تازہ ترین
سال نوکاپہلی جھڑپ : ترال میں تین جنگجو ، فوجی اہلکار ہلاک : مکمل رپورٹ
خبراردو:
جنوبی ضلع پلوامہ میں سال نوکے پہلے جنگجومخالف آپریشن کے دوران گلشن پورہ ترال علاقہ کے مضافاتی جنگل میں ایک خونین معرکہ آرائی میں حزب المجاہدین سے وابستہ 3مقامی جنگجونوجوان جاں بحق ہوگئے جن میں چرسواونتی پورہ کارہنے والاایک اعلیٰ تعلیم یافتہ جنگجونوجوان توسیف احمد وانی بھی شامل ہے ۔ ابتدائی جنگجو مخالف کارروائی کے دوران اندھا دھند فائرنگ کی زدمیں آکر فوج کے 3 اہلکار شدید زخمی ہوئے، جن میں سے بعد ازاں ایک فوجی ادھمپور میں واقع فوجی اسپتال میں زخموں کی تاب نہ لاکر دم توڑ بیٹھا ۔ اس دوران ترال قصبہ بٹہ گنڈ اور گلشن پورہ میں انکاؤنٹر مخالف مظاہرین اور پولیس و فورسز کے درمیان سنگباری ، آنسو گیس کے گولوں اور پیلٹ چھروں کا تبادلہ ہوا ، جس دوران نصف درجن سے زیادہ مظاہرین پیلٹ اور ٹیرگیس شیل لگنے سے زخمی ہوئے ۔
سال 2019 کے تیسرے روز جنوبی ضلع پلوامہ کے گلشن پورہ ترال علاقہ کے مضافاتی جنگل کو فوج کی 42 آر آر ، سی آر پی ایف اور ریاستی پولیس کے اسپیشل آپریشن گروپ سے وابستہ اہلکاروں نے علی الصبح یہ اطلاع ملتے ہی چاروں اطراف سے محاصرے میں لے لیا کہ یہاں قائم ایک کمین گاہ میں کچھ جنگجو چھپے بیٹھے ہیں ۔ پولیس ذرائع نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ صبح صادق سے پہلے پورے جنگل علاقہ کو محاصرے میں لیا گیا اور جب سیکورٹی اہلکار جنگجوؤں کی خفیہ کمین گاہ کے نزدیک پہنچے تو جنگجوؤں نے اندھا دھند فائرنگ کی ۔ ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل امن و قانون منیر احمد خان نے بتایا کہ جنگجوؤں کی گولی باری کی زد میں آکر 3 فوجی اہلکار زخمی ہوئے ۔ انہوں نے کہا کہ تینوں زخمی فوجیوں کو فوری طور بادامی باغ سرینگر میں واقع فوج کے 92 بیس اسپتال منتقل کیا گیا ۔
اُدھر سرینگر میں دفاعی ذرائع نے بتایا کہ ایک شدید زخمی فوجی اہلکار کو ہیلی کاپٹر میں سوار کرکے ادھمپور میں واقع فوج کے بڑے اسپتال منتقل کیا گیالیکن وہ یہاں زخموں کی تاب نہ لاکر دم توڑ بیٹھا ۔ پولیس و دفاعی ذرائع نے بتایا کہ محصور جنگجوؤں کی ابتدائی فائرنگ کے بعد فوج ، فورسز اور ایس اؤ جی اہلکاروں نے جوابی کارروائی عمل میں لائی اور طرفین کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ شروع ہوا جو کئی گھنٹوں تک جاری رہا ۔ انہوں نے کہا کہ جنگل میں بنائی گئی خفیہ کمین گاہ میں موجود جنگجوؤں اور سیکورٹی اہلکاروں کے درمیان ہوئی گولی باری کے دوران پہلے مرحلے میں 2 جنگجو مارے گئے جبکہ بعد ازاں ایک اور جنگجو بھی جھڑپ کے دوران اپنی جان گنوا بیٹھا ۔ پولیس ذرائع نے بتایا کہ تینوں جنگجوؤں کی نعشوں اور کمین گاہ سے بر آمد کئے گئے ہتھیار و دیگر سامان کو ترال پہنچایا گیا تاکہ مہلوک جنگجوؤں کی شناخت عمل میں لائی جاسکے ۔ غیر مصدقہ اطلاع کے مطابق گلشن پورہ ترال کے مضافاتی جنگل میں جھڑپ کے دوران جاں بحق ہوئے جنگجوؤں میں 14 مئی 2018 کو حزب المجاہدین میں شامل ہوا چرسو اونتی پورہ کا اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان توسیف احمد وانی ولد غلام محی الدین وانی ، چرسو کا ہی رہنے والا زبیر احمد بٹ عرف حمزہ اورلری بل ترال کا رہنے والا شکور احمد عرف جعفر بھی شامل ہیں ۔
تاہم پولیس ذرائع نے جاں بحق ہوئے جنگجوؤں کی تادم تحریر شناخت ظاہر نہیں کی اور کہا کہ ابھی شناخت کا عمل جاری ہے ۔ اس دوران گلشن پورہ مضافاتی جنگل میں جنگجو مخالف آپریشن کی خبر پھیلتے ہی ترال قصبہ میں نوجوان سڑکوں پر نکل آئے اور انہوں نے پولیس و فورسز پر شدید سنگباری شروع کر دی ۔ مقامی لوگوں نے بتایا کہ سنگباری کرنے والے نوجوانوں کو منتشر کرنے کیلئے بٹہ گنڈ ترال کے نزدیک پولیس و فورسز نے اندھا دھند ٹیر گیس شیلنگ اور پیلٹ فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں کم سے نصف درجن نوجوان زخمی ہوگئے ، جن کو اسپتال منتقل کیا گیا ۔
اس دوران ترال قصبہ میں مکمل ہڑتال رہی اور دن بھر یہاں کشیدگی اور تناؤ کی صورتحال بھی جاری رہی ۔ اُدھر معلوم ہوا کہ گلشن پورہ کے مضافاتی جنگل میں جنگجو مخالف آپریشن مکمل کرنے کے بعد جب فوجی ، فورسز اور ایس اؤ جی اہلکار اپنی گاڑیوں میں سوار ہوکر مہلوک عساکر کی نعشیں اور ضبط شدہ سامان لے کر ترال لوٹ رہے تھے تو راستے میں بٹہ گنڈ اور گلشن پورہ کے نزدیک مشتعل نوجوانوں نے سیکورٹی اہلکاروں کی گاڑیوں پر شدید پتھراؤ کیا ، جس کے جواب میں پولیس و فورسز نے ٹیر گیس شیلنگ کی تاہم یہاں تصادم آرائی کے دوران کسی کے زخمی ہونے کی ابھی تک اطلاع نہیں ملی۔
خیال رہے یہ سال نو میں پہلا جنگجو مخالف آپریشن تھا جبکہ گزشتہ برس یعنی سال 2018 کے دوران کشمیر وادی میں الگ الگ جھڑپوں کے دوران 250 سے زیادہ مقامی اور غیر مقامی جاں بحق ہوئے تھے اور یہ ایک دہائی بعد جاں بحق ہونے والے جنگجوؤں کی سب سے بڑی تعداد تھی ۔
فن و ادب
ریکھا کی ادکاری ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب
ممبئی،
ریکھا محض ایک اداکارہ نہیں بلکہ ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب ہیں۔ ان کی اداکاری، شخصیت اور فن آنے والی نسلوں کے لیے بھی اہمیت رکھتے ہیں۔ ان کا فلمی سفر اس حقیقت کی گواہی دیتا ہے کہ اصل عظمت صرف شہرت حاصل کرنے میں نہیں، بلکہ اپنے فن کے ذریعے وقت کی حدود سے آگے نکل جانے میں ہے۔
ریکھا کی زندگی کامیابی، جدوجہد، تنہائی، شہرت اور خود کو نئے انداز میں پیش کرنے کی ایک طویل داستان ہے۔ انہوں نے بچپن کی مشکلات سے نکل کر ہندوستانی فلمی دنیا میں وہ مقام حاصل کیا جس تک پہنچنا ہر فنکار کے لیے ممکن نہیں ہوتا۔
‘خوب صورت’ کی زندہ دل منجو ہو، ‘امراو جان’ کی غم زدہ شاعرہ، ‘گھر’ کی دکھ سہنے والی عورت یا ‘خون بھری مانگ’ کی مضبوط کردار والی ہیروئن، ریکھا نے ہر کردار میں اپنی الگ شناخت قائم کی۔
بالی وڈ کی امراؤ جان، قاتل نگاہیں اور نمکین رنگت والی مشہور اداکارہ ریکھا دس اکتوبر 1954 کو مدراس کے ایک گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ اُن کا حقیقی نام بھانو ریکھا گنیشن ہے۔ان کے والد جیمنی گنیشن اور ان کی ماں تیلگو اداکارہ پشپ دیوی نے باقاعدہ شادی نہیں کی تھی۔ بچپن سے ہی تیلگو فلموں سے اپنا فلمی سفر شروع کرنے والی ریکھا کو کافی جدوجہد کرنی پڑی۔
ریکھا نے محض گیارہ سال کی عمر میں تیلگو فلم میں اداکاری سے اپنےکیرئیر کاآغاز کیا، 1969 میں ہندی فلم ‘دو شکاری’ کی ہیروئن کے روپ میں جلوہ گر ہوئیں اور جلد ہی فلمی دنیا پر راج کرنے لگیں۔
سال 1976 میں انہوں نے پہلی بار امیتابھ بچن کے ساتھ فلم ‘دو انجانے’ میں کام کیا اور فلم کو امر کردیا۔ اس کے بعد یہ جوڑی نٹور لال، خون پسینہ، مقدر کا سکندر اور بہت سی فلموں میں ایک ساتھ نظر آئی ۔
1978 میں فلم ‘مقدرکا سکندر’ نے ریکھا کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچادیا اورانہیں فلم فیئر ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔
جاری یو این آئی۔ ایم جے
دنیا
ہزیشکیان نے پوتن کو ایران اور امریکہ کے مابین نئی مذاکراتی تجاویز سے آگاہی کرائی
تہران، صدرِ ایران مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران اور امریکہ نے جنگ ختم کرنے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے نئی تجاویز کا تبادلہ کیا ہے۔
ایرانی صدر نے ترکمانستان میں اپنے روسی ہم منصب ولادیمیر پوتن سے دوطرفہ اقتصادی اور اسٹریٹجک تعاون کو بڑھانے پر بات چیت کے لیے ملاقات کی۔
ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی ایرنا کے مطابق یہ ملاقات کامن ویلتھ آف انڈیپنڈنٹ سٹیٹس (سی آئی ایس) سربراہی اجلاس اور بحیرہ کیسپین کے ماحولیاتی اجلاس کے اجلاس کے موقع پر ہوئی۔
دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات میں پیش رفت کا جائزہ لیا اور توانائی، زراعت، نقل و حمل اور تجارت سمیت اہم شعبوں میں تعاون کو مضبوط بنانے پر تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے مشترکہ منصوبوں کی تکمیل اور حتمی منظوری میں تیزی لانے کی ضرورت پر زور دیا اور دونوں ممالک کے قومی مفادات اور علاقائی استحکام کے مطابق جامع تعاون کو وسیع کرنے کے عزم کی تکرار کی۔
ایرانی طلبا کی خبر رساں ایجنسی اسنا کے مطابق پزشکیان نے کہا کہ جنگ کے باوجود ایران امریکہ کے ساتھ مذاکرات سے کنارہ کش نہیں ہوگا۔
“ہم بات چیت کر رہے ہیں، مگر جب بھی ہم امریکہ سے بات کرتے ہیں، وہ دوبارہ حملہ کر دیتے ہیں۔ تاہم ہم مذاکراتی میز اور گفت و شنید سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔”
پزشکیان نے کہا کہ تہران اور واشنگٹن نے دو طرفہ طور پر نئی تجاویز پیش کی ہیں۔
“ہم نے ان تجاویز میں اپنی ترامیم کی ہیں۔ جب یہ حتمی ہو جائیں گی تو ہمیں موجودہ ثالثوں کے ذریعے بیٹھ کر انہیں یکجا کرنا ہوگا۔”
پزشکیان نے علاقائی امور اور اقوامِ متحدہ میں روس کے موقف کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ماسکو نے یکطرفہ پالیسیوں کے خلاف مدد کی۔انہوں نے یہ بھی امید ظاہر کی کہ تہران اور ماسکو کے درمیان بڑھتی ہوئی ہم آہنگی “تیزی اورمظبوطی کے ساتھ” آگے بڑھے گی، اور کہا کہ موجودہ حالات تعاون کو گہرا کرنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تہران جنگ کے خاتمے کا خواہاں ہے، بشرطیکہ ایرانی عوام کے حقوق بین الاقوامی قانون کے تحت محفوظ رہیں۔
دونوں رہنماؤں کی آخری ذاتی ملاقات یکم ستمبر کو کرغزستان میں شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کے موقع پر ہوئی تھی، جہاں انہوں نے دوطرفہ تعلقات اور امریکہ-ایران جنگ پر بات کی تھی۔
اس ملاقات کے دوران پوتن نے امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کو “غیر مستحکم اور بہت نازک” قرار دیا اور تہران کی حمایت جاری رکھنے کا عندیہ دیا۔
مزید یہ کہ پزشکیان اور پوتن نے تاکہ ایران-امریکہ مذاکرات پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے بدھ کو فون پر بات کی تھی، جس میں روسی صدر نے تنازع کے حل کے لیے سفارتی کوششوں کی حمایت میں ماسکو کی آمادگی ظاہر کی۔
پوتن سی آئی ایس سربراہی اجلاس اور بحیرہ کیسپین کے ماحولیاتی اجلاس میں شرکت کرنے کے لیے جمعرات کو دو روزہ دورے پر ترکمانستان پہنچے تھے۔
توقع ہے کہ سی آئی ایس اجلاس رکن ممالک کے درمیان تعاون کے ساتھ ساتھ علاقائی اور بین الاقوامی پیش رفت کا جائزہ لے گا۔
بحیرہ کیسپین ماحولیاتی اجلاس میں پانچ ساحلی ممالک – آذربائیجان، ایران، قازقستان، روس اور ترکمانستان – کے رہنما یکجا ہوئے ہیں ، اجلاس کے ایجنڈے میں خطے میں ماحولیاتی تعاون شامل ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
مودی حکومت کی پالیسیوں نے معاشی لبرلائزیشن کو برباد کر دیا: کھرگے
نئی دہلی، کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے مودی حکومت کی معاشی پالیسیوں پر شدید نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس حکومت نے عام لوگوں کے مفادات کو نظر انداز کر کے صارفین کے لیے متعدد اختیارات کی مسابقت کو ختم کر دیا ہے اور منتخب سرمایہ دار دوستوں کو فائدہ پہنچایا جا رہا ہے، جس سے معاشی لبرلائزیشن کی بنیاد برباد ہو گئی ہے۔
مسٹر کھرگے نے جمعہ کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر لکھا کہ مودی حکومت کی معاشی پالیسیوں کا مقصد معیشت کا کنٹرول اپنے چہیتے سرمایہ دار دوستوں کے ہاتھوں میں سونپنا ہے، تاکہ بدلے میں منافع میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کا حصہ برقرار رہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مسابقت کو ختم کر کے اجارہ داری اور دو کمپنیوں کے غلبے والے نظام کو نافذ کر کے بی جے پی کے خزانے کو بھرنے کا کام کیا گیا ہے۔
کانگریس صدر نے کہا کہ ٹیلی کام کے شعبے میں 2014 سے پہلے 13 کمپنیاں تھیں، جبکہ اب صرف تین بڑی نجی کمپنیاں رہ گئی ہیں۔ اسی طرح اندرونِ ملک ہوا بازی کے شعبے میں 2014 سے پہلے سات کمپنیوں کے مقابلے اب صرف دو بڑی کمپنیاں رہ گئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل ادائیگی، سیمنٹ اور فوڈ ڈیلیوری ایپس سمیت مختلف شعبوں میں حکومت کی ترجیح مسابقت کو ختم کرنا رہی ہے۔ مسٹر کھرگے نے کہا کہ کانگریس معاشی لبرلائزیشن کی بانی ہے، جبکہ بی جے پی پر اپنے منافع کے لیے ‘معاشی دہشت گردی’ نافذ کرنے کا الزام لگایا۔
مسٹر کھرگے نے دعویٰ کیا کہ حکومت کی معاشی پالیسیوں سے مائیکرو، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز (ایم ایس ایم ای) اور دیگر چھوٹے و درمیانے درجے کی صنعتوں کو نقصان پہنچا ہے نیز ملک کے نوجوانوں کو شدید بے روزگاری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
یواین آئی ایف اے
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoقطری ثالثی کی امریکہ، ایران کے درمیان مذاکرات میں معمولی پیش رفت
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
ہندوستان1 week agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
جموں و کشمیر1 week agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
دنیا6 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
جموں و کشمیر1 week agoجاوید ڈار نے اسمبلی میں سی اے جی کی رپورٹیں پیش کیں
-
دنیا1 week agoامریکہ، ایران جنگ بندی معاہدے کی راہ میں بداعتمادی اور گہرے اختلافات حائل
-
ہندوستان1 week agoکھرگے- راہل نے گاندھی اور شاستری کو یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش کیا
-
دنیا1 week agoامریکی فوج کے انخلا کے بعد عراق کو نئی سکیورٹی صورتحال میں توازن کے چیلنج کا سامنا
-
ہندوستان1 week agoبیلا کلسٹر کے 729 ووٹوں میں سے 728 کو حذف کرنا ووٹ کی چوری : راہل
