دنیا
روسی حکومت امریکہ کے ساتھ روسی صحافیوں کے کام پر پابندی کا معاملہ اٹھا رہا ہے: روسی سفیر
ماسکو، ماسکو امریکہ کے ساتھ روسی صحافیوں کے کام پر پہلے سے عائد پابندیوں کا معاملہ اٹھا رہا ہے، جس میں روسیا سگیودنیا انٹرنیشنل میڈیا گروپ کے خلاف عائد پابندیاں بھی شامل ہیں۔
یہ معلومات امریکہ میں روس کے سفیر الیگزینڈر دارچیف نے دی۔
صحافیوں نے بدھ کے روز مسٹر دارچیف سے پوچھا کہ کیا روسی صحافیوں کے کام پر پابندیوں کے سلسلے میں امریکی فریق کے ساتھ بات چیت ہو رہی ہے، تو انہوں نے کہا، “یقیناً اس پر بات ہو رہی ہے۔ ہم ان مسائل کو اٹھا رہے ہیں۔”
امریکی محکمہ خزانہ نے 4 ستمبر کو روس کے روسیا سگیودنیا انٹرنیشنل میڈیا گروپ اور آر ٹی براڈکاسٹر کی ایڈیٹر انچیف مارگریٹا سائمونیا اور ان کے نائبین انٹون انسیموف اور ایلیزاویٹا بروڈسکایا کے خلاف پابندیوں کا اعلان کیا تھا۔ آر ٹی کے انگریزی زبان کے انفارمیشن براڈکاسٹنگ کے ڈپٹی ڈائریکٹر اینڈری کیاشکو، آر ٹی کے ڈیجیٹل میڈیا پروجیکٹ مینیجر کونسٹنٹین کلاشنکوف اور براڈکاسٹر کے متعدد دیگر ملازمین کو بھی پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ نے روسیا سگیودنیا اور اس کے ذیلی اداروں کے لیے آپریٹنگ کو سخت کرنے کے واسطے متوازی قدم اٹھاتے ہوئے انہیں “غیر ملکی مشن” کے طور پر نشان زدکیا۔ فارن مشنز ایکٹ کے تحت انہیں محکمہ کو امریکہ میں کام کرنے والے تمام اہلکاروں کے بارے میں مطلع کیا جانا چاہیے اور ان کی تمام جائیداد کا انکشاف کرنا چاہیے۔
یو این آئی۔ م ش۔
دنیا
سعودی عرب کو میزائل حملوں کا نیا خطرہ، ریاض ایئرپورٹ کی بندش میں توسیع
ریاض، سعودی عرب نے پیر کو کہا کہ یمن کی حوثی ملیشیا کی جانب سے داغے گئے بیلسٹک میزائل کو فضائی دفاعی نظام کے ذریعے تباہ کیے جانے کے بعد اس کی افواج مملکت کو نشانہ بنانے والے ممکنہ ڈرون اور کروز میزائل حملوں پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔
دوسری جانب، ایک مہلک حملے میں پاکستانی شہری کی ہلاکت کے بعد ریاض کے مرکزی بین الاقوامی ہوائی اڈے پر پروازوں کی معطلی میں توسیع کر دی گئی ہے۔
ان واقعات نے سعودی عرب کے شہری بنیادی ڈھانچے، بالخصوص ہوائی اڈوں کی سلامتی سے متعلق تشویش بڑھا دی ہے۔ میزائل اور ڈرون حملوں کے مسلسل خطرے سے سعودی فضائی دفاعی نظام پر دباؤ بڑھ رہا ہے اور خطے میں کشیدگی مزید پھیلنے کا اندیشہ پیدا ہو گیا ہے۔
یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت کرنے والے عرب اتحاد نے بتایا کہ اس نے سعودی عرب کی جانب آنے والے ڈرون اور کروز میزائلوں کے خطرات کا پتہ لگایا ہے اور ان کا مقابلہ کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے بتایا کہ سعودی فضائی دفاعی نظام نے پیر کی صبح ملک کے جنوب مغربی علاقے خمیس مشیط کی جانب یمن کی حوثی ملیشیا کے داغے گئے بیلسٹک میزائل کو روک کر تباہ کر دیا۔
سعودی عرب کے محکمہ شہری دفاع نے بھی جنوب مغربی علاقے عسیر کے دارالحکومت ابہا پر ممکنہ حملے کے حوالے سے الرٹ جاری کیا، تاہم بعد میں اعلان کیا گیا کہ خطرہ ٹل گیا ہے۔
یہ واقعات سعودی سرزمین پر حوثیوں کے حملوں کے سلسلے کے دوران پیش آئے ہیں، جن میں اہم فضائی تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔ اس صورت حال نے پڑوسی ملک یمن میں جاری تنازع کے درمیان سعودی عرب کے اہم بنیادی ڈھانچے کے تحفظ سے متعلق خدشات بڑھا دیے ہیں۔
سعودی عرب کی شہری ہوا بازی اتھارٹی نے پیر کو بتایا کہ ریاض کے کنگ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر پروازوں کی معطلی میں توسیع کر دی گئی ہے، تاکہ ہوائی اڈے کی تنصیبات کی حفاظتی جانچ مکمل کی جا سکے۔
ہوائی اڈہ ہفتے کے روز ایک مہلک واقعے کے بعد بند کر دیا گیا تھا۔ شہری ہوا بازی کی جنرل اتھارٹی نے اتوار کو بتایا تھا کہ ایک نامعلوم پروازی شے ٹرمینل 4 سے ٹکرائی، جس سے آگ لگ گئی۔ اس واقعے میں ایک پاکستانی شہری ہلاک اور 11 دیگر افراد زخمی ہو گئے تھے۔
زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا گیا، جبکہ حکام نے نقصان کا جائزہ لینے اور متاثرہ تنصیبات کا معائنہ کرنے کا کام شروع کر دیا۔
پانچ دن کے اندر ریاض ہوائی اڈے پر حملے کا یہ چوتھا رپورٹ شدہ واقعہ تھا۔ اتحاد کی افواج نے ہوائی اڈے کے قریب ایک کروز میزائل کو روک کر تباہ کرنے کی اطلاع بھی دی، جس سے مملکت کے اہم فضائی مراکز کو لاحق مسلسل خطرے کی نشاندہی ہوتی ہے۔
ایران کی حمایت یافتہ یمنی حوثی ملیشیا نے ہفتے کے حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس نے سعودی عرب کے مشرقی صوبے میں دمام کے کنگ فہد بین الاقوامی ہوائی اڈے اور سرکاری تیل کمپنی سعودی آرامکو کی دو تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا۔
سعودی شہری ہوا بازی اتھارٹی نے تصدیق کی کہ اتوار کی شام دمام کے ہوائی اڈے کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ اتھارٹی کے مطابق، نقصان کا جائزہ لینے اور حفاظتی معائنے کا عمل جاری ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
جنگ دوبارہ شروع ہونے پر 20 کھرب ڈالر کے امریکی ٹیکنالوجی اثاثے نشانہ بن سکتے ہیں: ایران
تہران، ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ نے تہران کے خلاف دوبارہ فوجی کارروائی شروع کی تو مغربی ایشیا میں 20 کھرب ڈالر سے زیادہ مالیت کے امریکی روابط رکھنے والے ٹیکنالوجی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ ساتھ ہی ایران نے آبنائے ہرمز پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔
ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سکریٹری میجر جنرل محسن رضائی نے ہفتے کو پریس ٹی وی کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں کہا کہ تہران نے گزشتہ لڑائی کے دوران اپنی بعض فوجی صلاحیتوں کو استعمال نہیں کیا تھا اور جنگ دوبارہ شروع ہونے کی صورت میں وہ نئی صلاحیتیں بروئے کار لانے کے لیے تیار ہے۔
انہوں نے کہا، ”اس خطے میں امریکی معیشت کی نبض دنیا کے ہمارے اس حصے سے ہو کر گزرتی ہے۔”
رضائی نے امریکی روابط رکھنے والے علاقائی ٹیکنالوجی نیٹ ورک کا حوالہ دیتے ہوئے کہا، ”ہم نے ابھی تک ان اثاثوں کو اپنے اہداف میں شامل نہیں کیا ہے، لیکن اگر جنگ چھڑتی ہے تو ان میں سے بہت سی کیبلز، ڈیٹا سینٹرز، مصنوعی ذہانت کی تنصیبات اور متعدد دیگر مقامات تباہ کر دیے جائیں گے۔”
رضائی نے دعویٰ کیا کہ ایران کے ساتھ محاذ آرائی میں امریکہ کو بار بار ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے اور فوجی مقاصد حاصل کرنے میں ناکامی کے بعد واشنگٹن نے اقتصادی دباؤ کا راستہ اختیار کیا۔ ان کے مطابق، اس محاذ آرائی کا خاتمہ کب ہوگا، اس کا فیصلہ امریکہ نہیں بلکہ ایران کرے گا۔
انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ 3 کروڑ سے زیادہ ایرانیوں نے امریکی جارحیت کی صورت میں ہتھیار اٹھانے کے لیے ”جاں فدا” (ایران کے لیے قربانی) مہم میں اپنا اندراج کرایا ہے۔
سفارتی کوششوں کے حوالے سے رضائی نے کہا کہ تہران مذاکرات کے لیے تیار ہے، لیکن وہ اپنے سابقہ طریقۂ کار پر واپس نہیں آئے گا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ امریکہ نے ایران پر حملے شروع کرنے سے پہلے مذاکرات کے تین دور ترک کر دیے تھے۔
انہوں نے کہا، ”یقیناً، ہم نے کبھی سفارت کاری ترک نہیں کی اور نہ ہی کبھی کریں گے، لیکن ہم نے اپنا طریقۂ کار تبدیل کر لیا ہے۔”
رضائی کے مطابق، ایران نے پاکستان، قطر اور عراق کے توسط سے امریکہ کو سات شرائط پیش کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ نے ان تجاویز کا جواب دیا ہے، لیکن تہران اسے ناکافی سمجھتا ہے اور بعض معاملات اب بھی حل طلب ہیں۔
انہوں نے کہا، ”ہم امریکیوں کو جواب دینے کے مرحلے میں نہیں ہیں۔ انہوں نے ہمیں جواب دیا ہے، لیکن ہم اسے ناکافی سمجھتے ہیں۔” ان کے مطابق، مزید اقدامات سے پہلے واشنگٹن کو اپنا موقف واضح کرنا ہوگا۔
آبنائے ہرمز کے معاملے پر رضائی نے کہا کہ ایران اس آبی گزرگاہ کے انتظام پر اپنا کنٹرول برقرار رکھے گا اور اسے ایک اہم ”قومی اثاثہ” قرار دیا۔
انہوں نے کہا، ”اب سے ہم آبنائے ہرمز کے انتظام پر اپنا کنٹرول برقرار رکھیں گے۔ خطے میں امن اور سلامتی یقینی بنانے کے لیے یہ ہمارے انتظام میں رہے گی۔ ہم اس معاملے پر پیچھے نہیں ہٹیں گے۔”
رضائی نے امریکہ کے اس دعوے کو بھی مسترد کیا کہ آبنائے ہرمز کھلی ہوئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہاں بحری آمدورفت جنگ سے پہلے کی سطح کے مقابلے میں بہت کم ہے اور بعض جہاز اسمگلنگ کے نیٹ ورک کے ذریعے سفر کر رہے ہیں۔
انہوں نے الزام لگایا کہ گزشتہ دو سے تین ماہ کے دوران ایرانی افواج عام طور پر ہر رات ایسی کارروائیوں میں ملوث پانچ یا چھ جہازوں کو نشانہ بناتی رہی ہیں۔ تاہم، ان دعوؤں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔
رضائی نے کہا کہ بحری آمدورفت پر پابندیوں سے تیل، گیس، ہیلیم اور کھادوں کی نقل و حمل متاثر ہوئی ہے، جس سے توانائی کی لاگت اور اقتصادی دباؤ میں اضافہ ہوا ہے۔ ان کے مطابق، ایران کے مجوزہ انتظامی نظام کے تحت سلامتی، بیمہ اور ماحولیاتی تحفظ کے شعبوں میں اقتصادی فوائد حاصل کیے جا سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایران جنگ دوبارہ شروع ہونے کی صورت میں اضافی فوجی صلاحیتیں استعمال کرنے کے لیے تیار ہے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ تہران نے 12 روزہ جنگ کے دوران جان بوجھ کر اپنی بعض صلاحیتیں استعمال نہیں کیں، جبکہ بعد میں ہونے والی اس کارروائی کے دوران زیادہ صلاحیتیں بروئے کار لایا گیا جسے انہوں نے 40 روزہ جارحیت قرار دیا۔
رضائی نے کہا، ”آج ہم جنگ دوبارہ شروع ہونے کی صورت میں نئی صلاحیتیں متعارف کرانے کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔”
انہوں نے امریکی دباؤ کے سامنے ایران کے جھکنے کے امکان کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ محاذ آرائی کا نتیجہ ایرانی عوام کے ہاتھ میں ہے۔
انہوں نے کہا، ”ایرانی عوام ہتھیار نہیں ڈالتے۔ وہ دوسروں کو اپنے سامنے ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرتے ہیں، لیکن خود کبھی ہتھیار نہیں ڈالیں گے۔”
رضائی نے زور دیا کہ ایران اپنے مطالبات پورے ہونے اور حقوق تسلیم کیے جانے تک مزاحمت جاری رکھے گا۔ ان کے بقول، ”اس جنگ کا خاتمہ ایرانی قوم کے ہاتھ میں ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ جب تک واشنگٹن ایران کے حقوق تسلیم نہیں کرتا، ایرانی عوام اپنی مزاحمت اور دفاع سے دست بردار نہیں ہوں گے۔
یو این آئی ۔ ع ا۔
دنیا
یمن میں حوثیوں کے خلاف جنوبی جائنٹس بریگیڈز کی جوابی کارروائی میں اہم کردار
دوحہ، یمن کی جنوبی جائنٹس بریگیڈز حوثی باغیوں کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں میں ایک اہم طاقت بن کر ابھری ہیں۔ پانچ اکتوبر کو سابق جنوبی عبوری کونسل (ایس ٹی سی) سے وابستہ گروپوں، جن میں طاقتور جائنٹس بریگیڈز بھی شامل ہیں اور بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کی فوج نے آبنائے باب المندب کے قریب حوثیوں کے خلاف بڑا حملہ شروع کیا تھا۔
یہ کارروائی ملک گیر فوجی مہم کا حصہ ہے، جس کا مقصد مسلح گروپ حوثیوں، جنہیں انصار اللہ بھی کہا جاتا ہے، کو ان کے زیر قبضہ علاقوں سے باہر نکالنا ہے۔ ان علاقوں میں اہم ساحلی خطہ بھی شامل ہے، جس پر ایران سے وابستہ اس گروپ نے ستمبر میں قبضہ کیا تھا۔ پیر کی دوپہر تک، جائنٹس بریگیڈز کی قیادت میں حکومت نواز فورسز نے بحیرۂ احمر کے ساحلی شہر موخا کو آبنائے باب المندب سے ملانے والی مرکزی سڑک منقطع کرنے کا دعویٰ کیا۔ باب المندب توانائی کی عالمی ترسیل کے لیے ایک اہم بحری گزرگاہ ہے۔
اس پیش رفت کو حوثیوں کے مخالفین کی کئی برسوں میں پہلی بڑی فوجی کامیابیوں میں سے ایک قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ کارروائی یمن کی صدارتی قیادت کونسل (پی ایل سی) کے سربراہ رشاد العلیمی کی جانب سے ایران کی حمایت یافتہ حوثی تحریک کے خلاف بڑے حملے کے اعلان کے بعد شروع ہوئی۔ اس نے یہ بھی ظاہر کیا کہ مختلف سیاسی مقاصد رکھنے والی حوثی مخالف قوتیں مشترکہ کارروائی کے ذریعے مؤثر پیش رفت کر سکتی ہیں۔
اس اتحاد میں ایس ٹی سی سے وابستہ گروپ بھی شامل ہیں، جن میں سے بعض جنوبی یمن کی آزادی اور علیحدگی کے حامی ہیں، جبکہ دوسری جانب مرکزی حکومت کی حمایت کرنے والی قومی فوجی قوتیں موجود ہیں۔
جنوبی یمن میں جنوری کے دوران ان دھڑوں کے درمیان نمایاں تصادم ہوا تھا، جب سعودی عرب کے حمایت یافتہ یمنی حکومتی دستوں نے متحدہ عرب امارات کی حمایت یافتہ ایس ٹی سی کو شکست دی۔ اس کے بعد حوثیوں کے مخالف فوجی دھڑوں میں نسبتاً زیادہ مرکزیت پیدا ہوئی۔
حکومت کے حالیہ فوجی اتحاد کی قیادت کرنے والی اہم فورسز میں جائنٹس بریگیڈز شامل ہیں، جن کی جڑیں جنوبی علیحدگی پسند تحریک میں پیوست ہیں۔ اس فورس کی کمان عبدالرحمٰن ابو زرا المحرمی کے ہاتھ میں ہے، جو سلفی نظریات کے حامل ہیں اور شمالی گورنری صعدہ کے سخت گیر مذہبی مدرسے دمّاج میں تعلیم حاصل کر چکے ہیں۔
جائنٹس بریگیڈز بنیادی طور پر سلفی جنگجوؤں پر مشتمل تھیں اور 2015 کی پہلی ششماہی میں جنوبی شہر عدن میں حوثیوں کے خلاف لڑائی کے دوران تشکیل پائیں۔ جنگ کے دوران یہ یمن کی طاقتور ترین فوجی قوتوں میں شمار ہونے لگی ہیں۔
خیال کیا جاتا ہے کہ متحدہ عرب امارات نے ان جنگجوؤں کو اسلحہ فراہم کیا، تربیت دی اور مالی مدد کی۔ 2017 میں یہ بریگیڈز اس وقت نمایاں ہوئیں، جب انہوں نے مغربی یمن کے وسیع ساحلی علاقوں کو حوثیوں کے قبضے سے آزاد کرانے کے لیے کارروائی کی۔ تاہم، اقوام متحدہ کی ثالثی میں دسمبر 2018 میں اسٹاک ہوم معاہدہ ہونے کے بعد بحیرۂ احمر کے ساحلی شہر حدیدہ کے مضافات میں ان کی پیش قدمی رک گئی۔
جنوری 2022 میں جائنٹس بریگیڈز نے حوثیوں کے خلاف ایک اور بڑی کامیابی حاصل کرتے ہوئے جنوبی گورنری شبوا کے تین اضلاع پر قبضہ کیا اور پڑوسی صوبے مآرب کی جانب پیش قدمی کی۔ تاہم، 17 جنوری 2022 کو حوثیوں کی جانب سے ابوظہبی پر حملے کے بعد ان کی کارروائی رک گئی۔
جاری۔ یو این آئی ۔ ع ا ۔
-
دنیا1 week agoایرانی وزیر تیل مستعفی، نیشنل آئل کمپنی کے سربراہ قائم مقام وزیر مقرر
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر سے تقریباً 150 بنگلہ دیشی شہری ملک بدر
-
دنیا1 week agoیمن کی سرکاری فوج کا حوثیوں کے خلاف بڑا حملہ، باب المندب کے قریب ذباب پر قبضہ
-
ہندوستان1 week agoسی ای سی کے خلاف احتجاجی مظاہرے کی درخواست پر سپریم کورٹ غور کرے گی
-
ہندوستان1 week agoراہل نے مدھیہ پردیش میں اساتذہ کی بھرتی کی آسامیوں میں اضافہ اور دوسرے مرحلے کی کونسلنگ شروع کرنے کا مطالبہ کیا
-
ہندوستان1 week agoجی ایس ٹی میں اگلی نسل کی اصلاحات سے کاروبار میں آسانی بڑھے گی، اعتماد مضبوط ہوگا: مودی
-
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر کے بارہمولہ میں افضل گورو کے خاندان سے مبینہ طور پر وابستہ ڈیری شیڈ منہدم
-
دنیا1 week ago۔کیریبین سمندر میں امریکی فوج کا کشتی پر حملہ، منشیات اسمگلنگ کے 4 مبینہ ملزم ہلاک: کمانڈ
-
ہندوستان1 week agoفارم-6 میں ہوئی غیر قانونی تبدیلی، گیانیش کمار نے اپنے عہدے کا غلط استعمال کیا: راہل
-
ہندوستان4 days agoوزیر اعظم مودی نے یوم فضائیہ پر جانبازوں کو سلام پیش کیا، ہندوستان کے آسمان کی حفاظت میں ان کی بہادری کو سراہا
-
دنیا5 days agoوسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کی کامیابی ہی امریکہ کو دیوالیہ ہونے سے بچا سکتی ہے:ٹرمپ کا دعویٰ
-
پاکستان1 week agoعمران خان کی رہائی کے مطالبے پر ہزاروں حامیوں کا اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ شروع
