تازہ ترین
مرمو، مودی اور بِرلا نے امبیڈکر کے مہاپری نروان دیوس پر خراجِ عقیدت پیش کیا
نئی دہلی، صدرِ جمہوریہ دروپدی مرمو، نائب صدر و راجیہ سبھا کے چیئرمین سی پی رادھا کشنن، وزیرِ اعظم نریندر مودی اور لوک سبھا کے اسپیکر اوم بِرلا نے ہفتہ کو بابا صاحب ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر کے 70 ویں مہاپری نروان دیوس کے موقع پر پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے میں واقع ’’پریرنا استھل‘‘ میں نصب اُن کے مجسمے پر گلہائے عقیدت نذر کرکے خراجِ عقیدت پیش کیا۔
وزیراعظم نریندر مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ “مہاپری نروان دیوس پر ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر کو یاد کرتا ہوں۔ انصاف، برابری اور آئینی اصولوں کے تئیں اُن کی دوراندیش قیادت اور ان کی اٹل وابستگی ہمارے قومی سفر کو مسلسل سمت دیتی رہتی ہے۔”
ہندوستان کی ترقی میں امبیڈکر کے مستقل تعاون پر زور دیتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ “ڈاکٹر امبیڈکر نے نسلوں کو انسانی وقار برقرار رکھنے اور جمہوری قدروں کو مضبوط کرنے کے لئے ہمیشہ تحریک دی۔ وکست بھارت کی تعمیر کی جانب بڑھتے ہوئے اُن کے اصول اسی طرح ہمارے راستے کو روشن کرتے رہیں۔”
لوک سبھا کے اسپیکر اوم بِرلا نے اپنے پیغام میں کہا کہ “بھارت کے عظیم آئین کے معمار، سماجی انصاف کے محافظ، بھارت رتن بابا صاحب ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر جی کے مہاپری نروان دیوس پر انہیں دلی خراجِ عقیدت۔”
انہوں نے کہا کہ مساوات، انصاف، تعلیم اور شمولیاتی ترقی پر مبنی معاشرے کا اُن کا نظریہ آج بھی ہندوستانی ترقی کے لئے مشعلِ راہ ہے۔ ان بنیادی اقدار کو بابا صاحب نے دستور ہند میں بھی شامل کیا۔ فلاحی ریاست کے تصور کے ساتھ کروڑوں شہریوں کے لئے انصاف، مساوات، آزادی اور حقوق کی راہ ہموار کی۔
مسٹر بِرلا نے کہا کہ ملک کی تعمیر اور آئین کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرنے والے امبیڈکر جی نے ہندوستانی سماج کو مضبوط بنانے کی سمت میں بھی عظیم کوششیں کیں۔ انہوں نے محروم طبقات، مزدوروں، خواتین اور نوجوانوں کو جو پیغامات دیے، وہ ایک ترقی پسند ملک کی تعمیر کے لیے ناگزیر دستاویز کی حیثیت رکھتے ہیں۔ آج کے دور میں بھی بابا صاحب کی تحریریں اور تقاریر انقلابی فکر اور اخلاقیات کے اصول پیش کرتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دنیا کے جس بھی حصے میں نا برابری، امتیاز یا چھوا چھوت موجود ہے، وہاں کے پورے معاشرے کو ظلم، استحصال اور ناانصافی سے نجات دلانے کے لیے امبیڈکر جی کا نظریہ اور اُن کی زندگی کی جدوجہد ایک روشن راستہ دکھاتی ہے۔
لوک سبھا کے اسپیکر نے کہا کہ بابا صاحب امبیڈکر کا ماننا تھا کہ لوگوں کا معیارِ زندگی بلند کرنے کے لیے تعلیم سب سے اہم آلہ کار ہے۔ ان کا نعرہ بھی ’’تعلیم حاصل کرو، منظم رہو، جدوجہد کرو‘‘تھا۔ تعلیم کے میدان میں انہوں نے صرف اصول قائم نہیں کیے بلکہ اپنی تعلیمی اداروں میں ان اصولوں کو عملی طور پر نافذ بھی کیا۔
اس موقع پر مرکزی وزراء، راجیہ سبھا میں حزبِ اختلاف کے لیڈر ملکارجن کھڑگے، لوک سبھا میں حزبِ اختلاف کے لیڈر راہل گاندھی، ارکانِ پارلیمان، سابق اراکینِ پارلیمنٹ اور دیگر معزز شخصیات نے بھی باباصاحب ڈاکٹر بی آر امبیڈکر کے مجسمے پر گلہائے عقیدت نذر کرکے خراجِ عقیدت پیش کیا۔
لوک سبھا کے جنرل سکریٹری اُتپل کمار سنگھ اور راجیہ سبھا کے جنرل سکریٹری پی سی مودی نے بھی ’’پریرنا استھل‘‘ پر ڈاکٹر امبیڈکر کو گلہائے عقیدت پیش کیے۔
یو این آئی۔ این یو۔
جموں و کشمیر
دہلی میں مودی کے حامی کشمیری نوجوان پر حملے کے خلاف سری نگر میں احتجاج
سری نگر، نئی دہلی کے کناٹ پلیس میں کانگریس کے احتجاج کے دوران سری نگر کے رہائشی فہیم نذیر شاہ پر مبینہ حملے کے خلاف جمعہ کو کشمیری نوجوانوں کے ایک گروپ نے سری نگر میں احتجاج کیا اور اس واقعے میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا۔
احتجاجی نوجوان ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھائے ہوئے تھے اور کانگریس کے خلاف نعرے لگا رہے تھے۔ انہوں نے شہر کے مرکزی علاقے کی جانب مارچ کرنے کی کوشش کی، تاہم پولیس نے انہیں روک دیا۔
وزیراعظم نریندر مودی کے حامی فہیم نذیر شاہ پر مبینہ طور پر جمعرات کو اس وقت حملہ کیا گیا، جب وہ ایک پلے کارڈ لے کر کانگریس کے احتجاجی مقام پر پہنچے۔ پلے کارڈ پر ”وزیراعظم اور وزیر داخلہ سے معافی مانگو” درج تھا۔ وہاں انہوں نے نعرے بھی لگائے۔ اس واقعے کے بعد، بالخصوص بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی جانب سے شدید مذمت کی گئی۔
سری نگر میں احتجاج کرنے والوں نے سوال کیا کہ سیاسی خیالات کا اظہار کرنے پر فہیم شاہ کو نشانہ کیوں بنایا گیا؟ انہوں نے کہا کہ ہر شہری کو تشدد کے خوف کے بغیر اپنی رائے ظاہر کرنے کا حق حاصل ہے۔
ایک احتجاجی نے سوال کیاکہ ”کیا ان کا قصور یہ تھا کہ وہ کشمیری یا مسلمان ہیں، یا انہوں نے وزیراعظم کی حمایت میں بینر اٹھایا تھا؟” انہوں نے مطالبہ کیا کہ کشمیریوں کا احترام کیا جائے اور وہ جہاں بھی جائیں، ان کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔
ایک دوسرے احتجاجی نے کہا کہ فہیم شاہ کے ساتھ اظہارِ یکجہتی اور انہیں انصاف دلانے کے مطالبے کے لیے یہ مظاہرہ منعقد کیا گیا۔ انہوں نے مرکزی وزیر داخلہ اور دہلی انتظامیہ سے اپیل کی کہ اس واقعے کے ذمہ دار افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔
یواین آئی۔ ظ ا
ہندوستان
اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 نشستوں پر بلا مقابلہ انتخاب، بی جے پی کے 8 اور سماجوادی پارٹی کے 2 امیدوار کامیاب
لکھنؤ، اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 سیٹوں پر بلامقابلہ انتخاب ہو گیا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے دو امیدواروں کو منتخب قرار دیا گیا ہے۔ ووٹنگ کی ضرورت نہیں تھی کیوں کہ تمام نشستوں پر امیدواروں کی تعداد نشستوں کی تعداد کے برابر تھی۔ کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال اور دستبرداری کا عمل مکمل ہونے کے بعد ریٹرننگ آفیسر نے تمام 10 امیدواروں کو بلا مقابلہ منتخب قرار دے دیا۔
بعد ازاں اسمبلی میں منتخب اراکین اسمبلی کو سرٹیفکیٹ پیش کیے گئے۔ بی جے پی کے منتخب امیدواروں میں ودیا ساگر سونکر، پرینکا سنگھ راوت، گوپی کرشنا پانڈے، دھرمپال سنگھ، رادھاکانت اوجھا، پرکاش پال، رام پرتاپ سنگھ چوہان اور شروتی گنگوار شامل ہیں، جب کہ سماج وادی پارٹی کے پروفیسر رام گوپال یادو اور دھن راج پریمل ناتھوپوانی راجپوت سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔ چوں کہ ان راجیہ سبھا سیٹوں کے لیے کوئی اور امیدوار مقابلہ نہیں کر رہا تھا، اس لیے الیکشن بغیر ووٹ کے ختم ہو گیا۔ الیکشن کے بعد اتر پردیش سے بی جے پی کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی کے دو نمائندے راجیہ سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔
یو این آئی۔ این یو۔ م الف
فن و ادب
ریکھا کی ادکاری ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب
ممبئی،
ریکھا محض ایک اداکارہ نہیں بلکہ ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب ہیں۔ ان کی اداکاری، شخصیت اور فن آنے والی نسلوں کے لیے بھی اہمیت رکھتے ہیں۔ ان کا فلمی سفر اس حقیقت کی گواہی دیتا ہے کہ اصل عظمت صرف شہرت حاصل کرنے میں نہیں، بلکہ اپنے فن کے ذریعے وقت کی حدود سے آگے نکل جانے میں ہے۔
ریکھا کی زندگی کامیابی، جدوجہد، تنہائی، شہرت اور خود کو نئے انداز میں پیش کرنے کی ایک طویل داستان ہے۔ انہوں نے بچپن کی مشکلات سے نکل کر ہندوستانی فلمی دنیا میں وہ مقام حاصل کیا جس تک پہنچنا ہر فنکار کے لیے ممکن نہیں ہوتا۔
‘خوب صورت’ کی زندہ دل منجو ہو، ‘امراو جان’ کی غم زدہ شاعرہ، ‘گھر’ کی دکھ سہنے والی عورت یا ‘خون بھری مانگ’ کی مضبوط کردار والی ہیروئن، ریکھا نے ہر کردار میں اپنی الگ شناخت قائم کی۔
بالی وڈ کی امراؤ جان، قاتل نگاہیں اور نمکین رنگت والی مشہور اداکارہ ریکھا دس اکتوبر 1954 کو مدراس کے ایک گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ اُن کا حقیقی نام بھانو ریکھا گنیشن ہے۔ان کے والد جیمنی گنیشن اور ان کی ماں تیلگو اداکارہ پشپ دیوی نے باقاعدہ شادی نہیں کی تھی۔ بچپن سے ہی تیلگو فلموں سے اپنا فلمی سفر شروع کرنے والی ریکھا کو کافی جدوجہد کرنی پڑی۔
ریکھا نے محض گیارہ سال کی عمر میں تیلگو فلم میں اداکاری سے اپنےکیرئیر کاآغاز کیا، 1969 میں ہندی فلم ‘دو شکاری’ کی ہیروئن کے روپ میں جلوہ گر ہوئیں اور جلد ہی فلمی دنیا پر راج کرنے لگیں۔
سال 1976 میں انہوں نے پہلی بار امیتابھ بچن کے ساتھ فلم ‘دو انجانے’ میں کام کیا اور فلم کو امر کردیا۔ اس کے بعد یہ جوڑی نٹور لال، خون پسینہ، مقدر کا سکندر اور بہت سی فلموں میں ایک ساتھ نظر آئی ۔
1978 میں فلم ‘مقدرکا سکندر’ نے ریکھا کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچادیا اورانہیں فلم فیئر ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔
جاری یو این آئی۔ ایم جے
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
ہندوستان1 week agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
جموں و کشمیر1 week agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
دنیا6 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
-
دنیا1 week agoامریکہ، ایران جنگ بندی معاہدے کی راہ میں بداعتمادی اور گہرے اختلافات حائل
-
ہندوستان1 week agoکھرگے- راہل نے گاندھی اور شاستری کو یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش کیا
-
جموں و کشمیر1 week agoپیرا نے جموں و کشمیر کے چیف سیکریٹری اور قانون سکریٹری کے خلاف مراعات کی تحریک پیش کی
-
دنیا1 week agoمعاہدہ نہ ہونے پر وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ فوجی کارروائی ممکن: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoایران کو قطر کے ذریعے آبنائے ہرمز کی تجویز پر امریکی جواب موصول
