جموں و کشمیر
وزیردفاع کا پاکستان کو پیغام:آپریشن سندور ابھی ختم نہیں ہوا، ہم پوری پکیچر دکھائیں گے
23منٹوںمیں دہشت گردوں کے9ٹھکانے زمین بوس
لوگوں کو ناشتہ کرنے میں جتنا وقت لگتا ہے، اتنے میں فضائیہ نے دہشت گردی کو کچل ڈالا
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کو پاکستان کو دی جانے والی امداد پر نظر ثانی کرنی چاہیے: راج ناتھ سنگھ
سری نگر :جے کے این ایس: وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے جمعہ کو بھج ایئربیس سے پاکستان کو سخت پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ آپریشن سندور ابھی ختم نہیں ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ وقت آنے پر پوری پکچر دکھائیں گے۔راجناتھ سنگھ نےبین الاقوامی مالیاتی فنڈ( IMF) سے پاکستان کو دی جانے والی ایک بلین امریکی ڈالر کی امداد پر نظر ثانی کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے خبردارکیاکہ اسلام آباد اسے دہشت گردی کی مالی معاونت کےلئے استعمال کر سکتا ہے۔جے کے این ایس مانٹرینگ ڈیسک کے مطابق جمعرات کو سری نگرکا دورہ کرنے کے بعد وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ آپریشن سندور کے بعد جمعہ کو بھج گجرات ایئربیس پہنچے۔ انہوں نے یہاں فوجیوں سے ملاقات کی۔ راج ناتھ سنگھ نے پاکستان کو سخت پیغام دیتے ہوئے کہا کہ آپریشن سندور ابھی ختم نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ وقت آنے پر پوری پکچر دکھائیں گے۔ وزیر دفاع نے ہندوستانی فضائیہ کی تعریف کی ہے۔وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے بھج میں کہا کہ یہ کوئی چھوٹی بات نہیں ہے کہ ہماری فضائیہ کو پاکستان کے کونے کونے تک رسائی حاصل ہے، یہ بات پوری طرح سے ثابت ہو چکی ہے۔
انہوںنے کہاکہ آج صورتحال یہ ہے کہ ہندوستان کے لڑاکا طیارے سرحد پارکئے بغیر یہاں سے ملک کے کونے کونے پر حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے کہاکہ پوری دنیا نے دیکھا کہ کس طرح آپ نے پاکستانی سرزمین پر دہشت گردوں کے9 اڈوں کو تباہ کیا اور اس کے بعد کی کارروائی میں ان کے کئی ائیر بیس تباہ کر دئیے۔ وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے اپنی تقریر میں پاکستان پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ لوگوں کو ناشتہ کرنے میں جتنا وقت لگتا ہے،اتنے وقت میں آپ(بھارتی فضائیہ) نے دشمنوں کو ختم کر دیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ آپریشن سندور کے دوران آپ(بھارتی فضائیہ) نے جو کچھ بھی کیا اس سے تمام ہندوستانیوں کو فخر ہوا، چاہے وہ ہندوستان میں ہوں یا بیرون ملک۔انہوںنے کہاکہ پاکستان میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی کو کچلنے کےلئے بھارتی فضائیہ کے لیے صرف 23 منٹ ہی کافی تھے۔ بھج ایئر بیس پربھارتی فضائیہ کے جوانوں سے خطاب کرتے ہوئے وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے کہاکہ کل ہی میں نے سری نگر میں اپنے بہادر فوجی جوانوں سے ملاقات کی۔ آج میں یہاں ہوائی جنگجوو ¿ں سے مل رہا ہوں۔
کل میں نے شمالی علاقے میں اپنے فوجیوں سے ملاقات کی اور آج میں ملک کے مغربی حصے میں فضائی جنگجوو ¿ں اور دیگر سیکورٹی اہلکاروں سے ملاقات کر رہا ہوں۔ وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے کہاکہ میں دونوں محاذوں پر بلند حوصلہ اور توانائی دیکھ کر بہت پرجوش ہوں۔ مجھے یقین ہے کہ آپ ہندوستان کی سرحدوں کو محفوظ رکھیں گے۔وزیر دفاع نے کہا کہ آپ نے آپریشن سندور کے دوران جو کچھ کیا اس سے پوری قوم کا سر فخر سے بھر گیا ہے۔ بھارتی فضائیہ کےلئے صرف23 منٹ پاکستانی سرزمین پر بڑھتے ہوئے دہشت گردی کو کچلنے کےلئے کافی تھے۔انہوںنے کہاکہ اگر میں یہ کہوں تو غلط نہ ہوگا کہ لوگوں کو ناشتہ کرنے اور پینے میں جتنا وقت لگتا ہے، آپ نے اپنے دشمنوں سے نمٹا ہے۔
دشمن کے علاقے میں آپ کے گرائے گئے میزائلوں کی گونج پوری دنیا نے سنی۔ اور درحقیقت وہ بازگشت صرف میزائل کی نہیں تھی، وہ بازگشت آپ کی بہادری اور ہندوستان کی بہادری کی تھی۔راجناتھ سنگھنے کہا کہ آپریشن سندور میں ہندوستانی فضائیہ کے موثر کردار کو نہ صرف اس ملک میں بلکہ دیگر ممالک میں بھی سراہا جا رہا ہے۔ آپ نے اس آپریشن میں نہ صرف دشمن پر غلبہ حاصل کیا بلکہ ان کا قلع قمع کرنے میں بھی کامیابی حاصل کی۔ دہشت گردی کے خلاف اس آپریشن کی قیادت ہماری فضائیہ نے کی۔ ہماری فضائیہ ایک ایسی ”اسکائی فورس“ ہے، جس نے اپنی بہادری، ہمت اور جاہ و جلال سے آسمان کی نئی اور بلندیوں کو چھو لیا ہے۔وزیردفاع نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) سے پاکستان کو دی جانے والی ایک بلین امریکی ڈالر کی امداد پر نظر ثانی کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے خبردارکیاکہ اسلام آباد اسے دہشت گردی کی مالی معاونت کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔ فوجی اہلکاروں سے خطاب میں وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ ہندوستان نہیں چاہتا کہ وہ آئی ایم ایف کو جو فنڈنگ دیتا ہے اس کا استعمال براہ راست یا بالواسطہ طور پر پاکستان یا کسی دوسرے ملک میں دہشت گردی کا بنیادی ڈھانچہ بنانے کے لیے کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ مجھے یقین ہے کہ آج کے دور میں پاکستان کو کسی بھی قسم کی مالی امداد دہشت گردی کی مالی معاونت سے کم نہیں۔وزیردفاع نے کہا کہ بھارت چاہے گا کہ آئی ایم ایف پاکستان کو دی جانے والی ایک ارب ڈالر کی امداد پر نظر ثانی کرے اور مستقبل میں کسی قسم کی امداد دینے سے گریز کرے ۔راجناتھ سنگھ نے کہا کہ آپریشن سندورمیں ہندوستان کی مسلح افواج نے نہ صرف دشمن پر غلبہ حاصل کیا بلکہ انہیں ختم کرنے میں بھی کامیابی حاصل کی۔انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف مہم کو مو ثر طریقے سے آگے بڑھانے پر ہندوستانی فضائیہ کی تعریف کی۔وزیردفاع نے کہاکہ ہماری فضائیہ نے اپنی بہادری، ہمت اور شان سے نئی اور عظیم بلندیوں کو چھو لیا ہے۔
جموں و کشمیر
انتخابی شکست کے خوف سے جموں و کشمیر میں پنچایت انتخابات ٹال رہی ہے نیشنل کانفرنس: سنیل شرما
سری نگر، جموں و کشمیر اسمبلی میں حزب اختلاف کے لیڈر اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سینئر رہنما سنیل شرما نے جمعرات کو نیشنل کانفرنس حکومت پر انتخابی شکست کے خوف سے پنچایت اور بلدیاتی انتخابات میں جان بوجھ کر تاخیر کرنے کا الزام لگایا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ حکمراں جماعت نہیں چاہتی کہ دوسری جماعتوں کو زمینی سطح پر نمائندگی ملے۔
بی جے پی کے سابق تنظیمی جنرل سکریٹری اشوک کول کے اعزاز میں پارٹی کی جموں و کشمیر شاخ کی جانب سے منعقدہ الوداعی تقریب کے موقع پر نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے مسٹر شرما نے کہا کہ مقامی بلدیاتی انتخابات عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت کے لیے ‘لٹمس ٹیسٹ’ ثابت ہوں گے۔ انہوں نے حکومت پر بجلی، ایل پی جی سلنڈر، ملازمتوں اور راشن کے وعدے پورے کرنے میں ناکام رہنے کا الزام لگایا۔
مسٹر شرما نے کہاکہ ”عبداللہ خاندان کے تکبر اور ‘دبنگئی’ کی وجہ سے جموں و کشمیر میں پنچایت انتخابات نہیں ہونے دیے جا رہے ہیں۔ یہاں تک کہ وزیر اعلیٰ نے اسمبلی میں کہا کہ وہ انتخابات نہیں کرائیں گے۔ ان کے والد فاروق عبداللہ صاحب بھی 2 سے 3 بار کہہ چکے ہیں کہ پنچایت انتخابات نہیں ہوں گے۔ نیشنل کانفرنس نہیں چاہتی کہ کوئی اور یہاں کے عوام کی نمائندگی کرے۔ وہ جانتے ہیں کہ انہیں منہ کی کھانی پڑے گی اور انہیں ڈر ہے کہ عوام ان سے ان کے دھوکے کا حساب مانگیں گے۔”
لداخ میں پنچایت انتخابات کے اعلان کا حوالہ دیتے ہوئے مسٹر شرما نے سوال کیا کہ جموں و کشمیر میں ایسے انتخابات کیوں نہیں کرائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ”یہ اس حکومت کے لیے ایک سخت امتحان ہوگا۔ جس حکومت نے بجلی، سلنڈر، ملازمت اور راشن کے نام پر لوگوں کو دھوکہ دیا ہے، اس کا امتحان پنچایتی راج اور بلدیاتی انتخابات کے ذریعے لیا جانا چاہیے۔”
مرکزی وزیر داخلہ کے اس بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے، جس میں کہا گیا تھا کہ کشمیر میں دہشت گردی ختم ہو گئی ہے، مسٹر شرما نے کہا کہ گزشتہ 5 سال میں دہشت گردی میں زبردست کمی آئی ہے۔ انہوں نے اس کا سہرا مرکزی حکومت اور خاص طور پر وزارت داخلہ کے سر باندھا۔ مسٹر شرما نے کہا کہ ”گزشتہ 2 سال میں ایک بھی کشمیری نوجوان کسی دہشت گرد تنظیم میں شامل نہیں ہوا ہے، جو دہشت گردی کے خاتمے کی ایک بڑی علامت ہے۔”
یہ پوچھے جانے پر کہ کیا لداخ کی طرح کشمیر میں بھی مظاہرین کے خلاف درج مقدمات واپس لیے جا سکتے ہیں، مسٹر شرما نے دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے ملزم افراد کا لداخ کے مظاہرین سے موازنہ کرنے کی کوشش کو مسترد کر دیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ جو لوگ اس وقت جیل میں ہیں، ان کے خلاف سابقہ پی ڈی پی اور نیشنل کانفرنس حکومتوں کے دور میں عوامی تحفظ قانون کے تحت مقدمات درج کیے گئے تھے۔
مسٹر شرما نے واضح کیا کہ بی جے پی بے گناہوں کو انصاف دلانے کی حمایت کرے گی، لیکن ملک کے خلاف تشدد کرنے والوں کو بے قصور نہیں کہا جا سکتا۔
یو این آئی۔ این یو۔
جموں و کشمیر
بارہمولہ میں 2 مشتبہ اوور گراؤنڈ کارکن گرفتار، آئی ای ڈی اور پستول برآمد
سری نگر، شمالی کشمیر کے بارہمولہ ضلع میں سکیورٹی کارروائی کے دوران 2 مشتبہ اوور گراؤنڈ کارکنوں (او جی ڈبلیوز) کو گرفتار کیا گیا ہے۔ سرکاری ذرائع نے جمعرات کو بتایا کہ ان کے قبضے سے 2 دیسی ساختہ دھماکہ خیز آلات (آئی ای ڈی) اور گولہ بارود برآمد کیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ یہ برآمدگیاں گزشتہ شام بارہمولہ کے ڈیلینا علاقے میں کی گئیں۔ گرفتار کیے گئے دونوں افراد کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ شمالی کشمیر کے سوپور کے چنکی پورہ علاقے کے رہنے والے ہیں۔
سرکاری ذرائع نے بتایاکہ ”ان کے قبضے سے 2 آئی ای ڈی، ایک پستول، گولہ بارود کے 10 کارتوس اور 6500 روپے برآمد کیے گئے ہیں۔”
انہوں نے مزید بتایا کہ ان کے مبینہ روابط کا پتہ لگانے اور معاملے کی دیگر تفصیلات معلوم کرنے کے لیے مزید تفتیش جاری ہے۔
گرفتاریوں اور برآمدگی کے سلسلے میں پولیس کی جانب سے ابھی تک کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔.
یو این آئی۔ این یو۔
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر ہائی کورٹ نے ‘میکانکی’ طریقے سے کی گئی احتیاطی حراست پر سوال اٹھائے، سری نگر کے ڈپٹی کمشنر کو طلب کیا
سری نگر، جموں و کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ نے عوامی تحفظ قانون (پی ایس اے) کے تحت ‘میکانکی’ (بغیر سوچے سمجھے) اور لاپروائی سے جاری کیے گئے احتیاطی حراست کے حکم پر سخت ناراضگی ظاہر کی ہے۔ جسٹس وسیم صادق نرگل کی بنچ نے سری نگر کے ڈپٹی کمشنر کو ذاتی طور پر عدالت میں پیش ہونے کی ہدایت دی ہے۔ گزشتہ ہفتے ہیبیئس کارپس کی عرضی پر سماعت کرتے ہوئے جسٹس نرگل نے کہا کہ سری نگر کے زبیر امین بنگرو کے خلاف حراست کی وجوہات میں ٹھوس معلومات موجود نہیں ہیں۔ عدالت نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ کیا حراست کا حکم جاری کرنے والے افسر نے پولیس کی جانب سے فراہم کردہ مواد کا آزادانہ طور پر جائزہ لیا تھا یا نہیں۔
عدالت نے ڈپٹی کمشنر کو ہدایت دی ہے کہ وہ پولیس ڈوزیئر، حراست کا حکم جاری کرنے والے افسر کے سامنے پیش کیے گئے مواد اور متعلقہ ریکارڈ کے ساتھ ذاتی طور پر پیش ہوں، تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ حراست کا حکم دیتے وقت کن بنیادوں پر غور کیا گیا اور افسر کس طرح مطمئن ہوا۔
عدالت نے سخت الفاظ میں افسر سے سوال کیا کہ ”انہوں نے مناسب غور و فکر کیے بغیر، اتنی لاپروائی اور میکانکی انداز میں حراست کا یہ حکم کیوں جاری کیا؟”
عدالت نے ایک اہم تشویش یہ بھی ظاہر کی کہ حراست کی وجوہات کے دوسرے پیراگراف میں ”مذکورہ دہشت گرد” کی اصطلاح استعمال کی گئی ہے، حالانکہ اس سے پہلے کسی دہشت گرد کی شناخت یا اس کا ذکر نہیں کیا گیا تھا۔
عدالت نے پایا کہ پہلے پیراگراف میں صرف رسمی طور پر یہ کہا گیا ہے کہ حراست کا حکم جاری کرنے والے افسر نے معاملے پر غور کیا ہے، لیکن اس میں کسی بھی دہشت گرد کی شناخت نہیں بتائی گئی ہے۔
اس تضاد کی جانب توجہ دلاتے ہوئے جسٹس نرگل نے تبصرہ کیا کہ الفاظ کی ترتیب سے ”واضح طور پر ظاہر ہوتا ہے کہ حراست کی وجوہات تیار کرتے وقت پولیس ڈوزیئر (دستاویزات) میں دی گئی معلومات کو مناسب غور و فکر کے بغیر جوں کا توں نقل کر لیا گیا ہے۔” عدالت نے کہا کہ یہ بات ”اس شبے کو مضبوط کرتی ہے کہ آیا حراست کا حکم جاری کرنے والے افسر نے معاملے کی آزادانہ جانچ کرکے حراست کی وجوہات طے کیں یا محض پولیس ڈوزیئر میں درج باتوں کو دہرا دیا۔”
حراست کی وجوہات میں بنگرو پر الزام لگایا گیا تھا کہ ان کے دہشت گردوں کے ساتھ قریبی تعلقات تھے، وہ دہشت گردوں کو لاجسٹک اور اخلاقی مدد فراہم کرتے تھے، انہوں نے اپنے گھر اور دیگر مقامات کو دہشت گردوں کے چھپنے کے ٹھکانوں کے طور پر استعمال کرنے کی اجازت دی تھی اور وہ ایک دہشت گرد نیٹ ورک کے ساتھیوں کے رابطے میں تھے۔ تاہم، عرضی گزار کی وکیل ندا نذیر نے دلیل دی کہ یہ الزامات مبہم ہیں اور ان میں ضروری تفصیلات کی کمی ہے۔ ان میں دہشت گردوں کی شناخت، نیٹ ورک کے ساتھیوں کے نام، چھپنے کے ٹھکانوں کے طور پر استعمال ہونے والی جگہوں کی تفصیلات اور ان مخصوص واقعات کا ذکر نہیں ہے جن میں مبینہ طور پر مدد فراہم کی گئی تھی۔
وکیل نے اس بات پر بھی سوال اٹھایا کہ ان افراد کی شناخت کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئی ہیں، جنہیں مبینہ طور پر بنگرو نے غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے لیے ترغیب دی تھی یا اکسایا تھا۔ اس کے ساتھ ہی اس بات کی بھی کوئی واضح تفصیل موجود نہیں ہے کہ ان مبینہ کارروائیوں سے ریاست کی سلامتی پر کیا منفی اثر پڑا۔
عدالت نے اپنی ابتدائی جانچ میں اس دلیل میں ”خاصا وزن” پایا کہ ان وجوہات میں اس وضاحت اور تفصیل کا فقدان ہے، جس کی توقع کسی شخص کی شخصی آزادی سلب کرنے والے حکم میں کی جاتی ہے۔
عدالت نے تبصرہ کیا کہ ”محض الزام کی سنگینی متعلقہ مواد اور آزادانہ غور و فکر کی ضرورت کی جگہ نہیں لے سکتی۔” عدالت نے احتیاطی حراست کے احکامات کے حوالے سے ایک وسیع تر تشویش بھی ظاہر کی۔
عدالت نے اس معاملے سے عین پہلے فہرست میں شامل ایک اور ہیبیئس کارپس کی عرضی کا بھی ذکر کیا۔ اس معاملے میں بھی حراست کا ایسا حکم سامنے آیا تھا جو بادی النظر میں ایسا معلوم ہوتا تھا کہ حراست کا حکم جاری کرنے والے افسر نے خود کوئی آزادانہ جائزہ لینے کے بجائے صرف پولیس رپورٹ (ڈوزیئر) کو جوں کا توں نقل کر دیا ہو۔
عدالت نے کہا کہ اس مماثلت نے ”ایک تشویش ناک سوال” پیدا کر دیا ہے: کیا احتیاطی حراست کے اختیارات کا استعمال مواد کے آزادانہ اور غیر جانب دارانہ جائزے کے ذریعے کیا جا رہا ہے، یا محض پولیس کے دعوؤں کو بغیر سوچے سمجھے دہرایا جا رہا ہے؟
تاہم، عدالت نے تسلیم کیا کہ پولیس رپورٹ (ڈوزیئر) پر غور کیا جا سکتا ہے، لیکن اس کے ساتھ اس بات پر زور دیا کہ یہ حراست کا حکم جاری کرنے والے افسر کی اس ذمہ داری کا متبادل نہیں ہو سکتی کہ وہ مواد کی آزادانہ جانچ کرے، اس کی مطابقت کا جائزہ لے اور قانون کے مطابق خود مطمئن ہو۔
احتیاطی حراست سے متعلق آئینی تحفظات کو دہراتے ہوئے عدالت نے کہا کہ کسی شخص کو باقاعدہ فوجداری مقدمے کے بغیر حراست میں رکھنے کے غیر معمولی اختیار کے استعمال کے لیے اعلیٰ ترین درجے کی آئینی ذمہ داری اور طریقۂ کار سے متعلق احتیاط برتنا ضروری ہے۔ حکم نامے میں کہا گیا کہ ”ہندوستانی آئین کے آرٹیکل 21 اور 22 میں شامل تحفظات محض دکھاوے کی رسمی کارروائیاں نہیں ہیں۔” عدالت نے واضح کیا کہ محض فوجداری مقدمہ نہ ہونے سے احتیاطی حراست کی قانونی حیثیت کا فیصلہ نہیں ہو جاتا۔ تاہم، متعلقہ اتھارٹی کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ قانونی تقاضے آزادانہ طور پر اور قانون کے مطابق پورے کیے گئے ہیں۔
یو این آئی۔ این یو۔
-
ہندوستان1 week agoمرکزی حکومت نے جنوبی بحر ہند ماہی گیری معاہدے میں شمولیت کو دی منظوری
-
دنیا1 week agoجاپانی صحافی کی روس میں گرفتاری: دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کیوں بڑھ رہی ہے
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
ہندوستان1 week agoمظاہرین پر تشدد کرنے والوں کو ثبوتوں کی بنیاد پر سزا ملے گی: راہل
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
دنیا7 days agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میں 15 اکتوبر سے اسکولوں کے اوقات میں تبدیلی
-
ہندوستان1 week ago16 سالہ معصوم لڑکی اور 50 سالہ دولہے کی پانچ لاکھ روپے میں منگنی، بروقت ٹیم نے شادی کو روک دیا
-
دنیا1 week agoگرین لینڈ میں تیل، گیس اور معدنیات کی بڑے پیمانے پر تلاش جلد شروع ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
ہندوستان1 week agoسی جے پی کے سورو داس اور آشوتوش رانکا پانچ دنوں کی عدالتی تحویل میں
