ہندوستان
آر ایس ایس کے باوقار سو سال پورے ہونے پر وزیر اعظم کی نیک خواہشات
نئی دہلی، ایک صدی قبل وجے دشمی کے عظیم تہوار پر راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کی بنیاد رکھی گئی تھی یہ ہزاروں برسوں سے چلی آ رہی اس روایت کی بحالی تھی، جس میں قوم کا شعور وقتاً فوقتاً اپنے عہد کے چیلنجز کا سامنا کرنے کے لیے نئی نئی شکلوں میں جلوہ گر ہوتا ہے اس دور میں آر ایس ایس اسی قدیم قومی شعور کا مقدس اوتار ہے یہ ہماری نسل کے سویم سیوکوں کی خوش نصیبی ہے کہ ہمیں آر ایس ایس کے صد سالہ جشن کا ایسا عظیم موقع دیکھنے کو مل رہا ہے۔ میں اس موقع پر قوم کی خدمت کے عہد کو اپنی زندگی کے مرکز میں رکھنے والے لاکھوں سویم سیوکوں کو نیک خواہشات پیش کرتا ہوں۔ میں آر ایس ایس کے بانی، ہم سب کے مثالی… پرم پوجیہ ڈاکٹر ہیڈگیوار جی کے قدموں میں خراج عقیدت پیش کرتا ہوں۔ آر ایس ایس کے اس باوقار 100 سال کے سفر کی یاد میں حکومت ہند نے خصوصی ڈاک ٹکٹ اور یادگاری سکّے بھی جاری کیے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار وزیر اعظم نریندر مودی نے یہاں جاری ایک مضمون میں کیا۔
انھوں نے کہا کہ جس طرح وسیع دریاؤں کے کنارے انسانی تہذیبیں پروان چڑھتی ہیں، اسی طرح آر ایس ایس کے کنارے بھی سینکڑوں زندگیاں پھولی پھلی ہیں۔ جیسے ایک دریا جس راستوں سے بہتا ہے، ان علاقوں کو اپنے پانی سے سیراب کرتا ہے، اسی طرح آر ایس ایس نے اس ملک کے ہر خطے، معاشرے کے ہر پہلو کو چھوا ہے۔ جس طرح ایک دریا کئی لہروں میں خود کو ظاہر کرتا ہے، آر ایس ایس کا سفر بھی ایسا ہی ہے۔ آر ایس ایس کے مختلف ادارے بھی زندگی کے ہر پہلو سے جڑ کر قوم کی خدمت کرتے ہیں۔ تعلیم، زراعت، سماجی بہبود، قبائلی بہبود، خواتین کے بااختیار بنانے، سماجی زندگی کے دیگر کئی شعبوں میں آر ایس ایس مسلسل کام کرتا رہا ہے۔ مختلف شعبوں میں کام کرنے والے ہر ادارے کا مقصد ایک ہی ہے، جذبہ ایک ہی ہے… راشٹر پرتھم۔
وزیر اعظم نے کہا کہ ا پنے قیام کے بعد سے ہی راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) نے قوم کی تعمیر کا عظیم مقصد اپنے سامنے رکھا۔ اس مقصد کی تکمیل کے لئے آر ایس ایس نے فرد کی تربیت سے قوم کی تعمیر کا راستہ اختیار کیا اور اس کے لیے جو عملی طریقہ اپنایا وہ روزانہ باقاعدگی سے چلنے والی شاکھائیں تھیں۔ آر ایس ایس کی شاکھا کا میدان… ایک ایسی تحریکی زمین ہے، جہاں سے سویم سیوک سنگھ ‘‘میں’’ سے ‘‘ہم’’ کا سفر شروع کرتا ہے۔ آر ایس ایس کی شاکھائیں … فرد کی تربیت کی یگیہ ویدی ہیں۔
قوم کی تعمیر کا عظیم مقصد، فرد کی تربیت کا واضح راستہ اور شاکھا جیسا سادہ، زندہ عملی طریقہ ۔ یہی آر ایس ایس کے 100 سالہ سفر کی بنیاد ہیں۔ انہی ستونوں پر کھڑے ہو کرآر ایس ایس نے لاکھوں سویم سیوکوں کو پروان چڑھایا، جو مختلف شعبوں میں ملک کو آگے بڑھا رہے ہیں۔
آر ایس ایس جب سے وجود میں آیا… آر ایس ایس کے لیے ملک کی ترجیح ہی اس کی اپنی ترجیح رہی۔ آزادی کی جدوجہد کے وقت پرم پوجیہ ڈاکٹر ہیڈگیوار جی سمیت متعدد کارکنوں نے تحریک آزادی میں حصہ لیا، ڈاکٹر صاحب کئی بار جیل گئے۔ آزادی کی لڑائی میں کتنے ہی مجاہدین آزادی کوآر ایس ایس پناہ دیتا رہا … ان کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کام کرتا رہا۔ آزادی کے بعد بھی آر ایس ایس مسلسل قوم کی خدمت میں لگا رہا۔ اس سفر میں آر ایس ایس کے خلاف سازشیں بھی ہوئیں، آر ایس ایس کو کچلنے کی کوشش بھی ہوئی۔ رشی کا درجہ رکھنے والے پرم پوجیہ گرو جی کو جھوٹے مقدمے میں پھنسایا گیا۔ لیکن آر ایس ایس کے سویم سیوکوں نے کبھی تلخی پیدا نہیں ہونے دی۔ کیونکہ وہ جانتے ہیں، ہم معاشرے سے الگ نہیں ہیں، معاشرہ تو ہم سے ہی بنا ہے۔ معاشرے کے ساتھ یکجہتی اور آئینی اداروں پر اعتماد نےآر ایس ایس کے خود سہولت کاروں کو ہر مشکل میں مستحکم رکھا ہے … اور معاشرے کے لیے حساس بنائے رکھا ہے۔
ابتداء سے ہی آر ایس ایس… حب الوطنی اور خدمت کا مترادف رہا ہے۔ جب تقسیم کے المیہ نے لاکھوں خاندانوں کو بے گھر کر دیا، تب سویم سیوکوں نے پناہ گزینوں کی خدمت کی۔ ہر آفت میں آر ایس ایس کے سویم سیوک اپنی محدود وسائل کے ساتھ سب سے آگے کھڑے رہے۔ یہ صرف امداد نہیں تھی، بلکہ قوم کی روح کو سہارا دینے کا کام تھا۔ خود تکلیف اٹھا کر دوسروں کے دکھ دور کرنا… یہی ہر سویم سیوک کی پہچان ہے۔ آج بھی قدرتی آفات میں ہر جگہ سویم سیوک سب سے پہلے پہنچنے والوں میں سے ایک ہیں۔
وزیر اعظم نے کہا کہ اپنے 100 سالہ سفر میں، آر ایس ایس نے معاشرے کے مختلف طبقوں میں خودشناسی پیدا کی… خودی کا احساس جگایا۔ آر ایس ایس ان علاقوں یں بھی کام کرتا رہا جو دور دراز ہیں… جہاں تک رسائی انتہائی مشکل ہے۔ آر ایس ایس… دہائیوں سے قبائلی روایات، قبائلی رسومات اور قبائلی اقدار کو سنبھالنے میں اپنا تعاون دیتا رہا… اپنا فرض ادا کر رہا ہے۔ آج سیوا بھارتی… ودیا بھارتی، ایکلویہ دیالیہ، بنواسی کلیان آشرم… قبائلی معاشرے کے بااختیار بنانے کا ستون بن کر ابھرے ہیں۔
معاشرہ میں صدیوں سے گھر کر چکی جو بیماریاں ہیں، جو اونچ نیچ کی سوچ ہے، جو غلط رواج ہیں… یہ ہندو معاشرے کے لیے بہت بڑے چیلنج رہے ہیں۔ یہ ایک ایسا تشویشناک امر ہے، جس پرآر ایس ایس مسلسل کام کرتا رہا ہے۔ ڈاکٹر صاحب سے لے کر آج تک، آر ایس ایس کے ہر عظیم رہنما نے، ہر سرسنگھ چالک نے بھید بھاؤ اور چھوا چھوت کے خلاف لڑائی لڑی ہے۔ پرم پوجیہ گرو جی نے مسلسل “نہ ہندو پتیتو بھویت” کے جذبے کو آگے بڑھایا۔ پوجیہ بالا صاحب دیورس جی کہتے تھے– چھوا چھوت اگر پاپ نہیں، تو دنیا میں کوئی پاپ نہیں! سرسنگھ چالک رہتے ہوئے پوجیہ رجّو بھیا جی اور پوجیہ سدرشن جی نے بھی اسی جذبے کو آگے بڑھایا۔ موجودہ سرسنگھ چالک آدرنیہ موہن بھاگوت جی نے بھی مساوات کے لیے معاشرے کے سامنے ایک کنواں، ایک مندر اور ایک شمشان کا واضح لکشیہ رکھا ہے۔
جب 100 سال قبل آر ایس ایس وجود میں آیا تو اس وقت کی ضروریات، اس وقت کے مسائل کچھ اور تھے۔ لیکن آج، 100 سال بعد، جب بھارت ترقی کی راہ پر گامزن ہے، تو آج کے چیلنجز مختلف ہیں، جدوجہد مختلف ہیں۔ دوسرے ممالک پر اقتصادی انحصار، ہماری یکجہتی کو توڑنے کی سازشیں، آبادیاتی تبدیلی کی سازشیں، ہماری حکومت ان چیلنجز سے تیزی سے نمٹ رہی ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ آر ایس ایس نے بھی ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے واضح منصوبہ تیار کیا ہے۔
سنگھ کے پنچ پریورتن، خودشناسی، سماجی مساوات، خاندان کی تعلیم، سماجی اخلاق اور ماحولیات… یہ عہد ہر سویم سیوک کے لیے ملک کے سامنے موجود چیلنجز کو شکست دینے کی بڑی تحریک ہیں۔
انھوں نے کہا کہ خودشناسی کے جذبے کا مقصد غلامی کی سوچ سے آزاد ہو کر اپنی وراثت پر فخر اور سودیشی کے بنیادی عزم کو آگے بڑھانا ہے۔ سماجی مساوات کے ذریعے محروم کو ترجیح دے کر سماجی انصاف کا عہد پورا کرنا ہے۔ آج ہماری سماجی مساوات کو دراندازوں کی وجہ سے آبادی میں آرہی تبدیلی سے بھی ایک بڑا چیلنج درپیش ہے۔ ملک نے بھی اس کا مقابلہ کرنے کے لیے آبادیاتی مشن کا اعلان کیا ہے۔ ہمیں خاندان کی تعلیم یعنی خاندان کی ثقافت اور اقدار کو مضبوط کرنا ہے۔ شہری اخلاقیات کے ذریعے ہر شہری میں شہری ہونے کے فرض کا شعور بیدار کرنا ہے۔ ان سب کے ساتھ اپنے ماحولیات کا تحفظ کرتے ہوئے آئندہ نسلوں کے مستقبل کو محفوظ بنانا ہے۔
ان سنکلپوں کے ساتھ،آر ایس ایس اب اگلی صدی کا سفر شروع کر رہا ہے۔ 2047 کے وکست بھارت میں آر ایس ایس کی ہر کوشش، ملک کی قوت میں اضافہ کرے گی، ملک کو تحریک دے گی۔ ایک بار پھر ہر سویم سیوک کو دل کی گہرائیوں سے بہت بہت مبارکباد۔
یواین آئی۔ ایف اے۔ م الف
ہندوستان
اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 نشستوں پر بلا مقابلہ انتخاب، بی جے پی کے 8 اور سماجوادی پارٹی کے 2 امیدوار کامیاب
لکھنؤ، اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 سیٹوں پر بلامقابلہ انتخاب ہو گیا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے دو امیدواروں کو منتخب قرار دیا گیا ہے۔ ووٹنگ کی ضرورت نہیں تھی کیوں کہ تمام نشستوں پر امیدواروں کی تعداد نشستوں کی تعداد کے برابر تھی۔ کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال اور دستبرداری کا عمل مکمل ہونے کے بعد ریٹرننگ آفیسر نے تمام 10 امیدواروں کو بلا مقابلہ منتخب قرار دے دیا۔
بعد ازاں اسمبلی میں منتخب اراکین اسمبلی کو سرٹیفکیٹ پیش کیے گئے۔ بی جے پی کے منتخب امیدواروں میں ودیا ساگر سونکر، پرینکا سنگھ راوت، گوپی کرشنا پانڈے، دھرمپال سنگھ، رادھاکانت اوجھا، پرکاش پال، رام پرتاپ سنگھ چوہان اور شروتی گنگوار شامل ہیں، جب کہ سماج وادی پارٹی کے پروفیسر رام گوپال یادو اور دھن راج پریمل ناتھوپوانی راجپوت سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔ چوں کہ ان راجیہ سبھا سیٹوں کے لیے کوئی اور امیدوار مقابلہ نہیں کر رہا تھا، اس لیے الیکشن بغیر ووٹ کے ختم ہو گیا۔ الیکشن کے بعد اتر پردیش سے بی جے پی کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی کے دو نمائندے راجیہ سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔
یو این آئی۔ این یو۔ م الف
ہندوستان
مودی حکومت کی پالیسیوں نے معاشی لبرلائزیشن کو برباد کر دیا: کھرگے
نئی دہلی، کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے مودی حکومت کی معاشی پالیسیوں پر شدید نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس حکومت نے عام لوگوں کے مفادات کو نظر انداز کر کے صارفین کے لیے متعدد اختیارات کی مسابقت کو ختم کر دیا ہے اور منتخب سرمایہ دار دوستوں کو فائدہ پہنچایا جا رہا ہے، جس سے معاشی لبرلائزیشن کی بنیاد برباد ہو گئی ہے۔
مسٹر کھرگے نے جمعہ کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر لکھا کہ مودی حکومت کی معاشی پالیسیوں کا مقصد معیشت کا کنٹرول اپنے چہیتے سرمایہ دار دوستوں کے ہاتھوں میں سونپنا ہے، تاکہ بدلے میں منافع میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کا حصہ برقرار رہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مسابقت کو ختم کر کے اجارہ داری اور دو کمپنیوں کے غلبے والے نظام کو نافذ کر کے بی جے پی کے خزانے کو بھرنے کا کام کیا گیا ہے۔
کانگریس صدر نے کہا کہ ٹیلی کام کے شعبے میں 2014 سے پہلے 13 کمپنیاں تھیں، جبکہ اب صرف تین بڑی نجی کمپنیاں رہ گئی ہیں۔ اسی طرح اندرونِ ملک ہوا بازی کے شعبے میں 2014 سے پہلے سات کمپنیوں کے مقابلے اب صرف دو بڑی کمپنیاں رہ گئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل ادائیگی، سیمنٹ اور فوڈ ڈیلیوری ایپس سمیت مختلف شعبوں میں حکومت کی ترجیح مسابقت کو ختم کرنا رہی ہے۔ مسٹر کھرگے نے کہا کہ کانگریس معاشی لبرلائزیشن کی بانی ہے، جبکہ بی جے پی پر اپنے منافع کے لیے ‘معاشی دہشت گردی’ نافذ کرنے کا الزام لگایا۔
مسٹر کھرگے نے دعویٰ کیا کہ حکومت کی معاشی پالیسیوں سے مائیکرو، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز (ایم ایس ایم ای) اور دیگر چھوٹے و درمیانے درجے کی صنعتوں کو نقصان پہنچا ہے نیز ملک کے نوجوانوں کو شدید بے روزگاری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
انڈیا اتحاد کے رہنماؤں سے جمعہ کی رات آٹھ بجے ملاقات کریں گی مرمو
نئی دہلی، انڈیا اتحاد کے رہنما جمعہ کی رات آٹھ بجے صدرِ جمہوریہ دروپدی مرمو سے ملاقات کر کے ووٹر لسٹ کی خصوصی تفصیلی نظرثانی (ایس آئی آر) کےعمل کے ذریعے دھاندلی کرنے اور الیکشن کمیشن کے طریقہ کار سے متعلق مسائل پر اپنے خدشات پیش کریں گے۔
ذرائع کے مطابق انڈیا اتحاد کے رہنماؤں نے 30 ستمبر کو یہاں منعقدہ میٹنگ میں صدرِ جمہوریہ سے ملاقات کر کے ان مسائل پر ان کے سامنے اپنا موقف رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اتحاد کے رہنما ایس آئی آر کے عمل اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے طریقہ کار سے متعلق اپنے خدشات سے صدرِ جمہوریہ کو آگاہ کرنا چاہتے ہیں۔
اس سلسلے میں صدرِ جمہوریہ سے ملاقات کے لیے پہلی بار دو اکتوبر کو مکتوب بھیج کر وقت مانگا گیا تھا۔ راشٹرپتی بھون کی طرف سے وفد میں شامل ہونے والے رہنماؤں کے نام مانگے جانے کے بعد اتحاد نے پانچ اکتوبر کو دوبارہ مکتوب بھیجا اور سات، آٹھ یا نو اکتوبر میں سے کسی بھی دن ملاقات کا وقت دینے کی درخواست کی تھی۔
انڈیا اتحاد کے رہنما چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار پر ووٹر لسٹ میں مبینہ دھاندلیوں کے تعلق سے سوال اٹھاتے ہوئے ان کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اس معاملے پر اتحاد کے اراکینِ پارلیمنٹ نے مظاہرے اور مارچ بھی نکالے ہیں۔
کانگریس نے الیکشن کمیشن کے خلاف اپنے احتجاج کو تیز کرنے کے لیے تقریباً ڈیڑھ ماہ تک جاری رہنے والی تحریک کے پروگرام کی بھی توثیق کی ہے۔ کانگریسی رہنما راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی واڈرا کو پولیس مظاہرے کے دوران مسلسل دو بار حراست میں بھی لے چکی ہے۔
یواین آئی ایف اے
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
جموں و کشمیر1 week agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
ہندوستان1 week agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
دنیا7 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
-
ہندوستان1 week agoکھرگے- راہل نے گاندھی اور شاستری کو یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش کیا
-
دنیا1 week agoمعاہدہ نہ ہونے پر وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ فوجی کارروائی ممکن: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoامریکہ، ایران جنگ بندی معاہدے کی راہ میں بداعتمادی اور گہرے اختلافات حائل
-
ہندوستان1 week agoڈیفنس اکاونٹس کے شعبے کے مالیاتی نظام کو زیادہ ڈیجیٹل اور شفاف بنانے کی ضرورت: راج ناتھ
-
دنیا6 days agoیمن میں حوثیوں کے خلاف کارروائیاں، 1540 ہلاک و زخمی ہونے کا دعویٰ
