ہندوستان
ہماری جمہوریت تناور درخت کی مانند، تنوع اس کی سب سے بڑی طاقت : وزیر اعظم
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی نے آج نئی دہلی کے پارلیمنٹ ہاؤس کمپلیکس کے سنٹرل ہال میں دولت مشترکہ (سی ایس پی او سی) کے اسپیکروں اور پریزائیڈنگ افسران کی 28ویں کانفرنس کا افتتاح کیا اس موقع پر وزیر اعظم نے کہا کہ پارلیمانی جمہوریت میں اسپیکر کا کردار منفرد ہوتا ہے۔ اسپیکر کو زیادہ بولنا نہیں پڑتا ہے لیکن ان کی ذمہ داری دوسروں کو سننے اور اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ ہر ایک کو اظہار خیال کا موقع ملے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ صبروتحمل اسپیکر کی سب سے عام صفت ہے، جو شور مچانے والے اور زیادہ پرجوش اراکین کا بھی مسکراہٹ کے ساتھ سامنا کرتا ہے۔ مسٹر مودی نے مزید کہا کہ ہندوستان نے اب اس تاریخی مقام کو سمودھان سدن کا نام دے کر جمہوریت کے لیے وقف کر دیا ہے۔ انہوں نے روشنی ڈالی کہ حال ہی میں ہندوستان نے اپنے آئین کے نفاذ کے 75 سال کا جشن منایا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سمودھان سدن میں تمام معزز مہمانوں کی موجودگی ہندوستان کی جمہوریت کے لیے ایک بہت ہی خاص لمحہ ہے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ یہ چوتھا موقع ہے جب ہندوستان میں دولت مشترکہ کے اسپیکرز اور پریزائیڈنگ آفیسرز کانفرنس منعقد ہو رہی ہے۔ انہوں نے روشنی ڈالی کہ اس کانفرنس کا مرکزی موضوع پارلیمانی جمہوریت کی موثر ترسیل ہے۔ مسٹر مودی نے یاد دلایا کہ جب ہندوستان نے آزادی حاصل کی تو یہ خدشہ ظاہر کیا گیا کہ اس طرح کے گونا گونیت والے ملک میں جمہوریت باقی نہیں رہے گی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ہندوستان نے اس تنوع کو اپنی جمہوریت کی مضبوطی میں بدل دیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایک اور بڑی تشویش یہ ہے کہ اگر ہندوستان میں کسی طرح جمہوریت زندہ بھی رہی تو ترقی ممکن نہیں ہوگی۔
وزیر اعظم نے کہا کہ آج ہندوستان دنیا کی سب سے تیزی سے ترقی کرنے والی بڑی معیشت ہے، ہندوستان کے پاس یو پی آئی کے ذریعے دنیا کا سب سے بڑا ڈیجیٹل ادائیگی کا نظام ہے، سب سے بڑا ویکسین تیار کرنے والا، دوسرا سب سے بڑا اسٹیل پروڈیوسر، تیسرا سب سے بڑا اسٹارٹ اپ ماحولیاتی نظام، تیسرا سب سے بڑا ہوابازی کا بازار، چوتھا سب سے بڑا ریلوے نیٹ ورک، تیسرا سب سے بڑا میٹرو ریل اور دودھ کی پیداوار کا دوسرا سب سے بڑا نیٹ ورک ہے۔
مسٹر مودی نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ’’ہندوستان میں جمہوریت کا مطلب قطار میں کھڑے آخری شخص تک سہولیات پہنچانا ہے‘‘، انہوں نے مزید کہا کہ ہندوستان عوامی بہبود کے جذبے کے ساتھ کام کرتا ہے، اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ فوائد ہر فرد تک بلا تفریق پہنچیں۔ انہوں نے روشنی ڈالی کہ فلاح و بہبود کے اس جذبے کی وجہ سے حالیہ برسوں میں 25 کروڑ لوگ غربت سے باہر آئے ہیں۔ انہوں نے زور دے کر کہا، ’’ہندوستان میں جمہوریت لوگوں تک سہولیات فراہم کرتی ہے‘‘۔
انہوں نے کہا کہ یہ جمہوری جذبہ ہندوستان کی رگوں اور یہاں کے نوجوانوں کے ذہنوں میں دوڑتا ہے۔ مسٹر مودی نے کووڈ-19 وبائی مرض کی مثال پیش کی، جب پوری دنیا جدوجہد کر رہی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے اندر چیلنجوں کے باوجود ہندوستان نے 150 سے زیادہ ممالک کو ادویات اور ویکسین فراہم کیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ لوگوں کے مفادات کا تحفظ اور ان کی فلاح وبہبودہندوستان کی اخلاقیات میں شامل ہے اور اس اخلاق کو ہندوستان کی جمہوریت نے پروان چڑھایا ہے۔
اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ دنیا بھر میں بہت سے لوگ ہندوستان کو سب سے بڑی جمہوریت کے طور پر جانتے ہیں ، مسٹر مودی نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ ہندوستان کی جمہوریت کا پیمانہ واقعی غیر معمولی ہے ۔ 2024 میں ہونے والے عام انتخابات کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ انسانی تاریخ کی سب سے بڑی جمہوری مشق تھی ۔ تقریبا 980 ملین شہری ووٹ ڈالنے کے لیے رجسٹرڈ تھے ، یہ تعداد کچھ براعظموں کی آبادی سے زیادہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ 8,000 سے زیادہ امیدوار اور 700 سے زیادہ سیاسی جماعتیں مقابلہ کر رہی تھیں اور انتخابات میں خواتین ووٹروں کی ریکارڈ شرکت بھی دیکھنے کو ملی ۔ وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ آج ہندوستانی خواتین نہ صرف حصہ لے رہی ہیں بلکہ رہنمائی بھی کر رہی ہیں۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ ہندوستان کی صدر اول شہری ایک خاتون ہیں اور جس شہر میں کانفرنس منعقد ہو رہی ہے ، دہلی کی وزیر اعلی بھی ایک خاتون ہیں ۔
انہوں نے مزید کہا کہ دیہی اور مقامی حکومت کے اداروں میں ہندوستان میں تقریبا 1.5 ملین منتخب خواتین نمائندے ہیں ، جو تقریبا 50 فیصد نچلی سطح کے رہنماؤں کی نمائندگی کرتی ہیں ، جو عالمی سطح پر بے مثال ہے ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ہندوستان جمہوریت تنوع سے مالا مال ہے ۔
انہوں نے کہا کہ یہاں سینکڑوں زبانیں بولی جاتی ہیں ، مختلف زبانوں میں 900 سے زیادہ ٹیلی ویژن چینل ہیں اور ہزاروں اخبارات اور رسالے شائع ہوتے ہیں ۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بہت کم معاشرے اس پیمانے پر تنوع کا انتظام کرتے ہیں اور ہندوستان اس تنوع کا جشن مناتا ہے کیونکہ اس کی جمہوریت کی بنیاد مضبوط ہے ۔ ہندوستان کی جمہوریت کا موازنہ ایک بڑے درخت سے کرتے ہوئے جس کی جڑیں گہری ہیں ، مسٹر مودی نے بحث ، مکالمے اور اجتماعی فیصلہ سازی کی ہندوستان کی طویل روایت پر زور دیا اور یاد دلایا کہ ہندوستان کو جمہوریت کی ماں کہا جاتا ہے ۔ انہوں نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ ہندوستان کے مقدس متون ، ویدوں ، جو 5000 سال سے زیادہ پرانے ہیں ، ان اسمبلیوں کا حوالہ دیتے ہیں جہاں لوگ مسائل پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے ملتے ہیں اور بات چیت اور معاہدے کے بعد فیصلے کرتے ہیں ۔
وزیر اعظم نے کہا کہ ہندوستان بھگوان بدھ کی سرزمین ہے ، جہاں بدھ سنگھ کھلے اور منظم مباحثے کرتا تھا ، جس میں اتفاق رائے یا ووٹنگ کے ذریعے فیصلے کیے جاتے تھے ۔ انہوں نے مزید تمل ناڈو کے 10 ویں صدی کے ایک کتبے کا حوالہ دیا جس میں ایک گاؤں کی اسمبلی کا ذکر کیا گیا ہے جو جمہوری اقدار کے ساتھ کام کرتی تھی ، جس میں جواب دہی اور فیصلہ سازی کے واضح اصول تھے ۔ وزیر اعظم نے زور دے کر کہا کہ “ہندوستان کی جمہوری اقدار کو وقت کے ساتھ آزمایا گیا ہے، تنوع کی حمایت حاصل ہے اور نسل در نسل مضبوط کیا گیا ہے‘‘ ۔
مسٹر مودی نے کہا کہ دولت مشترکہ کی کل آبادی کا تقریبا 50 فیصد ہندوستان میں رہتا ہے ۔
انہوں نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ ہندوستان نے مسلسل تمام ممالک کی ترقی میں زیادہ سے زیادہ تعاون کرنے کی کوشش کی ہے ۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ دولت مشترکہ کے پائیدار ترقیاتی اہداف میں ، چاہے وہ صحت ، آب و ہوا کی تبدیلی ، اقتصادی ترقی یا اختراع کے شعبوں میں ہو، ہندوستان پوری ذمہ داری کے ساتھ اپنے وعدوں کو پورا کر رہا ہے ۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ہندوستان ساتھی شراکت داروں سے سیکھنے کی مسلسل کوششیں کرتا ہے اور اس بات کو بھی یقینی بناتا ہے کہ ہندوستان کے تجربات سے دیگر دولت مشترکہ ممالک کو فائدہ پہنچے ۔
یو این آئی۔ م ش۔ م الف
ہندوستان
نہرو-گاندھی خاندان نے ملک کی تباہی کی بنیاد پر اقتدار کی عمارت کھڑی کی: بی جے پی
نئی دہلی، بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے کانگریس پر لوٹ مار، سماج میں تقسیم اور ہندوستانی مذہب و ثقافت کے تئیں نفرت رکھنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ اس خاندان (گاندھی خاندان) نے ملک کی تباہی کی بنیاد پر اپنے اقتدار کی عمارت کھڑی کی ہے۔
بی جے پی کے ترجمان سدھانشو ترویدی نے جمعہ کو پارٹی ہیڈکوارٹر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس اقتدار سے باہر رہنے پر پانی سے باہر مچھلی کی طرح تڑپ رہی ہے اور کسی بھی طرح اقتدار میں واپس آنے کی کوشش کر رہی ہے۔ بدقسمتی سے، ایسی سوچ رکھنے والی کانگریس کی باگ ڈور راہل گاندھی کے ہاتھوں میں ہے۔ یہ بدقسمتی ملک سے زیادہ کانگریس کے لیے ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ پنڈت جواہر لعل نہرو نے سردار ولبھ بھائی پٹیل کو ان کا حق نہ دے کر اپنی سیاسی طاقت قائم کی اور ایک بھی ووٹ نہ ملنے کے باوجود وزیر اعظم بن گئے۔ ان کے دورِ اقتدار میں ملک نے تقسیم کا درد دیکھا، جو انسانی تاریخ کے خونریز ترین ابواب میں سے ایک تھا۔
مسٹر ترویدی نے کہا کہ پنڈت نہرو 15 اگست 1947 کو نہیں، بلکہ 2 ستمبر 1946 کو عبوری حکومت کے وزیر اعظم بنے تھے اور ان کے دور میں ملک کی تقسیم ہوئی۔ اس کے بعد محترمہ اندرا گاندھی نے اپنی پارٹی کو تقسیم کرنے کے بعد اپنی طاقت مضبوط کی۔
انہوں نے الزام لگایا کہ محترمہ گاندھی نے مسٹر نیلم سنجیو ریڈی سے متعلق صدارتی انتخاب کے دوران اپنے ارکانِ پارلیمنٹ سے کانگریس کے سرکاری موقف کے خلاف ووٹ دینے کو کہا، جس کے نتیجے میں پارٹی تقسیم ہو گئی۔ محترمہ گاندھی کے قتل کے بعد 1984 میں دہلی میں سکھوں کے قتلِ عام کے دوران مسٹر راجیو گاندھی اقتدار میں آئے۔ سکھ مخالف تشدد یکم نومبر 1984 کو شروع ہوا تھا۔ بی جے پی ترجمان نے کہا، ”کانگریس اب اسی تاریخ کو دہلی میں مظاہرہ کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے اور میرا خیال ہے کہ وہ شہر کو 1984 میں دیکھی گئی افراتفری کی یاد دلانا چاہتی ہے۔”
مسٹر گاندھی کو نشانہ بناتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس وقت وہ ملک سے باہر چلے گئے ہیں اور ذرائع کے مطابق چمپا (ویتنام کا قدیم نام) میں بھٹک رہے ہیں۔ وہ ملک اور کانگریس، دونوں کے لیے ایک معمہ بن گئے ہیں۔
بی جے پی رہنما نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کا ریکارڈ شاندار اور کامیابیوں سے بھرپور رہا ہے، جبکہ مسٹر گاندھی کا ریکارڈ کانگریس کے لیے مسائل سے بھرا رہا ہے۔ اس کے بعد انہوں نے کانگریس کے اندر کئی طرح کے تجربات کیے۔ انہوں نے کہا تھا کہ یوتھ کانگریس کے انتخابات کو جمہوری بنایا جائے گا، لیکن اس کے بعد پورے ملک نے دیکھا کہ یوتھ کانگریس میں بھیڑ کی حکمرانی اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) سربراہ اجلاس میں برہنہ مظاہرے کے علاوہ کوئی جمہوری عمل نظر نہیں آیا۔
مسٹر ترویدی نے کہا کہ براک اوباما نے اپنی کتاب ‘اے پرامسڈ لینڈ’ میں 2010 میں راہل گاندھی سے ملاقات کے بعد باب 24 میں لکھا تھا، ”راہل گاندھی میں گھبراہٹ اور ناپختگی جھلکتی تھی۔ ایسا لگتا تھا جیسے وہ کوئی ایسا طالب علم ہو جس نے نصاب تو مکمل کر لیا ہو اور اساتذہ کو متاثر کرنے کے لیے بے چین ہو، لیکن اس میں نہ تو اس موضوع پر عبور حاصل کرنے کی صلاحیت تھی اور نہ ہی اس کے لیے جذبہ۔”
انہوں نے کہا کہ کانگریس کو کمزور کرنے اور اسے اپنی 140 سالہ تاریخ کی کم ترین سطحوں میں سے ایک پر پہنچانے کے بعد اب مسٹر گاندھی ملک کے اداروں اور نظام کو کمزور کرکے خود کو قائم کرنا چاہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے ایک بار کہا تھا کہ ناکام پروڈکٹ کو بار بار لانچ کرنے کے لیے کانگریس نے آج صرف اپنی پارٹی ہی نہیں، بلکہ ملک کے آئینی نظام کو بھی داؤ پر لگا دیا ہے۔
بی جے پی ترجمان نے کہا کہ مسٹر گاندھی کس طرح ناکام پروڈکٹ ہیں، وہ اسے حقائق کے ساتھ ثابت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا، ”جب دہلی کے سینٹ اسٹیفن کالج میں ان کا داخلہ ہوا تھا تو وہ قومی سطح کے نشانے باز کھلاڑی کے طور پر داخل ہوئے تھے۔ لیکن اس کے بعد ان کا نشانہ ایسا چُوکا کہ وہ ہر نشانہ چُوکتے چلے گئے۔ یہ ان کی پہلی ناکامی ہے۔ اس کے بعد انہوں نے اپنے خاندانی رواج کو برقرار رکھتے ہوئے تعلیم حاصل کرنے کے لیے انگلینڈ کا رخ کیا۔ پھر 1996 سے 1999 کے درمیان انہوں نے ایک برطانوی کمپنی میں ملازمت کی، جو بند ہو گئی۔ یعنی آپ سوچئے کہ وہ کتنے اہم پروڈکٹ ہیں کہ جہاں جہاں راہل کے قدم پڑے، وہاں وہاں تباہی مچ گئی۔”
اس کے بعد کانگریس کے بڑے رہنماؤں نے 2014 میں انہیں اپنا غیر اعلانیہ رہنما بنایا اور کانگریس لوک سبھا میں اپنی تاریخ کی اب تک کی سب سے کم نشستوں پر پہنچ گئی۔
مسٹر ترویدی نے کہا، ”مسٹر گاندھی نے پھر ایک اور تجربہ کیا اور کہا کہ ہم خاندانی سیاست ختم کریں گے، لیکن آج صورتِ حال یہ ہے کہ کانگریس کی تاریخ میں نہرو-گاندھی خاندان کے تینوں افراد (ماں، بیٹا اور بیٹی) پارلیمنٹ میں موجود ہیں۔”
یواین آئی ۔ ایف اے
ہندوستان
چین کے تئیں نرمی اور بڑھتے معاشی انحصار پر جواب دیں مودی: کانگریس
نئی دہلی، کانگریس نے چین کے ساتھ سرحد پر کشیدگی، بڑھتے تجارتی خسارے اور معاشی انحصار پر وزیر اعظم نریندر مودی کی خاموشی کو تشویش ناک قرار دیتے ہوئے اس معاملے پر ان سے واضح جواب دینے کا مطالبہ کیا ہے۔
کانگریس کے شعبۂ مواصلات کے انچارج جے رام رمیش نے جمعہ کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ ایک طرف وزیر اعظم کی جانب سے چین کو مسلسل رعایتیں دینے کا سلسلہ جاری ہے، تو دوسری طرف ہندوستان اور چین کی سرحد پر حالیہ جھڑپوں کے دوران انڈو تبتن بارڈر پولیس (آئی ٹی بی پی) کی کارکردگی کی اس کے ڈائریکٹر جنرل نے ستائش کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسٹر مودی اور ان کا پورا نظام اس سنگین معاملے پر خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے۔
مسٹر رمیش نے کہا کہ اروناچل پردیش کے تاکسنگ میں تصادم کے بعد گزشتہ ماہ ریاست کے واچا اور دمائی میں کور کمانڈر سطح کی بات چیت ہوئی۔ مقامی لوگوں کے مطابق، لداخ کی طرح ایک بار پھر گشت کے بعض مقامات ہندوستان کے ہاتھ سے نکل گئے ہیں۔ انہوں نے چین کی جانب سے اروناچل پردیش کے شہروں کے نام تبدیل کرنے اور وہاں 60 ہزار میگاواٹ کا ڈیم بنانے کے منصوبے پر بھی تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اس سے ماحولیات اور آبی سلامتی کو بڑا خطرہ لاحق ہے۔
کانگریس لیڈر نے کہا کہ چین کے ساتھ ہندوستان کا تجارتی خسارہ مالی سال 2025-26 میں ریکارڈ 112 ارب ڈالر تک پہنچ گیا، جب کہ گزشتہ سال یہ 99 ارب ڈالر تھا۔ اس کے نتیجے میں کئی صنعتوں کے مائیکرو، چھوٹے اور درمیانہ درجے کے کاروباری ادارے بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ‘میک اِن انڈیا’ اب ‘چین سے درآمد’ میں تبدیل ہوچکا ہے اور بڑھتا ہوا تجارتی خسارہ ملک کی معاشی سلامتی کے لیے سنگین چیلنج ہے۔
مسٹر رمیش نے 19 جون 2020 کو چین کے حوالے سے وزیر اعظم کے بیان کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان آج بھی اس بیان کی قیمت چکا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسٹر مودی کا یہ بیان 20 ہندوستانی جوانوں کی شہادت کے بعد سامنے آیا تھا۔
کانگریس لیڈر نے سابق آرمی چیف جنرل ایم ایم نرونے کے اس انکشاف کا بھی ذکر کیا، جس میں انہوں نے بتایا تھا کہ لداخ میں چینی دراندازی کے دوران انہیں صرف یہ ہدایت ملی تھی کہ ”جو مناسب سمجھو، وہ کرو۔” انہوں نے کہا کہ 4 جولائی 2025 کو نائب آرمی چیف لیفٹیننٹ جنرل راہل سنگھ نے آپریشن سندور کے دوران پاکستان کی فوجی کارروائی میں چین کے وسیع کردار کا انکشاف کیا تھا، جب کہ گزشتہ 25 اگست کو سابق چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل انل چوہان نے عوامی طور پر ان انکشافات کی تردید کی تھی۔ مسٹر رمیش نے اس واقعے کے بعد جنرل چوہان کی جانب سے آر ایس ایس اور بی جے پی کے نظریے سے وابستہ ایک اہم تھنک ٹینک کی سربراہی سنبھالنے کا بھی ذکر کیا۔
انہوں نے سوال کیا کہ سرحد پر کشیدگی کے باوجود چین کے تئیں نرمی اور معاشی محاذ پر بڑھتا ہوا انحصار کس طرح کی قوم پرستی ہے۔ مسٹر رمیش نے کہا کہ ملک کو کھوکھلے دعووں کی نہیں، بلکہ قومی سلامتی کے معاملے پر واضح جواب کی ضرورت ہے۔
یواین آئی ۔ ایف اے
ہندوستان
جرمنی کے ایک مطالعاتی و تحقیقی ادارے میں ہندوستان کے لیے خصوصی مرکز قائم
نئی دہلی، جرمنی میں بین الاقوامی تعلقات کے مطالعے اور تحقیق کرنے والے برلن کے خودمختار ادارے کونسل آن فارن ریلیشنز (ڈی جی اے پی) میں ہندوستان سے متعلق ایک مرکز قائم کیا گیا ہے۔
‘انڈیا سینٹر’ کے نام سے قائم اس مرکز کی افتتاحی تقریب میں ہندوستان کے وزیر تجارت و صنعت پیوش گوئل اور جرمنی کی وزیر برائے اقتصادی امور و توانائی کیتھرینا ریشے نے شرکت کی۔ مسٹر گوئل اس وقت جرمنی اور نیدرلینڈز کے سرکاری دورے پر ہیں۔
مسٹر گوئل نے کہا کہ ڈی جی اے پی میں ہندوستان کے لیے قائم کیا گیا یہ مرکز ہندوستان اور جرمنی کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلقات اور تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے ہمارے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
وزیر تجارت نے کہا، ”ہماری ایک دوسرے کی تکمیل کرنے والی صلاحیتیں ہمارے بلند حوصلہ اقتصادی اہداف کو حاصل کرنے کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ہندوستان اور یورپی یونین کے درمیان آزاد تجارتی معاہدہ اس شراکت داری کو مزید رفتار دینے کا کام کرے گا۔”
اس موقع پر مسٹر گوئل نے دونوں ممالک کے کاروباری اداروں اور سرمایہ کاروں سے اپیل کی کہ وہ باہمی خوشحالی اور ترقی کو مزید آگے بڑھانے کے لیے تعاون کے نئے راستے تلاش کریں۔
یو این آئی۔ ایم جے
-
ہندوستان1 week agoمرکزی حکومت نے جنوبی بحر ہند ماہی گیری معاہدے میں شمولیت کو دی منظوری
-
دنیا1 week agoجاپانی صحافی کی روس میں گرفتاری: دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کیوں بڑھ رہی ہے
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
ہندوستان1 week agoمظاہرین پر تشدد کرنے والوں کو ثبوتوں کی بنیاد پر سزا ملے گی: راہل
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میں 15 اکتوبر سے اسکولوں کے اوقات میں تبدیلی
-
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
ہندوستان1 week ago16 سالہ معصوم لڑکی اور 50 سالہ دولہے کی پانچ لاکھ روپے میں منگنی، بروقت ٹیم نے شادی کو روک دیا
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
دنیا1 week agoروس سے ٹرمپ کی رعایتوں پر ریپبلکنز دفاعی پوزیشن میں، وسط مدتی انتخابات سے قبل دباؤ بڑھ گیا
-
دنیا6 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
