تازہ ترین
حریت (ع) کا مجوزہ ڈیلیگیٹ سیشن پولیس نے بنایا ناکام ، میرواعظ خانہ نظر بند، صدر دفتر سیل
خبراردو:
پولیس نے حریت کانفرنس (ع) کے مجوزہ اجلاس کے پیش نظر دوران شب ہی حریت (ع) چیرمین میر واعظ عمر فاروق کو خانہ نظر بند کرنے کے علاوہ پارٹی کے صدر دفتر واقع راجباغ کو مکمل طور پر سیل کردیا۔ادھر پارٹی نے پولیس کی اس کارروائی پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی حکمرانوں کی ایما پر پولیس نے حریت کانفرنس(ع)چیرمین میرواعظ عمر فاروق کو گزشتہ رات سے ایک بار پھر حکمرانوں کی جانب سے موصوف کو خانہ نظر بند کرکے ان کی جملہ پر امن سرگرمیوں پر پہرے بٹھانے ، حریت ہیڈ کوارٹر راجباغ میں مجوزہ یک روزہ ڈیلیگیٹ سیشن کو طاقت کے بل پر ناکام بنانے اور حریت صدر دفتر پر حریت سے وابستہ قائدین اور کارکنوں کے داخلے پر پابندی عائد کئے جانے کی کارروائیوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکمرانوں کی جانب سے حریت چیرمین اور قیادت کی پر امن سیاسی و تحریکی سرگرمیوں کو جس طرح کھلی آمریت کامظاہرہ کرکے ناکام بنانے کی کوشش کی گئی وہ حکمران طبقے کی کھلی بوکھلاہٹ کو ظاہر کرتی ہے اور اس طرح کے طرز عمل سے بخوبی واضح ہو جاتا ہے کہ حکمران حریت قیادت کی سیاسی مکانیت کو مسدود کرنے اور اُن کی اظہار رائے پر طاقت کے بل پر پابندی عائد کرنے پر تلی ہوئی ہے ۔
پارٹی نے بیان میں کہا کہ حریت(ع) چیرمین میرواعظ کو کل شام سے ہی اپنی رہائش گاہ پر نظر بند کردیا گیا جبکہ حریت کانفرنس کے مرکزی دفتر واقع راجباغ کو صبح سے ہی پولیس نے اپنے گھیرے میں لیکر وہاں حریت قائدین اور کارکنوں کی آمدو رفت کو مسدود کردیا جبکہ وہاں صرف حریت کانفرنس سے وابستہ قائدین اور کارکنوں کا یک روزہ ڈیلیگیٹ سیشن کے انعقاد کا پروگرام طے تھا تاہم حکمرانوں نے اپنی روایتی پالیسی کو برقرار رکھتے ہوئے جس طرح سے اس پر امن پروگرام پر بھی پہرے بٹھا دیئے ۔ اس کے بعد جب سینئر حریت قائدین جناب بلال غنی لون، جناب پروفیسر عبدالغنی بٹ اور جناب مختار احمد وازہ سمیت متعدد قائدین اور کارکنوں نے مسلم کانفرنس کے صدر دفتر واقع وزیرباغ پر مجوزہ اجلاس کا انعقاد کرنا چاہا تو وہاں پر بھی پولیس کی بھاری جمعیت نے مذکورہ آفس کو اپنے گھیرے میں لیکر وہاں حریت قائدین اور کارکنوں کی نقل و حرکت کو مسدود بنایا جو کہ حکمرانوں کی بوکھلاہٹ اور ان کے فسطائی ذہنیت سے عبارت رویے کو ظاہر کرتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ حریت کانفرنس (ع)یہاں کے حریت پسند عوام کے جذبات اور احساسات کی ترجمان اور ہزاروں شہیدوں کے مقدس خون کی امین قیادت کی حیثیت سے ہمیشہ اس بات کی قائل رہی ہے کہ مسئلہ کشمیر کوجب تک اس کے تاریخی پس منظر میں یہاں کے عوام کی خواہشات اور امنگوں کے مطابق حل نہیں کیا جاتا اس وقت تک اس پورے خطے میں امن اور سلامتی کی ضمانت فراہم نہیں کی جاسکتی۔
حریت(ع)کا اول روز سے یہ موقف رہا ہے کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان خوشگوار تعلقات کی بحالی مسئلہ کشمیر کے دائمی امن سے جڑی ہوئی ہے اور اس مسئلہ کو حل کرنے کیلئے یا تو اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل آوری یا پھر مسئلہ سے جڑے تینوں فریقوں کے درمیان بامعنی اور نتیجہ خیز سہ فریقی مذاکراتی عمل کا راستہ اختیار کیا جاسکتا ہے ۔ بھارت کی ہٹ دھرمی اور بالا دستی سے عبارت سیاستکاری ہمیشہ اس مسئلہ کے حل میں سب سے بڑی رکاوٹ رہی ہے اور کشمیر میں جس طرح بھارت اور اس کے ریاستی حواری یہاں کے مزاحمت پسند عوام کو طاقت کے بل پر پشت بہ دیوار کرنے پر تلی ہوئی ہے روز نوجوانوں کو قتل کیا جارہا ہے ،کشت خون کا سلسلہ وادی کے طول و عرض میں جاری ہے ، گرفتاریاں ، ہراسانیاں، قدغنیں، مار دھاڑ اور تلای آپریشنوں کی آڑ میں پکڑ دھکڑ کا سلسلہ جاری ہے ۔ ایسی صورتحال سے اندازہ ہوتا ہے کہ حکومت ہندوستان یہاں کے عوام کی جائز تحریک کو دبانے کیلئے کوئی بھی حربہ اختیار کرنے سے گریز نہیں کررہی ہے ۔ دنیا کی کسی قوم کو ظلم اور جبر کی بنیاد پر نہ تو زیر کیا جاسکا ہے اور نہ دنیا کی کسی بھی تحریک آزادی کو فوجی جماؤ اور طاقت کے بل پر ختم کیا جاسکا ہے ۔ لہٰذا کشمیری عوام کے تئیں بھارت کے ظالمانہ رویوں سے یہاں کے حریت پسند عوام کے حوصلوں کو شکست دینے کا عمل کبھی بھی کامیاب نہیں ہوسکتا کیونکہ کشمیری عوام کی اپنی مبنی برحق جدوجہد کے تئیں وابستگی اور استقامت اتنی مضبوط ہے کہ کسی بھی طرح کے ظلم اور جبر سے اس کو ختم نہیں کیاجاسکتا۔انہوں نے کہا کہ وقت آگیا ہے کہ حکومت ہندوستان ہٹ دھرمی اور انا پرستی سے عبارت سیاستکاری کو ترک کرکے حقیقت پسندانہ رویہ اختیا رکرکے پاکستانی وزیراعظم کی مسئلہ کشمیر کے حل کے سلسلے میں پیش کش کا مثبت جواب دے اور اس دیرینہ تنازعہ کو حل کرنے کیلئے سودمند اقدامات اٹھائے تب جاکر اس خطے میں امن خوشحالی اور ترقی کا خواب شرمندۂ تعبیر ہوسکتا .
دنیا
اسرائیلی انتخابات سے قبل نیتن یاہو کی لیکوڈ اور آئزنکوٹ کی یاشار پارٹی کے درمیان سخت مقابلہ
یروشلم، اسرائیل میں منگل کو ہونے والے انتخابات سے قبل وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کی حمایت کرنے والے اور ان کی مخالفت کرنے والے جماعتی اتحادوں کے درمیان سخت مقابلہ ہے۔ تاہم، زمان اسرائیل کے ایک تازہ ترین سروے کے مطابق، کسی بھی اتحاد کو 120 رکنی کنیسٹ (اسرائیلی پارلیمان) میں اکثریت حاصل ہوتی دکھائی نہیں دے رہی ہے۔
14 اور 15 اکتوبر کو 500 یہودی اور عرب افراد کے درمیان کیے گئے اس سروے میں یہودی قیادت والے دونوں بڑے سیاسی اتحادوں کو 51، 51 نشستیں ملنے کا اندازہ ظاہر کیا گیا ہے، جو حکومت تشکیل دینے کے لیے درکار 61 نشستوں سے کافی کم ہے۔
عرب قیادت والی جماعتوں کو مجموعی طور پر 14 نشستیں ملنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جبکہ کسی اتحاد کا حصہ نہ بننے والی ریزروسٹس پارٹی کو چار نشستیں ملنے کی توقع ہے۔
دونوں میں سے کسی بھی اتحاد کے لیے بعض حریف جماعتوں کے ساتھ حکومت نہ بنانے سے متعلق انتخابی وعدوں سے پیچھے ہٹے بغیر اکثریت حاصل کرنا مشکل ہوگا۔
اگر کوئی اتحاد حکومت تشکیل دینے میں ناکام رہتا ہے تو 2027 کے اوائل میں دوبارہ انتخابات کرائے جا سکتے ہیں اور اس دوران نیتن یاہو نگراں وزیر اعظم برقرار رہیں گے۔
ٹائمز آف اسرائیل کے ایک الگ سروے کے مطابق، تقریباً 60 فیصد جواب دہندگان چاہتے ہیں کہ اگر نیتن یاہو حکومت بنانے میں ناکام رہتے ہیں تو وہ سیاست سے سبکدوش ہوجائیں۔
ٹائمز آف اسرائیل کے جماعت وار اندازوں کے مطابق، اپوزیشن رہنما گادی آئزنکوٹ کی یاشار پارٹی 23 نشستوں کے ساتھ پہلے مقام پر ہے، اگرچہ گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں اس کی متوقع نشستوں میں تین کی کمی آئی ہے۔
دوسری جانب نیتن یاہو کی لیکوڈ پارٹی 21 نشستوں کے ساتھ دوسرے مقام پر ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی حمایت کے چند روز بعد لیکوڈ کی متوقع نشستوں میں ایک کا اضافہ ہوا ہے۔
اسرائیل کے سابق وزیر اعظم نفتالی بینیٹ کی جماعت بی یاخاد کو 11 نشستیں ملنے کا امکان ہے، جبکہ سخت گیر موقف رکھنے والی یسرائیل بیتینو کو نو نشستیں مل سکتی ہیں۔ عرب قیادت والے جوائنٹ لسٹ اتحاد کو بھی نو نشستیں ملنے کی توقع ہے۔
انتہائی قدامت پسند مذہبی جماعتوں شاس اور یونائیٹڈ توراہ جوڈازم، بائیں بازو کی ڈیموکریٹس اور انتہائی دائیں بازو کی اوتسما یہودیت، ہر ایک کو آٹھ نشستیں ملنے کا اندازہ ہے۔ مذہبی صہیونیت پارٹی کو چھ، تاریخی طور پر اسلام پسند جماعت راعم کو پانچ اور ریزروسٹس پارٹی کو چار نشستیں ملنے کی توقع ہے۔
اوفیر ونٹر کی قیادت والی دائیں بازو کی پیپلز آف اسرائیل پارٹی کے بارے میں اندازہ ہے کہ وہ انتخابی حد عبور نہیں کر پائے گی۔ اس جماعت نے وعدہ کیا ہے کہ وہ
جاری ۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
سرائیلی فوج کے سربراہ نے کنیسٹ انتخابات سے قبل ایران پر حملے کی ضرورت مسترد کردی
یروشلم، اسرائیلی فوج کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ایال زامیر نے فی الحال ایران پر حملے کے لیے کسی عملی ضرورت سے انکار کیا ہے۔ چینل 13 نے جمعرات کو یہ اطلاع دی۔ ان کا یہ بیان اسرائیل میں 27 اکتوبر کو ہونے والے کنیسٹ انتخابات سے قبل ایران کے ساتھ جنگ دوبارہ شروع ہونے کے خدشات کے درمیان سامنے آیا ہے۔
چینل 13 کے مطابق، زامیر نے حالیہ ایک نجی اجلاس میں کہا، ”ہمیں ایسے کوئی اشارے نہیں ملے ہیں جن سے ظاہر ہو کہ انتخابات سے پہلے ایران پر حملہ ضروری ہے۔ اگر ہم اس نتیجے پر پہنچے کہ ایران پر حملہ ضروری ہے تو ہم ایسا کریں گے۔”
وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کے اہم حریف اور یاشار پارٹی کے سربراہ گادی آئزنکوٹ نے بھی جمعرات کو اسی طرح کا موقف ظاہر کیا۔ انہوں نے چینل 13 سے کہا، ”ایران کی جانب سے کوئی ایسا براہ راست اور فوری خطرہ نہیں ہے جو انتخابات سے پہلے جنگ شروع کرنے کو ضروری بنائے۔”
نیتن یاہو کو ناقدین کی جانب سے ان الزامات کا سامنا ہے کہ وہ اسرائیلی انتخابات پر اثرانداز ہونے یا انہیں ملتوی کرانے کے لیے ایران کے خلاف جنگ دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تاہم، انہوں نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر
عمر عبداللہ کی لوگوں سے باغِ گلِ داؤد کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہونے کی اپیل
سری نگر، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعہ کو کہا کہ سری نگر کا پہلا مخصوص گلِ داؤدی باغ، ‘باغِ گلِ داؤد’، سیاحوں کو پھولوں کی ایک منفرد دل کشی فراہم کرکے کشمیر میں سیاحتی موسم کو وسعت دینے میں مددگار ثابت ہوگا۔
باغ کا دوسری مرتبہ افتتاح کرنے کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد کشمیر کے سیاحتی موسم کے آغاز اور اختتام، دونوں ادوار میں سیاحوں کے لیے خصوصی کشش کے مقامات تیار کرنا ہے۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کو تیار کرنے کے پیچھے ہمارا مقصد سیاحتی موسم کو فروغ دینا ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ محکمۂ گل کاری نے باغِ گلِ داؤد کو اس لیے تیار کیا ہے تاکہ ایسے عرصے میں سیاحوں کو ایک منفرد تجربہ فراہم کیا جا سکے، جب سیاحت کے لیے خاص کشش رکھنے والے مقامات نسبتاً کم ہوتے ہیں۔
زبرون پہاڑیوں کے دامن میں واقع اور ڈل جھیل کے چمکتے پانیوں کا نظارہ پیش کرنے والا یہ خوب صورت، زینہ دار باغ سری نگر کے مشہور ٹیولپ گارڈن کے قریب واقع ہے۔
عمر عبداللہ نے لوگوں کو باغ کی سیر کی دعوت دیتے ہوئے کہاکہ ”میں نہ صرف ملک بھر کے ان لوگوں کو کشمیر آنے کی دعوت دیتا ہوں جو یہاں کی سیر کے خواہش مند ہیں، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر سری نگر اور آس پاس کے علاقوں میں رہنے والے اپنے لوگوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ آئیں اور اس باغ کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہوں۔”
انہوں نے سیاحوں پر زور دیا کہ وہ باغ میں تصاویر کھینچیں اور یہاں کی خوب صورتی کی یادیں ہمیشہ کے لیے محفوظ کریں۔
گزشتہ سال باغ کے افتتاح کے بعد ہونے والی پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ باغ میں نمایاں بہتری آئی ہے اور اسے مزید دل کش بنانے کی کوششیں جاری رہیں گی۔
انہوں نے کہاکہ ”آپ میں سے جو لوگ گزشتہ سال افتتاح کے موقع پر میرے ساتھ تھے اور جنہوں نے اس مرتبہ یہاں آنے کا موقع حاصل کیا ہے، انہوں نے خود دیکھا ہوگا کہ اس باغ نے کتنی ترقی کی ہے۔”
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پائیداری کے اعتبار سے بھی اس باغ کو ایک فائدہ حاصل ہے، کیونکہ اس کے پودوں کو مقامی طور پر افزائش دے کر بڑھایا جا سکتا ہے، جب کہ ٹیولپ کے بلب بار بار درآمد کرنے پڑتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کا ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ ٹیولپ گارڈن کے برعکس، جس کے لیے ہمیں بار بار بیرونِ ملک سے بلب منگوانے پڑتے ہیں، باغِ گلِ داؤد کے پودوں کا مواد ہمارے اپنے پاس موجود ہے۔ ہم خود ان کی افزائش کرتے ہیں اور ان کی تعداد بڑھاتے ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت ہر سال باغ میں نئی خصوصیات متعارف کرانے کی کوشش کرے گی تاکہ اس کی کشش برقرار رہے اور سیاحتی مقام کے طور پر اس کا کردار مزید مستحکم ہو۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا7 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
جموں و کشمیر7 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا7 days agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
دنیا7 days agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
-
پاکستان1 week agoپاکستان کے شمال مغربی علاقے میں اسکول کی چھت گرنے سے کم از کم 29 افراد ہلاک
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر کے قالین باف کو ہاتھ سے بنے قالینوں کے لیے قومی ایوارڈ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر اسمبلی کی کمیٹی نے آنچار جھیل کے آس پاس بڑے پیمانے پر تجاوزات پر تشویش ظاہر کی، فوری کارروائی کا مطالبہ سری نگر، 15 اکتوبر (یو
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر کے بالائی علاقوں میں ہلکی برف باری، وادی میں بارش سے سردی میں اضافہ
