دنیا
افغانستان میں تباہ کن زلزلے سے اموات 1400 سے متجاوز، طالبان کی دنیا سے امداد کی اپیل
کابل، افغانستان میں حالیہ برسوں کے سب سے تباہ کن زلزلے میں مرنے والوں کی تعداد 1400 سے تجاوز کرگئی ہے جب کہ ہزاروں افراد زخمی اور ہزاروں گھر تباہ ہوچکے ہیں۔
افغانستان کی حکومت نے دنیا سے مدد کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ فوری امداد کی ضرورت ہے، یورپی یونین نے زلزلہ متاثرین کی امداد کے لیے 130 ٹن سامان اور افغان حکومت کے منجمد اثاثوں میں سے 10 لاکھ یورو بحال کرنے کا اعلان کیا ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق افغان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا ہے کہ صوبہ کنڑ سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے جہاں 6 شدت کے زلزلے سے 1411 افراد جاں بحق اور 3124 زخمی ہوگئے۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق ہلال احمر افغانستان کا کہنا ہے کہ تباہ کن زلزلے سے 3251 افراد زخمی ہوئے جبکہ 8 ہزار سے زائد مکانات منہدم ہو چکے ہیں، جب کہ خدشہ ہے کہ مزید لوگ ملبے کے نیچے دبے ہیں، اقوام متحدہ کے افغانستان میں رابطہ کار نے کہا ہے کہ ہلاکتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
زلزلہ پیر اور منگل کی درمیانی شب مقامی وقت کے مطابق نصف شب کے قریب آیا، اس کی شدت 6 اور گہرائی صرف 10 کلومیٹر ریکارڈ کی گئی، جس نے مشرقی صوبوں کنڑ اور ننگرہار کو شدید نقصان پہنچایا۔
کنڑ میں 4 سب سے زیادہ متاثرہ دیہات میں ریسکیو آپریشنز کیے گئے، اور حکام کے مطابق اب توجہ دور دراز پہاڑی علاقوں تک پہنچنے پر ہے،صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے سربراہ احسان اللہ احسان نے کہا کہ ہم درست اندازہ نہیں لگا سکتے کہ کتنے لوگ ملبے میں دبے ہیں، لیکن کوشش ہے کہ جلد از جلد امدادی کارروائیاں مکمل ہوں اور متاثرہ خاندانوں کو امداد فراہم کی جائے۔
پہاڑی راستے، خراب موسم اور تنگ سڑکیں امدادی کام میں بڑی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں، منگل کو ایمبولینسوں کی قطاروں نے تباہ حال سڑکوں پر متاثرہ دیہات کا رخ کیا جبکہ ہیلی کاپٹر امدادی سامان اور زخمیوں کو ہسپتال منتقل کر رہے تھے، کچھ زخمیوں کو کابل اور ننگرہار کے ہسپتالوں میں بھی پہنچایا گیا۔
دریں اثناء افغانستان کی طالبان حکومت نے حالیہ تباہ کن زلزلے کے بعد دنیا سے مدد کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ فوری امداد کی ضرورت ہے، تاہم 2021 میں طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے دنیا کی جانب سے زیادہ تر نظرانداز کیے جانے کے باعث امداد کی فراہمی محدود ہے۔
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسف) نے خبردار کیا ہے کہ ہزاروں بچے خطرے میں ہیں اور وہ دوائیں، گرم کپڑے، خیمے، ترپال، صابن، سینیٹری اشیا اور پانی کے برتن فراہم کر رہا ہے، طالبان کے فوجی بھی امدادی سرگرمیوں اور سیکیورٹی کے فرائض انجام دینے میں مصروف ہیں، تاہم یہ آفت پہلے سے مشکلات میں گھری طالبان حکومت کے لیے ایک اور بڑا امتحان ہے، جو غیر ملکی امداد میں کمی اور پڑوسی ملکوں سے لاکھوں افغان مہاجرین کی واپسی جیسے مسائل کا سامنا کر رہی ہے۔
عالمی ادارہ صحت کے مطابق زلزلے سے 12 ہزار سے زائد افراد متاثر ہوئے ہیں، ادارے نے کہا کہ سڑکوں کی تباہی، مسلسل آفٹر شاکس اور دور دراز دیہات امداد کی ترسیل کو سخت متاثر کر رہے ہیں جبکہ پہلے سے کمزور صحت کا نظام مکمل طور پر دباؤ میں ہے اور اب بیرونی امداد پر انحصار بڑھ گیا ہے۔
متاثرہ علاقوں میں خوراک اور خیموں کی شدید ضرورت ہے، کیونکہ گھروں کے تباہ ہونے کے بعد ہزاروں لوگ کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں اور آفٹر شاکس کا خوف الگ ہے۔
امدادی وسائل کی کمی اور عالمی امداد کی محدود دستیابی نے صورتحال مزید بگاڑ دی ہے، برطانیہ نے اقوام متحدہ اور ریڈ کراس کے ذریعے امدادی کاموں کے لیے 10 لاکھ پاؤنڈ فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔
یورپی یونین نے زلزلہ زدہ افغانوں کی امداد کے لیے 130 ٹن سامان اور افغانستان کے منجمد اثاثوں میں سے 10 لاکھ یورو بحال کرنے کا اعلان کیا ہے۔
ہندوستان نے ایک ہزار خیمے اور 15 ٹن خوراک روانہ کی ہے جبکہ مزید سامان بھیجا جا رہا ہے، چین، متحدہ عرب امارات، یورپی یونین، پاکستان اور ایران نے امداد کا اعلان کیا ہے تاہم یہ ابھی تک متاثرہ علاقوں میں نہیں پہنچی۔
افغانستان کو خاص طور پر امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے رواں سال جنوری میں یو ایس ایڈ کے فنڈز میں کٹوتی اور دیگر غیر ملکی امدادی پروگراموں میں کمی سے شدید نقصان اٹھانا پڑا ہے، دنیا کے دیگر بحرانوں کے ساتھ طالبان کی پالیسیوں پر عالمی برادری کے خدشات اور خواتین پر پابندیوں نے بھی امدادی فنڈنگ کو متاثر کیا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ہزیشکیان نے پوتن کو ایران اور امریکہ کے مابین نئی مذاکراتی تجاویز سے آگاہی کرائی
تہران، صدرِ ایران مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران اور امریکہ نے جنگ ختم کرنے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے نئی تجاویز کا تبادلہ کیا ہے۔
ایرانی صدر نے ترکمانستان میں اپنے روسی ہم منصب ولادیمیر پوتن سے دوطرفہ اقتصادی اور اسٹریٹجک تعاون کو بڑھانے پر بات چیت کے لیے ملاقات کی۔
ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی ایرنا کے مطابق یہ ملاقات کامن ویلتھ آف انڈیپنڈنٹ سٹیٹس (سی آئی ایس) سربراہی اجلاس اور بحیرہ کیسپین کے ماحولیاتی اجلاس کے اجلاس کے موقع پر ہوئی۔
دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات میں پیش رفت کا جائزہ لیا اور توانائی، زراعت، نقل و حمل اور تجارت سمیت اہم شعبوں میں تعاون کو مضبوط بنانے پر تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے مشترکہ منصوبوں کی تکمیل اور حتمی منظوری میں تیزی لانے کی ضرورت پر زور دیا اور دونوں ممالک کے قومی مفادات اور علاقائی استحکام کے مطابق جامع تعاون کو وسیع کرنے کے عزم کی تکرار کی۔
ایرانی طلبا کی خبر رساں ایجنسی اسنا کے مطابق پزشکیان نے کہا کہ جنگ کے باوجود ایران امریکہ کے ساتھ مذاکرات سے کنارہ کش نہیں ہوگا۔
“ہم بات چیت کر رہے ہیں، مگر جب بھی ہم امریکہ سے بات کرتے ہیں، وہ دوبارہ حملہ کر دیتے ہیں۔ تاہم ہم مذاکراتی میز اور گفت و شنید سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔”
پزشکیان نے کہا کہ تہران اور واشنگٹن نے دو طرفہ طور پر نئی تجاویز پیش کی ہیں۔
“ہم نے ان تجاویز میں اپنی ترامیم کی ہیں۔ جب یہ حتمی ہو جائیں گی تو ہمیں موجودہ ثالثوں کے ذریعے بیٹھ کر انہیں یکجا کرنا ہوگا۔”
پزشکیان نے علاقائی امور اور اقوامِ متحدہ میں روس کے موقف کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ماسکو نے یکطرفہ پالیسیوں کے خلاف مدد کی۔انہوں نے یہ بھی امید ظاہر کی کہ تہران اور ماسکو کے درمیان بڑھتی ہوئی ہم آہنگی “تیزی اورمظبوطی کے ساتھ” آگے بڑھے گی، اور کہا کہ موجودہ حالات تعاون کو گہرا کرنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تہران جنگ کے خاتمے کا خواہاں ہے، بشرطیکہ ایرانی عوام کے حقوق بین الاقوامی قانون کے تحت محفوظ رہیں۔
دونوں رہنماؤں کی آخری ذاتی ملاقات یکم ستمبر کو کرغزستان میں شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کے موقع پر ہوئی تھی، جہاں انہوں نے دوطرفہ تعلقات اور امریکہ-ایران جنگ پر بات کی تھی۔
اس ملاقات کے دوران پوتن نے امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کو “غیر مستحکم اور بہت نازک” قرار دیا اور تہران کی حمایت جاری رکھنے کا عندیہ دیا۔
مزید یہ کہ پزشکیان اور پوتن نے تاکہ ایران-امریکہ مذاکرات پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے بدھ کو فون پر بات کی تھی، جس میں روسی صدر نے تنازع کے حل کے لیے سفارتی کوششوں کی حمایت میں ماسکو کی آمادگی ظاہر کی۔
پوتن سی آئی ایس سربراہی اجلاس اور بحیرہ کیسپین کے ماحولیاتی اجلاس میں شرکت کرنے کے لیے جمعرات کو دو روزہ دورے پر ترکمانستان پہنچے تھے۔
توقع ہے کہ سی آئی ایس اجلاس رکن ممالک کے درمیان تعاون کے ساتھ ساتھ علاقائی اور بین الاقوامی پیش رفت کا جائزہ لے گا۔
بحیرہ کیسپین ماحولیاتی اجلاس میں پانچ ساحلی ممالک – آذربائیجان، ایران، قازقستان، روس اور ترکمانستان – کے رہنما یکجا ہوئے ہیں ، اجلاس کے ایجنڈے میں خطے میں ماحولیاتی تعاون شامل ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ریاض ہوائی اڈے پر دو حملوں میں تین سعودی شہری ہلاک، متعدد زخمی
ریاض، سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں واقع کنگ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر جمعرات کو دو الگ الگ حملوں میں تین سعودی شہریوں کی موت ہو گئی، جبکہ مختلف ممالک کے متعدد شہری زخمی ہو گئے۔
سعودی عرب کی جنرل اتھارٹی آف سول ایوی ایشن (جی اے سی اے) نے یہ اطلاع دی۔
اتھارٹی کے مطابق، زخمیوں کو معمولی سے لے کر شدید نوعیت کی چوٹیں آئی ہیں۔ انہیں فوری طبی امداد فراہم کرنے کے لیے اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔
سعودی فضائی نقل و حمل اتھارٹی کے مطابق، پہلا حملہ ہوائی اڈے کے احاطے اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنا کر کیا گیا، جبکہ دوسرا حملہ سعودی ایئرلائنز کے ایک طیارے پر ہوا۔
اتھارٹی نے بتایا کہ واقعے کے بعد ہوائی اڈے پر پروازوں کی آمد و رفت عارضی طور پر معطل کر دی گئی تھی، تاہم فضائی ٹریفک کو جلد معمول پر لانے کے لیے اقدامات شروع کر دیے گئے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
روس اور یوکرین کے دو طرفہ حملوں میں کم از کم 38 افراد ہلاک، 100 سے زیادہ زخمی
ماسکو، یف،
روسی اور یوکرینی حکام نے شہروں اور بنیادی ڈھانچے پر مہلک حملوں کی اطلاع دی جب ماسکو اور کیف ایک دوسرے کو نشانہ بناتے رہے اور کشیدگی میں اضافہ جاری رہا۔
چرنی ہیف کے گورنر ویاسیِسلاو چاوس نے جمعرات کو کہا کہ یوکرین کے شمالی شہر پرلوکی پر روسی میزائل حملے میں 22 افراد ہلاک اور 50 سے زائد زخمی ہو گئے۔
چاوس نے ٹیلگرام پر اپنے بیان میں کہا کہ پرلوکی میں ہلاک ہونے والوں میں پانچ بچے بھی شامل تھے۔ چار موقع پر ہلاک ہوئے اور ایک بچہ اسپتال میں چل بسا۔
یوکرینی فضائیہ کا کہنا ہے کہ اس کے فضائی دفاع نے رات بھر روس کی طرف سے داغے گئے 130 اسٹرائیک ڈرونوں میں سے 117 اور کم از کم 44 بیلسٹک اور کروز میزائلوں کو مار گرایا۔
یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی کا کہنا ہے کہ یہ حملے مزید فضائی دفاعی نظاموں اور گولہ بارود کی فراہمی کے مطالبات کو تقویت دیتے ہیں۔
زیلنسکی نے کہا کہ “خطرہ ہر وقت موجود ہے، لہذا ہماری فضائی دفاعی بیٹریوں کے پاس میزائل تیار ہونے چاہئیں “اور کیف اپنے شراکت داروں سے فوری ترسیل اور مناسب پیداوار پر انحصار کر رہا ہے۔
مقامی حکام نے جمعرات کو کہا کہ ایک دوسرے روسی حملے میں مشرقی یوکرینی شہر کراماتورسک میں دو مسافر بسوں کو نشانہ بنایا گیا جس میں 30 افراد ہلاک اور 18 زخمی ہو گئے۔
دونتسک کے علاقائی دفترِ گورنر کا کہنا ہے کہ صبح کے حملے میں ہلاکتوں کی تعداد 30 تک پہنچ گئی ہے، اور عوامی نقل و حمل معطل کر دی گئی ہے۔
دریں اثنا، روسی حکام نے کہا کہ ساحلی شہر نووروسیسک پر ایک یوکرینی ڈرون حملے میں ایک بچہ سمیت چار افراد ہلاک اور 29 زخمی ہو گئے۔ تین زخمیوں کی حالت نازک ہے۔
علاقائی گورنر وینیامین کونڈراتیف نے یوکرین پر شہریوں کو نشانہ بنانے کا الزام لگایا اور کہا کہ تین مکانات، پانچ اپارٹمنٹس، ایک گرجا گھر اور ایک کنڈرگارٹن کو نقصان پہنچا۔
ڈرون کے ملبے نے قریب کے شہر اناپا میں بھی مکانات اور ایک کنڈرگارٹن کو نقصان پہنچایا، اگرچہ وہاں کوئی جانی نقصان رپورٹ نہیں ہوا۔
روسی وزارت دفاع نے دعویٰ کیا کہ اس کے فضائی دفاع نے 11 علاقوں، بحیرہ اسود اور روس کے الحاق شدہ کریمیا علاقے کی فضاوں میں 596 یوکرینی ڈرونز مار گرائے ہیں۔
یوکرینی فوج نے کہا کہ اس نے رات کے دوران نووروسیسک نیول بیس کو نشانہ بنایا، جس سے بیس اور سمندری تیل ٹرمینل میں آگ لگ گئی۔ اس نے اس بیس کو روسی بحیرہ اسود بیڑے کے جہازوں کی موجودگی، مرمت اور لاجسٹک سپورٹ کے لیے اہم مرکز قرار دیا۔ اس دعوے کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔
روسی سرکاری خبر رساں ادارے تاس نے رپورٹ کیا کہ ایک دوسرےڈرون حملے نے روسی ٹیکنالوجی کمپنی یانڈیکس کے زیرِ انتظام ساسوو میں واقع ایک ڈیٹا سینٹر میں آگ لگا دی ۔
یانڈیکس نے کہا کہ حملے سے اس کے انفراسٹرکچر کا کچھ حصہ متاثر ہوا، جس کی وجہ سے اس نے اس تنصیب میں آپریشنز معطل کر دیے ہیں اور ممکنہ طور پر کچھ خدمات متاثر ہو سکتی ہیں۔ کمپنی نے کوئی جانی نقصان نہ ہونے کی اطلاع دی۔
گزشتہ چند مہینوں میں ماسکو اور کیف نے ایک دوسرے کے لاجسٹکس مراکز، بندرگاہوں اور توانائی کے بنیادی ڈھانچوں کو زیادہ حد تک نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے۔
دونوں فریق یہ انکار کرتے ہیں کہ وہ جان بوجھ کر شہری بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنا رہے ہیں، اور ان کا کہنا ہے کہ ان کے حملے عسکری اہداف یا فوجی سرگرمیوں سے متعلق تنصیبات کو نشانہ بناتے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoقطری ثالثی کی امریکہ، ایران کے درمیان مذاکرات میں معمولی پیش رفت
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
ہندوستان1 week agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
جموں و کشمیر7 days agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
دنیا6 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
جموں و کشمیر1 week agoجاوید ڈار نے اسمبلی میں سی اے جی کی رپورٹیں پیش کیں
-
ہندوستان1 week agoکھرگے- راہل نے گاندھی اور شاستری کو یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش کیا
-
دنیا1 week agoامریکی فوج کے انخلا کے بعد عراق کو نئی سکیورٹی صورتحال میں توازن کے چیلنج کا سامنا
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
-
جموں و کشمیر1 week agoاپوزیشن لیڈر کا عمر پر ریاستی حیثیت کی بحالی کے مطالبے کو ’سبوتاژ‘ کرنے کا الزام، جموں و کشمیر اسمبلی کا اجلاس ’بدقسمت‘ قرار
