جموں و کشمیر
خالی ہوٹل، بند ٹیکسیاں، خاموش دکانیں: کشمیر کی سیاحت سسکنے لگی
سری نگر، مشہور سیاحتی مقام پہلگام کی بیسرین وادی میں برابر ایک ماہ قبل پیش آنے والے سانحے کے بعد بھی وادی کشمیر کے تمام سیاحتی مقامات جہاں ان دنوں مقامی و غیر مقامی سیاحوں کا رش بام عروج پر ہوتا تھا، بے رونق اور سنساں ہیں یہاں تک کہ سری نگر میں واقع تاریخی مغل باغات میں بھی معمول کی چہل پہل اور رش و رونق مفقود ہے۔
سری نگر کے نشاط باغ میں تعینات ایک سینئر عہدیدار نے یو این آئی کو بتایا کہ رواں سال کے آغاز میں کشمیر میں سیاحت کا رجحان انتہائی حوصلہ افزا تھا۔ ان کے مطابق نشاط باغ کا سال 2025 کا ٹھیکہ ساڑھے چار کروڑ روپے میں ایک نجی کمپنی کو دیا گیا، جو کہ ایک ریکارڈ سمجھا جا رہا تھا۔
موصوف عہدیدار کے مطابق:’رواں سال کے پہلے چار مہینوں میں یومیہ آٹھ سے دس ہزار سیاح نشاط باغ کی سیر کو آتے تھے۔ باغات میں رش،جوش و خروش اور رونقیں تھیں، لیکن پہلگام حملے نے سب کچھ بدل کے رکھ دیا ہے۔ اب یہاں روزانہ صرف تین سے چار سو مقامی لوگ ہی آ رہے ہیں۔ غیر ملکی یا بیرونی ریاستوں کے سیاح مکمل طور پر غائب ہیں۔‘
نشاط باغ کی طرح سری نگر کے دیگر مغل باغات، جیسے شالیمار، چشمہ شاہی اور ہارون باغ میں بھی ویرانی چھائی ہوئی ہے۔ ہر سال گرمیوں کے سیزن میں یہ باغات سیاحوں سے کھچا کھچ بھرے ہوتے تھے، مگر اس بار صورتحال یکسر مختلف ہے۔
ادھر وادی میں سیاحوں کی دلچسپی کا ایک اور مرکز جھیل ڈل میں بھی سناٹا ہی چھایا ہوا ہے۔
شکارا چلانے والوں کا کہنا ہے: ہم پورا دن بیٹھے رہتے ہیں، کوئی سواری نہیں آتی، پہلگام واقعے سے پہلے کم سے کم دن بھر شکارا چلا کر دو وقت کی روٹی کا بندوبست کرتے تھے لیکن اب نوبت فاقوں تک آ پہنچی ہے’۔
سیاحت سے وابستہ افراد، ٹور آپریٹرز، شکارا یونینز اور ہوٹل مالکان نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ وہ موجودہ صورتحال کا نوٹس لے کر فوری عملی اقدامات کرے تاکہ بچا کھچا سیاحتی سیزن مکمل طور پر برباد نہ ہو جائے۔
سیاحتی امور سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ ریاستی و مرکزی حکومت کو مشترکہ طور پر ایک بھرپور اعتماد سازی مہم شروع کرنی چاہیے، جس میں یہ باور کرایا جائے کہ کشمیر سیاحوں کے لیے محفوظ ہے اور یہاں کے لوگ ان کے خیرمقدم کے لیے تیار ہیں۔
شعبہ سیاحت کشمیر کی معیشت کے لئے ریڑھ کی ہڑی کی حیثیت رکھتی ہے ہے۔ ہر سال لاکھوں کی تعداد میں ملک کے گوشہ و کنار سے تعلق رکھنے سیاح وارد وادی ہوکر یہاں کے تمام سیاحتی مقامات کی خوبصورتی سے لفط اندوز ہوتے ہیں جس سے نہ صرف ہوٹل انڈسٹری بلکہ ٹیکسی ڈرائیورز، دستکار، دکاندار اور گائیڈز کو روزگار ملتا ہے۔ تاہم، موجودہ سیزن میں سیاحت کا پہیہ مکمل طور پر جام ہو چکا ہے۔
جموں و کشمیر کے معروف سیاحتی مقام سونہ مرگ، جو سری نگر سے تقریباً 80 کلومیٹر کی دوری پر واقع ہے، ان دنوں غیر معمولی ویرانی کا شکار ہے۔ جہاں ہر سال مئی کے مہینے میں سیاحوں کا ہجوم رہتا تھا، وہاں اب ہوٹل، بازار اور سیاحتی سرگرمیاں تقریباً ختم ہوچکی ہیں۔
ہوٹل گلیشئر ہائیٹس کے منیجر شوکت احمد نے یو این آئی کو بتایا کہ’سانحہ پہلگام سے قبل ہمارے ہوٹل میں جولائی تک کی تمام بکنگ مکمل تھی، لیکن حملے کے بعد تمام بُکنگس منسوخ کر دی گئیں۔ ہمیں ٹور آپریٹروں کو 30 لاکھ روپے سے زائد کی رقم واپس کرنا پڑی ہے’۔
ان کے مطابق 18 مئی تک سونہ مرگ میں کوئی سیاح دکھائی نہیں دیا۔ حالانکہ اب چند ایک سیاحوں کی آمد شروع ہوئی ہے، لیکن یہ تعداد نہ ہونے کے برابر ہے اور کاروبار کے احیاء کے لیے ناکافی ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ’ہمارے ہوٹل میں مجموعی طور پر 40 ملازمین کام کرتے تھے، مگر اس وقت صرف چار ملازم کام کر رہے ہیں، باقی سب کو عارضی طور پر چھٹی دے دی گئی ہے۔ ہم نے انہیں یقین دہانی کرائی ہے کہ جیسے ہی حالات بہتر ہوں گے، انہیں دوبارہ بلایا جائے گا۔ مئی کی تنخواہ بھی انہیں ادا کی گئی ہے’۔
موصوف منیجر نے جموں و کشمیر انتظامیہ سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ’اگر حکومت سیاحتی سیزن کو بچانا چاہتی ہے تو فوری طور پر ایک بیداری مہم چلانے کی ضرورت ہے تاکہ سیاحوں کو دوبارہ کشمیر آنے کی طرف راغب کیا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ میڈیا، سوشل پلیٹ فارمز اور ٹور ازم ایجنسیوں کے ذریعے یہ پیغام عام کیا جانا ضروری ہے کہ کشمیر ایک محفوظ مقام ہے۔‘
ایک مقامی شخص نے بتایا: ‘ سونہ مرگ میں سینکڑوں خاندان براہِ راست یا بالواسطہ طور پر سیاحت کے شعبے کے ساتھ وابستہ ہیں۔ ہوٹل، ٹینٹ سروسز، ٹرانسپورٹ، گھوڑے بان، ہنڈی کرافٹ فروش اور دیگر خدمات سیاحوں کی آمد سے جڑی ہوئی ہیں۔ موجودہ صورتحال نے ان تمام طبقوں کو شدید مالی بحران میں مبتلا کر دیا ہے’۔
ادھر سری نگر سے تقریباً 48 کلومیٹر کی دوری پر واقع سیاحتی مقام یوسمرگ میں بھی سیاحوں کی عدم موجودگی کی وجہ سے خاموشی کا ماحول چھایا ہوا ہے۔
مقامی ہوٹل مالک قاضی اعجاز نے یو این آئی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’پہلگام حملے سے قبل یہاں یومیہ 70 سے 80 سیاحتی گاڑیاں آتی تھیں۔ ہوٹل مالکان، گھوڑے بان اور ریڑھی لگانے والے اچھی آمدنی کر رہے تھے۔ مگر اب سارا کاروبار ٹھپ ہو گیا ہے۔‘
انہوں نے مزید بتایا کہ حملے کے بعد یوسمرگ کو بھی سیاحوں کے لیے بند کر دیا گیا جس سے سیاحت سے وابستہ افراد کو مزید نقصان اٹھانا پڑا۔
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ یوسمرگ میں اس وقت ہوٹل، ٹینٹ ہاؤسز، گھوڑے بان، مقامی کھانے پینے کی دکانیں، اور چھوٹے کاروباری سبھی معاشی دباؤ کا شکار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو وہ اپنے گھروں کا چولہا جلانا بھی دشوار پائیں گے۔
عوام نے حکومت جموں و کشمیر سے اپیل کی ہے کہ کم از کم مقامی سیلانیوں کو اس مقام کی سیر و تفریح کی اجازت دی جائے تاکہ سیاحت سے وابستہ افراد اپنی روزی روٹی جاری رکھ سکیں۔
غلام رسول نامی ایک ایک گھوڑے بان کا کہنا تھا:’ہم نے گھوڑے کرایے پر لے کر رکھے ہیں، ان کےکھانے پینے کا خرچ، دیکھ بھال، سب ہم خود کرتے ہیں۔ اگر سیاح نہیں آئیں گے تو ہم کیسے گزارہ کریں گے’۔
وسطی کشمیر کے ضلع بڈگام میں واقع دودھ پتھری کے ایک مقامی شہری کا کہنا تھا:’پہلی بار ہم نے دیکھا ہے کہ مئی کے مہینے میں یہاں اتنی خاموشی ہے۔ شکارے، گھوڑے، گائیڈ سب بے کار بیٹھے ہیں۔ لوگوں میں زبردست مایوسی ہے، اور کسی کو کوئی امید نظر نہیں آ رہی’۔
جموں و کشمیر کے عالمی شہرت یافتہ سیاحتی مقام گلمرگ، جو سری نگر سے تقریباً 80 کلومیٹر کی دوری پر واقع ہے،کا حال بھی مختلف نہپیں ہے،رواں سیزن میں سیاحوں سے بھرے ہوٹل، مصروف ریزورٹس، اور گونڈولا کی قطاریں اب سنسان ہیں۔ گلمرگ میں سیاحتی سرگرمیوں کی یہ خاموشی نہ صرف مقامی معیشت کو متاثر کر رہی ہے بلکہ ہزاروں افراد کی روزی روٹی بھی داؤ پر لگ گئی ہے۔
گلمرگ کے معروف ہوٹل “ہل ٹاپ” کے ایک سینئر عہدیدار نے یو این آئی کو بتایا کہ پہلگام سانحہ سے قبل ہمارے ہوٹل میں دن رات کا فرق محسوس نہیں ہوتا تھا،ہمیں کھانا کھانے تک کی فرصت نہیں ہوتی تھی۔ لیکن آج ہم ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ’گزشتہ ایک ماہ سے ہوٹل انڈسٹری کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا ہے، اور اس کی بھرپائی آسان نہیں۔ سیاحوں کی آمد مکمل بند ہونے سے نہ صرف کاروبار ٹھپ ہوا ہے بلکہ ملازمین کو بھی فارغ کرنا پڑ رہا ہے’۔
سیاحت سے جڑے افراد کا کہنا ہے کہ ‘پہلگام حملے کے بعد وادی کشمیر میں سیاحتی صنعت بدترین بحران سے گزر رہی ہے، اور اس کا تازہ ترین ثبوت معروف ٹور اینڈ ٹریول ایجنسی “ریچنگ ہیون” کے متاثرہ شیڈول سے واضح ہوتا ہے’۔
کمپنی کے مالک نے یو این آئی کو بتایا کہ نہ صرف موسمِ بہار اور گرما کے تمام ٹور پیکج منسوخ کر دیے گئے ہیں یہاں تک کہ اب نومبر مہینے کی بکنگ بھی ختم کی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ’اپریل، مئی اور جون کے مہینوں میں ہمارے پاس فل بکنگ تھی، لیکن پہلگام سانحے کے بعد سب کچھ بدل گیا۔ تمام ٹورز منسوخ کرنے پڑے اور گاہکوں کو رقم واپس کرنا پڑی’۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ‘یہ بات باعث حیرت ہے کہ نومبر کے لیے بکنگ کرنے والے ایک جوڑے نے بھی حالیہ حالات کے پیش نظر اپنا پروگرام منسوخ کر دیا۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ملک بھر میں کشمیر کے حالات کو کس نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے’۔
ان کا کہنا تھا کہ جولائی مہینے تک ہوٹلوں میں ایک بھی کمرہ خالی نہ تھا، لیکن صورتحال اس قدر تیزی سے بدلی کہ سیاحتی منظرنامہ یکسر تبدیل ہو گیا۔
ریچنگ ہیون ٹرول کمپنی کے مالک نے کہا کہ’میں ذاتی تجربے کی بنیاد پر کہنا چاہتا ہوں کہ نومبر سے وادی کا سیاحتی شعبہ دوبارہ پٹری پر آئے گا۔ کیونکہ امرناتھ یاترا کے دوران عمومی طور پر سیاحتی سرگرمیوں میں کمی واقع ہوتی ہے، اور پھر نومبر سے سیاحوں کی آمد شروع ہو جاتی ہے’۔
انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ زمینی سطح پر کام کر کے سیاحوں کا اعتماد بحال کرے اور ایسی پالیسیاں مرتب کرے جن سے ٹور آپریٹرز اور دیگر سیاحتی اسٹیک ہولڈرز کو سہارا مل سکے۔
قابل ذکر ہے کہ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کچھ روز قبل میڈیا کو بتایا کہ وادی میں موسم گرما سیاحتی سیزن لگ بھگ مکمل طور پر ختم ہوگیا ہے۔
حکومت کی طرف سے شعبہ سیاحت سے وابستہ لوگوں کے اشتراک کے ساتھ روڈ شو وغیرہ جیسے ایونٹس کا اہتمام کرکے اس شعبے کو بحال کرنے کی کاوشیں جاری ہیں۔
واضح رہے کہ پہلگام حملے کے بعد وادی کشمیر میں شعبہ سیاحت سب سے زیادہ متاثر ہونے والا شعبہ ہے۔
یو این آئی ارشید بٹ- ایم افضل
جموں و کشمیر
تنگ دھر میں آنکھوں کے بڑے جراحی کیمپ میں فوجی سربراہ جنرل دھیرج سیٹھ نے مریضوں سے ملاقات کی
سری نگر، فوجی سربراہ جنرل دھیرج سیٹھ نے جمعہ کو کپواڑہ کے تانگدھر میں آپریشن درشٹی کے تحت منعقدہ 10ویں آنکھوں کے بڑے جراحی کیمپ کے دوران مریضوں سے ملاقات کی اور انہیں دوائیں اور تحائف تقسیم کیے۔
مسلح افواج کی طبی خدمات کے جراحوں نے تنگ دھر میں زیر زمین آپریشن تھیٹر میں 220 ایسے جراحی کے عمل انجام دیے جن سے مریضوں کی بینائی بحال ہوئی۔ تانگدھر کشمیر میں لائن آف کنٹرول کے ساتھ واقع ایسا علاقہ ہے جہاں اکثر گولہ باری کا خطرہ رہتا ہے۔
زیادہ تر آپریشن موتیا کے تھے، جب کہ بعض مریضوں کے ریٹینا سے متعلق جراحی کے عمل اور کم تکلیف دہ گلوکوما کے آپریشن بھی کیے گئے۔
دو روزہ کیمپ کے دوران فوجی سربراہ جنرل دھیرج سیٹھ نے کیمپ کا دورہ کیا، مریضوں سے ملاقات کی اور انہیں دوائیں اور تحائف تقسیم کیے۔
مسلح افواج کی طبی خدمات کے ڈائریکٹر جنرل ایئر مارشل سندیپ تھریجا نے بھی کیمپ کا دورہ کیا اور جراحوں اور مقامی ٹیم کی غیر معمولی مہارت اور کوششوں کی تعریف کی۔
اس کیمپ کی قیادت آرمی ہسپتال (ریسرچ اینڈ ریفرل)، دہلی چھاؤنی کے شعبہ چشم کے سربراہ بریگیڈیئر سنجے کمار مشرا نے کی۔ ان کی ٹیم نے دشوار گزار پہاڑی علاقوں سے جدید فیکو ایمولسیفیکیشن، وٹریوریٹینل اور گلوکوما کے علاج کے آلات کیمپ تک پہنچائے۔
خواوارپورہ، تانگدر، ٹڈ، باگبیلا، ینگدر اور آس پاس کے دیہات سے مریض جانچ اور ریڈیو روحِ کرناہ پر نشر ہونے والی اطلاع کے بعد کیمپ پہنچے۔ ہندوستانی فوج نے ہر مریض کی آمد سے لے کر صحت یابی تک رہنمائی کی۔
وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کی ہدایت پر مسلح افواج کی طبی خدمات کی جانب سے منعقد کیے جا رہے آنکھوں کے بڑے جراحی کیمپوں کے سلسلے میں اب تک 1.50 لاکھ سے زیادہ مریضوں کی جانچ کی جا چکی ہے۔ 10 شہروں میں 3,500 سے زیادہ آپریشن کیے گئے ہیں۔
اس سلسلے کا 11واں کیمپ 27 سے 29 ستمبر تک سری نگر میں منعقد ہوگا۔ اس کیمپ کی اختتامی تقریب 30 ستمبر کو جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کی موجودگی میں منعقد ہوگی۔
یو این آئی۔ م س۔ م الف
جموں و کشمیر
مقامی بی جے پی قیادت ریاستی درجہ بحال کرنے کے خلاف، عمر کا الزام؛ کہا قرارداد ملک مخالف نہیں
سری نگر، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعہ کو الزام عائد کیا کہ مقامی بی جے پی قیادت جموں و کشمیر کا مکمل ریاستی درجہ بحال کرنے کے خلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ قانون ساز اسمبلی میں پیش کی گئی قرارداد پر بی جے پی کا اعتراض اس معاملے پر ووٹنگ سے بچنے کی کوشش ہے۔
ریاستی درجہ بحال کرنے کی قرارداد پیش کرنے کے بعد ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ یہ قرارداد صرف ریاستی درجہ بحال کرنے تک محدود ہے اور اس کا مقصد خودمختاری سمیت ماضی میں ایوان کی جانب سے منظور کی گئی قراردادوں کو دوبارہ کھولنا نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ سابقہ قراردادیں ’’ایوان کی ملکیت‘‘ ہیں اور تازہ قرارداد الگ سے مکمل ریاستی درجہ بحال کرنے اور حکومت ہند تک اسمبلی کا موقف پہنچانے کے لیے پیش کی گئی ہے۔
عمر عبداللہ نے بی جے پی کی جانب سے قرارداد کو ’’ملک مخالف‘‘ قرار دیے جانے کو بھی مسترد کرتے ہوئے سوال کیا کہ ریاستی درجہ بحال کرنے کا مطالبہ ملک مخالف کیسے ہو سکتا ہے۔
انہوں نے سوال کیا، ’’اس میں ملک مخالف کیا ہے؟‘‘ انہوں نے کہا کہ قرارداد میں آئین کے خلاف کچھ بھی نہیں ہے اور اس میں صرف جموں و کشمیر کے مکمل ریاستی درجہ کی بحالی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ تازہ قرارداد میں سابقہ قراردادوں کا حوالہ صرف یہ واضح کرنے کے لیے دیا گیا ہے کہ نئی قرارداد ان کے علاوہ ہے اور ان کی جگہ لینے یا ان کی اہمیت کم کرنے کی کوشش نہیں کرتی۔
عمر عبداللہ نے کہا، ’’اگر بی جے پی ان قراردادوں کو تبدیل کرنا چاہتی ہے تو اسے ایک قرارداد پیش کرنی چاہیے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ اس کے بعد اس معاملے کا فیصلہ ایوان میں ووٹنگ کے ذریعے کیا جا سکتا ہے۔
عمر عبداللہ نے الزام لگایا کہ بی جے پی کے 29 ارکان اسمبلی ریاستی درجہ بحال کرنے کی قرارداد پر ووٹ دینے کے لیے تیار نہیں ہیں اور پارٹی کے اعتراضات کو اس معاملے پر اپنا موقف اختیار کرنے سے بچنے کے بہانے کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے بی جے پی کے ارکان اسمبلی کو چیلنج کیا کہ وہ بحث میں حصہ لیں اور اپنی تقریروں اور ووٹ کے ذریعے اپنا موقف واضح کریں۔
انہوں نے کہا، ’’اگر وہ ریاستی درجہ کے حق میں ہیں تو ہاں کہیں۔ اگر وہ ریاستی درجہ کے خلاف ہیں تو نہیں کہیں۔ عوام کو معلوم ہو جائے گا۔‘‘
انہوں نے کہا کہ ریاستی درجہ کا معاملہ کسی خاص حکومت، سیاسی جماعت یا فرد سے متعلق نہیں بلکہ پورے جموں و کشمیر سے متعلق ہے۔
عمر عبداللہ نے کہا، ’’ریاستی درجہ حکومت کے بارے میں نہیں ہے۔ ریاستی درجہ میرے خاندان کے بارے میں نہیں ہے۔ ریاستی درجہ کسی سیاسی جماعت یا فرد کے بارے میں نہیں ہے۔ ریاستی درجہ پورے جموں و کشمیر کے بارے میں ہے۔‘‘
جب ان سے کہا گیا کہ جموں و کشمیر کابینہ پہلے ہی ریاستی درجہ بحال کرنے سے متعلق قرارداد بھیج چکی ہے تو انہوں نے کہا کہ قانون ساز ادارہ سیاسی رائے کے زیادہ وسیع دائرے کی نمائندگی کرتا ہے، جبکہ کابینہ حکمران فریق کی نمائندگی کرتی ہے۔
عمر عبداللہ نے کہا کہ اسمبلی انتخابات کو تقریباً 2 سال گزر چکے ہیں اور قرارداد کا مقصد منتخب جموں و کشمیر اسمبلی کی آواز نئی دہلی تک پہنچانا ہے۔
انہوں نے بی جے پی کی انتخابی مہم اور منشور کا بھی حوالہ دیا اور الزام عائد کیا کہ ریاستی درجہ بحال کرنا پارٹی کے اہم وعدوں میں شامل تھا۔ انہوں نے موجودہ وقت میں قرارداد کی مخالفت پر سوال اٹھایا۔
بی جے پی نے سابقہ خودمختاری کی قرارداد کے حوالے پر اعتراض کیا ہے، جبکہ ریاستی درجہ بحال کرنے کے معاملے پر اپنے موقف کو برقرار رکھا ہے۔ تاہم عمر عبداللہ نے کہا کہ تازہ قرارداد میں خودمختاری یا آرٹیکل 370 پر دوبارہ ووٹنگ کا مطالبہ نہیں کیا گیا ہے، بلکہ اس کا مقصد خاص طور پر مکمل ریاستی درجہ بحال کرنا ہے۔
اس سے قبل وزیر اعلیٰ نے جموں و کشمیر کا ریاستی درجہ بحال کرنے کے لیے قرارداد پیش کی۔ اس کے بعد ایوان میں شدید ہنگامہ برپا ہو گیا۔
وزیر اعلیٰ کی جانب سے پیش کی گئی قرارداد میں کہا گیا ہے، ’’26 جون 2000 اور 6 نومبر 2024 کو اس ایوان کی جانب سے منظور کی گئی قراردادوں کے علاوہ، یہ ایوان حکومت ہند سے جموں و کشمیر کا مکمل ریاستی درجہ فوری اور ترجیحی بنیاد پر بحال کرنے کا مطالبہ کرتا ہے اور فیصلہ کرتا ہے کہ یہ قرارداد حکومت ہند کو بھیجی جائے۔‘‘
یو این آئی۔ م س۔ م الف
جموں و کشمیر
بی جے پی نے عمر کی ریاستی درجہ بحال کرنے کی قرارداد کی مخالفت کی، 2000 کی خودمختاری قرارداد کے حوالے پر سوال اٹھایا
سری نگر، جموں و کشمیر کے حزب اختلاف کے رہنما سنیل شرما نے جمعہ کو وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی جانب سے قانون ساز اسمبلی میں پیش کی گئی ریاستی درجہ بحال کرنے کی قرارداد کی سخت مخالفت کرتے ہوئے سابق اسمبلی کی 2000 کی خودمختاری کی قرارداد کے حوالے کو اس میں شامل کیے جانے پر سوال اٹھایا۔
شرما نے کہا کہ بی جے پی نے جب خودمختاری کی قرارداد منظور کی گئی تھی، اسی وقت اسے مسترد کر دیا تھا اور سوال کیا کہ موجودہ ریاستی درجہ بحال کرنے کی قرارداد میں اسی قرارداد کا حوالہ کیوں دیا گیا ہے۔
سنیل شرما نے جموں و کشمیر اسمبلی کے باہر نامہ نگاروں سے کہا، ’’یہ مکمل طور پر متنازع اور ناقابل قبول قرارداد ہے، جسے بی جے پی کبھی برداشت نہیں کرے گی۔‘‘
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جموں و کشمیر اسمبلی میں مرکز کے زیر انتظام علاقے کا ریاستی درجہ بحال کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے ایک قرارداد پیش کی۔ جموں و کشمیر اسمبلی کی جانب سے ماضی میں منظور کی گئی قراردادوں، جن میں 2000 کی جموں و کشمیر خودمختاری کی قرارداد بھی شامل ہے، کے حوالے نے ایوان میں ہنگامہ برپا کر دیا۔ بی جے پی کے ارکان نے قرارداد کی نقول پھاڑ دیں، جس کے بعد ارکان کے درمیان ہاتھا پائی ہوئی۔
حزب اختلاف کے رہنما نے کانگریس کی قیادت، بشمول راہل گاندھی اور جموں و کشمیر کانگریس کی قیادت سے ’’آرٹیکل 370 اور خودمختاری کے حوالوں‘‘ پر ان کے موقف کی وضاحت بھی طلب کی۔
شرما نے سوال کیا، ’’کانگریس کو اپنا موقف واضح کرنا چاہیے۔ کیا وہ آرٹیکل 370 اور خودمختاری کی قرارداد کے ساتھ ہے یا حکومت کے ساتھ؟‘‘
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کو نشانہ بناتے ہوئے شرما نے یہ بھی سوال کیا کہ جب خودمختاری کی قرارداد مسترد کی گئی تھی تو اس وقت سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی کی قیادت والی این ڈی اے حکومت کے ساتھ ان کا کیا تعلق تھا۔
انہوں نے سوال کیا، ’’جب بی جے پی نے اس قرارداد کو مسترد کر کے پھاڑ دیا تھا، تو کیا عمر عبداللہ اس وقت این ڈی اے حکومت میں وزیر نہیں تھے؟ کیا وہ این ڈی اے کے اتحادی کے طور پر برقرار نہیں رہے تھے؟‘‘
شرما نے الزام عائد کیا کہ عمر عبداللہ حکومت حکمرانی کی ناکامیوں سے توجہ ہٹانے اور ریاستی درجہ بحال کرنے کے معاملے کو طول دینے کے لیے جذباتی مسائل کو اٹھا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بی جے پی ریاستی درجہ بحال کرنے کے معاملے پر بات چیت کے لیے تیار ہے، لیکن اسے خودمختاری یا آرٹیکل 370 سے جوڑنے کی کسی بھی کوشش کی مخالفت کرے گی۔
انہوں نے کہا، ’’ہم ان سوالات کے جواب چاہتے ہیں اور تب تک ہم احتجاج جاری رکھیں گے۔‘‘
یو این آئی۔ م س۔ م الف
-
ہندوستان1 week agoکھرگے اور راہل نے یومِ پیدائش پر مودی کو مبارکباد دی
-
جموں و کشمیر7 days agoگوریز میں مجوزہ ’تنتر سائلنس‘ ریٹریٹ پر تنازع
-
دنیا1 week agoجنوبی کوریا کا آبنائے ہرمز میں جنگی کردار سنبھالنے سے انکار ، جنگی مقاصد کی تعنیاتی نہیں ہو گی
-
جموں و کشمیر7 days agoاپوزیشن لیڈر سنیل شرما کا جموں و کشمیر اسمبلی تحلیل کرنے کا مطالبہ
-
دنیا1 week agoامریکی ویزا سے انکار کے بعد اقوام متحدہ نے فلسطینی صدر عباس کو ویڈیو خطاب کی اجازت دی
-
دنیا1 week agoایران میں جنگ چھڑنے کے بعد حکومت کے حق میں بڑی ترین ریلی، لاکھوں ایرانی شہری یکجا ہوئے
-
دنیا1 week agoامریکہ کی سعودی عرب کو 48 ایف-35 طیارے فروخت کرنے کی ممکنہ منظوری
-
دنیا1 week agoباب المندب سے بحری جہازوں کی محفوظ آمدورفت کے لیے اٹلی جنگی بحری جہاز تعینات کرے گا
-
دنیا5 days agoمیں پورے ایران کو ہوا میں اڑا سکتا ہوں:ٹرمپ
-
جموں و کشمیر1 week agoہائی کورٹ نے معزول حضرت بل امام کی عرضی پر نوٹس جاری کیا، 2024 کی عرضداشت پر غور کی ہدایت
-
دنیا6 days agoایرانی وزیر خارجہ عراقچی کا بین الاقوامی قانون کے بلاامتیاز نفاذ پر زور
-
جموں و کشمیر1 week agoنو قائم شدہ جے کے فور سی متاثرین پر مرکوز طریقہ کار اختیار کرے گا
