تازہ ترین
ویڈیو: جمونکشمیر بنک کو پبلک سیکٹر انڈر ٹیکنگ کے دائرے میں لانے سے ہنگامہ کیوں ؟
رضوان سلطان:
پہلے 21 نومبر کو اچانک اسمبلی تحلیل اور پھر اسکے اگلے روز ہی گورنر ستیہ پال ملک کی صدارت میں ریاستی انتظامی کونسل کی میٹنگ میں جموں کشمیر بنک کے حوالے سے کئی اہم نو عیت کے فیصلے لے کر ریاست کی عوام کو ایک اور جھٹکا دیا گیا. 22 نومبر کو جموں میں ہوئی اس میٹنگ میں جموں کشمیر بنک کی خود مختاری کو ختم کر کے اسے اب ایک پبلک سیکٹر انڈرٹیکنگ بنانے کے منصوبے کو منظوری دے دی گئی ہے ۔
انتظامی کونسل نے کہا کہ جموں کشمیر حق اطلاعات ایکٹ ۲۰۰۹ یعنی RTI کا اطلاق دیگر پبلک سیکٹر انڈر ٹیکنگ کی طرح اب جموں کشمیر بنک پر بھی ہو گا ۔ وہیں بنک کو سنٹرل ویجی لنس کمیشن کے دائرے میں بھی لایا گیا ۔ اور اس طرح اسکی خود مختاری کو ختم کر کے جے کے بنک اب ریاستی قانون سازیہ کے سامنے جواب دہ ہو گا ۔ یعنی بنک کو ریاستی محکمہ خزانہ کی و ساطت سے اپنی سالانہ رپورٹ ریاستی قانون سازیہ کے سامنے پیش کرنا ہوگی ۔
ردعمل :
گورنر انتظامیہ کے اس فیصلے پر وادی میں شورشرابا اٹھنا شروع ہو گیا ہے ۔ این سی نے سرینگر میں اس فیصلے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے گورنر کو آر ایس ایس کا بندہ تک کہہ دیا ، عمر عبداللہ نے کہا گورنر ایک نگران منتظم ہیں اور ان کے پاس لوگون کا منڈیٹ نہیں جو ایسے بڑے فیصلے لیں جن کے دور تک اثرات مرتب ہوں گے ۔ پی ڈی پی کی صدر محبوبہ مفتی نے اس فیصلے پر کہا کہ یہ پریشنان کن ہے کہ جو ہمارے اداروں کے پاس خودمختاری ہے اسے چھینا جا رہا ہے ۔انجینئر رشید نے اس فیصلے کو تباہ کن قرار دے کر کہا کہ یہ فیصلہ ہمیں منظور نہیں ہے ۔میر واعظ عمر فاروق نے نے اسے ریاستی خصوصی پوزیشن اور اقتصادی حالت کیلئے زبردست خطرہ قرار دے کر کہا کہ دلی اب ریاست کے معاشی اداروں پر بھی ہاتھ ڈال رہی ہے ۔کشمیر اکنامک الائینس نے اسے جموں کشمیر بنک کی خود مختاری پر حملہ قرار دے کر کہا کہ اگر یہ فیصلہ واپس نہیں لیا گیا تو ریاست گیر میں احتجاج کا اعلان کیا جائے گا ۔
گورنر انتظامیہ کا دفاع :
اپنے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے گورنر انتظامیہ کا کہنا ہے کہ جے کے بنک کے کام کاج اور بورڈ آف ڈائرکٹرس کے اختیارات میں مداخلت کرنے کا کوئی منسوبہ نہیں اور بنک کا نظم نسق آر بی آئی کے رہنما خطوط کے مطابق ہی چلتا رہئے گا ۔ ریاستی ترجمان نے واضح کیا کہ اس فیصلے کے تین مرکزی جز ہیں ۔
پہلا ۔ جموں کشمیر بنک کو پبلک سیکٹر کرنا۔ اس پر ان کا کہنا تھا کہ ریاستی سرکار کا جمون کشمیر بنک میں ساٹھ فیصد شےئر ہے ، اور لہذا یہ ادارہ ایک عملی طور ایک پبلک سیکٹر انڈرٹیکنگ ہے ۔
دوسرا۔ آر ٹی آئی کے دائرے میں میں لانے سے کام کاج میں مزید شفافیت آئے گئی۔
تیسراَ : انہوں نے کہا کہ جہاں تک سی وی سی یعنی سنٹرل ویجی لنس کمیشن کے رہنما خطوط کی پاسداری کا تعلق ہے تو سرکار کے زیرانتظام تما م بنک ان رہنما خطوط کی پاسداری کرتے ہیں ۔۔
وہیں انہوں نے کہا کہ حال ہی میں کے وائی سی (know your Customer) کی پاسداری نہ کرنے سے آر بی آئی نے جموں کشمیر بنک پر تین کروڑ کا جرمانہ عائد کیا ۔
وہیں انہوں نے کہا کہ بنک کو اپنی سالانہ رپورٹ فائنانس محکمہ کے ذریعے ریاستی قانون سازیہ کے سامنے پیش کرنا ہوگی ، جو پھر سالانہ جنرل میٹنگ کے بعد عوام کے سامنے لائی جائے گی ۔
آپ کو بتادیں ۱۹۳۸ میں قائم کیا گیا جموں کشمیر بنک ملک کا واحد بنک ہے جس کو ریاستی سرکار کی مدد سے چلایا جا رہا ہے اور اس وقت بنک میں ریاست سرکار کی ۶۰ شراکتداری ہے ۔
اور بنکنگ ریگیولیشن ایکٹ کے تحت جے کے بنک اس وقت آر بی آئی کی نگرانی میں کام کر رہا ہے ۔
گورنر کے اس فیصلے سے کئی سوالات کھڑے ہو رہے ہیں ، پہلا ریگیولیشن ایکٹ آر بی آئی کو پرائیویٹ سیکٹر بنکوں پر نگرانی کا اختیار دیتا ہے ، جموں کشمیر بنک جو کہ ایکٹ کے تحت آر بی آئی کے سامنے جوابدہ ہے ، اسے اب ریاستی قانون سازیہ میں جواب دہ کیسے بنایا جاسکتا ہے ؟
دوسرا ترجمان نے کہا کہ ۶۰ فیصد شےئر ریاستی سرکار کا ہونے کی وجہ سے بنک عملی طور پبلک سیکٹر انڈر ٹیکنگ ہے ، تو کیا یہ فیصلہ باقی ۴۰ فیصدشےئر ہولڈرس سے پوچھ کر کیا گیا ہے ۔
ہندوستان
مودی حکومت کی پالیسیوں نے معاشی لبرلائزیشن کو برباد کر دیا: کھرگے
نئی دہلی، کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے مودی حکومت کی معاشی پالیسیوں پر شدید نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس حکومت نے عام لوگوں کے مفادات کو نظر انداز کر کے صارفین کے لیے متعدد اختیارات کی مسابقت کو ختم کر دیا ہے اور منتخب سرمایہ دار دوستوں کو فائدہ پہنچایا جا رہا ہے، جس سے معاشی لبرلائزیشن کی بنیاد برباد ہو گئی ہے۔
مسٹر کھرگے نے جمعہ کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر لکھا کہ مودی حکومت کی معاشی پالیسیوں کا مقصد معیشت کا کنٹرول اپنے چہیتے سرمایہ دار دوستوں کے ہاتھوں میں سونپنا ہے، تاکہ بدلے میں منافع میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کا حصہ برقرار رہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مسابقت کو ختم کر کے اجارہ داری اور دو کمپنیوں کے غلبے والے نظام کو نافذ کر کے بی جے پی کے خزانے کو بھرنے کا کام کیا گیا ہے۔
کانگریس صدر نے کہا کہ ٹیلی کام کے شعبے میں 2014 سے پہلے 13 کمپنیاں تھیں، جبکہ اب صرف تین بڑی نجی کمپنیاں رہ گئی ہیں۔ اسی طرح اندرونِ ملک ہوا بازی کے شعبے میں 2014 سے پہلے سات کمپنیوں کے مقابلے اب صرف دو بڑی کمپنیاں رہ گئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل ادائیگی، سیمنٹ اور فوڈ ڈیلیوری ایپس سمیت مختلف شعبوں میں حکومت کی ترجیح مسابقت کو ختم کرنا رہی ہے۔ مسٹر کھرگے نے کہا کہ کانگریس معاشی لبرلائزیشن کی بانی ہے، جبکہ بی جے پی پر اپنے منافع کے لیے ‘معاشی دہشت گردی’ نافذ کرنے کا الزام لگایا۔
مسٹر کھرگے نے دعویٰ کیا کہ حکومت کی معاشی پالیسیوں سے مائیکرو، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز (ایم ایس ایم ای) اور دیگر چھوٹے و درمیانے درجے کی صنعتوں کو نقصان پہنچا ہے نیز ملک کے نوجوانوں کو شدید بے روزگاری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
انڈیا اتحاد کے رہنماؤں سے جمعہ کی رات آٹھ بجے ملاقات کریں گی مرمو
نئی دہلی، انڈیا اتحاد کے رہنما جمعہ کی رات آٹھ بجے صدرِ جمہوریہ دروپدی مرمو سے ملاقات کر کے ووٹر لسٹ کی خصوصی تفصیلی نظرثانی (ایس آئی آر) کےعمل کے ذریعے دھاندلی کرنے اور الیکشن کمیشن کے طریقہ کار سے متعلق مسائل پر اپنے خدشات پیش کریں گے۔
ذرائع کے مطابق انڈیا اتحاد کے رہنماؤں نے 30 ستمبر کو یہاں منعقدہ میٹنگ میں صدرِ جمہوریہ سے ملاقات کر کے ان مسائل پر ان کے سامنے اپنا موقف رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اتحاد کے رہنما ایس آئی آر کے عمل اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے طریقہ کار سے متعلق اپنے خدشات سے صدرِ جمہوریہ کو آگاہ کرنا چاہتے ہیں۔
اس سلسلے میں صدرِ جمہوریہ سے ملاقات کے لیے پہلی بار دو اکتوبر کو مکتوب بھیج کر وقت مانگا گیا تھا۔ راشٹرپتی بھون کی طرف سے وفد میں شامل ہونے والے رہنماؤں کے نام مانگے جانے کے بعد اتحاد نے پانچ اکتوبر کو دوبارہ مکتوب بھیجا اور سات، آٹھ یا نو اکتوبر میں سے کسی بھی دن ملاقات کا وقت دینے کی درخواست کی تھی۔
انڈیا اتحاد کے رہنما چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار پر ووٹر لسٹ میں مبینہ دھاندلیوں کے تعلق سے سوال اٹھاتے ہوئے ان کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اس معاملے پر اتحاد کے اراکینِ پارلیمنٹ نے مظاہرے اور مارچ بھی نکالے ہیں۔
کانگریس نے الیکشن کمیشن کے خلاف اپنے احتجاج کو تیز کرنے کے لیے تقریباً ڈیڑھ ماہ تک جاری رہنے والی تحریک کے پروگرام کی بھی توثیق کی ہے۔ کانگریسی رہنما راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی واڈرا کو پولیس مظاہرے کے دوران مسلسل دو بار حراست میں بھی لے چکی ہے۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
ہندوستان نے امریکہ کے پی ای آر ایم پروگرام پر روک پر تشویش کا اظہار کیا، کہا – یہ دونوں ممالک کے مفادات کے خلاف
نئی دہلی، ہندوستان نے امریکی محکمہ محنت کے مستقل لیبر سرٹیفیکیشن پروگرام (پی ای آر ایم) سے جڑے فیصلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے دونوں ممالک کے مفادات کے خلاف بتایا ہے۔
امریکہ کی جانب سے جمعرات کی رات اس قدم کے اعلان کے بعد وزارتِ خارجہ نے جمعہ کے روز ایک بیان جاری کر کے کہا کہ اس قدم سے متاثرہ کمپنیوں کے اہل ملازمین کے گرین کارڈ کے عمل پر اثر پڑ سکتا ہے۔ تاہم پی ای آر ایم درخواستوں پر روک سے موجودہ ایچ-1بی ویزا یا ویزا ہولڈرز اور ان کے زیرِ کفالت افراد کی حیثیت پر خود بخود کوئی اثر نہیں پڑتا۔
ہندوستان نے کہا کہ پی ای آر ایم پروگرام، ایچ-1بی ویزا پروگرام سے مختلف ہے۔ متاثرہ کمپنیوں کے اہل ملازمین کی مستقل رہائش یعنی گرین کارڈ حاصل کرنے کے عمل پر اس کا کچھ اثر ہو سکتا ہے، لیکن اس سے موجودہ ایچ-1بی ویزا کی میعاد اپنے آپ ختم نہیں ہوتی۔
وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ ہندوستانی ٹیلنٹ کے امریکہ جانے سے دونوں ممالک کی معیشتوں کو فائدہ ہوتا ہے۔ اس سے ہندوستانیوں کو مواقع ملتے ہیں، جبکہ امریکی کمپنیوں کو ہنر مند ملازمین، نئی ٹیکنالوجی، تحقیق، جدت طرازی، پیداواری صلاحیت اور مسابقتی صلاحیت بڑھانے میں مدد ملتی ہے۔ اس سے امریکہ میں روزگار کے مواقع پیدا ہوتے ہیں اور شیئر ہولڈرز کے اثاثوں میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔
ہندوستان نے کہا کہ امریکہ کا یہ قدم دونوں ممالک کے مشترکہ اہداف کو آگے بڑھانے میں مدد نہیں کرتا۔ ہندوستان نے امریکی نائب صدر کے اس معاملے پر کیے گئے تبصروں پر بھی اعتراض ظاہر کیا۔ ہندوستان کے مطابق ایسے تبصرے غیر مناسب ہیں اور امریکہ کی معیشت نیز جدت طرازی میں ہندوستانی پیشہ ور افراد کی خدمات کو نظر انداز کرتے ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ہندوستانی پیشہ ور افراد امریکہ کی معیشت اور جدت طرازی کے نظام میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ امریکہ کی تاریخ بھی ایسے تارکینِ وطن کی خدمات سے بنی ہے جنہوں نے اپنے کام، کاروبار اور نئے خیالات سے ملک کی ترقی میں مدد کی ہے۔ ہندوستان نے کہا کہ دردناک تاریخی اور نوآبادیاتی دور کی یاد دلانے والے الفاظ کا استعمال انتہائی قابلِ اعتراض ہے۔
وزارتِ خارجہ نے کہا کہ وہ اس معاملے سے جڑی صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے۔
یواین آئی ایف اے
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoقطری ثالثی کی امریکہ، ایران کے درمیان مذاکرات میں معمولی پیش رفت
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
جموں و کشمیر7 days agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
ہندوستان1 week agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
ہندوستان1 week agoڈیفنس اکاؤنٹس ڈیپارٹمنٹ کے 279ویں سالانہ دن پر کئی نئی پہل کی شروعات کریں گے راج ناتھ
-
جموں و کشمیر1 week agoجاوید ڈار نے اسمبلی میں سی اے جی کی رپورٹیں پیش کیں
-
ہندوستان1 week agoشیئر بازاروں میں گراوٹ جاری، سینسیکس 49 پوائنٹس پھسلا
-
دنیا6 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
-
جموں و کشمیر1 week agoاپوزیشن لیڈر کا عمر پر ریاستی حیثیت کی بحالی کے مطالبے کو ’سبوتاژ‘ کرنے کا الزام، جموں و کشمیر اسمبلی کا اجلاس ’بدقسمت‘ قرار
