جموں و کشمیر
پہلگام میں ایمانداری کی روشن مثال: کیب ڈرائیور نےغیرمقامی خاتون سیاح کا نقدی و قیمتی سامان سے بھرا بیگ واپس کر دیا
سری نگر، کشمیر کی مہمان نوازی اور دیانتداری ایک بار پھر دنیا کے سامنے اجاگر ہوئی ہے۔ جنوبی کشمیر کے مشہور سیاحتی مقام پہلگام میں ایک کیب ڈرائیور نے اپنی ایمانداری کی شاندار مثال قائم کرتے ہوئے ایک خاتون سیاح کا بیگ واپس کر دیا، جس میں لاکھوں روپیہ نقدی، ایک آئی فون اور دیگر قیمتی اشیاء موجود تھیں۔
یو این آئی نامہ نگار کے مطابق خاتون سیاح، جو اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ پہلگام کی سیر کے لیے آئی تھیں، ایک مقامی کیب میں سفر کرنے کے بعد بیگ بھول گئیں۔ بیگ میں قابل ذکر نقدی، ایک آئی فون، اہم دستاویزات اور دیگر قیمتی اشیاء موجود تھیں۔
خاتون سیاح شاید اس بات کا اندازہ بھی نہ کر رہی تھیں کہ وہ اپنا بیگ کیب میں چھوڑ چکی ہیں، لیکن جیسے ہی ڈرائیور کو گاڑی صاف کرتے وقت بیگ نظر آیا، اس نے فوراً اس کی مالک کو تلاش کرنے کی کوشش شروع کر دی۔
عینی شاہدین کے مطابق ڈرائیور نے پہلے مقامی ٹرانسپورٹ یونین سے رابطہ کیا تاکہ خاتون سیاح کا سراغ مل سکے۔ بعد ازاں اس نے اپنے ساتھی ڈرائیوروں اور ٹور آپریٹرز کے ذریعے بھی کوششیں جاری رکھیں۔ کچھ ہی دیر میں خاتون سیاح کا پتہ چلا اور ڈرائیور نے انہیں فون کے ذریعے مطلع کیا کہ ان کا بیگ اس کے پاس محفوظ ہے۔
خاتون کے ہوٹل پہنچنے پر ڈرائیور نے بیگ بِلکل صحیح حالت میں، بغیر کسی چیز کے غائب ہوئے، مالک کے حوالے کر دیا۔ بیگ دیکھ کر خاتون سیاح کی آنکھوں میں حیرت اور خوشی کے ملے جلے جذبات تھے۔ انہوں نے اس نایاب ایمانداری پر ڈرائیور کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ایسے واقعات دنیا میں کہیں کہیں ہی دیکھنے کو ملتے ہیں۔
خاتون سیاح نے میڈیا نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا:’میں نے دنیا کے کئی علاقوں میں سفر کیا ہے، مگر ایسی ایمانداری اور انسانیت آج کے دور میں بہت کم دیکھنے کو ملتی ہے۔
کشمیر کے لوگوں کی شرافت اور مہمان نوازی حقیقتاً متاثر کن ہے—میں یہ تجربہ اپنی زندگی بھر نہیں بھولوں گی۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ اس واقعے نے ان کے دل میں کشمیر کے لوگوں کے لیے ایک خاص جگہ بنا دی ہے۔
پہلگام کے مقامی لوگوں نے واقعے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے واقعات وادی کے لوگوں کی حقیقی پہچان ہیں۔
ایک مقامی شہری نے کہا:’یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔ ہمارے یہاں ایمانداری کی بے شمار مثالیں ملتی ہیں۔ خصوصاً سیاحوں کے ساتھ پیش آنے والے واقعات میں لوگ ہمیشہ دیانتداری اور اخلاق کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ یہی کشمیر کی اصل شناخت ہے۔‘
ایک اور بزرگ شہری نے کہا کہ یہ واقعہ سیاحت کو فروغ دینے میں بھی مدد کرتا ہے، کیونکہ جب سیاح اپنے تجربات دنیا کے سامنے رکھتے ہیں تو کشمیر کا مثبت چہرہ اجاگر ہوتا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں ہے جب کشمیر میں کسی ڈرائیور یا مقامی شہری نے گمشدہ سامان سیاحوں کو واپس کیا ہو۔
گزشتہ برس گلمرگ میں بھی ایک اسکیٹنگ گائیڈ نے ایک غیر ملکی سیاح کا 4 لاکھ روپے سے زائد مالیت کا بیگ واپس کیا تھا۔ اسی طرح جھیل ڈل اور سری نگر ائرپورٹ پر بھی متعدد مرتبہ مسافروں کا قیمتی سامان ایمانداری کے ساتھ واپس کیا جا چکا ہے۔
مقامی ٹور آپریٹرز کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات وادی میں سیاحوں کے اعتماد کو مزید مضبوط کرتے ہیں اور کشمیر کی شبیہ بہتر بنانے میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر کشمیر کی ایک نئی پہچان بن رہی ہے۔ جہاں ایک طرف یہاں کی قدرتی خوبصورتی لوگوں کو اپنی طرف کھینچتی ہے، وہیں دوسری طرف مقامی لوگوں کے اخلاق، مہمان نوازی، اور ایمانداری پر مبنی واقعات سیاحت کی ساکھ کو مزید مضبوط کرتے ہیں۔
ایک ٹور آپریٹر نے کہا:’جب کوئی سیاح واپس جا کر بتاتا ہے کہ کشمیر کے لوگوں نے امانت داری کا مظاہرہ کیا، تو یہ کسی بھی اشتہار سے زیادہ اثر رکھتا ہے۔ یہی اصل برانڈ ویلیو ہے۔‘
لوگوں نے ڈرائیور کی ایمانداری کی سوشل میڈیا پر بھی تعریف کی۔ سوشل پلیٹ فارمز پر متعدد صارفین نے اس واقعے کو کشمیر کی خوبصورت اقدار کی عملی تصویر قرار دیا۔
کچھ صارفین نے لکھا کہ ایسے لوگوں کو حکومت کی طرف سے بھی تعریفی اسناد اور خصوصی انعامات ملنے چاہئیں تاکہ مثبت رویوں کی حوصلہ افزائی ہو سکے۔
اگرچہ کشمیر نے گزشتہ کئی دہائیوں میں متعدد مشکلات اور چیلنجوں کا سامنا کیا ہے، مگر یہاں کے لوگوں کا اخلاقی معیار، ایمانداری اور انسان دوستی ہمیشہ قائم رہی ہے۔ ایسے واقعات اس حقیقت کا ثبوت ہیں کہ کشمیر کے لوگ مشکل ترین حالات میں بھی انسانی اقدار کا دامن نہیں چھوڑتے۔
پہلگام میں پیش آنے والا یہ واقعہ نہ صرف ایک فرد کی ایمانداری کا ثبوت ہے بلکہ یہ پوری وادی کی اجتماعی اخلاقیات اور ثقافت کی بھی عکاسی کرتا ہے۔
پہلگام کے اس کیب ڈرائیور نے اپنی ایمانداری اور اعلیٰ کردار سے ثابت کیا ہے کہ کشمیر میں آج بھی لوگ امانت و دیانت کے اصولوں پر قائم ہیں۔ اس طرح کے واقعات نہ صرف سیاحوں کے دل جیتتے ہیں بلکہ دنیا کو یہ پیغام دیتے ہیں کہ کشمیر حقیقی معنوں میں امن، محبت اور انسانیت کی سرزمین ہے۔
یو این آئی، ارشید بٹ۔ایف اے
جموں و کشمیر
عمر عبداللہ کی لوگوں سے باغِ گلِ داؤد کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہونے کی اپیل
سری نگر، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعہ کو کہا کہ سری نگر کا پہلا مخصوص گلِ داؤدی باغ، ‘باغِ گلِ داؤد’، سیاحوں کو پھولوں کی ایک منفرد دل کشی فراہم کرکے کشمیر میں سیاحتی موسم کو وسعت دینے میں مددگار ثابت ہوگا۔
باغ کا دوسری مرتبہ افتتاح کرنے کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد کشمیر کے سیاحتی موسم کے آغاز اور اختتام، دونوں ادوار میں سیاحوں کے لیے خصوصی کشش کے مقامات تیار کرنا ہے۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کو تیار کرنے کے پیچھے ہمارا مقصد سیاحتی موسم کو فروغ دینا ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ محکمۂ گل کاری نے باغِ گلِ داؤد کو اس لیے تیار کیا ہے تاکہ ایسے عرصے میں سیاحوں کو ایک منفرد تجربہ فراہم کیا جا سکے، جب سیاحت کے لیے خاص کشش رکھنے والے مقامات نسبتاً کم ہوتے ہیں۔
زبرون پہاڑیوں کے دامن میں واقع اور ڈل جھیل کے چمکتے پانیوں کا نظارہ پیش کرنے والا یہ خوب صورت، زینہ دار باغ سری نگر کے مشہور ٹیولپ گارڈن کے قریب واقع ہے۔
عمر عبداللہ نے لوگوں کو باغ کی سیر کی دعوت دیتے ہوئے کہاکہ ”میں نہ صرف ملک بھر کے ان لوگوں کو کشمیر آنے کی دعوت دیتا ہوں جو یہاں کی سیر کے خواہش مند ہیں، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر سری نگر اور آس پاس کے علاقوں میں رہنے والے اپنے لوگوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ آئیں اور اس باغ کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہوں۔”
انہوں نے سیاحوں پر زور دیا کہ وہ باغ میں تصاویر کھینچیں اور یہاں کی خوب صورتی کی یادیں ہمیشہ کے لیے محفوظ کریں۔
گزشتہ سال باغ کے افتتاح کے بعد ہونے والی پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ باغ میں نمایاں بہتری آئی ہے اور اسے مزید دل کش بنانے کی کوششیں جاری رہیں گی۔
انہوں نے کہاکہ ”آپ میں سے جو لوگ گزشتہ سال افتتاح کے موقع پر میرے ساتھ تھے اور جنہوں نے اس مرتبہ یہاں آنے کا موقع حاصل کیا ہے، انہوں نے خود دیکھا ہوگا کہ اس باغ نے کتنی ترقی کی ہے۔”
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پائیداری کے اعتبار سے بھی اس باغ کو ایک فائدہ حاصل ہے، کیونکہ اس کے پودوں کو مقامی طور پر افزائش دے کر بڑھایا جا سکتا ہے، جب کہ ٹیولپ کے بلب بار بار درآمد کرنے پڑتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کا ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ ٹیولپ گارڈن کے برعکس، جس کے لیے ہمیں بار بار بیرونِ ملک سے بلب منگوانے پڑتے ہیں، باغِ گلِ داؤد کے پودوں کا مواد ہمارے اپنے پاس موجود ہے۔ ہم خود ان کی افزائش کرتے ہیں اور ان کی تعداد بڑھاتے ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت ہر سال باغ میں نئی خصوصیات متعارف کرانے کی کوشش کرے گی تاکہ اس کی کشش برقرار رہے اور سیاحتی مقام کے طور پر اس کا کردار مزید مستحکم ہو۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
لداخ کی پشمینہ کو عالمی منڈیوں تک پہنچانے کی پہل، لیفٹیننٹ گورنر نے خریداروں اور مقامی صنعت کاروں کے کنکلیو کا افتتاح کیا
سری نگر، لداخ کی عالمی شہرت یافتہ پشمینہ اون کو بین الاقوامی منڈیوں میں وسیع تر رسائی دلانے کی کوششوں کے تحت لیفٹیننٹ گورنر ونے کمار سکسینہ نے لیہ میں دو روزہ پشمینہ کنکلیو کا افتتاح کیا۔ اس کا مقصد مقامی مویشی پالنے والوں، دست کاروں اور کاروباری افراد کو بین الاقوامی خریداروں اور صنعت سے وابستہ اہم شخصیات سے جوڑنا ہے۔
‘لداخ پشمینہ کنکلیو: ریورس بائر سیلر میٹ’ میں پشمینہ کی پوری پیداواری اور تجارتی زنجیر سے وابستہ مختلف فریقوں نے شرکت کی، جن میں خانہ بدوش مویشی پالنے والے، دست کار، ڈیزائنر، کاروباری افراد، صنعتی نمائندے اور خریدار شامل تھے۔ منگولیا، جاپان اور تھائی لینڈ کے مندوبین نے بھی اس کنکلیو میں شرکت کی، جس سے بین الاقوامی تعاون، معلومات کے تبادلے اور لداخ کے اس قیمتی قدرتی ریشے کے لیے عالمی منڈیوں تک رسائی کے نئے امکانات پیدا ہوئے۔ پشمینہ کو اکثر ‘لداخ کا سنہرا ریشہ’ بھی کہا جاتا ہے۔
حکام کے مطابق، اس موقع پر حکومتِ ہند کی وزارتِ ٹیکسٹائل اور مرکز کے زیر انتظام علاقے لداخ کے محکمۂ صنعت و تجارت کے درمیان مفاہمت کی ایک یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کیے گئے۔ اس کا مقصد پشمینہ کے شعبے کے فروغ اور ترقی کے لیے باہمی تعاون کو مضبوط بنانا ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے جغرافیائی شناخت (جی آئی) ٹیگ یافتہ لداخی پشمینہ پر ایک ڈاک ٹکٹ بھی جاری کیا۔ اس کے ذریعے اس قیمتی ریشے کی منفرد شناخت، روایتی دست کاری اور اس سے وابستہ ثقافتی ورثے کو تسلیم کیا گیا ہے۔
کنکلیو کے ایک اہم حصے، ‘ریورس بائر سیلر میٹ’ کا مقصد پشمینہ تیار کرنے والوں اور کاروباری اداروں کو خریداروں، ٹیکسٹائل مینوفیکچررز، ڈیزائنروں اور مارکیٹ سے وابستہ دیگر فریقوں کے قریب لانا ہے۔ اس پلیٹ فارم کے ذریعے براہِ راست بات چیت ممکن ہوگی، مقامی پروڈیوسروں کو بازار کی ضروریات سمجھنے میں مدد ملے گی، مقامی مصنوعات کی نمائش کی جا سکے گی اور کاروباری مواقع کے ساتھ ممکنہ تجارتی شراکت داریوں کو بھی تلاش کیا جا سکے گا۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر: کشتواڑ میں ہندوستانی فوج نے طلبہ اور فوج میں بھرتی کے خواہش مند نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کی
جموں، سابقہ ڈوڈہ ضلع کے نوجوانوں سے رابطہ قائم کرنے اور ان کی رہنمائی و معاونت کی مسلسل کوششوں کے تحت آرمی ریکروٹنگ آفس (اے آر او)، جموں نے جموں و کشمیر کے ضلع کشتواڑ کے گورنمنٹ ڈگری کالج میں نوجوانوں کی حوصلہ افزائی اور عوامی رابطے کا ایک خصوصی پروگرام کامیابی کے ساتھ منعقد کیا۔
اے آر او، جالندھر کے ہیڈکوارٹر ریکروٹنگ زون کا حصہ ہے۔
وزارت دفاع، جموں کے تعلقات عامہ کے افسر اور ترجمان لیفٹیننٹ کرنل سنیل برتوال نے ایک سرکاری بیان میں بتایا کہ ہندوستانی فوج کی اس پہل کو طلبہ کی جانب سے زبردست پذیرائی حاصل ہوئی، جبکہ کالج انتظامیہ نے بھی اس کی بھرپور ستائش کی۔
انہوں نے کہاکہ ”اس پروگرام کا بنیادی مقصد ہندوستانی فوج میں بھرتی کے طریقۂ کار سے متعلق ابہام دور کرنا اور دفاعی شعبے میں کریئر بنانے کے خواہش مند نوجوانوں کے جوش و جذبے کو ایک منظم اور قابلِ عمل منصوبے کی شکل دینا تھا۔”
انہوں نے بتایا کہ مسلح افواج میں شمولیت کے طریقوں کے بارے میں واضح رہنمائی فراہم کرتے ہوئے اس رابطہ پروگرام کا مقصد مقامی نوجوانوں کو قومی خدمت کے لیے وقف کریئر اختیار کرنے اور ”ایک غیر معمولی زندگی گزارنے” کی ترغیب دینا تھا۔
انہوں نے کہا کہ پروگرام کے دوران منعقدہ باہمی تبادلۂ خیال کے اجلاسوں میں فوجی افسران نے بھرتی کی مختلف اسکیموں، اہلیت کے معیار اور امتحانات کے طریقۂ کار کے بارے میں تفصیلی معلومات فراہم کیں۔ اس طرح فوج میں شمولیت کے خواہش مند نوجوانوں کو دستیاب مواقع سے واقف کرانے اور ان کے درمیان موجود فاصلے کو کم کرنے کی کوشش کی گئی۔
تعلقات عامہ کے افسر نے کہاکہ ”ہندوستانی فوج خطے کے تمام دلچسپی رکھنے والے امیدواروں اور نوجوان قائدین کی حوصلہ افزائی کرتی ہے کہ وہ اپنے کریئر کے سفر میں اگلا قدم اٹھانے کے لیے بھرتی کے سرکاری پورٹل www.joinindianarmy.nic.in پر جائیں، جہاں آئندہ بھرتی مہمات، رجسٹریشن اور درخواست دینے کے طریقۂ کار سے متعلق تفصیلی معلومات دستیاب ہیں۔”
یواین آئی۔ ظ ا
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا7 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
جموں و کشمیر7 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا7 days agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
دنیا7 days agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
-
پاکستان1 week agoپاکستان کے شمال مغربی علاقے میں اسکول کی چھت گرنے سے کم از کم 29 افراد ہلاک
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر کے قالین باف کو ہاتھ سے بنے قالینوں کے لیے قومی ایوارڈ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر اسمبلی کی کمیٹی نے آنچار جھیل کے آس پاس بڑے پیمانے پر تجاوزات پر تشویش ظاہر کی، فوری کارروائی کا مطالبہ سری نگر، 15 اکتوبر (یو
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر کے بالائی علاقوں میں ہلکی برف باری، وادی میں بارش سے سردی میں اضافہ
