تازہ ترین
پارلیمنٹ کی دونوں ایوانوں میں ہوا ہنگامہ، لوک سبھا کے چار اراکین معطل
خبراردو:
نئی دہلی: منگل کو ختم ہونے والے سرمائی اجلاس سے قبل پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں ہمیشہ کی طرح پیر کو بھی ہنگامہ جاری رہا اور لوک سبھا میں ایوان کی کارروائی میں رخنہ ڈالنے کے لئے چار اراکین کو معطل کیا گیا جب کہ راجیہ سبھا میں کوئی کام کاج نہیں ہوسکا۔
لوک سبھا نے گذشتہ ہفتہ بھی دو اور تین جنوری کو انا ڈی ایم کے اور ٹی ڈی پی کے مجموعی طورپر 46اراکین کو اجلاس کی بقیہ مدت کے لئے معطل کیا گیا تھا۔ اس طرح ان چار اراکین کو ملا کر لوک سبھا کے اجلاس کی بقیہ مدت کے لئے معطل کئے گئے اراکین کی تعداد پچاس ہوگئی ہے۔ راجیہ سبھا میں بھی گذشتہ ہفتہ بارہ اراکین کو معطل کیا گیا تھا۔
آج شور شرابے کے درمیان جذام کو شادی ختم کرنے کے بنیاد کے طورپر ناقابل تسلیم قرار دینے والا بل صوتی ووٹوں سے لوک سبھا میں منظور ہوگیا ۔ راجیہ سبھا میں آج بھی تین طلاق سے متعلق بل پیش نہیں کیا جاسکا۔ لیکن دو دیگر بل پیش کئے گئے۔ ہنگامہ کی وجہ سے لوک سبھا کی کارروائی تین مرتبہ ملتوی کرنے کے بعد اورراجیہ سبھا کی کارروائی دو بار ملتوی کرنے کے بعد دن بھر کے لئے ملتوی کردی گئی ۔
لوک سبھا میں صبح ایوان کی کارروائی شروع ہوتے ہی اداکار سے سیاست میں آئے تیلگو دیسم پارٹی کے این شیو پرساد ایوان کے درمیان آگئے ۔ انہوں نے ہاتھ میں چابک لے رکھا تھا اور سابق اداکار اور سیاسی رہنما ایم جی رام چندر ن کی نقل اپنا رکھی تھی۔اس کے بعد انہوں نے لوک سبھا سکریٹری جنرل کی میز پر ایک ٹیپ ریکارڈ ر رکھ کر ایم جی آر کا گانا بجانا شروع کردیا۔ انہوں نے اسپیکر کی نشست کے نزدیک ہی ڈانس کرنا اور اپنے آپ کو چابک مارنا شروع کردیا ۔ اسپیکر نے دو منٹ کے اندر ہی ایوان کی کارروائی ملتوی کردی۔
دوپہر بارہ بجے کارروائی دوبارہ شروع ہونے کے بعد بھی شیو کمار اس مرتبہ بھی کھڑتال بجاتے ہوئے اسپیکر کی نشست کے قریب آگئے۔ ایک طرف ایوان کی کارروائی چل رہی تھی اور دوسری طرف وہ کھڑتال بجاتے ہوئے تیلگو ڈائیلاگ بولتے جارہے تھے۔ انا ڈی ایم کے کے تین اراکین بھی اسپیکر کی نشست کے قریب آکر کاویری ندی پر میک دالو ڈیم بنانے کی مخالفت کرنے لگے۔ ایوان کے میز پر ضروری دستاویز رکھنے کے بعد وزیر دفاع نے ایک بیان پڑھا اور اس کے بعد اسپیکر نے انا ڈی ایم کے کے لیڈر پی وینو گوپال اور دو دیگر اراکین اور شیو کمار کو ایوان کی کارروائی سے دو دن کے لئے معطل کردیا۔
سماج وای پارٹی کے رکن اترپردیش میں پارٹی کے رہنماوں کے خلاف سی بی آئی کے غلط استعمال کا الزام لگاتے ہوئے ہنگامہ کررہے تھے۔ دوسری طرف کانگریس کے رہنما ملک ارجن کھڑگے کو اسپیکر نے ہندوستان ایروناٹکس کی خراب ہوتی مالی حالت کا معاملہ وقفہ صفرمیں اٹھانے دیا۔ لیکن انہیں اپنی پوری بات رکھنے سے یہ کہہ کر منع کردیا کہ وقفہ صفر میں طویل تقریر نہیں ہوتی۔ا س پر کانگریس کے اراکین پورے وقفہ صفر میں ہنگامہ کرتے رہے ۔ اس کے بعد کانگریس کے اراکین بھی ایوان کے بیچ میں آکر نعرے بازی کرنے لگے۔
لوک سبھا میں وقفہ صفر سے پہلے وزیر دفاع نرملا سیتا رمن نے اعدادو شمار پیش کرتے ہوئے چار جنوری کو اپنے بیان کا دفاع کیا۔ انہوں نے کہا کہ کہا ’’2014 سے 2018کے درمیان ایچ اے ایل نے 2657080کروڑ روپے کے آرڈر کے لئے معاہدوں پر دستخط کئے ہیں۔ اس کے علاوہ تقریباً 73ہزار کروڑ روپے کے آرڈر پائپ لائن میں ہیں۔انہوں نے کہا کہ لیکن ایچ اے ایل سے موصولہ ان حقائق سے ان کے بیان کی واضح طورپر تصدیق ہوتی ہے۔
وقفہ صفر کے دوران کانگریس نے وزیر دفاع پر ایک بار پھر غلط بیانی کا الزام لگایا اور ایچ اے ایل کی خراب ہوئی مالی حالت کا مسئلہ اٹھایا۔ ایوان میں پارٹی لیڈر ملک ارجن کھڑگے نے کہا کہ رفائیل سودا میں آفسیٹ ایچ اے ایل سے چھین کر ایک نجی کمپنی کو دینے کی وجہ سے اس سرکاری ادارہ پر اثر پڑا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کمپنی کے پاس نقدی کا اتنا بحران ہے کہ ملازمین کو تنخواہ دینے کے لئے ایک ہزار کروڑ روپے کا قرض لینا پڑا ہے۔
لنچ کے بعد کانگریس اور سماج وادی پارٹی کے ہنگامے کے درمیان جذام کو شادی ختم کرنے کا بنیاد بنانے والے قوانین میں تبدیلی کے لئے بل پر بحث ہوئی اور اسے صوتی ووٹوں سے منظور کردیا گیا ۔ یہ بل پاس ہوتے ہی ایوان کی کارروائی دن بھر کے لئے ملتوی کرنے کا اعلان کردیا گیا۔
اس سے قبل نیشنل ٹیچر ایجوکیشن کاونسل (ترمیمی) بل اور مفت اور لازمی بچوں کے تعلیم کا حق(ترمیمی) بل کے ناموں میں معمولی تبدیلی کو بھی ایوان سے شور شرابے کے درمیان ہی منظوری دی گئی۔
راجیہ سبھا میں ایس پی نے اس کے لیڈروں پر اترپردیش میں سی بی آئی کے چھاپے او رکانگریس نے رفائیل سودے کی جانچ کے لئے جے پی سی کا مطالبہ پر ہنگامہ کیا۔ انا ڈی ایم کے او ر ڈی ایم کے کے اراکین گذشتہ ہفتہ ان کے اراکین کے لئے معطلی واپس لینے کے لئے ہنگامہ کررہے تھے۔ ترنمول اور بہوجن سماج پارٹی کے اراکین بھی اپنے اپنے مطالبات پر زور دینے کے لئے شو ر شرابہ کررہے تھے۔
وقفہ صفر میں ملتوی ہونے کے بعد دوپہر دو بجے جب راجیہ سبھاکی کارروائی شروع ہوئی تو ہنگامے کے درمیان ہی آیوش کے وزیر شری پسد یوشو نائک نے نیشنل انڈین آیو روگیان سسٹم کمیشن بل 2019 اور نیشنل ہومیوپیتھی کمیشن بل 2019 پیش کئے۔
نائب چیئرمین ہری ونش نے نعرے بازی کرنے والے اراکین کو پرسکون رہنے اور اپنی سیٹوں پر جانے کی اپیل کی لیکن اس کا کوئی اثر نہیں ہوا تو انہوں نے دو بجکر سات منٹ پر ایوان کی کارروائی پندرہ منٹ کے لئے ملتوی کردی ۔ دوبارہ کارروائی شروع ہونے کے بعد اپوزیشن ارکین کا ہنگامہ جاری رہا ۔ نائب چیئرمین نے ایوان کی کارروائی چلانےکی کوشش کی ۔ لیکن اراکین کی نعرے بازی جاری رہی ۔ اس کے بعدانہوں نے ایوان کی کارروائی دن بھر کے لئے ملتوی کردی۔
دنیا
اسرائیلی انتخابات سے قبل نیتن یاہو کی لیکوڈ اور آئزنکوٹ کی یاشار پارٹی کے درمیان سخت مقابلہ
یروشلم، اسرائیل میں منگل کو ہونے والے انتخابات سے قبل وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کی حمایت کرنے والے اور ان کی مخالفت کرنے والے جماعتی اتحادوں کے درمیان سخت مقابلہ ہے۔ تاہم، زمان اسرائیل کے ایک تازہ ترین سروے کے مطابق، کسی بھی اتحاد کو 120 رکنی کنیسٹ (اسرائیلی پارلیمان) میں اکثریت حاصل ہوتی دکھائی نہیں دے رہی ہے۔
14 اور 15 اکتوبر کو 500 یہودی اور عرب افراد کے درمیان کیے گئے اس سروے میں یہودی قیادت والے دونوں بڑے سیاسی اتحادوں کو 51، 51 نشستیں ملنے کا اندازہ ظاہر کیا گیا ہے، جو حکومت تشکیل دینے کے لیے درکار 61 نشستوں سے کافی کم ہے۔
عرب قیادت والی جماعتوں کو مجموعی طور پر 14 نشستیں ملنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جبکہ کسی اتحاد کا حصہ نہ بننے والی ریزروسٹس پارٹی کو چار نشستیں ملنے کی توقع ہے۔
دونوں میں سے کسی بھی اتحاد کے لیے بعض حریف جماعتوں کے ساتھ حکومت نہ بنانے سے متعلق انتخابی وعدوں سے پیچھے ہٹے بغیر اکثریت حاصل کرنا مشکل ہوگا۔
اگر کوئی اتحاد حکومت تشکیل دینے میں ناکام رہتا ہے تو 2027 کے اوائل میں دوبارہ انتخابات کرائے جا سکتے ہیں اور اس دوران نیتن یاہو نگراں وزیر اعظم برقرار رہیں گے۔
ٹائمز آف اسرائیل کے ایک الگ سروے کے مطابق، تقریباً 60 فیصد جواب دہندگان چاہتے ہیں کہ اگر نیتن یاہو حکومت بنانے میں ناکام رہتے ہیں تو وہ سیاست سے سبکدوش ہوجائیں۔
ٹائمز آف اسرائیل کے جماعت وار اندازوں کے مطابق، اپوزیشن رہنما گادی آئزنکوٹ کی یاشار پارٹی 23 نشستوں کے ساتھ پہلے مقام پر ہے، اگرچہ گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں اس کی متوقع نشستوں میں تین کی کمی آئی ہے۔
دوسری جانب نیتن یاہو کی لیکوڈ پارٹی 21 نشستوں کے ساتھ دوسرے مقام پر ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی حمایت کے چند روز بعد لیکوڈ کی متوقع نشستوں میں ایک کا اضافہ ہوا ہے۔
اسرائیل کے سابق وزیر اعظم نفتالی بینیٹ کی جماعت بی یاخاد کو 11 نشستیں ملنے کا امکان ہے، جبکہ سخت گیر موقف رکھنے والی یسرائیل بیتینو کو نو نشستیں مل سکتی ہیں۔ عرب قیادت والے جوائنٹ لسٹ اتحاد کو بھی نو نشستیں ملنے کی توقع ہے۔
انتہائی قدامت پسند مذہبی جماعتوں شاس اور یونائیٹڈ توراہ جوڈازم، بائیں بازو کی ڈیموکریٹس اور انتہائی دائیں بازو کی اوتسما یہودیت، ہر ایک کو آٹھ نشستیں ملنے کا اندازہ ہے۔ مذہبی صہیونیت پارٹی کو چھ، تاریخی طور پر اسلام پسند جماعت راعم کو پانچ اور ریزروسٹس پارٹی کو چار نشستیں ملنے کی توقع ہے۔
اوفیر ونٹر کی قیادت والی دائیں بازو کی پیپلز آف اسرائیل پارٹی کے بارے میں اندازہ ہے کہ وہ انتخابی حد عبور نہیں کر پائے گی۔ اس جماعت نے وعدہ کیا ہے کہ وہ
جاری ۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
سرائیلی فوج کے سربراہ نے کنیسٹ انتخابات سے قبل ایران پر حملے کی ضرورت مسترد کردی
یروشلم، اسرائیلی فوج کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ایال زامیر نے فی الحال ایران پر حملے کے لیے کسی عملی ضرورت سے انکار کیا ہے۔ چینل 13 نے جمعرات کو یہ اطلاع دی۔ ان کا یہ بیان اسرائیل میں 27 اکتوبر کو ہونے والے کنیسٹ انتخابات سے قبل ایران کے ساتھ جنگ دوبارہ شروع ہونے کے خدشات کے درمیان سامنے آیا ہے۔
چینل 13 کے مطابق، زامیر نے حالیہ ایک نجی اجلاس میں کہا، ”ہمیں ایسے کوئی اشارے نہیں ملے ہیں جن سے ظاہر ہو کہ انتخابات سے پہلے ایران پر حملہ ضروری ہے۔ اگر ہم اس نتیجے پر پہنچے کہ ایران پر حملہ ضروری ہے تو ہم ایسا کریں گے۔”
وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کے اہم حریف اور یاشار پارٹی کے سربراہ گادی آئزنکوٹ نے بھی جمعرات کو اسی طرح کا موقف ظاہر کیا۔ انہوں نے چینل 13 سے کہا، ”ایران کی جانب سے کوئی ایسا براہ راست اور فوری خطرہ نہیں ہے جو انتخابات سے پہلے جنگ شروع کرنے کو ضروری بنائے۔”
نیتن یاہو کو ناقدین کی جانب سے ان الزامات کا سامنا ہے کہ وہ اسرائیلی انتخابات پر اثرانداز ہونے یا انہیں ملتوی کرانے کے لیے ایران کے خلاف جنگ دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تاہم، انہوں نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر
عمر عبداللہ کی لوگوں سے باغِ گلِ داؤد کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہونے کی اپیل
سری نگر، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعہ کو کہا کہ سری نگر کا پہلا مخصوص گلِ داؤدی باغ، ‘باغِ گلِ داؤد’، سیاحوں کو پھولوں کی ایک منفرد دل کشی فراہم کرکے کشمیر میں سیاحتی موسم کو وسعت دینے میں مددگار ثابت ہوگا۔
باغ کا دوسری مرتبہ افتتاح کرنے کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد کشمیر کے سیاحتی موسم کے آغاز اور اختتام، دونوں ادوار میں سیاحوں کے لیے خصوصی کشش کے مقامات تیار کرنا ہے۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کو تیار کرنے کے پیچھے ہمارا مقصد سیاحتی موسم کو فروغ دینا ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ محکمۂ گل کاری نے باغِ گلِ داؤد کو اس لیے تیار کیا ہے تاکہ ایسے عرصے میں سیاحوں کو ایک منفرد تجربہ فراہم کیا جا سکے، جب سیاحت کے لیے خاص کشش رکھنے والے مقامات نسبتاً کم ہوتے ہیں۔
زبرون پہاڑیوں کے دامن میں واقع اور ڈل جھیل کے چمکتے پانیوں کا نظارہ پیش کرنے والا یہ خوب صورت، زینہ دار باغ سری نگر کے مشہور ٹیولپ گارڈن کے قریب واقع ہے۔
عمر عبداللہ نے لوگوں کو باغ کی سیر کی دعوت دیتے ہوئے کہاکہ ”میں نہ صرف ملک بھر کے ان لوگوں کو کشمیر آنے کی دعوت دیتا ہوں جو یہاں کی سیر کے خواہش مند ہیں، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر سری نگر اور آس پاس کے علاقوں میں رہنے والے اپنے لوگوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ آئیں اور اس باغ کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہوں۔”
انہوں نے سیاحوں پر زور دیا کہ وہ باغ میں تصاویر کھینچیں اور یہاں کی خوب صورتی کی یادیں ہمیشہ کے لیے محفوظ کریں۔
گزشتہ سال باغ کے افتتاح کے بعد ہونے والی پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ باغ میں نمایاں بہتری آئی ہے اور اسے مزید دل کش بنانے کی کوششیں جاری رہیں گی۔
انہوں نے کہاکہ ”آپ میں سے جو لوگ گزشتہ سال افتتاح کے موقع پر میرے ساتھ تھے اور جنہوں نے اس مرتبہ یہاں آنے کا موقع حاصل کیا ہے، انہوں نے خود دیکھا ہوگا کہ اس باغ نے کتنی ترقی کی ہے۔”
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پائیداری کے اعتبار سے بھی اس باغ کو ایک فائدہ حاصل ہے، کیونکہ اس کے پودوں کو مقامی طور پر افزائش دے کر بڑھایا جا سکتا ہے، جب کہ ٹیولپ کے بلب بار بار درآمد کرنے پڑتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کا ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ ٹیولپ گارڈن کے برعکس، جس کے لیے ہمیں بار بار بیرونِ ملک سے بلب منگوانے پڑتے ہیں، باغِ گلِ داؤد کے پودوں کا مواد ہمارے اپنے پاس موجود ہے۔ ہم خود ان کی افزائش کرتے ہیں اور ان کی تعداد بڑھاتے ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت ہر سال باغ میں نئی خصوصیات متعارف کرانے کی کوشش کرے گی تاکہ اس کی کشش برقرار رہے اور سیاحتی مقام کے طور پر اس کا کردار مزید مستحکم ہو۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا6 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
پاکستان1 week agoپاکستان کے شمال مغربی علاقے میں اسکول کی چھت گرنے سے کم از کم 29 افراد ہلاک
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر کے بالائی علاقوں میں ہلکی برف باری، وادی میں بارش سے سردی میں اضافہ
-
دنیا7 days agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
-
دنیا6 days agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
-
ہندوستان6 days agoگیانیش کمار سرکاری گواہ بنیں: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر کے قالین باف کو ہاتھ سے بنے قالینوں کے لیے قومی ایوارڈ
