تازہ ترین
سال2018: سیاسی افراتفری ،35A ٹکراؤ،الیکشن بائیکاٹ، ہڑتال ، ہلاکتیں ، اسمبلی تحلیل : ایک نظر میں
خبراردو
سال 2018ریاست جمو ں وکشمیر میں سیاسی افراتفری اور انارکی سے پر ثابت ہوا جس دوران ریاست کے تینوں خطوں جموں، کشمیر اور لداخ میں سیاسی سطح پر کافی گہما گہمی رہی ۔ جہاں پی ڈی پی ، بی جے پی مخلوط حکومت کے موجود ہونے تک سبھی مذکورہ سیاسی پارٹیوں سے اپنی وفاداریاں ثابت کرنے کی کوشش کررہے تھے وہیں سال کے وسط میں حکومت گرجانے کے بعد سیاسی سطح پر ایک بھونچال آگیا جس دوران بیشتر سیاسی پارٹیوں کے لیڈران اور کارکنان نے اپنی وابستگیوں کو تبدیل کرتے ہوئے خود کو ’ابن الوقت‘ ثابت کرتے ہوئے دوسری سیاسی جماعتوں میں چھلانگیں مارنا شروع کردیا۔ریاست جموں وکشمیر نے 2018میں پی ڈی پی اور بی جے پی کی مخلوط حکومت کے زوال کے فوراً بعد ہی گورنر راج کا نظارہ کیا جس دورا ن یہاں زمام کار این این ووہرا کے ہاتھ میں آگئی۔ این این ووہرا نے چند مہینوں تک ریاست میں19جون سے لے کر 22اگست تک ریاست میں کام کاج سنبھالا جس کے بعد اُن کی مدت کار مکمل ہونے کے بعد مرکزنے ریاست کے لئے نئے گورنر ستیہ پال ملک کی تعینانی کے احکامات صادر کئے۔

21اگست کو صدر رام ناتھ کوند نے ایک حکم نامہ جاری کرتے ہوئے بھاگپت اتر پردیش کے رہنے والے ستیہ پال ملک کو ریاست کے نیا گورنر تعینات کیا اور یوں انہیں ریاست کے انتظامی اُمور کو بحسن و خوبی چلانے کے لیے مامور کیا گیا۔اس دوران سال بھر عموماً اور گورنر راج کے دوران بالخصوص جنگجو مخالف کارروائیوں کے دوران جہاں جنگجوؤں کی بڑی تعداد کو ہلاک کیا گیا اُدھر عام شہریوں کی ایک اچھی خاصی تعداد بھی اس کی زد میں آگئی جس کے نتیجے میں وادی میں تناؤ اور کشیدگی کے ماحول نے نیا رخ اختیار کیا تاہم سرکاری ذرائع نے سال بھر کے دوران جنگجو مخالف آپریشنوں کے دوران مارے گئے جنگجوؤں کی تعداد کو اطمینان کا اظہار کیا اور گورنر راج کے دوران ریاست میں حالات کو ماضی کے بہ نسبت بہتر قرار دیا۔سال کے اوائل سے ہی سیاسی سطح پر افرا تفری کا ماحول بپا رہا جس دوران سابق وزیر اعلیٰ اور پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے مارچ 2019میں وزیر مالیات ڈاکٹر حسیب درابو کو کابینہ سے برطرف کردیا۔اسی طرح اپریل کے آخر پر سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے ریاستی کابینہ میں بڑے پیمانے پر روبدل کرتے ہوئے مخلوط حکومت میں شامل اکائیوں سے وبستہ نئے چہروں کو متعارف کرایا جن میں اسمبلی کے سابق اسپیکر کوندر گپتا شامل ہے جنہیں کابینی ردوبدل کے بعد ریاست کے نائب وزیر اعلیٰ کے بطور حلف دلایا گیا۔اسی اثنا میں جب کہ ابھی پی ڈی پی نے اُڑان بھرنے کی نیت ہی کی تھی ، کی شراکت دار بی جے پی نے اچانک پی ڈی پی کے پیروں سے زمین کھسکائی اور اس طرح پارٹی نے مخلوط حکومت سے اپنی حمات واپس لیتے ہوئے ریاست میں سیاسی سطح پر غیر یقینی صورتحال پید اکرکے یہاں گورنر راج کے لیے راہ ہموار کردی۔اس دوران گورنر این این ووہرا جو کہ ایک ہفتے بعد ہی اپنی مدت کار مکمل کرنے جارہے تھے، نے وادی ریاست میں گورنر راج کو نافذ کرنے کا فیصلہ کرلیا تاہم اس دوران انہوں نے ریاستی اسمبلی کو تحلیل نہیں کیا کیوں کہ سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے اسمبلی کو تحلیل کرنے کے حوالے سے گورنر کو اپنی سفارشات پیش نہیں کی تھی تاہم 6مہینے کا عرصہ گزرجانے کے بعد ریاست میں صدر راج کی راہ بھی ہموار ہوگئی جس کا فیصلہ بالآخر 19دسمبر کی دیر شام گئے جاری کردیا گیا۔صدر رام ناتھ کووند نے ریاستی گورنر ستیہ پال ملک کی سفارشات پر تبادلہ خیال کرنے کے بعد ہی ریاست میں صدر راج سے متعلق حکم نامے پر دستخط ثبت کردئے۔اسی طرح سال 2018میں ایسے واقعات بھی رونما ہوئے جنہوں نے انسانیت کا سر شرم سے نیچا کردیا جس کے نتیجے میں ریاست اور بیرون ریاست انسان دوست لوگوں کے کلیجے منہ کو آگئے۔
10جنوری 2018کو کٹھوعہ کے رسانہ علاقے میں گجر طبقے سے وابستہ 8سالہ بچی اچانک لاپتہ ہوئی جس کے بعد گھر والوں نے اُن کو تلاش کرنے کے لیے کافی کوششیں کی تاہم وہ اس میں کامیاب نہ ہوسکے۔ واقعے نے اُس وقت سنگین رخ اختیار کیا جب 8سالہ بچی کی نعش نزدیکی جنگلات سے برآمد کی گئی۔پولیس نے واقعے کا سنجیدہ نوٹس لیتے ہوئے لاش کا جونہی پوسٹ مارٹم کیا تو اس دوران یہ انکشاف ہوا کہ 8سالہ معصوم بچی کے ساتھ زنا بالجبر کیا گیا ہے۔ابتدائی طور پر پولیس نے واقعے کی تحقیقات کی جبکہ بعد میں واقعے کی نزاکت کو محسوس کرتے ہوئے اور لوگوں کے مطالبے پر ریاستی حکومت نے کیس کی تحقیقات کے لیے سی بی آئی کو مقرر کیا۔ سی بی آئی نے جونہی کیس کی گہرائی سے چھان بین کی تو اس دوران انسانیت کو شرمسار کردینے والے انکشاف سامنے آگئے۔ تحقیقات کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ متاثرہ بچی کو پہلے نشیلی ادویات دی گئی تھی جس کے بعد اُس کے ساتھ اجتماعی عصمت ریزی کی گئی تھی۔ اس طرح کے انکشاف سامنے آنے کے بعد وادی سمیت بیرون ریاست میں عوام نے کڑا احتجاج کرتے ہوئے واقعے میں ملوث افراد کو پھانسی پرلٹکانے کا مطالبہ کیا۔اس کے برعکس بی جے پی حکومت میں شامل 2وزرا چودھری لعل سنگھ اور سی پی گگن نے جموں صوبے میں عوامی ریلیاں نکالتے ہوئے ملزمین کے حق میں عوامی حمایت بٹورنے کی کوشش کی اور واقعے کی کرائم برانچ آف انڈیا کی طرف سے تحقیقات کرانے کی مانگ کی۔اس دروان مخلوط اتحاد میں شامل پی ڈی پی نے کٹھوعہ واقعے پر اپنے مؤقف کو سخت کرتے ہوئے عوامی مطالبے کے شانہ بشانہ چلنے کا عہد کیا جس کو محسو س کرتے ہوئے بی جے پی نے چند دن بعد ہی کابینہ میں سے چودھری لعل سنگھ اور سی پی گگن کو مستعفی ہونے پر مجبور کردیا تاہم چودھری لعل سنگن نے اس کے بعد بھی جموں صوبے میں عوامی ریلیوں کو منعقد کیا اور کٹھوعہ واقعے میں ملوث افراد کے حق میں مہم شروع کردی۔ادھرسال کے اوائل میں جموں کے سدراہ علاقے میں رہائش پذیر گجر بستیوں کو تہس نہس کیا گیا ۔

اس حوالے سے جموں ڈیولپمنٹ اتھارٹی اور جموں میونسپل کارپوریشن نے مشترکہ طور پر جموں کے مضافات میں رہائش پذیر گوجروں کے کوٹھوں کو تہس نہس کرتے ہوئے انہیں زبردستی وہاں سے ہجرت کرنے پر مجبور کردیا۔اس طرح کے اقدام پر جموں کی مسلم آبادی نے حکومت اورجموں انتظامیہ پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ وہ فرقہ پرستوں کی ایما پر اس طرح کی کارروائی کررہی ہے تاکہ جموں سے مسلمانوں کا انخلا عمل میں لایا جائے۔ادھر سال 2018کے دوران ریاست جمو ں وکشمیر کو خصوصی شناخت فراہم کرنے والی دفعہ 35Aاور 370پر بھی کافی گرما گرم بحث و مباحثہ جاری رہا جس کے نتیجے میں ریاست بالخصوص وادی میں غیر یقینی اور کشیدگی کا ماحول چھایا رہا۔ مرکز میں دائیں بازوں کی طرف سے ریاست کی خصوصی پوزیشن کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا جن کی سماعت کو لے کر وادی میں تناؤ کا ماحول بنارہا۔ اس دوران اگر چہ سپریم کورٹ نے کئی مرتبہ عوامی خدشات کو مدنظر رکھتے ہوئے سماعت کو مؤخر کیا تاہم اس دوران ریاست بھر میں مشترکہ مزاحمتی قیادت کی جانب سے مسلسل احتجاجی ہڑتال کی گئی جس کے نتیجے میں یہاں ہوکا عالم چھایا رہا۔سال کے دوران مسئلہ کشمیر کی گونج نے بھی بیرونی دنیا میں تہلکہ مچادیا جب اقوام متحدہ کے شعبہ حقوق انسانی کے کمیشن نے ریاست جمو ں وکشمیر میں سرکاری فورسز کے ہاتھوں انسانی حقوق کی بدترین پامالیوں سے متعلق رپورٹ منظر عام پر لائی۔ کمیشن نے بھارت پر زور دیا کہ وہ کمیشن کے ممبران کو کشمیر کا دورہ کرنے کی اجازت دے تاکہ یہاں ہورہی انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کو وہ از خود جائزہ لیں تاہم بھارت نے اقوام متحدہ کے کمیشن برائے حقوق انسانی کے بیان کو نکارتے ہوئے اسے سیاسی طرفداری سے تعبیر کیا۔

ادھر وادی کشمیر میں سیکورٹی صورتحال میں ابتری واقع ہونے کے بعد مخلوط اتحاد میں شامل بی جے پی نے پی ڈی پی سے اپنی حمایت واپس لی جس کے بعد پی ڈی پی کے اندر موجود خلفشار نے سنگین رخ اختیار کرتے ہوئے کئی چوٹی کے لیڈران کو پارٹی معاملات پر محبوبہ مفتی کی بغاوت پر اُترتے ہوئے دیکھا۔باغی اور ناراض ممبران نے پارٹی صدر محبوبہ مفتی پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے پارٹی میں اقربا پروری کو ہی ترجیح دیتے ہوئے لوگوں کے منڈیٹ سے کھلواڑ کیا۔اس دوران ریاست میں افواہیں گشت کرنے لگی کہ پی ڈی پی کے ناراض ممبران اور دیگر سیاسی پارٹیوں سے کنارہ کشی اختیار کرنے والے لیڈران بی جے پی کے ساتھ مل کر نئی حکومت تشکیل دیں گے ۔ پی ڈی پی کے چند ناراض لیڈران کے دل سجاد غنی لون کی پیپلز کانفرنس کے تئیں دھڑک رہے تھے جو ریاست میں بی جے پی کے درپردہ اُمیدوار کی حیثیت سے معروف ہے۔شیعیہ فرقہ سے تعلق رکھنے والے سابق وزیر عمران رضاانصاری،ایم ایل سی عابد انصاری، ممبر اسمبلی ٹنگمرگ محمد عباس وانی،ممبر اسمبلی بارہمولہ جاوید بیگ، ایم ایل سی یاسر ریشی اور ایم ایل سی سیف الدین بٹ نے پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی کی پارٹی معاملات کو لے کر کھل کر مخالف کی۔حتی کہ پی ڈی پی کے سینئر ترین لیڈر اور سابق وزیر اعلیٰ مرحوم مفتی محمد سعید کے دست راست مظفر حسین بیگ نے بھی پارٹی صدر پر الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ انہیں پارٹی معاملات کر کبھی بھی اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ پی ڈی پی کی طرف سے بلدیاتی اور پنچایتی انتخابات سے متعلق بائیکاٹ پر بھی ان کی رائے طلب نہیں کی گئی۔

تاہم چند دن قبل ہی پی ڈی پی ایک اہم نشست میں مظفر حسین بیگ کو پارٹی کا سرپرست مقرر کیا گیا اوراگر اندرون ذرائع کی بات کو صحیح مانا جائے تو انہیں ناراض اور باغی ممبران کو پارٹی میں واپس لانے اور پارٹی کے اندر استحکام پید اکرنے کی ذمہ داری سونپی جاچکی ہے۔ادھر چند دن قبل پی ڈی پی کو اور ایک جھٹکا اُس وقت لگا جب شمالی کشمیر کے اہم ترین لیڈر بشارت بخاری نے بھی پارٹی کی بنیادی رکنیت سے استعفیٰ دتے ہوئے نیشنل کانفرنس میں شمولیت اختیار کی۔ معلوم ہو اہے کہ کریری بارہمولہ کے رہنے والے بشارت بخاری نے چند ہفتے قبل پارٹی معاملات کے حوالے سے اپنے حلقہ انتخاب کے کارکنوں سے گفت و شنید کے بعد ہی پی ڈی پی سے مستعفی ہونے کا فیصلہ کیا ہے جس کے بعد انہوں نے سابق وزیر اعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ کی موجودگی میں نیشنل کانفرنس میں شمولیت اختیار کی۔ادھر پی ڈی پی کے اور ایک رکن پیر محمد نے اختلاف کرتے ہوئے علیحدگی اختیار کی اور انہوں نے بھی نیشنل کانفرنس میں شمولیت اختیار کی۔ادھر سال کے وسط میں شروع ہوئی امر ناتھ یاترا کو پرامن اور خوشگوار ماحول میں منعقد کرانے کے لیے مرکز نے ریاست میں تعینات اُس وقت کے گورنر این این ووہرا کی مدت کار میں مزید دو مہینوں کی توسیع کی تاکہ امر ناتھ یاترا کے انتظامات کو بلاخلل جاری رکھا جائے تاہم 22اگست کو نئے گورنر ستیہ پال ملک نے ریاست جمو ں وکشمیر میں انتظامی اُمور کو چلانے کا باقاعدہ آغاز کرتے ہوئے کئی اہم فیصلہ جات لیے جن میں بلدیاتی و پنچایتی انتخابات کا انعقاد شامل ہیں۔ اگر چہ ریاست کی بیشتر سیاسی پارٹیوں نے گورنر ستیہ پال ملک کو سیکورٹی صورتحال کے پیش نظر انتخابات کو مؤخر کرنے کی مانگ کی تاہم گورنر پی ڈی پی اور نیشنل کانفرنس کی طرف سے انتخابات کا بائیکاٹ کرنے کے باوجود بھی اپنے فیصلے پر ڈٹے رہے۔ کے این ایس
ہندوستان
نہرو-گاندھی خاندان نے ملک کی تباہی کی بنیاد پر اقتدار کی عمارت کھڑی کی: بی جے پی
نئی دہلی، بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے کانگریس پر لوٹ مار، سماج میں تقسیم اور ہندوستانی مذہب و ثقافت کے تئیں نفرت رکھنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ اس خاندان (گاندھی خاندان) نے ملک کی تباہی کی بنیاد پر اپنے اقتدار کی عمارت کھڑی کی ہے۔
بی جے پی کے ترجمان سدھانشو ترویدی نے جمعہ کو پارٹی ہیڈکوارٹر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس اقتدار سے باہر رہنے پر پانی سے باہر مچھلی کی طرح تڑپ رہی ہے اور کسی بھی طرح اقتدار میں واپس آنے کی کوشش کر رہی ہے۔ بدقسمتی سے، ایسی سوچ رکھنے والی کانگریس کی باگ ڈور راہل گاندھی کے ہاتھوں میں ہے۔ یہ بدقسمتی ملک سے زیادہ کانگریس کے لیے ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ پنڈت جواہر لعل نہرو نے سردار ولبھ بھائی پٹیل کو ان کا حق نہ دے کر اپنی سیاسی طاقت قائم کی اور ایک بھی ووٹ نہ ملنے کے باوجود وزیر اعظم بن گئے۔ ان کے دورِ اقتدار میں ملک نے تقسیم کا درد دیکھا، جو انسانی تاریخ کے خونریز ترین ابواب میں سے ایک تھا۔
مسٹر ترویدی نے کہا کہ پنڈت نہرو 15 اگست 1947 کو نہیں، بلکہ 2 ستمبر 1946 کو عبوری حکومت کے وزیر اعظم بنے تھے اور ان کے دور میں ملک کی تقسیم ہوئی۔ اس کے بعد محترمہ اندرا گاندھی نے اپنی پارٹی کو تقسیم کرنے کے بعد اپنی طاقت مضبوط کی۔
انہوں نے الزام لگایا کہ محترمہ گاندھی نے مسٹر نیلم سنجیو ریڈی سے متعلق صدارتی انتخاب کے دوران اپنے ارکانِ پارلیمنٹ سے کانگریس کے سرکاری موقف کے خلاف ووٹ دینے کو کہا، جس کے نتیجے میں پارٹی تقسیم ہو گئی۔ محترمہ گاندھی کے قتل کے بعد 1984 میں دہلی میں سکھوں کے قتلِ عام کے دوران مسٹر راجیو گاندھی اقتدار میں آئے۔ سکھ مخالف تشدد یکم نومبر 1984 کو شروع ہوا تھا۔ بی جے پی ترجمان نے کہا، ”کانگریس اب اسی تاریخ کو دہلی میں مظاہرہ کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے اور میرا خیال ہے کہ وہ شہر کو 1984 میں دیکھی گئی افراتفری کی یاد دلانا چاہتی ہے۔”
مسٹر گاندھی کو نشانہ بناتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس وقت وہ ملک سے باہر چلے گئے ہیں اور ذرائع کے مطابق چمپا (ویتنام کا قدیم نام) میں بھٹک رہے ہیں۔ وہ ملک اور کانگریس، دونوں کے لیے ایک معمہ بن گئے ہیں۔
بی جے پی رہنما نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کا ریکارڈ شاندار اور کامیابیوں سے بھرپور رہا ہے، جبکہ مسٹر گاندھی کا ریکارڈ کانگریس کے لیے مسائل سے بھرا رہا ہے۔ اس کے بعد انہوں نے کانگریس کے اندر کئی طرح کے تجربات کیے۔ انہوں نے کہا تھا کہ یوتھ کانگریس کے انتخابات کو جمہوری بنایا جائے گا، لیکن اس کے بعد پورے ملک نے دیکھا کہ یوتھ کانگریس میں بھیڑ کی حکمرانی اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) سربراہ اجلاس میں برہنہ مظاہرے کے علاوہ کوئی جمہوری عمل نظر نہیں آیا۔
مسٹر ترویدی نے کہا کہ براک اوباما نے اپنی کتاب ‘اے پرامسڈ لینڈ’ میں 2010 میں راہل گاندھی سے ملاقات کے بعد باب 24 میں لکھا تھا، ”راہل گاندھی میں گھبراہٹ اور ناپختگی جھلکتی تھی۔ ایسا لگتا تھا جیسے وہ کوئی ایسا طالب علم ہو جس نے نصاب تو مکمل کر لیا ہو اور اساتذہ کو متاثر کرنے کے لیے بے چین ہو، لیکن اس میں نہ تو اس موضوع پر عبور حاصل کرنے کی صلاحیت تھی اور نہ ہی اس کے لیے جذبہ۔”
انہوں نے کہا کہ کانگریس کو کمزور کرنے اور اسے اپنی 140 سالہ تاریخ کی کم ترین سطحوں میں سے ایک پر پہنچانے کے بعد اب مسٹر گاندھی ملک کے اداروں اور نظام کو کمزور کرکے خود کو قائم کرنا چاہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے ایک بار کہا تھا کہ ناکام پروڈکٹ کو بار بار لانچ کرنے کے لیے کانگریس نے آج صرف اپنی پارٹی ہی نہیں، بلکہ ملک کے آئینی نظام کو بھی داؤ پر لگا دیا ہے۔
بی جے پی ترجمان نے کہا کہ مسٹر گاندھی کس طرح ناکام پروڈکٹ ہیں، وہ اسے حقائق کے ساتھ ثابت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا، ”جب دہلی کے سینٹ اسٹیفن کالج میں ان کا داخلہ ہوا تھا تو وہ قومی سطح کے نشانے باز کھلاڑی کے طور پر داخل ہوئے تھے۔ لیکن اس کے بعد ان کا نشانہ ایسا چُوکا کہ وہ ہر نشانہ چُوکتے چلے گئے۔ یہ ان کی پہلی ناکامی ہے۔ اس کے بعد انہوں نے اپنے خاندانی رواج کو برقرار رکھتے ہوئے تعلیم حاصل کرنے کے لیے انگلینڈ کا رخ کیا۔ پھر 1996 سے 1999 کے درمیان انہوں نے ایک برطانوی کمپنی میں ملازمت کی، جو بند ہو گئی۔ یعنی آپ سوچئے کہ وہ کتنے اہم پروڈکٹ ہیں کہ جہاں جہاں راہل کے قدم پڑے، وہاں وہاں تباہی مچ گئی۔”
اس کے بعد کانگریس کے بڑے رہنماؤں نے 2014 میں انہیں اپنا غیر اعلانیہ رہنما بنایا اور کانگریس لوک سبھا میں اپنی تاریخ کی اب تک کی سب سے کم نشستوں پر پہنچ گئی۔
مسٹر ترویدی نے کہا، ”مسٹر گاندھی نے پھر ایک اور تجربہ کیا اور کہا کہ ہم خاندانی سیاست ختم کریں گے، لیکن آج صورتِ حال یہ ہے کہ کانگریس کی تاریخ میں نہرو-گاندھی خاندان کے تینوں افراد (ماں، بیٹا اور بیٹی) پارلیمنٹ میں موجود ہیں۔”
یواین آئی ۔ ایف اے
ہندوستان
چین کے تئیں نرمی اور بڑھتے معاشی انحصار پر جواب دیں مودی: کانگریس
نئی دہلی، کانگریس نے چین کے ساتھ سرحد پر کشیدگی، بڑھتے تجارتی خسارے اور معاشی انحصار پر وزیر اعظم نریندر مودی کی خاموشی کو تشویش ناک قرار دیتے ہوئے اس معاملے پر ان سے واضح جواب دینے کا مطالبہ کیا ہے۔
کانگریس کے شعبۂ مواصلات کے انچارج جے رام رمیش نے جمعہ کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ ایک طرف وزیر اعظم کی جانب سے چین کو مسلسل رعایتیں دینے کا سلسلہ جاری ہے، تو دوسری طرف ہندوستان اور چین کی سرحد پر حالیہ جھڑپوں کے دوران انڈو تبتن بارڈر پولیس (آئی ٹی بی پی) کی کارکردگی کی اس کے ڈائریکٹر جنرل نے ستائش کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسٹر مودی اور ان کا پورا نظام اس سنگین معاملے پر خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے۔
مسٹر رمیش نے کہا کہ اروناچل پردیش کے تاکسنگ میں تصادم کے بعد گزشتہ ماہ ریاست کے واچا اور دمائی میں کور کمانڈر سطح کی بات چیت ہوئی۔ مقامی لوگوں کے مطابق، لداخ کی طرح ایک بار پھر گشت کے بعض مقامات ہندوستان کے ہاتھ سے نکل گئے ہیں۔ انہوں نے چین کی جانب سے اروناچل پردیش کے شہروں کے نام تبدیل کرنے اور وہاں 60 ہزار میگاواٹ کا ڈیم بنانے کے منصوبے پر بھی تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اس سے ماحولیات اور آبی سلامتی کو بڑا خطرہ لاحق ہے۔
کانگریس لیڈر نے کہا کہ چین کے ساتھ ہندوستان کا تجارتی خسارہ مالی سال 2025-26 میں ریکارڈ 112 ارب ڈالر تک پہنچ گیا، جب کہ گزشتہ سال یہ 99 ارب ڈالر تھا۔ اس کے نتیجے میں کئی صنعتوں کے مائیکرو، چھوٹے اور درمیانہ درجے کے کاروباری ادارے بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ‘میک اِن انڈیا’ اب ‘چین سے درآمد’ میں تبدیل ہوچکا ہے اور بڑھتا ہوا تجارتی خسارہ ملک کی معاشی سلامتی کے لیے سنگین چیلنج ہے۔
مسٹر رمیش نے 19 جون 2020 کو چین کے حوالے سے وزیر اعظم کے بیان کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان آج بھی اس بیان کی قیمت چکا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسٹر مودی کا یہ بیان 20 ہندوستانی جوانوں کی شہادت کے بعد سامنے آیا تھا۔
کانگریس لیڈر نے سابق آرمی چیف جنرل ایم ایم نرونے کے اس انکشاف کا بھی ذکر کیا، جس میں انہوں نے بتایا تھا کہ لداخ میں چینی دراندازی کے دوران انہیں صرف یہ ہدایت ملی تھی کہ ”جو مناسب سمجھو، وہ کرو۔” انہوں نے کہا کہ 4 جولائی 2025 کو نائب آرمی چیف لیفٹیننٹ جنرل راہل سنگھ نے آپریشن سندور کے دوران پاکستان کی فوجی کارروائی میں چین کے وسیع کردار کا انکشاف کیا تھا، جب کہ گزشتہ 25 اگست کو سابق چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل انل چوہان نے عوامی طور پر ان انکشافات کی تردید کی تھی۔ مسٹر رمیش نے اس واقعے کے بعد جنرل چوہان کی جانب سے آر ایس ایس اور بی جے پی کے نظریے سے وابستہ ایک اہم تھنک ٹینک کی سربراہی سنبھالنے کا بھی ذکر کیا۔
انہوں نے سوال کیا کہ سرحد پر کشیدگی کے باوجود چین کے تئیں نرمی اور معاشی محاذ پر بڑھتا ہوا انحصار کس طرح کی قوم پرستی ہے۔ مسٹر رمیش نے کہا کہ ملک کو کھوکھلے دعووں کی نہیں، بلکہ قومی سلامتی کے معاملے پر واضح جواب کی ضرورت ہے۔
یواین آئی ۔ ایف اے
دنیا
روس یورپ کے ساتھ کسی بھی جنگ کی تیاری میں نہیں، یورپی عوام روس سے لڑنا نہیں چاہتے:پوتن
ماسکو، روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے جمعرات کو کہا کہ روس یورپ کے ساتھ کسی بھی جنگ کی تیاری نہیں کر رہا ہے اور اگر یورپ میں جاری سیاسی سرگرمیوں پر نظر ڈالی جائے تو یہ واضح ہوجاتا ہے کہ وہاں کے لوگ روس سے لڑنا نہیں چاہتے۔
مسٹر پوتن نے روسی ذرائع ابلاغ کو دیے گئے ایک ٹیلی ویژن انٹرویو میں کہا کہ مغربی ممالک کے رہنما مسلسل ‘روسی خطرے’ اور روس کے ساتھ براہ راست فوجی تصادم کی تیاریوں کی بات کررہے ہیں۔ تاہم، امید ہے کہ اب یہ بات واضح ہوچکی ہوگی کہ روس کو شکست دینا ممکن نہیں ہے۔
انہوں نے کہا، ”یہ بات سب کے سامنے واضح ہوچکی ہے کہ جنگ کے میدان میں روس کو شکست دینا ناممکن ہے اور اسے حکمت عملی کے اعتبار سے بھی شکست دینا غیر حقیقی ہے۔”
روسی صدر کے مطابق، یورپی سیاست دانوں کی جانب سے روس کے خلاف جنگ کی تیاریوں سے متعلق دیے جانے والے بیانات کسی طرح کی سیاسی ذہنی اختلال کی علامت ہیں۔
مسٹر پوتن نے کہا، ”میرا خیال ہے کہ جن لوگوں نے پوری تاریخ میں روس کو حکمت عملی کے اعتبار سے شکست دینے کی کوشش کی ہے اور بدقسمتی سے آج بھی ایسے لوگ موجود ہیں، وہ جدید دنیا کی حقیقتوں کو سمجھتے ہیں اور سمجھیں گے کہ روس کے ساتھ ہم آہنگی سے رہنا ہی بہتر ہے۔ یہ ان کے اپنے عوام کے مفاد میں ہے۔”
یو این آئی/اسپوتنک
-
ہندوستان1 week agoمرکزی حکومت نے جنوبی بحر ہند ماہی گیری معاہدے میں شمولیت کو دی منظوری
-
دنیا1 week agoجاپانی صحافی کی روس میں گرفتاری: دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کیوں بڑھ رہی ہے
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
ہندوستان1 week agoمظاہرین پر تشدد کرنے والوں کو ثبوتوں کی بنیاد پر سزا ملے گی: راہل
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
دنیا7 days agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میں 15 اکتوبر سے اسکولوں کے اوقات میں تبدیلی
-
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
ہندوستان1 week ago16 سالہ معصوم لڑکی اور 50 سالہ دولہے کی پانچ لاکھ روپے میں منگنی، بروقت ٹیم نے شادی کو روک دیا
-
دنیا1 week agoگرین لینڈ میں تیل، گیس اور معدنیات کی بڑے پیمانے پر تلاش جلد شروع ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
دنیا1 week agoروس سے ٹرمپ کی رعایتوں پر ریپبلکنز دفاعی پوزیشن میں، وسط مدتی انتخابات سے قبل دباؤ بڑھ گیا
