تازہ ترین
فوج سرحد پر سخت قدم اُٹھانے سے نہیں ہچکچائے گی: آرمی چیف
خبراردو:
فوجی سربراہ جنرل بپن راوت نے پاکستان کوکڑا انتباہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر پاکستان نے سرحد پر دہشت گرد کارروائیاں بند نہیں کیں تو فوج لائن آف کنٹرول پر پاکستان کے خلاف سخت قدم اُٹھانے سے نہیں ہچکچائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی مغربی سرحد سے لگنے والا ملک پاکستان دہشت گردوں کی مسلسل حمایت کررہا ہے تاہم فوج و فورسز انہیں منہ توڑ جواب دے رہی ہے۔ کشمیرنیوز سروس
فوجی سربراہ جنرل بپن راوت نے پڑوسی ملک پاکستان کو سخت پیغام ارسال کرتے ہوئے کہا کہ لائن آف کنٹرول اور بین الاقوامی سرحد پر فوج پاکستان کے خلاف ٹھوس کارروائی کرنے سے نہیں ہچکچائے گی۔ انہوں نے پاکستان پر سیدھا نشانہ سادھتے ہوئے کہا کہ ہماری مغربی سرحد سے جڑا ملک پاکستان دہشت گرد گروپوں کی مسلسل حمایت کررہا ہے تاہم فوج و فورسز اہلکار ان کی کارروائیوں کا منہ توڑ جواب دے رہے ہیں۔ جنرل بپن راوت کا کہنا تھا کہ فوج مشرقی سرحد پر صورتحال پر باریک بینی سے نظر رکھے ہوئی ہے اور کسی بھی امکانی گڑ بڑ سے نمٹنے کی بھر پور صلاحیت رکھتی ہے۔ ’ہماری فوج مشرقی سرحد پر انتہائی چوکس ہے اور صورتحال کا گہرائی کا لگاتار جائزہ لے رہی ہے۔ مشرقی سیکٹر پر دراندازوں کی نقل و حمل کو ناممکن بنانے اور امن و امان کی صورتحال کو قائم رکھنے کے لیے فوج نئے ضابطے کی پیروی کررہی ہے‘۔ نئی دہلی میں منعقدہ آرمی ڈے کے موقعے پر فوجی افسروں اور جوانوں کی بھاری تعداد سے خطاب کرتے ہوئے فوجی سربراہ جنرل بپن راوت نے پاکستان کو سخت انتباہ کرتے ہوئے کہا کہ فوج سرحد پر کسی بھی دراندازی کا منہ توڑ جواب دے گی۔
انہوں نے کہا کہ فوج سرحد پار دہشت گردی کو کسی بھی صورت میں برداشت نہیں کرے گی اور اگر پاکستان نے اپنی دہشت گرد کارروائیاں بند نہ کیں تو فوج سخت اقدام اُٹھانے پر مجبور ہوگی۔ فوجی سربراہ نے کہا کہ ہم جموں وکشمیر میں پاکستان کے ساتھ لگنے والی سرحد پر اخلاقی برتری کو یقینی بناناچاہتے ہیں تاہم پاکستان ہماری اس مہذبانہ کوشش کو ہماری کمزوری تصور کرتے ہوئے آئے روز لائن آف کنٹرول اور بین الاقوامی سرحد پر جنگجوؤں کو اس پار دھکیلنے کی کوشش کررہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اس بات کا ادراک حاصل کرے کہ وہ ہماری دوستانہ اور اخلاق پر مبنی کوششوں کو کمزور ی تصور نہ کریں کیوں کہ فوج سرحد پار دہشت گرد کارروائیوں کا سختی سے مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ فوج مشرتی سرحد پر امن و امان کو قائم رکھنے کے لیے نئی مرتب شدہ ہدایات پر سختی سے عمل پیرا ہے۔ ’فوج مشرقی سرحد پر کسی بھی دراندازی کو ناممکن بنانے اور یہاں امن و امان کی فضا کو قائم رکھنے کے لیے نئے ضابطے پر سختی سے کاربند ہیں‘۔ فوجی سربراہ کا کہنا تھا کہ مشرقی سرحد پر فوج مسلسل حالات کا گہرائی سے جائزہ لے رہی ہے تاکہ کسی بھی امکانی گڑ بڑ سے بروقت نمٹا جائے۔فوج سربراہ نے دوٹوک الفاظ میں بتایا کہ ہمارے جوان سرحدوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے کسی بھی سطح پر کمپرومائز کرنے کے روادار نہیں ہے۔
فوجی سربراہ کا کہنا تھا کہ آنے والے دنوں میں فوج کو جدید خطوط پر استوار کیا جائیگا اور فوجی کیڈر میں بڑے پیمانے پر ردوبدل ہونے والا ہے۔خیال رہے کہ چند روز قبل فوجی سربراہ جنرل بپن راوت نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں عمران خان کی حکومت تشکیل پانے کے ساتھ ہی وہاں سیاسی و سیکورٹی صورتحال میں کافی تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں۔ فوجی سربراہ نے کہا تھا کہ پاکستانی وزیر اعظم عمران خان کے قول و فعل میں کافی تضاد پایا جاتا ہے کیوں کہ دہشت گردی کا قلع قمع کرنے کی خاطر انہوں نے جو وعدے کئے تھے اُن کا زمینی سطح پر کہیں بھی نام و نشان نہیں ہے۔ فوجی سربراہ کا کہنا تھا کہ ابھی بھی سرحد پر بڑی تعداد میں دہشت گرد دراندازی کی کوششوں میں ہیں اور پاکستانی فوجی انہیں دراندازی میں بھر پور تعاون فراہم کرتی ہے جس کی وجہ سے سرحد پر مسلسل جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزیاں ہوتی رہتی ہے۔
ہندوستان
مودی حکومت کی پالیسیوں نے معاشی لبرلائزیشن کو برباد کر دیا: کھرگے
نئی دہلی، کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے مودی حکومت کی معاشی پالیسیوں پر شدید نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس حکومت نے عام لوگوں کے مفادات کو نظر انداز کر کے صارفین کے لیے متعدد اختیارات کی مسابقت کو ختم کر دیا ہے اور منتخب سرمایہ دار دوستوں کو فائدہ پہنچایا جا رہا ہے، جس سے معاشی لبرلائزیشن کی بنیاد برباد ہو گئی ہے۔
مسٹر کھرگے نے جمعہ کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر لکھا کہ مودی حکومت کی معاشی پالیسیوں کا مقصد معیشت کا کنٹرول اپنے چہیتے سرمایہ دار دوستوں کے ہاتھوں میں سونپنا ہے، تاکہ بدلے میں منافع میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کا حصہ برقرار رہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مسابقت کو ختم کر کے اجارہ داری اور دو کمپنیوں کے غلبے والے نظام کو نافذ کر کے بی جے پی کے خزانے کو بھرنے کا کام کیا گیا ہے۔
کانگریس صدر نے کہا کہ ٹیلی کام کے شعبے میں 2014 سے پہلے 13 کمپنیاں تھیں، جبکہ اب صرف تین بڑی نجی کمپنیاں رہ گئی ہیں۔ اسی طرح اندرونِ ملک ہوا بازی کے شعبے میں 2014 سے پہلے سات کمپنیوں کے مقابلے اب صرف دو بڑی کمپنیاں رہ گئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل ادائیگی، سیمنٹ اور فوڈ ڈیلیوری ایپس سمیت مختلف شعبوں میں حکومت کی ترجیح مسابقت کو ختم کرنا رہی ہے۔ مسٹر کھرگے نے کہا کہ کانگریس معاشی لبرلائزیشن کی بانی ہے، جبکہ بی جے پی پر اپنے منافع کے لیے ‘معاشی دہشت گردی’ نافذ کرنے کا الزام لگایا۔
مسٹر کھرگے نے دعویٰ کیا کہ حکومت کی معاشی پالیسیوں سے مائیکرو، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز (ایم ایس ایم ای) اور دیگر چھوٹے و درمیانے درجے کی صنعتوں کو نقصان پہنچا ہے نیز ملک کے نوجوانوں کو شدید بے روزگاری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
انڈیا اتحاد کے رہنماؤں سے جمعہ کی رات آٹھ بجے ملاقات کریں گی مرمو
نئی دہلی، انڈیا اتحاد کے رہنما جمعہ کی رات آٹھ بجے صدرِ جمہوریہ دروپدی مرمو سے ملاقات کر کے ووٹر لسٹ کی خصوصی تفصیلی نظرثانی (ایس آئی آر) کےعمل کے ذریعے دھاندلی کرنے اور الیکشن کمیشن کے طریقہ کار سے متعلق مسائل پر اپنے خدشات پیش کریں گے۔
ذرائع کے مطابق انڈیا اتحاد کے رہنماؤں نے 30 ستمبر کو یہاں منعقدہ میٹنگ میں صدرِ جمہوریہ سے ملاقات کر کے ان مسائل پر ان کے سامنے اپنا موقف رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اتحاد کے رہنما ایس آئی آر کے عمل اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے طریقہ کار سے متعلق اپنے خدشات سے صدرِ جمہوریہ کو آگاہ کرنا چاہتے ہیں۔
اس سلسلے میں صدرِ جمہوریہ سے ملاقات کے لیے پہلی بار دو اکتوبر کو مکتوب بھیج کر وقت مانگا گیا تھا۔ راشٹرپتی بھون کی طرف سے وفد میں شامل ہونے والے رہنماؤں کے نام مانگے جانے کے بعد اتحاد نے پانچ اکتوبر کو دوبارہ مکتوب بھیجا اور سات، آٹھ یا نو اکتوبر میں سے کسی بھی دن ملاقات کا وقت دینے کی درخواست کی تھی۔
انڈیا اتحاد کے رہنما چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار پر ووٹر لسٹ میں مبینہ دھاندلیوں کے تعلق سے سوال اٹھاتے ہوئے ان کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اس معاملے پر اتحاد کے اراکینِ پارلیمنٹ نے مظاہرے اور مارچ بھی نکالے ہیں۔
کانگریس نے الیکشن کمیشن کے خلاف اپنے احتجاج کو تیز کرنے کے لیے تقریباً ڈیڑھ ماہ تک جاری رہنے والی تحریک کے پروگرام کی بھی توثیق کی ہے۔ کانگریسی رہنما راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی واڈرا کو پولیس مظاہرے کے دوران مسلسل دو بار حراست میں بھی لے چکی ہے۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
ہندوستان نے امریکہ کے پی ای آر ایم پروگرام پر روک پر تشویش کا اظہار کیا، کہا – یہ دونوں ممالک کے مفادات کے خلاف
نئی دہلی، ہندوستان نے امریکی محکمہ محنت کے مستقل لیبر سرٹیفیکیشن پروگرام (پی ای آر ایم) سے جڑے فیصلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے دونوں ممالک کے مفادات کے خلاف بتایا ہے۔
امریکہ کی جانب سے جمعرات کی رات اس قدم کے اعلان کے بعد وزارتِ خارجہ نے جمعہ کے روز ایک بیان جاری کر کے کہا کہ اس قدم سے متاثرہ کمپنیوں کے اہل ملازمین کے گرین کارڈ کے عمل پر اثر پڑ سکتا ہے۔ تاہم پی ای آر ایم درخواستوں پر روک سے موجودہ ایچ-1بی ویزا یا ویزا ہولڈرز اور ان کے زیرِ کفالت افراد کی حیثیت پر خود بخود کوئی اثر نہیں پڑتا۔
ہندوستان نے کہا کہ پی ای آر ایم پروگرام، ایچ-1بی ویزا پروگرام سے مختلف ہے۔ متاثرہ کمپنیوں کے اہل ملازمین کی مستقل رہائش یعنی گرین کارڈ حاصل کرنے کے عمل پر اس کا کچھ اثر ہو سکتا ہے، لیکن اس سے موجودہ ایچ-1بی ویزا کی میعاد اپنے آپ ختم نہیں ہوتی۔
وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ ہندوستانی ٹیلنٹ کے امریکہ جانے سے دونوں ممالک کی معیشتوں کو فائدہ ہوتا ہے۔ اس سے ہندوستانیوں کو مواقع ملتے ہیں، جبکہ امریکی کمپنیوں کو ہنر مند ملازمین، نئی ٹیکنالوجی، تحقیق، جدت طرازی، پیداواری صلاحیت اور مسابقتی صلاحیت بڑھانے میں مدد ملتی ہے۔ اس سے امریکہ میں روزگار کے مواقع پیدا ہوتے ہیں اور شیئر ہولڈرز کے اثاثوں میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔
ہندوستان نے کہا کہ امریکہ کا یہ قدم دونوں ممالک کے مشترکہ اہداف کو آگے بڑھانے میں مدد نہیں کرتا۔ ہندوستان نے امریکی نائب صدر کے اس معاملے پر کیے گئے تبصروں پر بھی اعتراض ظاہر کیا۔ ہندوستان کے مطابق ایسے تبصرے غیر مناسب ہیں اور امریکہ کی معیشت نیز جدت طرازی میں ہندوستانی پیشہ ور افراد کی خدمات کو نظر انداز کرتے ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ہندوستانی پیشہ ور افراد امریکہ کی معیشت اور جدت طرازی کے نظام میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ امریکہ کی تاریخ بھی ایسے تارکینِ وطن کی خدمات سے بنی ہے جنہوں نے اپنے کام، کاروبار اور نئے خیالات سے ملک کی ترقی میں مدد کی ہے۔ ہندوستان نے کہا کہ دردناک تاریخی اور نوآبادیاتی دور کی یاد دلانے والے الفاظ کا استعمال انتہائی قابلِ اعتراض ہے۔
وزارتِ خارجہ نے کہا کہ وہ اس معاملے سے جڑی صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے۔
یواین آئی ایف اے
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoقطری ثالثی کی امریکہ، ایران کے درمیان مذاکرات میں معمولی پیش رفت
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
ہندوستان1 week agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
جموں و کشمیر7 days agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
دنیا6 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
ہندوستان1 week agoڈیفنس اکاؤنٹس ڈیپارٹمنٹ کے 279ویں سالانہ دن پر کئی نئی پہل کی شروعات کریں گے راج ناتھ
-
جموں و کشمیر1 week agoجاوید ڈار نے اسمبلی میں سی اے جی کی رپورٹیں پیش کیں
-
ہندوستان1 week agoشیئر بازاروں میں گراوٹ جاری، سینسیکس 49 پوائنٹس پھسلا
-
ہندوستان1 week agoکھرگے- راہل نے گاندھی اور شاستری کو یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش کیا
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
