تازہ ترین
ویڈیو:کولگام اور ترال میں الگ الگ خونین جھڑپیں :ذاکر موسیٰ اور نوید جٹ کے قریبی ساتھیوں سمیت 3جنگجو جاں بحق، مکمل رپورٹ
خبراردو:
سیکورٹی فورسز نے آپریشن آل آؤٹ کے تحت جنوبی کشمیر کے ریشی پورہ ترال اور ریڈونی کیموہ میں 2الگ الگ آپریشنوں میں فورسز کو انتہائی مطلوب ترین 3جنگجوؤں کو جاں بحق کردیا ۔ اطلاعات کے مطابق فوج کی 1آر آر، سی آر پی ایف اور ایس او جی کی مشترکہ جمعیت نے 26اور 27کی درمیانی شب کو ایک مصدقہ اطلاع ملنے کے بعد ریڈونی کیموہ کا محاصرہ عمل میں لایا جس دوران فورسز نے علاقے میں تمام راستوں پر سخت پہرے بٹھاتے ہوئے لوگوں کی نقل و حمل مسدود بنائی۔ معلوم ہوا ہے کہ سیکورٹی فورسز نے دوران شب 3بجے ریڈونی کا کڑا محاصرہ کرکے یہاں گھر گھر تلاشیوں کا آغاز کیا۔ فورسز اہلکاروں نے جونہی مشتبہ مقام کی جانب پیش قدمی شروع کی تو یہاں چھپے بیٹھے جنگجوؤں نے تلاشی پارٹی پر خودکار ہتھیاروں سے فائرنگ شروع کی۔
ادھر فورسز اہلکاروں نے بھی مورچہ سنبھالتے ہوئے جنگجوؤں کی فائرنگ کا جواب دیا جس کے ساتھ ہی علاقے میں جھڑپ شروع ہوئی جس کے بعد علاقہ گولیوں کی گن گرج سے دہل اُٹھا۔ پولیس نے بتایا کہ ایک مصدقہ اطلاع ملنے کے بعد سیکورٹی فورسز اور پولیس نے درمیانی رات کو ریڈونی کولگام میں تلاشی آپریشن شروع کیا جس دوران علاقے میں موجود جنگجوؤں نے حفاظتی عملے پر اندھا دھند فائرنگ شروع کی۔انہوں نے بتایا کہ ابتدائی گولیوں کے تبادلے میں فسٹ آر آر اور 163بٹالین سی آر پی ایف سے وابستہ 3 اہلکار زخمی ہوئے جنہیں علاج ومعالجہ کی خاطر فوری طورپر نزدیکی اسپتال منتقل کیا گیا تاہم فوجی جوان زخموں کی تاب نہ لا کر دم توڑ بیٹھا جبکہ2ہلکاروں کی حالت مستحکم ہے۔پولیس نے مارے گئے فوجی اہلکار کی شناخت پرکاش یادو کے بطور کی جبکہ 2زخمی سی آر پی ایف اہلکاروں میں سب انسپکٹر امت کمار اور کانسٹیبل اویناش شامل ہیں۔انہوں نے بتایا کہ فورسز اہلکاروں نے بھی جوابی کارروائی کی جس کے نتیجے میں 2جنگجو ہلاک ہوئے جن کی شناخت اعجاز احمد مکرو ولد مرحوم غلام رسول ساکنہ کیموہ اور وارث احمد ملک ولد بشیر احمد ساکنہ آرونی کے بطور ہوئی ہے۔ پولیس نے بتایا کہ مہلوک جنگجوکالعدم تنظیم لشکر طیبہ سے وابستہ تھے اور وہ پولیس وفورسز کو کئی کیسوں میں مطلوب تھے۔ پولیس نے بتایا کہ مارے گئے جنگجوپولیس وفورسز پر حملوں ، عام شہریوں کو تشدد کا نشانہ بنانے کی کارروائیوں اور دیگر تخریبی سرگرمیوں میں پیش پیش تھے۔ پولیس ریکارڈ کے مطابق اعجاز احمد مکرو نامی عسکریت پسندکے خلاف سال 2017سے جرائم کی ایک لمبی فہرست موجود ہے اور وہ نوید جھاٹ اور آزاد دادا کے قریبی ساتھیوں میں شمار ہوتا تھا۔
مارے گئے جنگجوکے خلاف ایف آئی آر زیر نمبر 60/2016ایف آئی آر زیر نمبر 45/2017، ایف آئی آر زیر نمبر 100/2017، ایف آئی آر زیر نمبر 10/2018، ایف آئی آر زیر نمبر 13/2018کے تحت پولیس اسٹیشن کولگام میں کیس درج ہیں۔ سیکورٹی فورسز کے ساتھ تصادم میں مارے گئے دوسرے جنگجو وارث بھی کئی تخریبی کیسوں میں پولیس کو مطلوب تھا۔ ادھر ترال کے ریشی پورہ علاقے میں بھی درمیانی شب کو فوج اور جنگجوؤں کے درمیان خونین تصادم آرائی ہوئی جس میں چیف انصار غزوۃ الہند کے سربراہ ذاکر موسیٰ کے نائب کو جاں بحق کردیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق 42آر آر، 180بٹالین سی آر پی ایف اور ایس او جی نے ہفو ریشی پورہ نامی گاؤں کا ایک مصدقہ اطلاع ملنے کے بعد محاصرہ کیا جس دوران یہاں مکان میں چھپے بیٹھے جنگجوؤں نے فورسز اہلکاروں پر شدید فائرنگ کی۔ معلوم ہوا ہے کہ سیکورٹی فورسز نے گاؤں میں 2سے3جنگجوؤں کی چھپے بیٹھے کی مصدقہ اطلاع کے بعد یہاں کڑا محاصرہ عمل میں لایا جس کے بعد یہاں گھر گھر تلاشی آپریشن شروع کیا گیا۔ اس دوران فورسز نے دوران شب ہی گاؤں میں فورسز کی بھاری کمک کو طلب کرتے ہوئے یہاں کسی بھی احتجاجی منصوبے کو ناکام بنانے کی خاطر تمام چوراہوں اور گلیوں کو سیل کردیا۔ تلاشی پارٹی نے جونہی گاؤں میں گھر گھر تلاشیوں کا آغاز کرتے ہوئے یہاں چھپے بیٹھے جنگجوؤں کو ڈھونڈ نکانے کی کوشش کی تو یہاں موجود قریبی مکان سے جنگجوؤں نے فورسز پر جدید ہتھیاروں سے فائرنگ کی۔
معلوم ہوا ہے کہ فورسز نے بھی جنگجوؤں کی کارروائی کا بھر پور جواب دیتے ہوئے گاؤں میں محاصرے کو مزید سخت کردیا۔ اس دوران طرفین کی گولہ باری کے نتیجے میں چیف انصار غزوۃ الہند کے سربراہ کے نائب اور قریبی ساتھی شاکر احمد ڈار ولد غلام حسن ڈار ساکن رٹھسونہ ترال جاں بحق ہوئے جبکہ گولی باری اور دھماکوں کے نتیجے میں 2رہائشی مکانات، ایک گاؤ خانہ سمیت غسل خانہ مکمل طور پر زمین بوس ہوگیا۔پولیس نے بتایا کہ ترال ہفوریشی پورہ میں علی الصبح سیکورٹی فورسز اورپولیس نے ایک مصدقہ اطلاع ملنے پر تلاشی آپریشن شروع کیا جس دوران علاقے میں موجودجنگجوؤں نے تلاشی پارٹی پر فائرنگ کی۔ تلاشی پارٹی نے بھی جوابی کاروائی کی جس کے نتیجے میں ایک جنگجو ہلاک ہوا جس کی شناخت شاکر حسن ڈار ولد غلام حسن ساکنہ رٹھسنہ ترال کے بطور ہوئی ہے۔ پولیس نے بتایا کہ مارا گیا جنگجو ذاکر موسیٰ گروپ کے ساتھ وابستہ تھااور اُس کے خلاف بھی سال 2015سے جرائم کی ایک لمبی فہرست موجود ہے۔ شاکر حسن نامی جنگجو پولیس وفورسز پر حملوں اور عام شہریوں کو تشدد کا نشانہ بنانے کی کارروائیوں میں ملوث رہ چکا ہے۔ پولیس نے اس سلسلے میں کیس درج کرکے تحقیقات شروع کی ہے۔
جھڑپ کی جگہ بڑی مقدار میں اسلحہ و گولہ بارود اور قابل اعتراض مواد برآمد کرکے ضبط کیا گیا۔اس دوران پولیس نے عوام الناس سے اپیل کی کہ وہ جھڑپ کی جگہ جانے گریز کریں کیوں کہ وہاں پر ممکنہ بارودی مواد موجود ہونے کے باعث خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔ ’لوگوں سے گذارش کی جاتی ہے کہ وہ پولیس کے ساتھ اس سلسلے میں تعاون کریں اور جب تک جھڑپ کی جگہ کو صاف کرکے محفوظ قرار نہ دیا جائے تب تک تصادم کی جگہ جانے سے اجتناب کیا جائے‘۔اس دوران متعلقہ علاقوں میں جھڑپ شروع ہونے کے ساتھ ہی دوران شب نوجوانوں کی مختلف ٹولیوں نے سڑکوں پر نکل کر فورسز کارروائی کے خلاف احتجاج کیا۔ مظاہرین نے یہاں تعینات فورسز کی مختلف ٹولیوں پر سنگ باری کی جس کے جواب میں فورسز نے بھی مظاہرین کو منتشر کرنے کی خاطر ہوا میں گولیوں کے کئی راؤنڈ فائر کرنے کے علاوہ پیلٹ فائرنگ کی جس کے نتیجے میں ایک درجن کے قریب افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔ریڈونی کیموہ میں جونہی جھڑپ شروع ہوئی تو یہاں فورسز کارروائی میں رخنہ ڈالنے کے لیے نوجوانوں نے سڑکوں پر نکل کر زور دار احتجاج اور پتھراؤ کیا۔ فورسز نے بھی جوابی کارروائی کرتے ہوئے پیلٹ فائرنگ کی جس کے جواب میں کئی افراد زخمی ہوئے جنہیں پبلک ہیلتھ سنٹر فرصل منتقل کیا گیا۔ پی ایچ سی فرصل کے ذرائع نے بتایا کہ فورسز کارروائی کے نتیجے میں کئی افراد زخمی ہوئے جنہیں علاج و معالجے کی خاطر یہاں منتقل کیا گیا تھا تاہم بعد میں انہیں بہتر طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے ڈسٹرکٹ ہسپتال اننت ناگ منتقل کیا گیا۔ علاوہ ازیں انتظامیہ نے جنوبی کشمیر میں 2الگ الگ جھڑپوں کے مابعد کی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے ضلع کولگام اور پولیس ڈسٹرکٹ اونتی پورہ میں موبائل انٹرنیٹ خدمات کو اگلے احکامات تک معطل رکھنے کا فیصلہ کیا۔ادھر جنگجوؤں کی ہلاکت کے خلاف جنوبی ضلع کولگام سمیت پلوامہ کے ترال، اونتی پورہ، ڈاڈسرہ، آری پل، کیگام میں مکمل ہڑتال رہی جس دوران یہاں معمولات زندگی بری طرح متاثررہے۔
معلوم ہوا ہے کہ متعلقہ علاقوں میں عوامی، تجارتی، کاروباری اور غیر سرکاری سرگرمیاں پوری طرح مفلوج رہیں جبکہ سڑکوں پر سے ٹریفک کی نقل و حمل بھی ٹھپ ہوکر رہ گئی۔ادھر ریلوے حکام نے بھی جنوبی کشمیر میں سیکورٹی صورتحال کے پیش نظر سرینگر سے بانہال چلنے والی ریل سروس کو اگلے احکامات تک معطل کردیا۔ ریلوے حکام نے بتایا کہ جنوبی کشمیر میں سیکورٹی صورتحال کے پیش نظر ریل سروس کو احتیاطی طور پر بند رکھا گیا ہے تاہم سرینگر سے بارہمولہ ٹریک پر ریل سروس شیڈول کے مطابق چلے گی۔
فن و ادب
ریکھا کی ادکاری ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب
ممبئی،
ریکھا محض ایک اداکارہ نہیں بلکہ ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب ہیں۔ ان کی اداکاری، شخصیت اور فن آنے والی نسلوں کے لیے بھی اہمیت رکھتے ہیں۔ ان کا فلمی سفر اس حقیقت کی گواہی دیتا ہے کہ اصل عظمت صرف شہرت حاصل کرنے میں نہیں، بلکہ اپنے فن کے ذریعے وقت کی حدود سے آگے نکل جانے میں ہے۔
ریکھا کی زندگی کامیابی، جدوجہد، تنہائی، شہرت اور خود کو نئے انداز میں پیش کرنے کی ایک طویل داستان ہے۔ انہوں نے بچپن کی مشکلات سے نکل کر ہندوستانی فلمی دنیا میں وہ مقام حاصل کیا جس تک پہنچنا ہر فنکار کے لیے ممکن نہیں ہوتا۔
‘خوب صورت’ کی زندہ دل منجو ہو، ‘امراو جان’ کی غم زدہ شاعرہ، ‘گھر’ کی دکھ سہنے والی عورت یا ‘خون بھری مانگ’ کی مضبوط کردار والی ہیروئن، ریکھا نے ہر کردار میں اپنی الگ شناخت قائم کی۔
بالی وڈ کی امراؤ جان، قاتل نگاہیں اور نمکین رنگت والی مشہور اداکارہ ریکھا دس اکتوبر 1954 کو مدراس کے ایک گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ اُن کا حقیقی نام بھانو ریکھا گنیشن ہے۔ان کے والد جیمنی گنیشن اور ان کی ماں تیلگو اداکارہ پشپ دیوی نے باقاعدہ شادی نہیں کی تھی۔ بچپن سے ہی تیلگو فلموں سے اپنا فلمی سفر شروع کرنے والی ریکھا کو کافی جدوجہد کرنی پڑی۔
ریکھا نے محض گیارہ سال کی عمر میں تیلگو فلم میں اداکاری سے اپنےکیرئیر کاآغاز کیا، 1969 میں ہندی فلم ‘دو شکاری’ کی ہیروئن کے روپ میں جلوہ گر ہوئیں اور جلد ہی فلمی دنیا پر راج کرنے لگیں۔
سال 1976 میں انہوں نے پہلی بار امیتابھ بچن کے ساتھ فلم ‘دو انجانے’ میں کام کیا اور فلم کو امر کردیا۔ اس کے بعد یہ جوڑی نٹور لال، خون پسینہ، مقدر کا سکندر اور بہت سی فلموں میں ایک ساتھ نظر آئی ۔
1978 میں فلم ‘مقدرکا سکندر’ نے ریکھا کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچادیا اورانہیں فلم فیئر ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔
جاری یو این آئی۔ ایم جے
دنیا
ہزیشکیان نے پوتن کو ایران اور امریکہ کے مابین نئی مذاکراتی تجاویز سے آگاہی کرائی
تہران، صدرِ ایران مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران اور امریکہ نے جنگ ختم کرنے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے نئی تجاویز کا تبادلہ کیا ہے۔
ایرانی صدر نے ترکمانستان میں اپنے روسی ہم منصب ولادیمیر پوتن سے دوطرفہ اقتصادی اور اسٹریٹجک تعاون کو بڑھانے پر بات چیت کے لیے ملاقات کی۔
ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی ایرنا کے مطابق یہ ملاقات کامن ویلتھ آف انڈیپنڈنٹ سٹیٹس (سی آئی ایس) سربراہی اجلاس اور بحیرہ کیسپین کے ماحولیاتی اجلاس کے اجلاس کے موقع پر ہوئی۔
دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات میں پیش رفت کا جائزہ لیا اور توانائی، زراعت، نقل و حمل اور تجارت سمیت اہم شعبوں میں تعاون کو مضبوط بنانے پر تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے مشترکہ منصوبوں کی تکمیل اور حتمی منظوری میں تیزی لانے کی ضرورت پر زور دیا اور دونوں ممالک کے قومی مفادات اور علاقائی استحکام کے مطابق جامع تعاون کو وسیع کرنے کے عزم کی تکرار کی۔
ایرانی طلبا کی خبر رساں ایجنسی اسنا کے مطابق پزشکیان نے کہا کہ جنگ کے باوجود ایران امریکہ کے ساتھ مذاکرات سے کنارہ کش نہیں ہوگا۔
“ہم بات چیت کر رہے ہیں، مگر جب بھی ہم امریکہ سے بات کرتے ہیں، وہ دوبارہ حملہ کر دیتے ہیں۔ تاہم ہم مذاکراتی میز اور گفت و شنید سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔”
پزشکیان نے کہا کہ تہران اور واشنگٹن نے دو طرفہ طور پر نئی تجاویز پیش کی ہیں۔
“ہم نے ان تجاویز میں اپنی ترامیم کی ہیں۔ جب یہ حتمی ہو جائیں گی تو ہمیں موجودہ ثالثوں کے ذریعے بیٹھ کر انہیں یکجا کرنا ہوگا۔”
پزشکیان نے علاقائی امور اور اقوامِ متحدہ میں روس کے موقف کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ماسکو نے یکطرفہ پالیسیوں کے خلاف مدد کی۔انہوں نے یہ بھی امید ظاہر کی کہ تہران اور ماسکو کے درمیان بڑھتی ہوئی ہم آہنگی “تیزی اورمظبوطی کے ساتھ” آگے بڑھے گی، اور کہا کہ موجودہ حالات تعاون کو گہرا کرنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تہران جنگ کے خاتمے کا خواہاں ہے، بشرطیکہ ایرانی عوام کے حقوق بین الاقوامی قانون کے تحت محفوظ رہیں۔
دونوں رہنماؤں کی آخری ذاتی ملاقات یکم ستمبر کو کرغزستان میں شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کے موقع پر ہوئی تھی، جہاں انہوں نے دوطرفہ تعلقات اور امریکہ-ایران جنگ پر بات کی تھی۔
اس ملاقات کے دوران پوتن نے امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کو “غیر مستحکم اور بہت نازک” قرار دیا اور تہران کی حمایت جاری رکھنے کا عندیہ دیا۔
مزید یہ کہ پزشکیان اور پوتن نے تاکہ ایران-امریکہ مذاکرات پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے بدھ کو فون پر بات کی تھی، جس میں روسی صدر نے تنازع کے حل کے لیے سفارتی کوششوں کی حمایت میں ماسکو کی آمادگی ظاہر کی۔
پوتن سی آئی ایس سربراہی اجلاس اور بحیرہ کیسپین کے ماحولیاتی اجلاس میں شرکت کرنے کے لیے جمعرات کو دو روزہ دورے پر ترکمانستان پہنچے تھے۔
توقع ہے کہ سی آئی ایس اجلاس رکن ممالک کے درمیان تعاون کے ساتھ ساتھ علاقائی اور بین الاقوامی پیش رفت کا جائزہ لے گا۔
بحیرہ کیسپین ماحولیاتی اجلاس میں پانچ ساحلی ممالک – آذربائیجان، ایران، قازقستان، روس اور ترکمانستان – کے رہنما یکجا ہوئے ہیں ، اجلاس کے ایجنڈے میں خطے میں ماحولیاتی تعاون شامل ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
مودی حکومت کی پالیسیوں نے معاشی لبرلائزیشن کو برباد کر دیا: کھرگے
نئی دہلی، کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے مودی حکومت کی معاشی پالیسیوں پر شدید نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس حکومت نے عام لوگوں کے مفادات کو نظر انداز کر کے صارفین کے لیے متعدد اختیارات کی مسابقت کو ختم کر دیا ہے اور منتخب سرمایہ دار دوستوں کو فائدہ پہنچایا جا رہا ہے، جس سے معاشی لبرلائزیشن کی بنیاد برباد ہو گئی ہے۔
مسٹر کھرگے نے جمعہ کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر لکھا کہ مودی حکومت کی معاشی پالیسیوں کا مقصد معیشت کا کنٹرول اپنے چہیتے سرمایہ دار دوستوں کے ہاتھوں میں سونپنا ہے، تاکہ بدلے میں منافع میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کا حصہ برقرار رہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مسابقت کو ختم کر کے اجارہ داری اور دو کمپنیوں کے غلبے والے نظام کو نافذ کر کے بی جے پی کے خزانے کو بھرنے کا کام کیا گیا ہے۔
کانگریس صدر نے کہا کہ ٹیلی کام کے شعبے میں 2014 سے پہلے 13 کمپنیاں تھیں، جبکہ اب صرف تین بڑی نجی کمپنیاں رہ گئی ہیں۔ اسی طرح اندرونِ ملک ہوا بازی کے شعبے میں 2014 سے پہلے سات کمپنیوں کے مقابلے اب صرف دو بڑی کمپنیاں رہ گئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل ادائیگی، سیمنٹ اور فوڈ ڈیلیوری ایپس سمیت مختلف شعبوں میں حکومت کی ترجیح مسابقت کو ختم کرنا رہی ہے۔ مسٹر کھرگے نے کہا کہ کانگریس معاشی لبرلائزیشن کی بانی ہے، جبکہ بی جے پی پر اپنے منافع کے لیے ‘معاشی دہشت گردی’ نافذ کرنے کا الزام لگایا۔
مسٹر کھرگے نے دعویٰ کیا کہ حکومت کی معاشی پالیسیوں سے مائیکرو، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز (ایم ایس ایم ای) اور دیگر چھوٹے و درمیانے درجے کی صنعتوں کو نقصان پہنچا ہے نیز ملک کے نوجوانوں کو شدید بے روزگاری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
یواین آئی ایف اے
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoقطری ثالثی کی امریکہ، ایران کے درمیان مذاکرات میں معمولی پیش رفت
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
جموں و کشمیر7 days agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
ہندوستان1 week agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
دنیا6 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
جموں و کشمیر1 week agoجاوید ڈار نے اسمبلی میں سی اے جی کی رپورٹیں پیش کیں
-
جموں و کشمیر1 week agoاپوزیشن لیڈر کا عمر پر ریاستی حیثیت کی بحالی کے مطالبے کو ’سبوتاژ‘ کرنے کا الزام، جموں و کشمیر اسمبلی کا اجلاس ’بدقسمت‘ قرار
-
دنیا7 days agoامریکہ، ایران جنگ بندی معاہدے کی راہ میں بداعتمادی اور گہرے اختلافات حائل
-
ہندوستان1 week agoکھرگے- راہل نے گاندھی اور شاستری کو یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش کیا
-
دنیا1 week agoامریکی فوج کے انخلا کے بعد عراق کو نئی سکیورٹی صورتحال میں توازن کے چیلنج کا سامنا
