جموں و کشمیر
انہیں 40 دن کے اندر ضمانت مل جاتی ہے تو وہ دوبارہ حلف اٹھا سکتے ہیں:مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ
بدعنوانی اورسنگین الزامات کا سامنا کرنے والے وزیر اعظم،وزیر اعلیٰ اور وزرائے کو ہٹانے کا مسودہ قانون
ملک کی پارلیمان میں منظور ہوجائے گا
کہا مودی جی نے خود بل میں وزیر اعظم کا عہدہ شامل کیا، وزیر اعظم جیل گئے تو اُنہیں استعفیٰ دینا پڑے گا
نئی دہلی:جے کے این ایس : مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے یقین ظاہر کیا ہے کہ اپوزیشن کی شدید تنقید کے باوجود آئین (130ویں ترمیم) بل2025 منظور ہو جائے گا۔ اس بل میں وزیر اعظم، وزرائے اعلیٰ اور وزراءکو عہدے سے خود بخود ہٹانے کی تجویز دی گئی ہے۔ بشرطیکہ اگر انہیں 5 سال یا اس سے زیادہ قید کی سزا کے تحت گرفتار کر کے مسلسل30 دن تک حراست میں رکھا جائے۔ بل کو تفصیلی جانچ کےلئے مشترکہ پارلیمانی کمیٹی و بھیج دیا گیا ہے۔ یہ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے 31 ارکان پر مشتمل ہے۔ کمیٹی بل کا جائزہ لے گی اور ووٹنگ سے قبل اپنی سفارشات پیش کرے گی۔جے کے این ایس کے مطابق خبرررساں ادارے ’اے این آئی‘ سے بات کرتے ہوئے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے بل کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد ’آئینی اخلاقیات‘ اور عوامی اعتماد کو برقرار رکھنا ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ آئین (130ویں ترمیم) بل2025 کا اطلاق بشمول حکمران جماعت میں شامل افراد تمام لیڈروں پر یکساں طور پر ہو گا۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ مجھے پورا یقین ہے کہ یہ بل منظور ہو جائے گا۔ کانگریس پارٹی اور اپوزیشن میں بہت سے لوگ ہوں گے جو اخلاقیات کی حمایت کریں گے اور اخلاقی بنیاد کو برقرار رکھیں گے۔اس سوال کہ ’وزیر اعظم جیل گئے تو انہیں استعفیٰ دینا پڑے گا‘،مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے کہاکہ وزیر اعظم مودی نے خود اس میں وزیر اعظم کا عہدہ شامل کیا ہے ، اس سے قبل اندرا گاندھی39ویں ترمیم لائی تھیں (صدر، نائب صدر، وزیر اعظم اور لوک سبھا کے اسپیکر کو بھارتی عدالتوں کی جانب سے عدالتی نظرثانی سے بچانے کےلئے)۔ امت شاہ نے کہاکہ نریندر مودی اپنے خلاف آئینی ترمیم لائے ہیں کہ اگر وزیر اعظم جیل گئے تو انہیں استعفیٰ دینا پڑے گا۔عدالت بھی سمجھتی ہے، قانون کی سنگینی: وزیر داخلہ امت شاہ نے آئین (130ویں ترمیم) بل2025 متعارف کرایا۔ اس کا مقصد وزیر اعظم، وزرائے اعلیٰ اور وزراءکو عہدے سے ہٹانا ہے اگر وہ5 سال یا اس سے زیادہ قید کی سزا کے الزامات کے تحت مسلسل 30 دن تک گرفتار اور نظر بند رہیں۔ اس بل نے گرما گرم بحث چھیڑ دی ہے۔ اپوزیشن نے الزام لگایا ہے کہ اس کے سیاسی مقاصد غیر بی جے پی حکومتوں کو غیر مستحکم کرنے کے ہیں۔ امت شاہ نے اپوزیشن کے اس دعوے کو مسترد کر دیا کہ حکومت 130ویں ترمیمی بل کے تحت ضمانت میں تاخیر کےلئے عدالتوں پر دباو ¿ ڈال سکتی ہے۔وزیر اعلیٰ یا وزیر اعظم جیل میں رہ کر حکومت نہیں چلا سکتا:مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے130ویں ترمیمی بل پر کہاکہ ہماری عدالت بھی قانون کی سنگینی کو سمجھتی ہے، جب کسی کو 30 دن بعد استعفیٰ دینا ہوتا ہے، اس سے پہلے عدالت فیصلہ کرتی ہے کہ اسے ضمانت ملنی چاہیے یا نہیں۔ جب یہ معاملہ ہائی کورٹ میں گیا تو دلیل دی گئی کہ اروند کیجریوال کو استعفیٰ دے دینا چاہیے کیونکہ وہ جیل میں ہیں، ہائی کورٹ نے کہا کہ ہمیں اس بنیاد پر استعفیٰ دینا چاہیے، لیکن ہم اس بات پر یقین نہیں کریں گے کہ اس کی کوئی ضمانت نہیں ہے۔ میری جماعت کا ماننا ہے کہ ملک کا وزیر اعظم یہ مانتا ہے کہ اس ملک کا کوئی وزیر اعلیٰ، وزیر یا وزیر اعظم جیل میں رہ کر حکومت نہیں چلا سکتا، جب آئین بنا تو آئین بنانے والوں نے ایسی بے شرمی کا تصور بھی نہیں کیا ہو گا کہ ایک وزیر اعلیٰ جیل جائے گا اور جیل سے وزیر اعلیٰ رہے گا۔عدالتیں قانون کے غلط استعمال کو روکیں گی:اپوزیشن کی تنقید کا جواب دیتے ہوئے امت شاہ نے واضح کیا کہ بل میں کسی خاص پارٹی یا لیڈر کو نشانہ نہیں بنایا گیا ہے۔ اس بات پر بھی زور دیا کہ عدالتیں اس کے غلط استعمال کو روکیں گی۔ انہوں نے کہاکہ کوئی بھی عدالت میں جا کر ایف آئی آر درج کرنے کا حکم مانگ سکتا ہے۔ یو پی اے حکومت کے دوران عدالت کے حکم پر کئی تحقیقات شروع کی گئی تھیں۔ وزیر داخلہ امت شاہ نے کہاکہ میں کم از کم 12 معاملات کے نام بتا سکتا ہوں جہاں عدالت نے سی بی آئی کو جانچ کرنے کی ہدایت دی تھی۔ عام آدمی پارٹی کے کنوینر اروند کیجریوال کے بارے میں پوچھے جانے پر امت شاہ نے کہا کہ انہیں 30 دن کے اندر ضمانت مل گئی تھی۔کوئی بھی جیل سے حکومت نہیں چلا سکتا: وزیر داخلہ امت شاہ نے کہاکہ اروند کیجریوال کو 30 دن کے اندر ضمانت مل گئی تھی اور مجھے یقین ہے کہ انہیں اس وقت استعفیٰ دے دینا چاہیے تھا۔ انہوں نے اپنا استعفیٰ اس وقت پیش کیا جب لوگوں نے ان کےخلاف احتجاج کیا۔ انہوں نے کہاکہ اب ایسے افراد کو قانونی طور پر اپنا استعفیٰ دینا ہوگا۔امت شاہ نے یہ بھی واضح کیا کہ بل انصاف فراہم کرتا ہے، کسی بھی رہنما کو 30 دن کے بعد بھی ضمانت حاصل کرنے، حلف اٹھانے اور دفتر میں واپس آنے کی اجازت دیتا ہے۔ امت شاہ نے کہاکہ وہ ضمانت ملنے کے بعد حلف اٹھا سکتے ہیں۔ضمانت ملتے ہی اپنے عہدے پر واپس آ سکتے ہیں: وزیر داخلہ امت شاہ نے کہاکہ ہمارا بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ کوئی بھی جیل سے حکومت نہیں چلا سکتا۔ اگر انہیں 40 دن کے اندر ضمانت مل جاتی ہے تو وہ دوبارہ حلف اٹھا سکتے ہیں۔ اس سے انہیں یہ اعتماد ملنا چاہیے کہ وہ ضمانت ملتے ہی اپنے عہدے پر واپس آ سکتے ہیں۔ ترنمول کانگریس کے مشترکہ پارلیمانی کمیٹی (جے پی سی) کے بائیکاٹ پر، امت شاہ نے کہا کہ حکومت نے انہیں اس میں حصہ لینے کا مناسب موقع دیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہم کیا کر سکتے ہیں؟ ہم ان سے درخواست کر رہے ہیں کہ وہ شامل ہوں اور شرکت کریں۔جے پی سی کو تمام جماعتوں کے خیالات کی عکاسی کرنی چاہیے: وزیر داخلہ امت شاہ نے کہاکہ پارلیمنٹ کے اصولوں سے انکار کرنا اور پھر یہ توقع رکھنا کہ سب کچھ آپ کی شرائط پر ہوگا۔انہوںنے کہاکہ حکومت انہیں ایک موقع دے رہی ہے لیکن اگر وہ نہیں مانیں گے تو ہم اس سے زیادہ کچھ نہیں کر سکتے۔ امت شاہ نے کہاکہ اگر وہ جے پی سی میں شامل ہونے سے انکار کرتے ہیں تو ہم کیا کر سکتے ہیں؟ انہوں نے زور دیا کہ جے پی سی اہم ہے اور اسے تمام جماعتوں کے خیالات کی عکاسی کرنی چاہیے۔ امت شاہ نے کہاکہ یہ ایک اہم بل ہے اور جے پی سی میں ہر پارٹی کی رائے سنی جانی چاہیے۔ امت شاہ نے کہاکہ اگر اپوزیشن اگلے4 سال تک اس بل کی حمایت نہیں کرتی ہے تو کیا ملک کام کرنا بند کر دے گا؟ ایسا نہیں ہو گا۔انہوںنے کہاکہ ہم انہیں صرف اپنے خیالات بتانے کی اجازت دے رہے ہیں اور اگر وہ ایسا نہیں کرتے تو عوام دیکھ رہی ہے۔
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر پولیس نے 500 گرام گانجا کے ساتھ منشیات کے اسمگلر کو گرفتار کیا
جموں، جموں و کشمیر پولیس نے فوجی کالونی کے علاقے میں منشیات کے 3 اسمگلروں کو گرفتار کرکے ان کے قبضے سے تقریباً 500 گرام گانجا برآمد کیا ہے۔ سرکاری ذرائع نے ہفتہ کو یہ اطلاع دی۔
حکام کے مطابق، معمول کی گشت کے دوران پولیس کی ایک ٹیم نے دشہرہ میدان کے قریب سینک پبلک اسکول کے سامنے 3 افراد کو روکا۔ اس کے بعد ان کی تلاشی لی گئی، جس میں تقریباً 500 گرام گانجا برآمد ہوا۔
ملزمین کی شناخت مغربی بنگال کے رہنے والے ایشَر علی اور مدھیہ پردیش کے چھترپور کے رہنے والے اجے اہروار اور منوج بنسل کے طور پر ہوئی ہے۔ پولیس نے تینوں کو موقع پر ہی گرفتار کرلیا۔ برآمد شدہ منشیات کو مقررہ قانونی کارروائی کے تحت ضبط کرلیا گیا ہے اور ملزمین کے خلاف قانونی کارروائی شروع کردی گئی ہے۔
اس سلسلے میں متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ پولیس یہ معلوم کرنے کے لیے تحقیقات کر رہی ہے کہ برآمد شدہ منشیات کہاں سے لائی گئی تھی۔ اس کے علاوہ منشیات کی مبینہ سپلائی کے نیٹ ورک سے وابستہ تمام رابطوں کا بھی پتہ لگایا جا رہا ہے۔ جموں پولیس نے منشیات کی اسمگلنگ پر روک لگانے اور جموں و کشمیر کو منشیات سے پاک بنانے کے اپنے عزم کو دہرایا ہے۔
پولیس نے عام لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ منشیات کی اسمگلنگ اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں کے بارے میں مستند معلومات ڈائل 112 یا 9858034100 پر فراہم کریں۔ حکام نے کہا کہ اطلاع دینے والوں کی شناخت خفیہ رکھی جائے گی۔
یو این آئی۔ ایم جے
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر پولیس نے جے کے آئی ایم کے خفیہ نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، چار خواتین سمیت چھ افراد گرفتار
سری نگر، جموں و کشمیر پولیس نے ہفتہ کے روز ممنوعہ تنظیم ‘جموں و کشمیر اتحاد المسلمین’ (جے کے آئی ایم) کے ایک خفیہ نیٹ ورک کا پردہ فاش کرتے ہوئے چار خواتین سمیت چھ افراد کو گرفتار کرلیا۔
بانڈی پورہ ضلع پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نیٹ ورک کو پاکستان میں موجود ایک ہینڈلر چلا رہا تھا۔ پولیس کے مطابق، یہ نیٹ ورک علیحدگی پسند نظریات اور گمراہ کن پروپیگنڈے کو فروغ دے رہا تھا، جس میں خاص طور پر خواتین کو نشانہ بنایا جارہا تھا۔
پولیس نے گرفتار افراد میں کاچلو قاضی پورہ کے رہنے والے وحید احمد بھٹ کو اس معاملے کا مرکزی ملزم قرار دیا ہے۔ اس کے علاوہ بانڈی پورہ کے دچی گام کی رہائشی مبینہ بانو، چیک پنجی گام کی خوشبو جان، مہک جان اور عالیہ جان، نیز ہندواڑہ کے انن وان کے رہنے والے عرفان احمد ریشی عرف رئیس کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں اور نیٹ ورک کی سرگرمیوں، اس سے وابستہ دیگر افراد اور اس کے مبینہ رابطوں کے بارے میں معلومات جمع کی جارہی ہیں۔
واضح رہے کہ مرکزی حکومت نے 2025 میں جے کے آئی ایم پر پانچ سال کے لیے پابندی عائد کردی تھی۔ تنظیم پر ملک مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہونے، دہشت گردی کی حمایت کرنے اور علیحدگی پسند سرگرمیوں کو فروغ دینے کے الزامات ہیں۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
لداخ کی خاموشی کو ہتھیار ڈالنا نہ سمجھا جائے: کے ڈی اے کی مرکز کو تنبیہ
سرینگر، مرکزی وزارت داخلہ اور لداخ کے رہنماؤں کے درمیان بات چیت میں تعطل کے درمیان کرگل ڈیموکریٹک الائنس (کے ڈی اے) نے ہفتے کے روز مرکز کو خبردار کیا کہ وہ لداخ کے لیے آئینی تحفظات اور جمہوری حقوق کے مطالبات کو مزید تاخیر کا شکار نہ بنائے۔ الائنس نے کہا کہ عوام غیر معینہ مدت تک خاموش نہیں رہیں گے۔
کرگل میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کے ڈی اے کے رہنماؤں نے مرکزی وزارت داخلہ کی جانب سے پیش کردہ مجوزہ انتظامی ڈھانچے کو مسترد کردیا۔ ان کا الزام تھا کہ یہ تجویز سابقہ اجلاسوں کی کارروائی کے منٹس میں درج وعدوں پر پوری نہیں اترتی اور لداخ کے عوام کی امنگوں کو پورا کرنے میں ناکام ہے۔
کے ڈی اے اور لیہ ایپکس باڈی (ایل اے بی) گزشتہ کئی برسوں سے لداخ کے لیے آئینی تحفظات کے مطالبے کی قیادت کر رہے ہیں اور اس سلسلے میں مرکز کے ساتھ بات چیت بھی کرتے رہے ہیں۔
کے ڈی اے کے شریک چیئرمین سجاد کرگلی نے کہا کہ مجوزہ انتظام عوام کی امنگوں کو مدنظر رکھ کر تیار نہیں کیا گیا، بلکہ ان کے بقول اسے مرکزی زیر انتظام علاقے کی انتظامیہ کے مفادات کو سامنے رکھ کر وضع کیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ کے ڈی اے اور لیہ ایپکس باڈی نے اس تجویز کو مسترد کرتے ہوئے اپنے اعتراضات مرکز کے سامنے پیش کردیے ہیں۔
کرگلی نے لداخ انتظامیہ پر الزام لگایا کہ وہ مسلسل احکامات اور نوٹیفکیشن جاری کرکے جمہوری حقوق کو کمزور کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ الائنس آئینی تحفظات اور عوام کے حقوق کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گا۔
انہوں نے کہاکہ ”ہم مرکزی زیر انتظام علاقے کی انتظامیہ کی اس آمرانہ روش کی مذمت کرتے ہیں، جس کے تحت ہم پر یکے بعد دیگرے احکامات مسلط کیے جا رہے ہیں۔ یہ لداخ کے عوام کے حقوق پر حملہ ہے۔”
ملک کے دیگر حصوں میں انتخابی بے ضابطگیوں کے الزامات کا حوالہ دیتے ہوئے کرگلی نے کہا کہ لداخ کو ایک ”تجربہ گاہ” بنا دیا گیا ہے اور الزام لگایا کہ خطے کی سیاسی نمائندگی کو کمزور کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہاکہ ”لداخ کو ایک تجربہ گاہ بنا دیا گیا ہے۔ یہاں تو عوام کی نمائندگی ہی چھین لی گئی ہے۔”
ان کا کہنا تھا کہ ملک کے دیگر حصوں میں ووٹوں کی چوری کے الزامات سامنے آتے ہیں، جبکہ ان کے مطابق لداخ میں عوام کی سیاسی نمائندگی چھیننے کا معاملہ ہے۔
کے ڈی اے کے دوسرے شریک چیئرمین اسگر علی کربلائی نے کہا کہ لداخ میں چھائی خاموشی کو خوف یا ہتھیار ڈالنے سے تعبیر نہیں کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ یہ ”طوفان سے پہلے کی خاموشی” ہے۔
انہوں نے کہاکہ ”انتظامیہ کو موجودہ خاموشی کو خوف، تابع داری یا ہتھیار ڈالنے کی علامت نہیں سمجھنا چاہیے۔”
کربلائی نے بتایا کہ کے ڈی اے اور لیہ ایپکس باڈی گزشتہ چھ برس سے مرکزی وزارت داخلہ کے ساتھ اپنے چار نکاتی ایجنڈے پر بات چیت کر رہے ہیں۔ ریاست کا درجہ اور آئینی تحفظات ان کے دو اہم مطالبات ہیں۔
انہوں نے کہا کہ 22 مئی کو منعقدہ اجلاس کی کارروائی کے منٹس میں، جن پر 7 جولائی کو دستخط کیے گئے تھے، لداخ کے لیے خصوصی انتظامی ڈھانچے پر اتفاق درج تھا۔ اس انتظام میں قانون سازی، انتظامی اور مالی اختیارات کے ساتھ آئینی تحفظات فراہم کرنے کی بات شامل تھی۔
تاہم، ان کا الزام تھا کہ 15 اکتوبر کے اجلاس میں مرکزی وزارت داخلہ کی جانب سے پیش کردہ خاکہ ان وعدوں کے برعکس تھا اور اس میں بامعنی اختیارات یا آئینی ضمانتوں کے بغیر ایک انتظامی ڈھانچہ پیش کیا گیا۔
کربلائی نے کہاکہ ”جن حقوق کو فراہم کرنے پر تحریری طور پر اتفاق کیا گیا تھا اور جن کے لیے اجلاس کی کارروائی کے منٹس پر دستخط کیے گئے تھے، اب وہی حقوق ہمیں دینے سے انکار کیا جا رہا ہے۔”
انہوں نے کہا کہ مجوزہ کونسل کو بامعنی مالی اختیارات حاصل نہیں ہیں، نہ ہی اسے زمین سے متعلق معاملات پر اختیار دیا گیا ہے اور نہ ہی آزادانہ انتظامی اختیارات فراہم کیے گئے ہیں۔ ان کے مطابق، کے ڈی اے اور لیہ ایپکس باڈی نے آئینی اور قانونی ماہرین سے مشورے کے بعد اس تجویز پر اپنا تفصیلی جواب مرکز کو پیش کردیا ہے۔
کربلائی نے خبردار کیا کہ اگر حکومت اس معاملے میں مزید تاخیر کرتی ہے تو الائنس اپنی احتجاجی تحریک تیز کردے گا۔
انہوں نے کہاکہ ”اگر کل ہمیں اپنے ایجنڈے اور مطالبات کے لیے سڑکوں پر اترنا پڑا، تحریک چلانی پڑی، احتجاج کرنا پڑا، بند کی اپیل کرنی پڑی، ہڑتال کرنی پڑی یا جیلیں بھرنی پڑیں تو ہم ایسا کریں گے۔”
لداخ کے رکن پارلیمنٹ حاجی محمد حنیفہ جان نے کہا کہ مجوزہ انتظامی ڈھانچے نے ان امیدوں کو ختم کردیا ہے جو سابقہ بات چیت کے دوران پیدا ہوئی تھیں، جب دونوں فریق ایک انتظامی نظام کے بنیادی خدوخال پر متفق ہوگئے تھے۔
انہوں نے مرکز سے اپیل کی کہ ملتوی شدہ اجلاس جلد از جلد طلب کیا جائے اور دستخط شدہ منٹس میں درج وعدوں کے مطابق مسودہ پیش کیا جائے۔
جان نے کہا کہ لداخ کے عوام اپنی پالیسیاں خود طے کرنا اور خطے کی ترقی کی سمت کا فیصلہ کرنا چاہتے ہیں۔ تاہم، انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ الائنس لداخ میں امن برقرار رکھنے کا خواہاں ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ مسلسل تاخیر سے عوام میں، خصوصاً نوجوانوں میں، ایک بار پھر غم و غصہ پیدا ہوسکتا ہے۔ انہوں نے حکومت سے اپیل کی کہ مجوزہ انتظامی ڈھانچے کو پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس میں پیش کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔
کے ڈی اے نے ایک بار پھر واضح کیا کہ وہ اپنے ایجنڈے سے دست بردار نہیں ہوگا۔ الائنس نے مرکزی وزارت داخلہ اور مرکزی زیر انتظام علاقے کی انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ وہ ان ضوابط کو واپس لیں جنہیں وہ لداخ کے عوام کے مفادات کے خلاف سمجھتا ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
دنیا1 week agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا1 week agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
-
دنیا1 week agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
-
ہندوستان1 week agoگیانیش کمار سرکاری گواہ بنیں: راہل
-
ہندوستان1 week agoسی جے پی بانی ابھیجیت دیپکے کو ملی ضمانت
-
ہندوستان1 week agoاقتدار کے لالچ میں آئینی اداروں پر سوال اٹھا کر جمہوریت کے وقار کو ٹھیس پہنچاتے ہیں راہل گاندھی: دھرمیندر پردھان
-
دنیا1 week agoایران کا ٹرمپ روٹ پر ردعمل: “ہم خطے میں امریکی موجودگی پر خدشات رکھتے ہیں”
-
ہندوستان1 week agoجی ٹی ٹی سی آئی اور شری دھرمک لیلا کمیٹی نے لال قلعے میں ‘عالمی یومِ خوراک’ منایا
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر: رام بن میں چرس اور ہیروئن کے ساتھ تین افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoٹرمپ نے روس پر نئی پابندیاں عائد کرنے کا فیصلہ مؤخر کردیا
