تازہ ترین
محبوبہ مفتی کی ’ٹوفی دودھ ‘ریمارکس پرعوام سے معافی طلب ،نوجوانوں کوپی ڈی پی میں شامل ہونے کی دعوت،مودی کی کشمیرپالیسی میں قول وفعل کاتضاد
خبراردو:
علاقائی مین اسٹریم جماعت پی ڈی پی کی صدراورریاست کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے پہلی مرتبہ وزیراعظم ہندنریندرمودی کوکھل کرہدف تنقیدبناتے ہوئے کہاکہ ملک بالخصوص جموں وکشمیرکے حوالے سے نریندر مودی نے اپنامنڈیٹ ضائع کردیا۔انہوں نے کہاکہ مودی کی کشمیرپالیسی میں قول وفعل کاتضادرہا،اوراسی بناء پرواجپائی کی پالیسی کوآگے نہیں بڑھایاگیا۔
ریاست کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے بھاجپاکی جانب سے حمایت واپس لینے کے نتیجے میں مخلوط سرکارگرنے کے لگ بھگ 6ماہ بعدوزیراعظم ہندنریندرمودی کی کشمیرپالیسی کوکھلے عام غلط اورناکام قراردیتے ہوئے کہاکہ مودی سال 2014میں ملے واضح عوامی منڈیٹ کیساتھ انصاف نہیں کرسکے بلکہ بقول محبوبہ مفتی ،مودی نے اپنایہ منڈیٹ ضائع کردیا۔اپنے والداورسابق وزیراعلیٰ مرحوم مفتی محمدسعیدکی تیسری برسی کے موقعہ پرمرحوم کی آخری آرام گاہ واقع دارالشکوہ پارک بجبہاڑہ میں منعقدہ ایک تعزیتی تقریب کے حاشیے پرنامہ نگاروں کے سوالات کاجواب دیتے ہوئے پی ڈی پی کی صدرمحبوبہ مفتی نے وزیراعظم مودی کی سخت تنقیدکرتے ہوئے کہاکہ مودی نے ملک بالخصوص جموں وکشمیرکے حوالے سے ملے اپنے منڈیٹ کوضائع کردیا۔انہوں نے کہاکہ نریندرمودی وزیراعظم بننے کے بعدباربارکہاکرتے تھے کہ وہ اٹل بہاری واجپائی کے نقش قدم پرچل کرجموں وکشمیرکے مسئلے کوحل کریں گے لیکن بقول محبوبہ مفتی ،اصل میں مودی کارول اسکے بالکل برعکس رہا،اورانہوں نے عوامی منڈیٹ کوہی ضائع کردیا۔انہوں نے کہاکہ کشمیرمسئلے اورجموں وکشمیرکے حوالے سے مودی کے کہنے اورکرنے میں واضح فرق رہاکیونکہ انہوں نے واجپائی کی پالیسی کوکبھی خاطرمیں ہی نہیں لایا۔
محبوبہ مفتی نے دوٹوک الفاظ میں کہاکہ مذاکرات ہی مسائل کوحل کرنے کاواحدراستہ ہے ۔سابق وزیراعلیٰ کاکہناتھا’کشمیرمسئلے کاحل تلاش کرنے کیلئے بھارت سرکارکوجموں وکشمیرکے عوام بشمول اازادی پسندلیڈروں اورپاکستان کیساتھ مذاکرات کی میزپربیٹھناپڑے گا‘‘۔ انہوں نے واضح کیاکہ جب تک پاکستان کواعتمادمیں نہیں لیاجائیگاتب تک مذاکرات کیلئے درکارموزون اورسازگارماحول نہیں بن پائے گا۔محبوبہ مفتی نے مزیدکہاکہ اُنکی جماعت پی ڈی پی نے بی جے پی کیساتھ اسی مقصدکے تحت اتحادکیاتھاکہ مرکزمیں برسراقتداریہ جماعت تمام تصفیہ طلب مسائل کوحل کرنے کی کوشش کرے گی ۔انہوں نے کہا’’ہم نے مسئلہ کشمیرکے حل کی خاطربھاجپاکاہاتھ تھاماتھا‘‘۔پی ڈی پی صدرمحبوبہ مفتی نے انکشاف کیاکہ وہ بی جے پی کیساتھ اتحادکے حق میں نہیں تھیں ۔انہوں نے کہا’’سال2016میں والدکاانتقال ہونے کے بعدمیں (محبوبہ مفتی)بھاجپاکیساتھ اتحادکے لئے تیارنہیں تھی ‘‘۔محبوبہ مفتی کے بقول انہوں نے اتحادکے حوالے سے بھاجپاکے سامنے کچھ شرطیں رکھی تھیں ،جن میں پاؤرپروجیکٹوں کی واپسی ،سری نگرمیں واقع ٹٹوگراؤنڈ،اننت ناگ ہائی گراؤنڈاورکرگل میدان سے فوج کاانخلاء ،جیسے مطالبات بھی شامل تھے ۔محبوبہ مفتی نے اس موقعہ پریہ انکشاف کیاکہ بھاجپاوالے اُنکی شرائط کوماننے کیلئے تیارتھے ،لیکن بقول مھبوبہ مفتی میری اپنی پارٹی کے کچھ لوگوں جوآج کل بڑاشورمچاتے نظرآرہے ہیں ، نے ناگپور(آرایس ایس ہیڈکوارٹر)جاکر کہاکہ محبوبہ مفتی کوہی سائیڈلائن کردؤ،اوریہ کہ ان لوگوں نے آرایس ایس والوں سے اس حدتک کہاکہ آپ محبوبہ مفتی کوسائیڈلائن کرؤتوہم آپ کیساتھ ایک نئے اتحادکیلئے تیارہیں ۔
انہوں نے کہاکہ ایسے ہی لوگوں نے میری پوززیشن پرسمجھوتہ کیا۔محبوبہ مفتی نے کہاکہ اُنہوں نے بھاجپاکیساتھ اتحادکرکے ذہرکاپیالہ اسلئے پیاکیونکہ اُنکی پارٹی چاہتی تھی کہ جموں وکشمیرکوکشت وخون اوربداعتمادی وبدترین حالات سے نجات دلائی جائے۔ایک سوال کے جواب میں محبوبہ مفتی نے سرگرم اورجاں بحق ہوئے مقامی جنگجوؤں کے گھرجانے اوراہل خانہ کیساتھ یکجہتی وتعزیت کااظہارکئے جانے کادفاع کرتے ہوئے کہاکہ ایساپہلی مرتبہ نہیں ہواکہ وہ کسی جنگجوکے گھرگئی ہوں بلکہ موصوفہ اسے پہلے بھی وہ ایساکرتی آئی ہیں ۔انہوں نے کہاکہ وہ بحیثیت وزیراعلیٰ مارے گئے پولیس اہلکاروں ،ایس پی اوؤزاوردیگرمہلوکین کے گھربھی گئیں ۔محبوبہ مفتی نے کہاکہ اب وہ ایسے جنگجوؤں کے گھرگئیں ،جن کے اہل خانہ کوہراساں کیاگیاتاکہ حکومت کویہ پیغام دے سکوں کہ ایسانہیں چلنے والاہے ،اوریہ کہ آئندہ کسی جنگجوکے اہل خانہ کوپریشان وہراساں نہ کیاجائے ۔
اسے پہلے اپنے والد مرحوم مفتی محمدسعیدکے مزارپرمنعقدہ تعزیتی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پی ڈی پی صدرمحبوبہ مفتی نے سال2016میں دئی گئے اپنے ’ٹوفی دودھ ‘والے ریمارکس پرمعافی مانگتے ہوئے کہاکہ انہوں نے وہ باتیں ایک ماں کی حیثیت سے کی تھیں ۔انہوں نے کہاکہ وہ باتیں میں نے اسلئے کہی تھیں کیونکہ ایک ماں کے بطورمیں جانتی ہوں کہ جب بچے کوتکلیف پہنچتی ہے توماں کے دل کاکیاحال ہوتاہے ۔محبوبہ مفتی کاکہناتھاکہ میں بھی ایک ماں ہوں ،اورجب کسی نوجوان کی جان جاتی تھی تومیرے دل کوسخت ٹھیس اورچوٹ پہنچتی تھی ۔انہوں نے سوالیہ اندازمیں کہاکہ کیاایک ماں کبھی اپنے بچوں کے تئیں تیزیاتندلہجہ استعمال نہیں کرتی ہے۔تاہم سابق وزیراعلیٰ نے کہاکہ اگراُنکی باتوں سے کسی کوٹھیس پہنچی ہے یاکہ کسی کی دل آزاری ہوئی ہے تووہ اس کیلئے معافی مانگتی ہیں ۔انہوں نے کہاکہ میری حکومت نہیں چاہتی تھی کہ کشمیری نوجوانوں کی جانیں ضائع ہوں یاکہ کوئی نوجوان جیل میں پڑارہے ،اسلئے ہم نے سنگباری کی پاداش میں گرفتارکئے گئے نوجوانوں یاکہ جن کیخلاف پولیس تھانوں میں کیس درج تھے ،کوعام معافی دینے کااعلان کیا۔انہوں نے کہاکہ اُنھیں اسبات پربھی اطمینان ہے کہ بحیثیت وزیراعلیٰ انہوں نے کٹھوعہ کیس کوصحیح طورپرہینڈل کیا۔ سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے نوجوانوں کوپی ڈی پی میں شامل ہونے کی کھلی دعوت دیتے ہوئے کہاکہ اب اُنکی پارٹی میں کوئی کوڑاکرکٹ (باغی ممبران )نہیں ہے ۔انہوں نے نوجوانوں سے مخاطب ہوتے ہوئے کہاکہ میں اس پلیٹ فارم سے آپ کوپارٹی میں شامل ہونے کی دعوت دیتی ہوں ۔محبوبہ مفتی کاکہناتھاکہ تعلیم یافتہ نوجوان پی ڈی پی میں شامل ہوں تاکہ ہم سب ملکرمسئلہ کشمیرکوحل کراسکیں ۔
جموں و کشمیر
اگلے ہفتے کے آغاز میں کابینہ میں توسیع ہوسکتی ہے: عمر عبداللہ
سری نگر، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے ہفتہ کو کہا کہ ان کی کابینہ میں ردوبدل اور توسیع اگلے ہفتے کے آغاز میں ہوسکتی ہے۔
انہوں نے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا سے ملاقات کرکے ان سے اس کے لیے ایک تاریخ طے کرنے کی درخواست کی ہے۔ عمر عبداللہ نے بتایا کہ لیفٹیننٹ گورنر کچھ دن پہلے ہی سری نگر واپس آئے ہیں۔ انہوں نے لیفٹیننٹ گورنر کی خیریت بھی دریافت کی، کیونکہ ان کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ انہوں نے لیفٹیننٹ گورنر کے ساتھ کئی معاملات پر بات چیت کی، جن میں کابینہ میں ردوبدل بھی شامل ہے۔ انہوں نے کہا، ”میں نے ان سے کابینہ میں توسیع کے لیے وقت مانگا ہے اور درخواست کی ہے کہ وہ اگلے ہفتے کے ابتدائی 2 سے 3 دنوں میں کوئی وقت طے کردیں۔”
انہوں نے کہا کہ وہ اپنی کابینہ کے ساتھیوں سے کچھ تبدیلیاں کرنے کے لیے کہیں گے اور جیسے ہی لیفٹیننٹ گورنر وقت طے کردیں گے، کابینہ میں توسیع کردی جائے گی۔ عمر عبداللہ نے بتایا کہ وزیروں کی فہرست تیار ہے اور نیشنل کانفرنس کے صدر فاروق عبداللہ سے مشورے کے بعد اسے حتمی شکل دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا، ”فاروق صاحب یا میرے یا کسی اور کے دروازے پر دستک دینے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ کون وزیر بنے گا، اس کا فیصلہ کیا جاچکا ہے۔” انہوں نے پارٹی کے ساتھیوں سے صبر و تحمل سے کام لینے کی اپیل کی۔
وزیر اعلیٰ نے وزیر بننے کے خواہش مند لوگوں کی جانب سے انہیں بڑی تعداد میں پیغامات بھیجنے اور رابطہ کرنے پر ناراضگی بھی ظاہر کی۔ انہوں نے کہا، ”براہ کرم مجھے واٹس ایپ پیغامات نہ بھیجیں۔ مجھے واٹس ایپ پر بہت سارے پیغامات اور لمبے لمبے خطوط مل رہے ہیں۔ میں نہ تو ان کے سوانحی کوائف دیکھتا ہوں اور نہ ہی انہیں جانتا ہوں۔ فیصلہ کیا جاچکا ہے۔ براہ کرم مجھے نہ واٹس ایپ پیغامات بھیجیں، نہ فون کریں اور نہ ہی میرے دروازے پر دستک دیں۔ اگلے 2 سے 3 دنوں میں کابینہ میں ردوبدل ہوجائے گا۔”
یو این آئی۔ ایم جے
ہندوستان
وزیر اعظم مودی نے یوم تاسیس پر آئی ٹی بی پی کے دلیر جوانوں کی بہادری اور قربانیوں کو سراہا
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی نے ہفتہ کے روز ہند تبت سرحدی پولیس (آئی ٹی بی پی) کے جوانوں، جنہیں عام طور پر باہمت جوان کہا جاتا ہے، کی غیر معمولی بہادری، عزم اور بے لوث خدمات کی ستائش کی۔ انہوں نے فورس کے یوم تاسیس پر مبارک باد دیتے ہوئے ملک کی سلامتی کے تحفظ میں اس کے جوانوں کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری پیغام میں مودی نے کہا کہ آئی ٹی بی پی کے جوانوں نے اپنی غیر معمولی بہادری سے نمایاں شناخت بنائی ہے اور ہر چیلنج کا مسلسل غیر معمولی عزم کے ساتھ مقابلہ کیا ہے۔
انہوں نے کہا، ”ان کی بے لوث خدمات اور قربانیاں ملک کے لیے بے پناہ ترغیب کا ذریعہ ہیں۔”
ہند تبت سرحدی پولیس کا قیام 24 اکتوبر 1962 کو ہندوستان اور چین کے درمیان جنگ کے بعد ہمالیائی سرحد پر سلامتی کو مضبوط بنانے کے لیے عمل میں آیا تھا۔ یہ ہندوستان کی مرکزی مسلح پولیس فورسز میں سے ایک ہے اور بنیادی طور پر ہندوستان اور چین کی سرحد کی حفاظت کی ذمہ داری انجام دیتی ہے۔ اس کے جوان دنیا کے انتہائی دشوار گزار بلند پہاڑی علاقوں میں اپنی خدمات انجام دیتے ہیں۔
اس فورس کے جوان سخت موسمی حالات میں خدمات انجام دیتے ہیں، جہاں انہیں نقطۂ انجماد سے نیچے درجہ حرارت، خطرناک پہاڑی درّوں، دشوار گزار راستوں اور آکسیجن کی کمی جیسے چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
ان کی خصوصی تربیت انہیں مشکل گشت انجام دینے اور حساس سرحد پر مسلسل نگرانی رکھنے کے قابل بناتی ہے۔ اکثر انہیں ایسے دور دراز علاقوں میں تعینات کیا جاتا ہے، جہاں پہنچنا اور ضروری سامان فراہم کرنا بھی مشکل ہوتا ہے۔
گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران باہمت جوانوں نے پہاڑی علاقوں میں آفات سے نمٹنے، تلاش اور بچاؤ کی کارروائیوں اور انسانی امداد فراہم کرنے میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔ ان کی عملی مہارت اور برداشت نے انہیں ہندوستان کی سرحدی سلامتی اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کی صلاحیت کا ایک اہم حصہ بنا دیا ہے۔
فورس کے یوم تاسیس پر مودی کے پیغام میں ان جوانوں کی لگن اور قربانیوں کو تسلیم کیا گیا، جو ملک کی علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے انتہائی دشوار حالات میں خدمات انجام دیتے ہیں۔ یہ سالانہ دن فورس کی شاندار روایات کو خراج تحسین پیش کرنے کے ساتھ ساتھ قومی سلامتی کے لیے اس کے جوانوں کے عزم کو بھی تسلیم کرتا ہے۔ یہ جوان اکثر اپنے اہل خانہ سے دور رہ کر ملک کے انتہائی سخت اور دشوار گزار علاقوں میں اپنی ذمہ داریاں نبھاتے ہیں۔
یو این آئی۔ ایم جے
ہندوستان
مرکز نے مرکزی اطلاعاتی کمیشن میں اطلاعاتی کمشنر کے 2 عہدوں کے لیے درخواستیں طلب کیں، آخری تاریخ 20 نومبر
نئی دہلی، مرکزی وزارت برائے عملہ، عوامی شکایات اور پنشن نے مرکزی اطلاعاتی کمیشن (سی آئی سی) میں اطلاعاتی کمشنر کے 2 عہدوں کے لیے درخواستیں طلب کی ہیں۔ درخواستیں جمع کرانے کی آخری تاریخ 20 نومبر 2026 مقرر کی گئی ہے۔
محکمہ عملہ و تربیت (ڈی او پی ٹی) نے نئی دہلی میں واقع کمیشن میں خالی عہدوں کو پُر کرنے کے لیے درخواستیں طلب کی ہیں۔ ضرورت کے مطابق تقرریوں کی تعداد 2 سے زیادہ نہیں ہوگی۔ ان عہدوں کو ضرورت کے مطابق پُر کیا جائے گا، جس کا مطلب ہے کہ حکومت 2 سے کم اطلاعاتی کمشنروں کی تقرری بھی کرسکتی ہے۔
محکمے نے دلچسپی رکھنے والے امیدواروں سے کہا ہے کہ وہ اہلیت کی شرائط اور درخواست کا مقررہ نمونہ سرکاری ویب سائٹ سے حاصل کرلیں۔ تقرری کے لیے غور کیے جانے کی خاطر امیدواروں کو اپنی مکمل طور پر بھری ہوئی درخواست 20 نومبر 2026 تک محکمے میں جمع کرانی ہوگی۔
یو این آئی۔ ایم جے
-
دنیا7 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
جموں و کشمیر7 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
دنیا1 week agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر کے قالین باف کو ہاتھ سے بنے قالینوں کے لیے قومی ایوارڈ
-
دنیا7 days agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر اسمبلی کی کمیٹی نے آنچار جھیل کے آس پاس بڑے پیمانے پر تجاوزات پر تشویش ظاہر کی، فوری کارروائی کا مطالبہ سری نگر، 15 اکتوبر (یو
-
ہندوستان7 days agoجی ٹی ٹی سی آئی اور شری دھرمک لیلا کمیٹی نے لال قلعے میں ‘عالمی یومِ خوراک’ منایا
-
جموں و کشمیر7 days agoجموں و کشمیر: رام بن میں چرس اور ہیروئن کے ساتھ تین افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoایران کا ٹرمپ روٹ پر ردعمل: “ہم خطے میں امریکی موجودگی پر خدشات رکھتے ہیں”
-
ہندوستان7 days agoگیانیش کمار سرکاری گواہ بنیں: راہل
-
ہندوستان7 days agoسی جے پی بانی ابھیجیت دیپکے کو ملی ضمانت
