ہندوستان
وندے ماترم کو توڑنے والی تفرقہ انگیز سوچ اب بھی ملک کے لیے ایک چیلنج ہے: مودی
نئی دہلی،کانگریس کا نام لیے بغیر وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کو کہا کہ ایک تفرقہ انگیز ذہنیت نے 1937 میں ملک کی تعمیر کے مہامنتر وندے ماترم کے کچھ حصوں کو ہٹا کر توڑ دیا تھا اور وندے ماترم کی اس تقسیم نے ملک کی تقسیم کا بیج بھی بو دیا تھا۔
مسٹر مودی نے اہل وطن بالخصوص نوجوانوں کو آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ تفرقہ انگیز ذہنیت آج بھی ملک کے لیے ایک چیلنج بنی ہوئی ہے اور اس سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔
مسٹر مودی نے قومی گیت وندے ماترم کے 150 سال مکمل ہونے کے موقع پر یہاں منعقدہ یادگاری تقریب سے خطاب کرتے ہوئے یہ بات کہی۔ اس موقع پر وزیر اعظم نے ایک یادگاری سکہ اور ایک یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری کیا اور وندے ماترم کے لیے وقف ایک پورٹل بھی لانچ کیا۔ مرکزی حکومت نے وندے ماترم کے 150 سال مکمل ہونے کے موقع پر سال بھر کے پروگراموں کا اعلان کیا ہے۔ یہ پروگرام اگلے ایک سال کے دوران پانچ مرحلوں میں منعقد کیے جائیں گے۔
آزادی کے بعد سے ملک کی تعمیر میں وندے ماترم کے اہم سفر کا ذکر کرتے ہوئے مسٹر مودی نے کہا کہ وندے ماترم سے جڑا ایک اور موضوع ہے جس پر بحث کرنا اتنا ہی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا، “آزادی کی جدوجہد میں وندے ماترم کے جذبے نے پوری قوم کو روشن کیا تھا۔ لیکن بدقسمتی سے 1937 میں وندے ماترم کی اہم حصوں کو، اس کی روح کے ایک حصے کو الگ کر دیا گیا تھا۔ وندے ماترم کو توڑ دیا گیا تھا۔ اسے ٹکڑے کیے گئے تھے۔
وندے ماترم کی اس تقسیم نے ملک میں تقسیم کا بیج بویا تھا۔ قوم کی تعمیر کے مہامنتر کے ساتھ یہ ناانصافی کیو ہوئی۔ یہ آج کی نسل کے لیے جاننا ضروری ہے، کیوں کہ وہی تفرقہ انگیز سوچ آج بھی ملک کے لیے ایک چیلنج بنی ہوئی ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ اس صدی کو ہندوستان کی صدی بنانے کے لیے ہم سب کو مل کر کام کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا، “ہندوستان میں یہ صلاحیت ہے، ہمیں اس کے لیے خود پر یقین کرنا چاہیے۔”
منفی سوچ رکھنے والے لوگوں سے ہوشیار رہنے کی اپیل کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ شک پیدا کرنے کی ان کی کوششوں کو ناکام بنانا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ منفی سوچ رکھنے والے شکوک پیدا کرنے کی کوشش کریں گے۔ اس سوچ سے نمٹنے کے لیے ہمیں آنند مٹھ کے واقعے کو ذہن میں رکھ کر قدم اٹھانا چاہیے۔ انہوں نے کہا، “مادر وطن کے 140 کروڑ لوگ اور ان کے 280 کروڑ بازو ہیں۔ ہمارے لیے کچھ بھی ناممکن نہیں ہے۔ خود انحصار ہندوستان کے عزم کو پورا کرنا ہر ایک کا عزم ہونا چاہیے۔”
وندے ماترم کے 150 سال مکمل ہونے پر ہم وطنوں کو مبارکباد دیتے ہوئے، مسٹر مودی نے کہا کہ ہر تخلیق ایک بنیادی پیغام ہوتی ہے، بنیادی جذبہ ہوتا ہے اور وندے ماترم کا بنیادی جذبہ بھارت اور ماں بھارتی ہے۔ یہ ہندوستان کا ابدی تصور ہے۔ اسی بنیاد پر ہندوستان نے طاقت اور اخلاقیات کے درمیان توازن برقرار رکھتے ہوئے اپنی ثقافتی شناخت بنائی۔ ہندوستان کا یہ تصور اس کی نظریاتی طاقت ہے۔
یواین آئی۔الف الف
ہندوستان
اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 نشستوں پر بلا مقابلہ انتخاب، بی جے پی کے 8 اور سماجوادی پارٹی کے 2 امیدوار کامیاب
لکھنؤ، اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 سیٹوں پر بلامقابلہ انتخاب ہو گیا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے دو امیدواروں کو منتخب قرار دیا گیا ہے۔ ووٹنگ کی ضرورت نہیں تھی کیوں کہ تمام نشستوں پر امیدواروں کی تعداد نشستوں کی تعداد کے برابر تھی۔ کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال اور دستبرداری کا عمل مکمل ہونے کے بعد ریٹرننگ آفیسر نے تمام 10 امیدواروں کو بلا مقابلہ منتخب قرار دے دیا۔
بعد ازاں اسمبلی میں منتخب اراکین اسمبلی کو سرٹیفکیٹ پیش کیے گئے۔ بی جے پی کے منتخب امیدواروں میں ودیا ساگر سونکر، پرینکا سنگھ راوت، گوپی کرشنا پانڈے، دھرمپال سنگھ، رادھاکانت اوجھا، پرکاش پال، رام پرتاپ سنگھ چوہان اور شروتی گنگوار شامل ہیں، جب کہ سماج وادی پارٹی کے پروفیسر رام گوپال یادو اور دھن راج پریمل ناتھوپوانی راجپوت سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔ چوں کہ ان راجیہ سبھا سیٹوں کے لیے کوئی اور امیدوار مقابلہ نہیں کر رہا تھا، اس لیے الیکشن بغیر ووٹ کے ختم ہو گیا۔ الیکشن کے بعد اتر پردیش سے بی جے پی کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی کے دو نمائندے راجیہ سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔
یو این آئی۔ این یو۔ م الف
ہندوستان
مودی حکومت کی پالیسیوں نے معاشی لبرلائزیشن کو برباد کر دیا: کھرگے
نئی دہلی، کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے مودی حکومت کی معاشی پالیسیوں پر شدید نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس حکومت نے عام لوگوں کے مفادات کو نظر انداز کر کے صارفین کے لیے متعدد اختیارات کی مسابقت کو ختم کر دیا ہے اور منتخب سرمایہ دار دوستوں کو فائدہ پہنچایا جا رہا ہے، جس سے معاشی لبرلائزیشن کی بنیاد برباد ہو گئی ہے۔
مسٹر کھرگے نے جمعہ کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر لکھا کہ مودی حکومت کی معاشی پالیسیوں کا مقصد معیشت کا کنٹرول اپنے چہیتے سرمایہ دار دوستوں کے ہاتھوں میں سونپنا ہے، تاکہ بدلے میں منافع میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کا حصہ برقرار رہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مسابقت کو ختم کر کے اجارہ داری اور دو کمپنیوں کے غلبے والے نظام کو نافذ کر کے بی جے پی کے خزانے کو بھرنے کا کام کیا گیا ہے۔
کانگریس صدر نے کہا کہ ٹیلی کام کے شعبے میں 2014 سے پہلے 13 کمپنیاں تھیں، جبکہ اب صرف تین بڑی نجی کمپنیاں رہ گئی ہیں۔ اسی طرح اندرونِ ملک ہوا بازی کے شعبے میں 2014 سے پہلے سات کمپنیوں کے مقابلے اب صرف دو بڑی کمپنیاں رہ گئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل ادائیگی، سیمنٹ اور فوڈ ڈیلیوری ایپس سمیت مختلف شعبوں میں حکومت کی ترجیح مسابقت کو ختم کرنا رہی ہے۔ مسٹر کھرگے نے کہا کہ کانگریس معاشی لبرلائزیشن کی بانی ہے، جبکہ بی جے پی پر اپنے منافع کے لیے ‘معاشی دہشت گردی’ نافذ کرنے کا الزام لگایا۔
مسٹر کھرگے نے دعویٰ کیا کہ حکومت کی معاشی پالیسیوں سے مائیکرو، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز (ایم ایس ایم ای) اور دیگر چھوٹے و درمیانے درجے کی صنعتوں کو نقصان پہنچا ہے نیز ملک کے نوجوانوں کو شدید بے روزگاری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
انڈیا اتحاد کے رہنماؤں سے جمعہ کی رات آٹھ بجے ملاقات کریں گی مرمو
نئی دہلی، انڈیا اتحاد کے رہنما جمعہ کی رات آٹھ بجے صدرِ جمہوریہ دروپدی مرمو سے ملاقات کر کے ووٹر لسٹ کی خصوصی تفصیلی نظرثانی (ایس آئی آر) کےعمل کے ذریعے دھاندلی کرنے اور الیکشن کمیشن کے طریقہ کار سے متعلق مسائل پر اپنے خدشات پیش کریں گے۔
ذرائع کے مطابق انڈیا اتحاد کے رہنماؤں نے 30 ستمبر کو یہاں منعقدہ میٹنگ میں صدرِ جمہوریہ سے ملاقات کر کے ان مسائل پر ان کے سامنے اپنا موقف رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اتحاد کے رہنما ایس آئی آر کے عمل اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے طریقہ کار سے متعلق اپنے خدشات سے صدرِ جمہوریہ کو آگاہ کرنا چاہتے ہیں۔
اس سلسلے میں صدرِ جمہوریہ سے ملاقات کے لیے پہلی بار دو اکتوبر کو مکتوب بھیج کر وقت مانگا گیا تھا۔ راشٹرپتی بھون کی طرف سے وفد میں شامل ہونے والے رہنماؤں کے نام مانگے جانے کے بعد اتحاد نے پانچ اکتوبر کو دوبارہ مکتوب بھیجا اور سات، آٹھ یا نو اکتوبر میں سے کسی بھی دن ملاقات کا وقت دینے کی درخواست کی تھی۔
انڈیا اتحاد کے رہنما چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار پر ووٹر لسٹ میں مبینہ دھاندلیوں کے تعلق سے سوال اٹھاتے ہوئے ان کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اس معاملے پر اتحاد کے اراکینِ پارلیمنٹ نے مظاہرے اور مارچ بھی نکالے ہیں۔
کانگریس نے الیکشن کمیشن کے خلاف اپنے احتجاج کو تیز کرنے کے لیے تقریباً ڈیڑھ ماہ تک جاری رہنے والی تحریک کے پروگرام کی بھی توثیق کی ہے۔ کانگریسی رہنما راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی واڈرا کو پولیس مظاہرے کے دوران مسلسل دو بار حراست میں بھی لے چکی ہے۔
یواین آئی ایف اے
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
جموں و کشمیر1 week agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
ہندوستان1 week agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
دنیا7 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
-
دنیا1 week agoامریکہ، ایران جنگ بندی معاہدے کی راہ میں بداعتمادی اور گہرے اختلافات حائل
-
ہندوستان1 week agoکھرگے- راہل نے گاندھی اور شاستری کو یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش کیا
-
دنیا1 week agoمتحدہ عرب امارات کا فلائی دبئی کے طیارے میں کاک پٹ چاقو زنی کی تحقیقات کا حکم
-
دنیا1 week agoمعاہدہ نہ ہونے پر وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ فوجی کارروائی ممکن: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoیمن میں تعز کی لڑائی تیز، حوثی ٹھکانوں پر تین گھنٹے میں 20 فضائی حملے
