دنیا
ایران، عمان آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کے قریب، تہران کا امریکہ سے بحری ناکہ بندی ختم کرنے کا مطالبہ
تہران، ایران اور عمان آبنائے ہرمز کو عارضی طور پر دوبارہ کھولنے کے لیے ایک معاہدے کے قریب پہنچ گئے ہیں دونوں ممالک اس اہم آبی گزرگاہ میں عارضی بحری راہداری قائم کرنے اور سمندری بارودی سرنگیں صاف کرنے کے لیے ایک ’’مرحلہ وار فریم ورک‘‘ پر بات چیت کر رہے ہیں اس تجویز کے ذریعے مستقل بحری راستے اور آبنائے ہرمز کے مستقبل کے انتظام سے متعلق مذاکرات کی بنیاد بھی تیار کی جائے گی۔
تہران نے امریکہ کے سامنے ایک شرط رکھی ہے اور اصرار کیا ہے کہ جہاز رانی کی بحالی سے قبل واشنگٹن کو ایرانی بندرگاہوں اور بحری جہازوں کے خلاف اپنی بحری ناکہ بندی ختم کرنے کے ساتھ ساتھ جنگ بھی ختم کرنا ہوگی۔
عمان کے وزیر خارجہ بدر البوسعیدی نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ دونوں ممالک جلد ہی عارضی بحری راہداری اور محفوظ جہاز رانی کی بحالی کے انتظامات کا اعلان کریں گے۔انہوں نے کہا کہ آبنائے کے مستقبل کے انتظام اور مستقل حل پر بعد میں بات کی جائے گی، جبکہ علاقائی شراکت داروں کے ساتھ مذاکرات امن و تعاون، استحکام اور آزادیٔ جہاز رانی کے فروغ میں معاون ہوں گے۔
ایران کے نائب وزیر خارجہ برائے قانونی و بین الاقوامی امور کاظم غریب آبادی نے آبنائے ہرمز سے متعلق ایران اور عمان کے درمیان مجوزہ عارضی انتظامات کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ آبی گزرگاہ کو دوبارہ کھولنے کا انحصار تہران کے مطالبات پورے ہونے پر ہے۔
غریب آبادی نے بدھ کو کہا کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے امریکہ کو اپنی ناکہ بندی ختم کرنا ہوگی۔
انہوں نے ایران اور عمان کے درمیان مجوزہ انتظام کو عارضی قرار دیا اور کہا کہ مستقل راستہ قائم کرنے کے لیے مزید مذاکرات ہوں گے، جن میں 30 سے 60 دن لگنے کی توقع ہے۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق غریب آبادی نے کہا، ’’آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے کوئی بھی قدم اٹھانے سے پہلے امریکہ کو ان تمام وعدوں پر مکمل عمل درآمد کرنا ہوگا جن کی اس نے خلاف ورزی کی ہے۔‘‘
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ صرف ناکہ بندی ختم کرنا کافی نہیں ہوگا۔
غریب آبادی نے کہا، ’’آبنائے ہرمز کے بدلے میں صرف ناکہ بندی ختم کرنا ہی واحد شرط نہیں ہے۔ ایک اور مسئلہ جنگ کا خاتمہ ہے۔‘‘انہوں نے مزید کہا کہ جنگ کا تمام محاذوں، بشمول لبنان، پر مستقل اور پائیدار انداز میں خاتمہ ضروری ہے۔
غریب آبادی کے مطابق ایران اور عمان کے مجوزہ انتظام میں عمانی ساحل کے ساتھ موجود جنوب کی جانب اقوام متحدہ سے مجاز بحری راستے کو بند کرنا بھی شامل ہوسکتا ہے، جس کی تہران مخالفت کرتا ہے۔ تاہم عمان کے ابتدائی بیان میں ایسے کسی راستے کو بند کرنے کا ذکر نہیں کیا گیا تھا۔
ایران نے 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ملک کے خلاف تازہ جارحیت شروع کیے جانے کے بعد اس اہم آبی گزرگاہ کو بند کر دیا تھا۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایران جنگ کے دوران ٹرمپ کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس میں تیل اور گیس کمپنیوں کے حصص کی خرید و فروخت جاری رہی
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس نے ایران کے ساتھ جنگ کے دوران بھی تیل اور قدرتی گیس کمپنیوں کے حصص کی خرید و فروخت جاری رکھی۔ 2026 کی دوسری سہ ماہی تک کے مالیاتی گوشواروں کے مطابق، ان لین دین میں توانائی کے شعبے کے حصص کی لاکھوں ڈالر مالیت کی خرید و فروخت شامل تھی۔
سی بی ایس نیوز کی جانب سے جائزہ لیے گئے مالیاتی گوشواروں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کے ساتھ تنازع کے دوران، جنگ میں عارضی جنگ بندی اور پھر دوبارہ جنگ شروع ہونے کے مرحلے میں ٹرمپ کے اکاؤنٹس نے ایکسون موبل، شیورون اور کونکو فلپس سمیت مختلف کمپنیوں کے حصص خریدے اور فروخت کیے۔
ٹرمپ کا مجموعی سرمایہ کاری پورٹ فولیو وسیع ہے۔ سی بی ایس نیوز کے مطابق سال کے پہلے تین ماہ کے دوران ان کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس نے تقریباً 3,600 اسٹاک اور سیکیورٹیز لین دین کیے، جن کی مجموعی مالیت 21 کروڑ 20 لاکھ ڈالر سے 69 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کے درمیان تھی۔
جوائنٹ اکنامک کمیٹی کے ڈیموکریٹ ارکان نے الگ سے اندازہ لگایا ہے کہ 2026 کے آغاز میں ٹرمپ کے تیل اور گیس کے اثاثوں کی مالیت ایک کروڑ 30 لاکھ سے 4 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کے درمیان تھی، جو اگست کے وسط تک بڑھ کر ایک کروڑ 70 لاکھ سے 6 کروڑ 10 لاکھ ڈالر کے درمیان ہوگئی۔
یہ اندازے لازمی طور پر غیر حتمی ہیں کیونکہ وفاقی مالیاتی گوشواروں کے قواعد کے تحت حکام کو لین دین کی درست رقم کے بجائے مالیت کی ایک حد ظاہر کرنا ہوتی ہے۔ ان اعداد و شمار میں 2025 کے بعد ٹرمپ کی جانب سے کیے گئے تمام لین دین بھی شامل نہیں ہیں۔
گوشواروں میں نمایاں کیے گئے ایک لین دین کے مطابق 7 اپریل کو، جس روز ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ میں جنگ بندی کا اعلان کیا، ان کے اکاؤنٹس نے 5 لاکھ سے 10 لاکھ ڈالر مالیت کے ایکسون موبل کے حصص فروخت کیے۔
ایکسون موبل کا حصص اس روز 163.91 ڈالر پر بند ہوا تھا، جبکہ ٹرمپ نے اسی شام جنگ بندی کا اعلان کیا۔ اگلے روز کمپنی کے حصص 6.5 فیصد کمی کے ساتھ 153.52 ڈالر پر کھلے۔
ٹرمپ کے اکاؤنٹس نے سال کی پہلی ششماہی کے دوران شیورون، کونکو فلپس اور دیگر تیل و گیس کمپنیوں کے حصص میں بھی لاکھوں ڈالر کی خرید و فروخت کی۔
وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کا ان لین دین کے وقت یا فیصلوں میں کوئی کردار نہیں۔ ترجمان ڈیوس انگل نے کہا کہ صدر کا پورٹ فولیو “تیسرے فریق کے مالیاتی اداروں کی جانب سے آزادانہ طور پر منظم کیا جاتا ہے” اور ان کے اثاثے ایسے اختیاری اکاؤنٹس میں رکھے گئے ہیں جن میں کمپیوٹر پر مبنی ماڈل پورٹ فولیو استعمال ہوتے ہیں اور جو خودکار طور پر معروف انڈیکسز کی نقل کرتے ہیں۔
انگل کے مطابق نہ تو ٹرمپ اور نہ ہی ان کے خاندان کے ارکان سرمایہ کاری کے فیصلوں کو “براہ راست ہدایت، متاثر یا ان میں رائے شامل” کرسکتے ہیں۔
اس کے باوجود ان لین دین پر اس لیے بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں کہ جنگ کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں اضافے سے توانائی کمپنیوں کے حصص کو فائدہ پہنچا تھا۔ ٹرمپ نے اپنے اثاثے بلائنڈ ٹرسٹ میں رکھنے سے انکار کیا ہے، جس کا مطلب ہے کہ وہ انفرادی کمپنیوں کے حصص بدستور رکھتے ہیں، بجائے اس کے کہ اپنی سرمایہ کاری کو صرف انڈیکس فنڈز، میوچل فنڈز یا دیگر وسیع پیمانے پر متنوع سرمایہ کاری تک محدود کریں۔
کچھ سرمایہ کاری ماہرین نے کہا ہے کہ کم از کم بعض لین دین کا تعلق مخصوص کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں پر شرط لگانے کے بجائے ٹیکس مینجمنٹ سے ہوسکتا ہے۔
ہیج آئی ایسٹ مینجمنٹ کے پورٹ فولیو مینیجر ڈیوڈ سیلم نے اس سے قبل ان لین دین کو “روایتی ٹیکس لاس ہارویسٹنگ سرگرمی” قرار دیا تھا، جس میں ایک جگہ ہونے والے منافع کو دوسری جگہ کے نقصان سے متوازن کرنے کے لیے بعض سیکیورٹیز نقصان پر فروخت کی جاتی ہیں۔ ان کے مطابق جدید ڈائریکٹ انڈیکسنگ سسٹمز کے ذریعے ایسی حکمت عملی خودکار طور پر بھی اختیار کی جاسکتی ہے۔
آفس آف گورنمنٹ ایتھکس کے قواعد کے تحت حکام کو مقررہ مدت کے اندر 1,000 ڈالر سے زیادہ مالیت کے اسٹاک کی خرید و فروخت ظاہر کرنا ہوتی ہے، تاہم ان گوشواروں میں اصل لین دین کے مقابلے میں تاخیر ہوسکتی ہے۔ ٹرمپ نے 2026 میں کیے گئے بعض لین دین کی اطلاع بھی مقررہ وقت کے بعد دی۔
اس معاملے پر سرکاری اخلاقیات کے حامیوں نے بھی تنقید کی ہے۔ سِٹیزنز فار ریسپانسبلٹی اینڈ ایتھکس اِن واشنگٹن کے صدر ڈونلڈ شرمن نے کہا کہ ٹرمپ کو ایران جنگ کے نتائج سے مالی فائدہ نہیں اٹھانا چاہیے۔
شرمن نے کہا، “ٹرمپ کے بروکرز ان کی جانب سے تیل اور گیس کے حصص کی خرید و فروخت کررہے ہیں،” اور ان کا مؤقف تھا کہ صدر کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے مالی مفادات اور امریکی عوام کے مفادات کے درمیان ممکنہ تضاد سے گریز کریں۔
امریکہ میں صدر، کانگریس کے ارکان اور دیگر تمام وفاقی حکام کو قانونی طور پر انفرادی کمپنیوں کے حصص میں سرمایہ کاری اور ان کی خرید و فروخت کی اجازت ہے، اگرچہ دونوں بڑی سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے قانون ساز اس عمل پر پابندی عائد کرنے کی تجاویز بارہا پیش کرچکے ہیں۔
امریکی تاریخ کے دولت مند ترین صدور میں شمار ہونے والے ٹرمپ نے اپنے حالیہ پیش روؤں کے مقابلے میں بالکل مختلف طریقہ اختیار کیا ہے۔ مثال کے طور پر جارج ڈبلیو بش نے اپنے اثاثے بلائنڈ ٹرسٹ میں رکھے تھے، جبکہ بارک اوباما نے زیادہ تر انڈیکس اور میوچل فنڈز اور امریکی ٹریژری سیکیورٹیز میں سرمایہ کاری رکھی۔ دوسری جانب جو بائیڈن کے پاس انفرادی کمپنیوں کے حصص نہیں تھے۔
یو این آئی۔ ع ا
دنیا
ایران کا امریکی پابندیوں کے انسانی اثرات کی تحقیقات کے لیے اقوام متحدہ سے مطالبہ، اقدامات کو ’’اقتصادی دہشت گردی‘‘ قرار
تہران، ایران نے اقوام متحدہ سے امریکی پابندیوں کے انسانی اور انسانی حقوق پر مرتب ہونے والے اثرات کی تحقیقات کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ تہران نے واشنگٹن پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ ایسی ’’یک طرفہ اقتصادی پابندیاں‘‘ استعمال کر رہا ہے جو عام شہریوں کو نقصان پہنچاتی اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کرتی ہیں۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انٹونیو گوتریس، سلامتی کونسل کے صدر اور رکن ممالک کو ارسال کیے گئے خط میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اقوام متحدہ سے حالیہ امریکی اقدامات کے اثرات کا جائزہ لینے اور اس بارے میں رپورٹ پیش کرنے کی اپیل کی۔ ایرانی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کیے گئے خط میں عراقچی نے واشنگٹن کی پابندیوں کی مہم کو ’’ریاستی اور اقتصادی دہشت گردی کا عمل‘‘ قرار دیا اور امریکہ پر تہران کے خلاف غیر قانونی، یک طرفہ اور جبری اقدامات کرنے کا الزام عائد کیا۔
عراقچی نے کہا، ’’پابندیاں جان بوجھ کر عام شہریوں کو نقصان پہنچاتی ہیں، کیونکہ ان کے نتیجے میں خوراک، ادویات، طبی آلات، توانائی اور دیگر ضروری اشیا تک رسائی محدود ہو جاتی ہے۔‘‘ ان کے مطابق اس سے زندگی، صحت، خوراک اور مناسب معیارِ زندگی سمیت بنیادی حقوق متاثر ہوتے ہیں۔ انہوں نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا کہ وہ پابندیوں کے نتیجے میں خوراک، ادویات، صحت کی سہولیات، توانائی، نقل و حمل، انسانی امداد اور دیگر بنیادی ضروریات تک رسائی پر پڑنے والے اثرات کا جائزہ لے۔
عراقچی نے سلامتی کونسل اور اقوام متحدہ کے رکن ممالک سے یہ بھی اپیل کی کہ وہ یک طرفہ جبری اقدامات اور ثانوی پابندیوں کی مذمت کریں۔ انہوں نے حکومتوں پر زور دیا کہ وہ ان پابندیوں کو تسلیم یا نافذ نہ کریں جن کا مقصد ممالک کو ایران کے ساتھ قانونی اقتصادی اور تجارتی تعلقات تبدیل کرنے پر مجبور کرنا ہے۔ انہوں نے واشنگٹن سے یہ بھی مطالبہ کیا کہ وہ تیسرے ممالک اور کمپنیوں پر تہران کے ساتھ اقتصادی تعلقات محدود کرنے کے لیے دباؤ ڈالنا بند کرے اور پابندیوں سے ہونے والے نقصانات کے ازالے کے لیے معاوضہ ادا کرے۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
نیپال-چین سرحد کے ساتھ تباہ کن سیلاب، 1,300 سے زائد افراد لاپتہ
کٹھمنڈو، نیپال اور چین کی سرحد کے ساتھ آنے والے تباہ کن اچانک سیلاب کے نتیجے میں جمعرات تک 1,300 سے زائد افراد لاپتہ جبکہ 160 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں سیلاب نے سڑکوں اور پلوں کو تباہ کر دیا ہے، جبکہ امدادی کارکنوں کو الگ تھلگ علاقوں تک پہنچنے اور سینکڑوں غیر ملکی شہریوں کی تلاش میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ حالیہ برسوں میں دور دراز ہمالیائی سرحدی علاقے کو متاثر کرنے والی بدترین قدرتی آفات میں شمار ہونے والی یہ تباہی بدھ کو اس وقت پیش آئی جب پانی، کیچڑ اور ملبے کا ایک بڑا ریلہ پہاڑی وادیوں سے گزرتا ہوا آبادیوں میں داخل ہو گیا۔ سیلاب نے مکانات، گاڑیوں اور تجارتی عمارتوں کو اپنی زد میں لے لیا اور کئی بستیاں ملبے تلے دب گئیں۔
نیپالی حکام کے مطابق ملک کے اندر 826 افراد لاپتہ ہیں، جن میں کم از کم 300 غیر ملکی شہری شامل ہیں۔ چین کے تبت خودمختار علاقے کے حکام نے گیئرونگ کاؤنٹی میں مزید 558 افراد کے لاپتہ ہونے کی اطلاع دی ہے۔ دونوں ممالک کے اعداد و شمار کو ملا کر لاپتہ افراد کی تعداد کم از کم 1,384 بنتی ہے، تاہم حکام نے خبردار کیا ہے کہ مواصلاتی رابطے بحال ہونے اور امدادی ٹیموں کے ان علاقوں تک پہنچنے کے بعد یہ تعداد نمایاں طور پر تبدیل ہو سکتی ہے جہاں فی الحال رسائی ممکن نہیں۔
اب تک 160 سے زیادہ اموات کی تصدیق ہو چکی ہے۔ تباہی کی شدت نے امدادی کارروائیوں کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ پل منہدم ہو گئے ہیں، سڑکیں بند ہیں اور مسلسل لینڈ سلائیڈنگ کے باعث آفت زدہ علاقے کے بڑے حصے کا رابطہ منقطع ہے۔ چینی علاقے میں امدادی کارروائیاں چین کی جانب سے ہنگامی امدادی ٹیمیں جمعرات کو تقریباً 22 گھنٹے بعد گیئرونگ پورٹ پہنچ سکیں۔ سیلابی ریلے کے بعد خراب موسم اور سڑکیں بند ہونے کے باعث امدادی ٹیموں کی آمد میں تاخیر ہوئی۔
چینی سرکاری میڈیا کے مطابق امدادی کارکنوں کے پہلے گروپ میں 141 اہلکار شامل تھے، جبکہ ایک بلند پہاڑی علاقوں میں پرواز کرنے والے ایم آئی-171 ہیلی کاپٹر کو بھی متاثرہ علاقے میں تعینات کیا گیا ہے۔ سرحدی تنصیب تک پہنچنے والی سڑک کے بعض حصے تقریباً 1.5 میٹر کیچڑ اور ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔ یہ رکاوٹ بندرگاہ سے تقریباً 2.5 کلومیٹر پہلے شروع ہوتی ہے۔ ویڈیو مناظر میں دیکھا گیا کہ کیچڑ سے بھرا پانی تیزی سے گیئرونگ سرحدی کمپلیکس میں داخل ہوا اور ایک سرکاری عمارت کو اپنی لپیٹ میں لینے کے بعد اردگرد کے علاقوں میں پھیل گیا۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
-
ہندوستان1 week agoشاہ کے کہنے پر ہوئی ستییندر کی گرفتاری : کیجریوال
-
دنیا5 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
ہندوستان1 week agoچار ریاستوں میں ریل پٹریوں کی تعداد بڑھانے والے منصوبوں کو منظوری
-
دنیا5 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
ہندوستان6 days agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
دنیا5 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان6 days agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا1 week agoکانگریس ایف-35 طیاروں کی فروخت کی منظوری دے:ترک-امریکی تنظیمیں
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے مسائل مرکزی حکومت حل کرے گی، امریکہ نہیں: عمرعبداللہ
-
دنیا6 days agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
