تازہ ترین
ٹیسٹ کے بعد ونڈے سیریز پر بھی بھارت کا قبضہ ، دھونی مین آف دی سیریز
خبراردو:
وراٹ کوہلی کی قیادت میں ہندوستانی کرکٹ ٹیم نے آسٹریلیائی سرزمین پر ٹیسٹ کے بعد یک روزہ سیریز میں بھی تاریخ رقم کر دی ہے۔ ٹیسٹ سیریز میں میزبان کنگاروؤں کو 70 سال بعد 1-2 سے شکست دینے والی ہندوستانی ٹیم نے پہلی بار آسٹریلیائی کی زمین پر کوئی دو فریقی یک روزہ سیریز پر قبضہ کیا ہے۔ ملبورن میں کھیلے گئے آخری میچ میں ہندوستان کو جیت کے لیے آسٹریلیا نے 231 رنوں کا ہدف دیا تھا جسے ایک بار پھر مہندر سنگھ دھونی کی سمجھداری بھری اننگ کی بدولت 7 وکٹ رہتے حاصل کر لیا۔ یہ بات ہر ہندوستانی کے لیے فخرآمیز ہے کہ 19-2018 کے آسٹریلیائی دورہ میں ٹیم نے ٹیسٹ اور یک روزہ دونوں سیریز میں فتح کی عبارت لکھ دی۔
What a run-chase. The Dhoni-Jadhav duo take #TeamIndia to a thumping 7-wicket victory. India take the series 2-1 ???? #AUSvIND pic.twitter.com/vb4fZ0xwR9
— BCCI (@BCCI) January 18, 2019
جہاں تک ونڈے سیریز کا سوال ہے، ہندوستان نے اس سے قبل آسٹریلیا کی زمین پر 12 سیریز کھیلی ہے لیکن اس میں صرف ایک کو چھوڑ دیا جائے تو بقیہ سبھی کثیر ملکی یک روزہ سیریز تھا۔ ہندوستان اور آسٹریلیا کے مابین واحد دو فریقی ونڈے سیریز 2016 میں کھیلا گیا تھا۔ پانچ میچوں کی اس سیریز میں ہندوستان کو 1-4 سے شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ مجموعی ریکارڈ دیکھا جائے تو ہندوستان نے آسٹریلیا میں کل 51 یک روزہ میچ کھیلے ہیں جس میں 13 میں اسے فتح ملی ہے جب کہ 36 میں شکست کا سامنا کرنا پڑا اور 2 بے نتیجہ رہا۔
یہاں قابل ذکر یہ بھی ہے کہ ہندوستانی ٹیم نے آسٹریلیا میں دو یک روزہ سیریز پر قبضہ کیا ہے لیکن وہ دو فریقی نہیں بلکہ کثیر ملکی سیریز تھا۔ ہندوستان نے 85-1984 میں بنسن اینڈ ہیجز ورلڈ چمپئن شپ ٹورنامنٹ جیتا تھا اور اس کے بعد ہندوستان نے 08-2007 میں کامن ویلتھ بینک ونڈے ٹرائی سیریز اپنے نام کیا تھا۔ 85-1984 میں ہندوستان نے سنیل گاوسکر کی کپتانی میں کنگاروؤں کی دھرتی پر کثیر ملکی ونڈے ٹورنامنٹ جیتا تھا۔ اس ٹورنامنٹ میں ایک میچ میں ہندوستان نے آسٹریلیا کو 8 وکٹ سے شکست فاش دے کر بے مثال کارنامہ انجام دیا تھا۔ ایم سی جی پر 85-1984 میں بنسن اینڈ ہیجز ورلڈ چمپئن شپ ہندوستان اور آسٹریلیا دونوں کے لیے ہی بہت اہم تھا۔ ٹیم انڈیا کو ناک آؤٹ کرنے کے لیے آسٹریلیا کو 223 رن بنا کر مہمان ٹیم کو 160 رن کے اسکور پر روکنے کی ضرورت تھی۔
بہر حال، آج ملبور میں کھیلے گئے تیسرے اور نتیجہ خیز میچ میں آسٹریلیا نے ہینڈسکومب کی 58 رنوں کی بدولت 230 رن بنا سکی۔ ہندوستان کی جانب سے پہلے تو تیز گیندبازوں بھونیشور کمار اور محمد شامی نے کسی ہوئی گیندبازی کی اور پھر اسپنر یجویندر چہل نے ریکارڈ 6 وکٹ لے کر آسٹریلیائی بلے بازی کی کمر توڑ دی۔ ہندوستان کے لیے 231 رن کا ہدف بہت بڑا نہیں تھا لیکن روہت شرما کے محض 9 رن بنا کر آؤٹ ہونے اور دھون کے بھی 23 رن پر پویلین لوٹنے سے ہندوستانی خیمہ میں ہلچل پیدا ہو گئی تھی۔ وراٹ کوہلی کے 46 رن پر آؤٹ ہونے کے بعد مشکلیں بڑھتی ہوئی محسوس ہو رہی تھیں لیکن ایک طرف دھونی نے اپنے تجربے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ٹک کر کھیلنا شروع کیا اور دوسری طرف کیدار جادھو نے بھی بغیر کوئی غلطی کیے سنگل کھیلنا جاری رکھا۔ نتیجہ یہ رہا کہ 4 گیند باقی رہتے ہی ہندوستان نے 234 رن بنا لیے۔ مہندر سنگھ دھونی نے ناٹ آؤٹ 87 رن بنائے جب کہ کیدار جادھو نے ناٹ آؤٹ 61 رن بنائے۔
مہندر سنگھ دھونی نے یک روزہ سیریز میں کھیلے گئے سبھی میچوں میں نصف سنچری بنائی اور آخری کے دونوں میچوں میں تو انھوں نے ناٹ آؤٹ رہتے ہوئے ہندوستان کو فتح کے دروازے تک لے گئے۔ ان کی بہترین بلے بازی کے لیے انھیں مین آف دی سیریز کے ایوارڈ سے نوازا گیا۔ مہندر سنگھ دھونی کی یہ کارکردگی ان کے ناقدین کے منھ پر طمانچے کے مترادف ہے جو اکثر یہ کہتے رہتے ہیں کہ دھونی کا کھیل اب ختم ہو چکا ہے۔ انھوں نے صرف بلے بازی میں ہی نہیں بلکہ وکٹ کے پیچھے بھی اس سیریز میں اپنی چابکدستی کا بھرپور مظاہرہ کیا۔
ہندوستان
مودی حکومت کی پالیسیوں نے معاشی لبرلائزیشن کو برباد کر دیا: کھرگے
نئی دہلی، کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے مودی حکومت کی معاشی پالیسیوں پر شدید نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس حکومت نے عام لوگوں کے مفادات کو نظر انداز کر کے صارفین کے لیے متعدد اختیارات کی مسابقت کو ختم کر دیا ہے اور منتخب سرمایہ دار دوستوں کو فائدہ پہنچایا جا رہا ہے، جس سے معاشی لبرلائزیشن کی بنیاد برباد ہو گئی ہے۔
مسٹر کھرگے نے جمعہ کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر لکھا کہ مودی حکومت کی معاشی پالیسیوں کا مقصد معیشت کا کنٹرول اپنے چہیتے سرمایہ دار دوستوں کے ہاتھوں میں سونپنا ہے، تاکہ بدلے میں منافع میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کا حصہ برقرار رہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مسابقت کو ختم کر کے اجارہ داری اور دو کمپنیوں کے غلبے والے نظام کو نافذ کر کے بی جے پی کے خزانے کو بھرنے کا کام کیا گیا ہے۔
کانگریس صدر نے کہا کہ ٹیلی کام کے شعبے میں 2014 سے پہلے 13 کمپنیاں تھیں، جبکہ اب صرف تین بڑی نجی کمپنیاں رہ گئی ہیں۔ اسی طرح اندرونِ ملک ہوا بازی کے شعبے میں 2014 سے پہلے سات کمپنیوں کے مقابلے اب صرف دو بڑی کمپنیاں رہ گئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل ادائیگی، سیمنٹ اور فوڈ ڈیلیوری ایپس سمیت مختلف شعبوں میں حکومت کی ترجیح مسابقت کو ختم کرنا رہی ہے۔ مسٹر کھرگے نے کہا کہ کانگریس معاشی لبرلائزیشن کی بانی ہے، جبکہ بی جے پی پر اپنے منافع کے لیے ‘معاشی دہشت گردی’ نافذ کرنے کا الزام لگایا۔
مسٹر کھرگے نے دعویٰ کیا کہ حکومت کی معاشی پالیسیوں سے مائیکرو، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز (ایم ایس ایم ای) اور دیگر چھوٹے و درمیانے درجے کی صنعتوں کو نقصان پہنچا ہے نیز ملک کے نوجوانوں کو شدید بے روزگاری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
انڈیا اتحاد کے رہنماؤں سے جمعہ کی رات آٹھ بجے ملاقات کریں گی مرمو
نئی دہلی، انڈیا اتحاد کے رہنما جمعہ کی رات آٹھ بجے صدرِ جمہوریہ دروپدی مرمو سے ملاقات کر کے ووٹر لسٹ کی خصوصی تفصیلی نظرثانی (ایس آئی آر) کےعمل کے ذریعے دھاندلی کرنے اور الیکشن کمیشن کے طریقہ کار سے متعلق مسائل پر اپنے خدشات پیش کریں گے۔
ذرائع کے مطابق انڈیا اتحاد کے رہنماؤں نے 30 ستمبر کو یہاں منعقدہ میٹنگ میں صدرِ جمہوریہ سے ملاقات کر کے ان مسائل پر ان کے سامنے اپنا موقف رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اتحاد کے رہنما ایس آئی آر کے عمل اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے طریقہ کار سے متعلق اپنے خدشات سے صدرِ جمہوریہ کو آگاہ کرنا چاہتے ہیں۔
اس سلسلے میں صدرِ جمہوریہ سے ملاقات کے لیے پہلی بار دو اکتوبر کو مکتوب بھیج کر وقت مانگا گیا تھا۔ راشٹرپتی بھون کی طرف سے وفد میں شامل ہونے والے رہنماؤں کے نام مانگے جانے کے بعد اتحاد نے پانچ اکتوبر کو دوبارہ مکتوب بھیجا اور سات، آٹھ یا نو اکتوبر میں سے کسی بھی دن ملاقات کا وقت دینے کی درخواست کی تھی۔
انڈیا اتحاد کے رہنما چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار پر ووٹر لسٹ میں مبینہ دھاندلیوں کے تعلق سے سوال اٹھاتے ہوئے ان کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اس معاملے پر اتحاد کے اراکینِ پارلیمنٹ نے مظاہرے اور مارچ بھی نکالے ہیں۔
کانگریس نے الیکشن کمیشن کے خلاف اپنے احتجاج کو تیز کرنے کے لیے تقریباً ڈیڑھ ماہ تک جاری رہنے والی تحریک کے پروگرام کی بھی توثیق کی ہے۔ کانگریسی رہنما راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی واڈرا کو پولیس مظاہرے کے دوران مسلسل دو بار حراست میں بھی لے چکی ہے۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
ہندوستان نے امریکہ کے پی ای آر ایم پروگرام پر روک پر تشویش کا اظہار کیا، کہا – یہ دونوں ممالک کے مفادات کے خلاف
نئی دہلی، ہندوستان نے امریکی محکمہ محنت کے مستقل لیبر سرٹیفیکیشن پروگرام (پی ای آر ایم) سے جڑے فیصلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے دونوں ممالک کے مفادات کے خلاف بتایا ہے۔
امریکہ کی جانب سے جمعرات کی رات اس قدم کے اعلان کے بعد وزارتِ خارجہ نے جمعہ کے روز ایک بیان جاری کر کے کہا کہ اس قدم سے متاثرہ کمپنیوں کے اہل ملازمین کے گرین کارڈ کے عمل پر اثر پڑ سکتا ہے۔ تاہم پی ای آر ایم درخواستوں پر روک سے موجودہ ایچ-1بی ویزا یا ویزا ہولڈرز اور ان کے زیرِ کفالت افراد کی حیثیت پر خود بخود کوئی اثر نہیں پڑتا۔
ہندوستان نے کہا کہ پی ای آر ایم پروگرام، ایچ-1بی ویزا پروگرام سے مختلف ہے۔ متاثرہ کمپنیوں کے اہل ملازمین کی مستقل رہائش یعنی گرین کارڈ حاصل کرنے کے عمل پر اس کا کچھ اثر ہو سکتا ہے، لیکن اس سے موجودہ ایچ-1بی ویزا کی میعاد اپنے آپ ختم نہیں ہوتی۔
وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ ہندوستانی ٹیلنٹ کے امریکہ جانے سے دونوں ممالک کی معیشتوں کو فائدہ ہوتا ہے۔ اس سے ہندوستانیوں کو مواقع ملتے ہیں، جبکہ امریکی کمپنیوں کو ہنر مند ملازمین، نئی ٹیکنالوجی، تحقیق، جدت طرازی، پیداواری صلاحیت اور مسابقتی صلاحیت بڑھانے میں مدد ملتی ہے۔ اس سے امریکہ میں روزگار کے مواقع پیدا ہوتے ہیں اور شیئر ہولڈرز کے اثاثوں میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔
ہندوستان نے کہا کہ امریکہ کا یہ قدم دونوں ممالک کے مشترکہ اہداف کو آگے بڑھانے میں مدد نہیں کرتا۔ ہندوستان نے امریکی نائب صدر کے اس معاملے پر کیے گئے تبصروں پر بھی اعتراض ظاہر کیا۔ ہندوستان کے مطابق ایسے تبصرے غیر مناسب ہیں اور امریکہ کی معیشت نیز جدت طرازی میں ہندوستانی پیشہ ور افراد کی خدمات کو نظر انداز کرتے ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ہندوستانی پیشہ ور افراد امریکہ کی معیشت اور جدت طرازی کے نظام میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ امریکہ کی تاریخ بھی ایسے تارکینِ وطن کی خدمات سے بنی ہے جنہوں نے اپنے کام، کاروبار اور نئے خیالات سے ملک کی ترقی میں مدد کی ہے۔ ہندوستان نے کہا کہ دردناک تاریخی اور نوآبادیاتی دور کی یاد دلانے والے الفاظ کا استعمال انتہائی قابلِ اعتراض ہے۔
وزارتِ خارجہ نے کہا کہ وہ اس معاملے سے جڑی صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے۔
یواین آئی ایف اے
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoقطری ثالثی کی امریکہ، ایران کے درمیان مذاکرات میں معمولی پیش رفت
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
ہندوستان1 week agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
جموں و کشمیر7 days agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
جموں و کشمیر1 week agoجاوید ڈار نے اسمبلی میں سی اے جی کی رپورٹیں پیش کیں
-
ہندوستان1 week agoشیئر بازاروں میں گراوٹ جاری، سینسیکس 49 پوائنٹس پھسلا
-
دنیا6 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
ہندوستان1 week agoڈیفنس اکاؤنٹس ڈیپارٹمنٹ کے 279ویں سالانہ دن پر کئی نئی پہل کی شروعات کریں گے راج ناتھ
-
دنیا7 days agoامریکہ، ایران جنگ بندی معاہدے کی راہ میں بداعتمادی اور گہرے اختلافات حائل
-
ہندوستان1 week agoکھرگے- راہل نے گاندھی اور شاستری کو یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش کیا
