ہندوستان
ملک میں کورونا انفیکشن کے فعال کیسز کی تعداد تقریباً سات ہزار
نئی دہلی، ملک بھر میں کورونا انفیکشن کے ایکٹیو کیسز کی تعداد منگل کی صبح تک 6815 تک پہنچ گئی ہے اور گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اس انفیکشن کی وجہ سے مزید تین مریضوں کی موت کے بعد مرنے والوں کی تعداد 68ہو گئی ہے۔
مرکزی وزارت صحت کے مطابق، آج صبح 8 بجے تک انفیکشن کے 324 نئے معاملے سامنے آئے ہیں، جس سے فعال کیسوں کی کل تعداد 6,815 ہو گئی ہے اور 7644 مریض اس بیماری کے انفیکشن سے صحت یاب ہو چکے ہیں۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا انفیکشن سے مزید تین مریضوں کی موت کے بعد مرنے والوں کی تعداد 68 تک پہنچ گئی ہے۔ اس مدت کے دوران، قومی راجدھانی ، کیرالہ اور جھارکھنڈ میں ایک ایک مریض کی موت ہوئی ہے۔
وزارت کے اعداد و شمار کے مطابق کیرالہ میں سب سے زیادہ کیس درج کیے گئے ہیں۔
ملک کی 30 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں کورونا کے فعال کیسز میں اضافہ ہوا ہے۔ جن میں سے کیرالہ، دہلی، گجرات، کرناٹک، مہاراشٹر اور مغربی بنگال میں بھی کیسز میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔
کیرالہ کورونا انفیکشن کے معاملے میں سب سے زیادہ متاثر ریاست ہے، جہاں آج صبح تک 96 ایکٹیو کیسز کے اضافے کے ساتھ کیسز کی تعداد دو ہزار سے تجاوز کر کے 2053 تک پہنچ گئی اور دہلی میں تقریباً 37 کیسز کی کمی کے باعث متاثرین کی کل تعداد 691 رہ گئی۔اس کے علاوہ گجرات میں 1109،مغربی بنگال میں 747، مہاراشٹر میں 613، کرناٹک میں 559، تمل ناڈو میں 207 ، اتر پردیش میں 225 ، راجستھان میں 124 ہریانہ میں 108 ، آندھرا پردیش میں 86، پڈوچیری میں نو، سکم میں 36، مدھیہ پردیش میں 52، چھتیس گڑھ میں 44، بہار میں 48، اوڈیشہ میں 39، پنجاب میں 30، جموں و کشمیر میں نو، جھارکھنڈ میں چھ، آسام میں تین، گوا میں پانچ، تلنگانہ میں 10، اتراکھنڈ میں چھ، ہماچل پردیش میں تین،چنڈی گڑھ میں دو اور تریپورہ میں ایک فعال کیس ہیں ہے۔
میزورم اور اروناچل پردیش میں کورونا انفیکشن کا کوئی معاملہ سامنے نہیں ہوا ہے۔
ماہرین صحت کے مطابق ملک میں کووِڈ کیسز میں حالیہ اضافے کی وجہ اومیکرون کے نئے سب ویریئنٹ جیسے جے این.1، این بی.1.8.1، ایل ایف.7 اور ایکس ایف سی ہیں۔ ان میں انفیکشن کے امکانات زیادہ ہیں، لیکن ہلکی علامات ہیں۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے ان کی درجہ بندی اس وقت نگرانی کے تحت مختلف ویریئنٹ کے طور پر کی ہے – ابھی تک تشویش کی بات نہیں، لیکن احتیاط کی ضرورت ہے۔
اس دوران کووڈ-19 کے ذمہ دار وائرس سارس- سی او وی -2 ختم نہیں ہوا ہے، لیکن یہ اب کسی غیر متوقع ایمرجنسی کی طرح برتاؤ نہیں کرتا ہے – بلکہ، یہ فلو جیسی بیماریوں کے بار بار چلنے والے چکر کا حصہ بن گیا ہے۔ وزارت کے مطابق، حالیہ اضافے کے جواب میں، مرکزی حکومت نے اسپتال کی تیاری اور آکسیجن، آئسولیشن بیڈز، وینٹی لیٹرز اور ضروری ادویات کی دستیابی کا جائزہ لینے کے لیے مختلف ریاستوں میں ماک ڈرل شروع کردی ہیں۔
یو این آئی۔ این یو۔
ہندوستان
وزیر اعظم مودی نے یوم تاسیس پر آئی ٹی بی پی کے دلیر جوانوں کی بہادری اور قربانیوں کو سراہا
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی نے ہفتہ کے روز ہند تبت سرحدی پولیس (آئی ٹی بی پی) کے جوانوں، جنہیں عام طور پر باہمت جوان کہا جاتا ہے، کی غیر معمولی بہادری، عزم اور بے لوث خدمات کی ستائش کی۔ انہوں نے فورس کے یوم تاسیس پر مبارک باد دیتے ہوئے ملک کی سلامتی کے تحفظ میں اس کے جوانوں کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری پیغام میں مودی نے کہا کہ آئی ٹی بی پی کے جوانوں نے اپنی غیر معمولی بہادری سے نمایاں شناخت بنائی ہے اور ہر چیلنج کا مسلسل غیر معمولی عزم کے ساتھ مقابلہ کیا ہے۔
انہوں نے کہا، ”ان کی بے لوث خدمات اور قربانیاں ملک کے لیے بے پناہ ترغیب کا ذریعہ ہیں۔”
ہند تبت سرحدی پولیس کا قیام 24 اکتوبر 1962 کو ہندوستان اور چین کے درمیان جنگ کے بعد ہمالیائی سرحد پر سلامتی کو مضبوط بنانے کے لیے عمل میں آیا تھا۔ یہ ہندوستان کی مرکزی مسلح پولیس فورسز میں سے ایک ہے اور بنیادی طور پر ہندوستان اور چین کی سرحد کی حفاظت کی ذمہ داری انجام دیتی ہے۔ اس کے جوان دنیا کے انتہائی دشوار گزار بلند پہاڑی علاقوں میں اپنی خدمات انجام دیتے ہیں۔
اس فورس کے جوان سخت موسمی حالات میں خدمات انجام دیتے ہیں، جہاں انہیں نقطۂ انجماد سے نیچے درجہ حرارت، خطرناک پہاڑی درّوں، دشوار گزار راستوں اور آکسیجن کی کمی جیسے چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
ان کی خصوصی تربیت انہیں مشکل گشت انجام دینے اور حساس سرحد پر مسلسل نگرانی رکھنے کے قابل بناتی ہے۔ اکثر انہیں ایسے دور دراز علاقوں میں تعینات کیا جاتا ہے، جہاں پہنچنا اور ضروری سامان فراہم کرنا بھی مشکل ہوتا ہے۔
گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران باہمت جوانوں نے پہاڑی علاقوں میں آفات سے نمٹنے، تلاش اور بچاؤ کی کارروائیوں اور انسانی امداد فراہم کرنے میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔ ان کی عملی مہارت اور برداشت نے انہیں ہندوستان کی سرحدی سلامتی اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کی صلاحیت کا ایک اہم حصہ بنا دیا ہے۔
فورس کے یوم تاسیس پر مودی کے پیغام میں ان جوانوں کی لگن اور قربانیوں کو تسلیم کیا گیا، جو ملک کی علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے انتہائی دشوار حالات میں خدمات انجام دیتے ہیں۔ یہ سالانہ دن فورس کی شاندار روایات کو خراج تحسین پیش کرنے کے ساتھ ساتھ قومی سلامتی کے لیے اس کے جوانوں کے عزم کو بھی تسلیم کرتا ہے۔ یہ جوان اکثر اپنے اہل خانہ سے دور رہ کر ملک کے انتہائی سخت اور دشوار گزار علاقوں میں اپنی ذمہ داریاں نبھاتے ہیں۔
یو این آئی۔ ایم جے
ہندوستان
مرکز نے مرکزی اطلاعاتی کمیشن میں اطلاعاتی کمشنر کے 2 عہدوں کے لیے درخواستیں طلب کیں، آخری تاریخ 20 نومبر
نئی دہلی، مرکزی وزارت برائے عملہ، عوامی شکایات اور پنشن نے مرکزی اطلاعاتی کمیشن (سی آئی سی) میں اطلاعاتی کمشنر کے 2 عہدوں کے لیے درخواستیں طلب کی ہیں۔ درخواستیں جمع کرانے کی آخری تاریخ 20 نومبر 2026 مقرر کی گئی ہے۔
محکمہ عملہ و تربیت (ڈی او پی ٹی) نے نئی دہلی میں واقع کمیشن میں خالی عہدوں کو پُر کرنے کے لیے درخواستیں طلب کی ہیں۔ ضرورت کے مطابق تقرریوں کی تعداد 2 سے زیادہ نہیں ہوگی۔ ان عہدوں کو ضرورت کے مطابق پُر کیا جائے گا، جس کا مطلب ہے کہ حکومت 2 سے کم اطلاعاتی کمشنروں کی تقرری بھی کرسکتی ہے۔
محکمے نے دلچسپی رکھنے والے امیدواروں سے کہا ہے کہ وہ اہلیت کی شرائط اور درخواست کا مقررہ نمونہ سرکاری ویب سائٹ سے حاصل کرلیں۔ تقرری کے لیے غور کیے جانے کی خاطر امیدواروں کو اپنی مکمل طور پر بھری ہوئی درخواست 20 نومبر 2026 تک محکمے میں جمع کرانی ہوگی۔
یو این آئی۔ ایم جے
ہندوستان
اشوک سین 2026 کا آسکر کلائن میڈل حاصل کرنے والے پہلے ہندوستانی ماہر طبیعیات بنے
نئی دہلی، بنگلورو میں انفوسس مادھو چیئر کے پروفیسر ڈاکٹر اشوک سین 2026 کا باوقار آسکر کلائن میڈل حاصل کرنے والے پہلے ہندوستانی ماہر طبیعیات بن گئے ہیں۔ حکومت ہند کے پرنسپل سائنسی مشیر کے دفتر نے اس اعزاز کے لیے انہیں مبارک باد دی ہے۔
پروفیسر سین اسٹرنگ تھیوری میں اپنی اہم اور انقلابی خدمات کے لیے دنیا بھر میں مشہور ہیں۔ خاص طور پر ایس ڈوئلٹی، بلیک ہول کی اینٹروپی کی درست گنتی اور اسٹرنگ فیلڈ تھیوری کے شعبوں میں ان کی تحقیق نمایاں اہمیت رکھتی ہے۔ ان کی تحقیق نے جدید اسٹرنگ تھیوری کو آگے بڑھانے اور بنیادی طبیعیات کو بہتر طور پر سمجھنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
آسکر کلائن میڈل مشترکہ طور پر اسٹاک ہوم یونیورسٹی اور رائل سویڈش اکیڈمی آف سائنسز کی نوبل کمیٹی برائے طبیعیات کی جانب سے دیا جاتا ہے۔ یہ اعزاز طبیعیات کے شعبے میں نمایاں خدمات انجام دینے والوں کو دیا جاتا ہے۔
پروفیسر سین کے اس اعزاز سے ان کی کامیابیوں کی فہرست میں ایک اور اہم اعزاز کا اضافہ ہوگیا ہے۔ ان کی دیگر نمایاں کامیابیوں میں 2012 کا بریک تھرو پرائز برائے بنیادی طبیعیات، 2014 کا ڈیرک میڈل، 2001 کا پدم شری اور 2013 کا پدم بھوشن شامل ہیں۔
یو این آئی ایم جے
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
دنیا7 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
جموں و کشمیر7 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
دنیا1 week agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
-
پاکستان1 week agoپاکستان کے شمال مغربی علاقے میں اسکول کی چھت گرنے سے کم از کم 29 افراد ہلاک
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر کے قالین باف کو ہاتھ سے بنے قالینوں کے لیے قومی ایوارڈ
-
دنیا7 days agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر اسمبلی کی کمیٹی نے آنچار جھیل کے آس پاس بڑے پیمانے پر تجاوزات پر تشویش ظاہر کی، فوری کارروائی کا مطالبہ سری نگر، 15 اکتوبر (یو
-
ہندوستان7 days agoگیانیش کمار سرکاری گواہ بنیں: راہل
-
ہندوستان7 days agoجی ٹی ٹی سی آئی اور شری دھرمک لیلا کمیٹی نے لال قلعے میں ‘عالمی یومِ خوراک’ منایا
