فنانس سکریٹری کے 2.6 فیصد تخمینے کا حوالہ دیا
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں میں بی ایس ایف نے بین الاقوامی سرحد کے قریب پاکستانی درانداز کو پکڑ لیا
-
جموں و کشمیر1 week agoنمبر پلیٹ ماسکنگ کے خلاف کشمیر پولیس کی کارروائی، 10 دن میں 150 سے زائد گاڑیاں ضبط
-
ہندوستان6 days agoاساتذہ بچوں کے رویے، اسکرین ٹائم اور نشے کی عادت پر بھی توجہ دیں: مودی
-
ہندوستان7 days agoوزیر اعظم نریندر مودی نے عوام کو جنم اشٹمی کی مبارکباد دی
