جموں و کشمیر
کشمیر: یوم جمہوریہ سے قبل سیکورٹی انتہائی سخت، انتظامیہ کسی بھی چیلنج سے نمٹنے کیلئے پوری طرح مستعد
سری نگر، یوم جمہوریہ کی آمد سے قبل جموں و کشمیر کےموسم گرما کے دارالحکومت سرینگر میں سیکورٹی کے بھرپور انتظامات کئے گئے ہیں۔ شہر میں گزشتہ چند دنوں سے جو سرگرمی دیکھی جا رہی ہے، وہ اس بات کا ثبوت ہے کہ پولیس، سیول انتظامیہ اور مختلف سیکیورٹی ایجنسیاں کسی بھی ممکنہ خطرے یا تخریب کاری کو روکنے کے لیے پوری طرح چوکس اور سرگرم ہیں۔ سڑکوں پر نمایاں موجودگی، جگہ جگہ ناکہ بندی، گاڑیوں کی تفصیلی جانچ، رات کے وقت مسلسل گشت، حساس علاقوں میں اضافی نفری کی تعیناتی اور سینئر افسران کے اچانک معائنے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ شہر کو ایک مضبوط حفاظتی حصار میں بدل دیا گیا ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق یوم جمہوریہ ایک ایسا قومی ایونٹ ہے جس کے دوران نہ صرف سیکورٹی خدشات میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ تخریب کار عناصر بھی سرگرمی دکھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اسی وجہ سے شہر بھر میں ایک جامع سیکیورٹی پلان نافذ کیا گیا ہے،جس کے تحت سری نگر کو مختلف سیکورٹی زونز میں تقسیم کر کے وہاں خصوصی ٹیمیں تعینات کی گئی ہیں۔ یہ ٹیمیں نہ صرف ناکہ بندی کے ذریعے گاڑیوں کی جانچ کرتی ہیں بلکہ پیدل گشت کے ذریعے گلی کوچوں اور بازاروں میں بھی صورتِ حال پر نظر رکھتی ہیں۔
شہر کے داخلی اور خارجی راستوں پر خصوصی ناکے قائم کیے گئے ہیں جہاں شناختی دستاویزات کی جانچ، گاڑیوں کے اندرونی حصوں کی تلاشی اور سامان کی اسکیننگ کی جاتی ہے۔ اس عمل کو وقت طلب ضرور قرار دیا گیا ہے لیکن پولیس کے مطابق یہ اقدامات عوام کی سلامتی اور تقریب کے پرامن انعقاد کے لیے ناگزیر ہیں۔ کئی مقامات پر پولیس کے ساتھ پیراملٹری فورسز کی مشترکہ ٹمیں بھی سرگرم نظر آرہی ہیں، جو کسی بھی مشکوک حرکت کا فوری پتہ لگانے کے لیے جدید آلات اور نگرانی کے نظام سے لیس ہیں۔
رات کے وقت گشت کو خاص طور پر اس سال مزید بڑھایا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق رات کی تاریکی میں تخریبی سرگرمیوں کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں اس لیے خصوصی پیٹرولنگ ٹیموں نے مختلف علاقوں میں گشت کا دائرہ وسیع کردیا ہے۔ نیم شب سے لے کر صبح تک گشت جاری رہتا ہے اور کئی مقامات پر پولیس کی تیز رفتار موبائل یونٹس بھی تعینات کی گئی ہیں۔ کئی علاقوں میں جامہ تلاشی کے ساتھ ساتھ اچانک ناکے بھی لگائے جاتے ہیں جہاں چند منٹ کے لیے پورا ٹریفک روک کر گاڑیوں اور راہگیروں کی فوری تلاشی لی جاتی ہے۔ یہ اقدامات نہ صرف نگرانی کا دائرہ بڑھاتے ہیں بلکہ ممکنہ مشکوک عناصر کو متنبہ بھی کرتے ہیں کہ شہر اس وقت انتہائی سخت حفاظتی انتظامات کے تحت ہے۔
سینئر پولیس افسران خود بھی مختلف علاقوں کا معائنہ کرتے ہیں تاکہ سیکورٹی ڈیوٹی پر تعینات اہلکاروں کی موجودگی، موثر انتظامات اور کسی بھی کمزوری کا بروقت جائزہ لیا جا سکے۔ ان معائنوں کے دوران افسران ماتحت عملے کو تازہ ہدایات دیتے ہیں اور زمینی صورتحال کے مطابق حکمت عملی میں تبدیلی یا بہتری بھی لاتے ہیں۔ ایک سینئر افسر نے بتایا کہ پولیس کی اولین ترجیح یومِ جمہوریہ کی سرکاری تقریب کا مکمل امن و امان کے ساتھ انعقاد ہے اور اس مقصد کے لیے ہر ممکن قدم اٹھایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اہداف بالکل واضح ہیں: شہر میں پرسکون ماحول، عوامی حفاظت، سیکیورٹی فورسز کی چوکس موجودگی اور ہر ممکن خطرے کا تدارک۔
حساس علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کی موجودگی مزید بڑھا دی گئی ہے۔ شہر کے کچھ مخصوص علاقوں میں ماضی کے واقعات اور موجودہ انٹیلی جینس ان پٹس کو دیکھتے ہوئے اضافی نفری تعینات کی گئی ہے۔ کچھ مقامات پر خفیہ وردی والے اہلکار بھی گشت کرتے نظر آتے ہیں تاکہ کسی بھی غیر معمولی حرکت یا مشکوک فرد کا بروقت سراغ لگایا جا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ سی سی ٹی وی کیمروں کی نگرانی بھی مزید سخت کردی گئی ہے۔ شہر میں موجود ہزاروں کیمروں کے ذریعے ملنے والی لائیو فیڈ کو پولیس کنٹرول روم میں بیٹھے ماہرین چوبیس گھنٹے مانیٹر کررہے ہیں، جبکہ حساس مقامات پر ڈرون نگرانی بھی جاری ہے۔
سیکورٹی انتظامات صرف زمینی نگرانی تک محدود نہیں ہیں بلکہ تکنیکی حوالے سے بھی انتظامیہ نے بہترین اقدامات کیے ہیں۔ بم ڈسپوزل اسکواڈ، کھوجی کتے اور ٹیکنیکل ٹیمیں شہر کے مختلف علاقوں میں اہم عمارتوں، پلوں، بازاروں اور تقریب کے مقامات کا باقاعدہ معائنہ کر رہی ہیں۔ یہ ٹیمیں یومِ جمہوریہ سے قبل کئی بار حساس مقامات کی کلیئرنس کرتی ہیں تاکہ کسی بھی خطرے کا احتمال باقی نہ رہے۔
پولیس نے عوام سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ چیکنگ اور تلاشی کے عمل میں مکمل تعاون کریں۔ پولیس کے مطابق عمومی طور پر ایسے مواقع پر کچھ شہری وقت ضائع ہونے کی شکایت کرتے ہیں تاہم اہلکاروں کا کہنا ہے کہ اس وقت کی جانے والی سیکیورٹی کارروائیاں براہ راست عوامی سلامتی سے جڑی ہیں۔ پولیس نے شہریوں سے کہا ہے کہ اگر انہیں کوئی مشکوک شخص یا سرگرمی نظر آئے تو فوراً قریبی پولیس اسٹیشن یا پولیس کنٹرول روم سے رابطہ کریں۔ عوامی تعاون نہ صرف مجموعی سیکیورٹی کو مضبوط بناتا ہے بلکہ تخریب کار عناصر کے لیے سرگرمی دکھانے کے امکانات کو بھی انتہائی محدود کر دیتا ہے۔
انتظامیہ کے مطابق یومِ جمہوریہ کی مرکزی تقریب کے لیے بھی بھرپور تیاریاں جاری ہیں جو روایتی تزک و احتشام کے ساتھ منائی جائے گی۔ اس تقریب میں اہم سرکاری افسران، حکومتی نمائندے، سیکیورٹی فورسز کے اعلیٰ اہلکار، معزز شہری اور طلباء کی بڑی تعداد شرکت کرے گی۔ پریڈ، ثقافتی پروگرام، پرچم کشائی اور دیگر سرگرمیوں کے لیے انتظام کرنے والے محکموں کے درمیان قریبی رابطہ قائم ہے۔ تمام محکموں کو ہدایت دی گئی ہے کہ تقریب کے روز اپنی ذمہ داریوں کو نہایت پیشہ ورانہ انداز میں نبھائیں اور عوام کو سہولت پہنچانے میں کوئی کوتاہی نہ برتی جائے۔
شہر میں اس وقت جو ماحول دکھائی دے رہا ہے وہ یومِ جمہوریہ کے انعقاد سے پہلے روایتی لیکن انتہائی مضبوط سیکیورٹی تیاریوں کی جھلک ہے۔ چاہے وہ بازاروں میں پیدل گشت ہو، سڑکوں پر ناکے ہوں، رات کے وقت پولیس کی گاڑیوں کی سائرن بجاتی موجودگی ہو، یا حساس مقامات پر اضافی نفری کے ساتھ چوکس اہلکار— ہر منظر اس بات کی گواہی دے رہا ہے کہ سرینگر اس وقت ایک منظم سیکیورٹی دائرے میں ہے جس کا مقصد عوام کا تحفظ اور قومی تقریب کا پُرامن انعقاد یقینی بنانا ہے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ یوم جمہوریہ کے دن کی ضرورتوں کے مطابق ہر طرح کے حفاظتی انتظامات پہلے ہی مکمل کر لیے گئے ہیں اور شہر میں کسی بھی غیر معمولی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تمام یونٹس الرٹ موڈ پر ہیں۔ پولیس کے مطابق گزشتہ چند برسوں میں یومِ جمہوریہ کے موقع پر سیکورٹی خطرات کے باوجود تقریب انتہائی پرامن رہی ہے اور اس مرتبہ بھی وہی صورتحال برقرار رکھنے کے لیے کوئی کسر نہیں چھوڑی جا رہی ہے۔
مجموعی طور پر سرینگر میں یوم جمہوریہ سے قبل جو سیکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں وہ نہ صرف معمول سے زیادہ سخت ہیں بلکہ کئی حوالوں سے گزشتہ برسوں سے بھی بڑھ کر ہیں۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات حالات کے تقاضوں کے مطابق ہیں اور ان کا مقصد عوام کو ایک محفوظ، پُرسکون، منظم اور قومی اہمیت کے حامل اس دن کی خوشیاں بے خوفی کے ساتھ منانے کا ماحول فراہم کرنا ہے۔
یو این آئی۔ ارشید بٹ
جموں و کشمیر
انتخابی شکست کے خوف سے جموں و کشمیر میں پنچایت انتخابات ٹال رہی ہے نیشنل کانفرنس: سنیل شرما
سری نگر، جموں و کشمیر اسمبلی میں حزب اختلاف کے لیڈر اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سینئر رہنما سنیل شرما نے جمعرات کو نیشنل کانفرنس حکومت پر انتخابی شکست کے خوف سے پنچایت اور بلدیاتی انتخابات میں جان بوجھ کر تاخیر کرنے کا الزام لگایا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ حکمراں جماعت نہیں چاہتی کہ دوسری جماعتوں کو زمینی سطح پر نمائندگی ملے۔
بی جے پی کے سابق تنظیمی جنرل سکریٹری اشوک کول کے اعزاز میں پارٹی کی جموں و کشمیر شاخ کی جانب سے منعقدہ الوداعی تقریب کے موقع پر نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے مسٹر شرما نے کہا کہ مقامی بلدیاتی انتخابات عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت کے لیے ‘لٹمس ٹیسٹ’ ثابت ہوں گے۔ انہوں نے حکومت پر بجلی، ایل پی جی سلنڈر، ملازمتوں اور راشن کے وعدے پورے کرنے میں ناکام رہنے کا الزام لگایا۔
مسٹر شرما نے کہاکہ ”عبداللہ خاندان کے تکبر اور ‘دبنگئی’ کی وجہ سے جموں و کشمیر میں پنچایت انتخابات نہیں ہونے دیے جا رہے ہیں۔ یہاں تک کہ وزیر اعلیٰ نے اسمبلی میں کہا کہ وہ انتخابات نہیں کرائیں گے۔ ان کے والد فاروق عبداللہ صاحب بھی 2 سے 3 بار کہہ چکے ہیں کہ پنچایت انتخابات نہیں ہوں گے۔ نیشنل کانفرنس نہیں چاہتی کہ کوئی اور یہاں کے عوام کی نمائندگی کرے۔ وہ جانتے ہیں کہ انہیں منہ کی کھانی پڑے گی اور انہیں ڈر ہے کہ عوام ان سے ان کے دھوکے کا حساب مانگیں گے۔”
لداخ میں پنچایت انتخابات کے اعلان کا حوالہ دیتے ہوئے مسٹر شرما نے سوال کیا کہ جموں و کشمیر میں ایسے انتخابات کیوں نہیں کرائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ”یہ اس حکومت کے لیے ایک سخت امتحان ہوگا۔ جس حکومت نے بجلی، سلنڈر، ملازمت اور راشن کے نام پر لوگوں کو دھوکہ دیا ہے، اس کا امتحان پنچایتی راج اور بلدیاتی انتخابات کے ذریعے لیا جانا چاہیے۔”
مرکزی وزیر داخلہ کے اس بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے، جس میں کہا گیا تھا کہ کشمیر میں دہشت گردی ختم ہو گئی ہے، مسٹر شرما نے کہا کہ گزشتہ 5 سال میں دہشت گردی میں زبردست کمی آئی ہے۔ انہوں نے اس کا سہرا مرکزی حکومت اور خاص طور پر وزارت داخلہ کے سر باندھا۔ مسٹر شرما نے کہا کہ ”گزشتہ 2 سال میں ایک بھی کشمیری نوجوان کسی دہشت گرد تنظیم میں شامل نہیں ہوا ہے، جو دہشت گردی کے خاتمے کی ایک بڑی علامت ہے۔”
یہ پوچھے جانے پر کہ کیا لداخ کی طرح کشمیر میں بھی مظاہرین کے خلاف درج مقدمات واپس لیے جا سکتے ہیں، مسٹر شرما نے دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے ملزم افراد کا لداخ کے مظاہرین سے موازنہ کرنے کی کوشش کو مسترد کر دیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ جو لوگ اس وقت جیل میں ہیں، ان کے خلاف سابقہ پی ڈی پی اور نیشنل کانفرنس حکومتوں کے دور میں عوامی تحفظ قانون کے تحت مقدمات درج کیے گئے تھے۔
مسٹر شرما نے واضح کیا کہ بی جے پی بے گناہوں کو انصاف دلانے کی حمایت کرے گی، لیکن ملک کے خلاف تشدد کرنے والوں کو بے قصور نہیں کہا جا سکتا۔
یو این آئی۔ این یو۔
جموں و کشمیر
بارہمولہ میں 2 مشتبہ اوور گراؤنڈ کارکن گرفتار، آئی ای ڈی اور پستول برآمد
سری نگر، شمالی کشمیر کے بارہمولہ ضلع میں سکیورٹی کارروائی کے دوران 2 مشتبہ اوور گراؤنڈ کارکنوں (او جی ڈبلیوز) کو گرفتار کیا گیا ہے۔ سرکاری ذرائع نے جمعرات کو بتایا کہ ان کے قبضے سے 2 دیسی ساختہ دھماکہ خیز آلات (آئی ای ڈی) اور گولہ بارود برآمد کیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ یہ برآمدگیاں گزشتہ شام بارہمولہ کے ڈیلینا علاقے میں کی گئیں۔ گرفتار کیے گئے دونوں افراد کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ شمالی کشمیر کے سوپور کے چنکی پورہ علاقے کے رہنے والے ہیں۔
سرکاری ذرائع نے بتایاکہ ”ان کے قبضے سے 2 آئی ای ڈی، ایک پستول، گولہ بارود کے 10 کارتوس اور 6500 روپے برآمد کیے گئے ہیں۔”
انہوں نے مزید بتایا کہ ان کے مبینہ روابط کا پتہ لگانے اور معاملے کی دیگر تفصیلات معلوم کرنے کے لیے مزید تفتیش جاری ہے۔
گرفتاریوں اور برآمدگی کے سلسلے میں پولیس کی جانب سے ابھی تک کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔.
یو این آئی۔ این یو۔
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر ہائی کورٹ نے ‘میکانکی’ طریقے سے کی گئی احتیاطی حراست پر سوال اٹھائے، سری نگر کے ڈپٹی کمشنر کو طلب کیا
سری نگر، جموں و کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ نے عوامی تحفظ قانون (پی ایس اے) کے تحت ‘میکانکی’ (بغیر سوچے سمجھے) اور لاپروائی سے جاری کیے گئے احتیاطی حراست کے حکم پر سخت ناراضگی ظاہر کی ہے۔ جسٹس وسیم صادق نرگل کی بنچ نے سری نگر کے ڈپٹی کمشنر کو ذاتی طور پر عدالت میں پیش ہونے کی ہدایت دی ہے۔ گزشتہ ہفتے ہیبیئس کارپس کی عرضی پر سماعت کرتے ہوئے جسٹس نرگل نے کہا کہ سری نگر کے زبیر امین بنگرو کے خلاف حراست کی وجوہات میں ٹھوس معلومات موجود نہیں ہیں۔ عدالت نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ کیا حراست کا حکم جاری کرنے والے افسر نے پولیس کی جانب سے فراہم کردہ مواد کا آزادانہ طور پر جائزہ لیا تھا یا نہیں۔
عدالت نے ڈپٹی کمشنر کو ہدایت دی ہے کہ وہ پولیس ڈوزیئر، حراست کا حکم جاری کرنے والے افسر کے سامنے پیش کیے گئے مواد اور متعلقہ ریکارڈ کے ساتھ ذاتی طور پر پیش ہوں، تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ حراست کا حکم دیتے وقت کن بنیادوں پر غور کیا گیا اور افسر کس طرح مطمئن ہوا۔
عدالت نے سخت الفاظ میں افسر سے سوال کیا کہ ”انہوں نے مناسب غور و فکر کیے بغیر، اتنی لاپروائی اور میکانکی انداز میں حراست کا یہ حکم کیوں جاری کیا؟”
عدالت نے ایک اہم تشویش یہ بھی ظاہر کی کہ حراست کی وجوہات کے دوسرے پیراگراف میں ”مذکورہ دہشت گرد” کی اصطلاح استعمال کی گئی ہے، حالانکہ اس سے پہلے کسی دہشت گرد کی شناخت یا اس کا ذکر نہیں کیا گیا تھا۔
عدالت نے پایا کہ پہلے پیراگراف میں صرف رسمی طور پر یہ کہا گیا ہے کہ حراست کا حکم جاری کرنے والے افسر نے معاملے پر غور کیا ہے، لیکن اس میں کسی بھی دہشت گرد کی شناخت نہیں بتائی گئی ہے۔
اس تضاد کی جانب توجہ دلاتے ہوئے جسٹس نرگل نے تبصرہ کیا کہ الفاظ کی ترتیب سے ”واضح طور پر ظاہر ہوتا ہے کہ حراست کی وجوہات تیار کرتے وقت پولیس ڈوزیئر (دستاویزات) میں دی گئی معلومات کو مناسب غور و فکر کے بغیر جوں کا توں نقل کر لیا گیا ہے۔” عدالت نے کہا کہ یہ بات ”اس شبے کو مضبوط کرتی ہے کہ آیا حراست کا حکم جاری کرنے والے افسر نے معاملے کی آزادانہ جانچ کرکے حراست کی وجوہات طے کیں یا محض پولیس ڈوزیئر میں درج باتوں کو دہرا دیا۔”
حراست کی وجوہات میں بنگرو پر الزام لگایا گیا تھا کہ ان کے دہشت گردوں کے ساتھ قریبی تعلقات تھے، وہ دہشت گردوں کو لاجسٹک اور اخلاقی مدد فراہم کرتے تھے، انہوں نے اپنے گھر اور دیگر مقامات کو دہشت گردوں کے چھپنے کے ٹھکانوں کے طور پر استعمال کرنے کی اجازت دی تھی اور وہ ایک دہشت گرد نیٹ ورک کے ساتھیوں کے رابطے میں تھے۔ تاہم، عرضی گزار کی وکیل ندا نذیر نے دلیل دی کہ یہ الزامات مبہم ہیں اور ان میں ضروری تفصیلات کی کمی ہے۔ ان میں دہشت گردوں کی شناخت، نیٹ ورک کے ساتھیوں کے نام، چھپنے کے ٹھکانوں کے طور پر استعمال ہونے والی جگہوں کی تفصیلات اور ان مخصوص واقعات کا ذکر نہیں ہے جن میں مبینہ طور پر مدد فراہم کی گئی تھی۔
وکیل نے اس بات پر بھی سوال اٹھایا کہ ان افراد کی شناخت کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئی ہیں، جنہیں مبینہ طور پر بنگرو نے غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے لیے ترغیب دی تھی یا اکسایا تھا۔ اس کے ساتھ ہی اس بات کی بھی کوئی واضح تفصیل موجود نہیں ہے کہ ان مبینہ کارروائیوں سے ریاست کی سلامتی پر کیا منفی اثر پڑا۔
عدالت نے اپنی ابتدائی جانچ میں اس دلیل میں ”خاصا وزن” پایا کہ ان وجوہات میں اس وضاحت اور تفصیل کا فقدان ہے، جس کی توقع کسی شخص کی شخصی آزادی سلب کرنے والے حکم میں کی جاتی ہے۔
عدالت نے تبصرہ کیا کہ ”محض الزام کی سنگینی متعلقہ مواد اور آزادانہ غور و فکر کی ضرورت کی جگہ نہیں لے سکتی۔” عدالت نے احتیاطی حراست کے احکامات کے حوالے سے ایک وسیع تر تشویش بھی ظاہر کی۔
عدالت نے اس معاملے سے عین پہلے فہرست میں شامل ایک اور ہیبیئس کارپس کی عرضی کا بھی ذکر کیا۔ اس معاملے میں بھی حراست کا ایسا حکم سامنے آیا تھا جو بادی النظر میں ایسا معلوم ہوتا تھا کہ حراست کا حکم جاری کرنے والے افسر نے خود کوئی آزادانہ جائزہ لینے کے بجائے صرف پولیس رپورٹ (ڈوزیئر) کو جوں کا توں نقل کر دیا ہو۔
عدالت نے کہا کہ اس مماثلت نے ”ایک تشویش ناک سوال” پیدا کر دیا ہے: کیا احتیاطی حراست کے اختیارات کا استعمال مواد کے آزادانہ اور غیر جانب دارانہ جائزے کے ذریعے کیا جا رہا ہے، یا محض پولیس کے دعوؤں کو بغیر سوچے سمجھے دہرایا جا رہا ہے؟
تاہم، عدالت نے تسلیم کیا کہ پولیس رپورٹ (ڈوزیئر) پر غور کیا جا سکتا ہے، لیکن اس کے ساتھ اس بات پر زور دیا کہ یہ حراست کا حکم جاری کرنے والے افسر کی اس ذمہ داری کا متبادل نہیں ہو سکتی کہ وہ مواد کی آزادانہ جانچ کرے، اس کی مطابقت کا جائزہ لے اور قانون کے مطابق خود مطمئن ہو۔
احتیاطی حراست سے متعلق آئینی تحفظات کو دہراتے ہوئے عدالت نے کہا کہ کسی شخص کو باقاعدہ فوجداری مقدمے کے بغیر حراست میں رکھنے کے غیر معمولی اختیار کے استعمال کے لیے اعلیٰ ترین درجے کی آئینی ذمہ داری اور طریقۂ کار سے متعلق احتیاط برتنا ضروری ہے۔ حکم نامے میں کہا گیا کہ ”ہندوستانی آئین کے آرٹیکل 21 اور 22 میں شامل تحفظات محض دکھاوے کی رسمی کارروائیاں نہیں ہیں۔” عدالت نے واضح کیا کہ محض فوجداری مقدمہ نہ ہونے سے احتیاطی حراست کی قانونی حیثیت کا فیصلہ نہیں ہو جاتا۔ تاہم، متعلقہ اتھارٹی کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ قانونی تقاضے آزادانہ طور پر اور قانون کے مطابق پورے کیے گئے ہیں۔
یو این آئی۔ این یو۔
-
ہندوستان1 week agoمرکزی حکومت نے جنوبی بحر ہند ماہی گیری معاہدے میں شمولیت کو دی منظوری
-
دنیا1 week agoجاپانی صحافی کی روس میں گرفتاری: دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کیوں بڑھ رہی ہے
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
ہندوستان1 week agoمظاہرین پر تشدد کرنے والوں کو ثبوتوں کی بنیاد پر سزا ملے گی: راہل
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
دنیا7 days agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میں 15 اکتوبر سے اسکولوں کے اوقات میں تبدیلی
-
ہندوستان1 week ago16 سالہ معصوم لڑکی اور 50 سالہ دولہے کی پانچ لاکھ روپے میں منگنی، بروقت ٹیم نے شادی کو روک دیا
-
جموں و کشمیر5 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا1 week agoگرین لینڈ میں تیل، گیس اور معدنیات کی بڑے پیمانے پر تلاش جلد شروع ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoدیش کے 13.3 کروڑ لوگوں کو گھس پیٹھیا بتانا ہندوستانیت کی توہین: کھرگے
