جموں و کشمیر
ڈوڈہ میں دل دہلا دینے والا سانحہ: فوجی گاڑی کھائی میں گرنے سے 10 اہلکار ہلاک، 11 دیگر زخمی
جموں، ضلع ڈوڈہ کے خانی ٹاپ کے بلند و بالا پہاڑی علاقے میں جمعرات کے روز ایک ہولناک سڑک حادثے نے پوری ریاست کو سوگوار کر دیا، فوج کی ایک بُلٹ پروف گاڑی پھسل کر تقریباً 200 فٹ گہری کھائی میں گرگئی، جس کے نتیجے میں 10 بہادر فوجی اہلکار شہید جبکہ 11 شدید زخمی ہو گئے یہ افسوسناک حادثہ دوپہر کے قریب اُس وقت پیش آیا جب فوجی گاڑی بھدرواہ–چھمبہ شہاراہ پر ایک اعلیٰ چوکی کی طرف جا رہی تھی۔
ابتدائی معلومات کے مطابق گاڑی خانی ٹاپ کے 9 ہزار فٹ کی بلندی پر ایک پُرخطر موڑ پر ڈرائیور کے قابو سے باہر ہو گئی اور لمحوں میں ہی گہری کھائی میں گرگئی۔ گاڑی مکمل طور پر تباہ ہو گئی اور حادثے کے فوراً بعد علاقے میں کہرام مچ گیا۔
حادثے کی خبر ملتے ہی فوج اور جموں و کشمیر پولیس کی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور ایک مشکل اور حساس ریسکیو آپریشن شروع کیا گیا۔ چار فوجی اہلکار موقع پر ہی دم توڑ چکے تھے جبکہ 11 زخمیوں کو انتہائی دشوار گزار مقام سے نکال کر اسپتال منتقل کیا گیا۔
بعد ازاں چھ مزید زخمی اہلکار زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے، جس کے بعد شہید اہلکاروں کی تعداد 10 ہو گئی۔ زخمیوں میں سے 10 کو بہتر طبی سہولیات کے لیے ہیلی کاپٹر کے ذریعے ادھمپور کے کمانڈ اسپتال منتقل کیا گیا جبکہ ایک زخمی بھدرواہ سب ڈسٹرکٹ اسپتال میں زیرِ علاج ہے۔
بھدرواہ کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر سمت کمار بھٹیال نے بتایا کہ ’یہ ایک نہایت افسوسناک حادثہ ہے۔ 10 اہلکاروں کی شہادت ہو چکی ہے جبکہ 11 زخمی ہیں۔ ریسکیو ٹیموں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے کئی زخمیوں کی جان بچائی۔‘
حادثے پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے ایک بیان میں کہا کہ ’ڈوڈہ کے اس المناک حادثے میں 10 بہادر فوجی اہلکاروں کی شہادت پر دل انتہائی غمگین ہے۔ ملک ان کی بہادری اور قربانی کو کبھی نہیں بھولے گی۔‘
ایل جی منوج سنہا نے سوگوار خاندانوں سے دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے مزید کہا کہ ’اس صدمے کی گھڑی میں پورا ملک متاثرہ خاندانوں کے ساتھ ہے۔ زخمی اہلکاروں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت دے دی گئی ہے۔ خدا سے دعا ہے کہ تمام زخمی جلد صحت یاب ہوں۔‘
جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے بھی حادثے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ سانحہ پورے خطے کے لیے ایک گہرا صدمہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ’ہمارے بہادر فوجی اہلکاروں کی شہادت نے ہر دل کو غمزدہ کر دیا ہے۔ ان سپاہیوں کی خدمت اور قربانی کو ہمیشہ احترام کی نظر سے یاد رکھا جائے گا۔‘
انہوں نے زخمی اہلکاروں کی جلد صحت یابی کی دعا کی اور ریسکیو ٹیموں کی بروقت کارروائی کو سراہتے ہوئے کہا کہ جن اہلکاروں کو شدید چوٹیں آئی ہیں، انہیں فوری طور پر بہتر طبی مراکز منتقل کرنا قابلِ تحسین قدم ہے۔
ڈوڈہ، کشتواڑ اور بھدرواہ کے پہاڑی علاقوں میں ایسے حادثات کی تاریخ کئی دہائیوں پر محیط ہے۔ خراب موسم، پھسلن، تنگ سڑکیں اور حفاظتی اقدامات کی کمی اکثر جان لیوا ثابت ہوتی ہے۔ مقامی لوگ بارہا مطالبہ کر چکے ہیں کہ فوجی اور سویلین گاڑیوں کے لیے بہتر حفاظتی بندوبست اور سڑکوں کی مرمت ناگزیر ہے۔
حادثے نے ایک بار پھر یہ سوال اٹھا دیا ہے کہ کیوں انتہائی حساس اور برفیلے علاقوں میں فوجی گاڑیوں کی حفاظت کے لیے جدید ٹیکنالوجی اور بہتر سڑک نظام کو ترجیح نہیں دی جاتی۔
ڈوڈہ سے لے کر ادھمپور اور سرینگر تک ہر جگہ اس حادثے کی خبر غم اور دکھ کے ساتھ سنی گئی۔ عام شہریوں اور سیاسی رہنماؤں نے شہید ہونے والے جوانوں کے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کیا۔
ڈوڈہ کا یہ المناک حادثہ ایک بار پھر یاد دلاتا ہے کہ ملک کی سرحدوں اور اندرونی علاقوں میں تعینات ہمارے بہادر سپاہی روزانہ اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر ملک کی حفاظت کرتے ہیں۔ ایسے حادثات نہ صرف انسانی المیہ ہوتے ہیں بلکہ ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتے ہیں کہ حساس علاقوں میں فوجی نقل و حرکت کے دوران حفاظتی اقدامات کو کس قدر مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔
ملک ان بہادر شہداء کی قربانی کو ہمیشہ یاد رکھے گی اور ان کے اہلِ خانہ کے ساتھ کھڑی رہے گی۔
یو این آئی، ارشید بٹ۔
جموں و کشمیر
عمر عبداللہ کی لوگوں سے باغِ گلِ داؤد کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہونے کی اپیل
سری نگر، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعہ کو کہا کہ سری نگر کا پہلا مخصوص گلِ داؤدی باغ، ‘باغِ گلِ داؤد’، سیاحوں کو پھولوں کی ایک منفرد دل کشی فراہم کرکے کشمیر میں سیاحتی موسم کو وسعت دینے میں مددگار ثابت ہوگا۔
باغ کا دوسری مرتبہ افتتاح کرنے کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد کشمیر کے سیاحتی موسم کے آغاز اور اختتام، دونوں ادوار میں سیاحوں کے لیے خصوصی کشش کے مقامات تیار کرنا ہے۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کو تیار کرنے کے پیچھے ہمارا مقصد سیاحتی موسم کو فروغ دینا ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ محکمۂ گل کاری نے باغِ گلِ داؤد کو اس لیے تیار کیا ہے تاکہ ایسے عرصے میں سیاحوں کو ایک منفرد تجربہ فراہم کیا جا سکے، جب سیاحت کے لیے خاص کشش رکھنے والے مقامات نسبتاً کم ہوتے ہیں۔
زبرون پہاڑیوں کے دامن میں واقع اور ڈل جھیل کے چمکتے پانیوں کا نظارہ پیش کرنے والا یہ خوب صورت، زینہ دار باغ سری نگر کے مشہور ٹیولپ گارڈن کے قریب واقع ہے۔
عمر عبداللہ نے لوگوں کو باغ کی سیر کی دعوت دیتے ہوئے کہاکہ ”میں نہ صرف ملک بھر کے ان لوگوں کو کشمیر آنے کی دعوت دیتا ہوں جو یہاں کی سیر کے خواہش مند ہیں، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر سری نگر اور آس پاس کے علاقوں میں رہنے والے اپنے لوگوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ آئیں اور اس باغ کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہوں۔”
انہوں نے سیاحوں پر زور دیا کہ وہ باغ میں تصاویر کھینچیں اور یہاں کی خوب صورتی کی یادیں ہمیشہ کے لیے محفوظ کریں۔
گزشتہ سال باغ کے افتتاح کے بعد ہونے والی پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ باغ میں نمایاں بہتری آئی ہے اور اسے مزید دل کش بنانے کی کوششیں جاری رہیں گی۔
انہوں نے کہاکہ ”آپ میں سے جو لوگ گزشتہ سال افتتاح کے موقع پر میرے ساتھ تھے اور جنہوں نے اس مرتبہ یہاں آنے کا موقع حاصل کیا ہے، انہوں نے خود دیکھا ہوگا کہ اس باغ نے کتنی ترقی کی ہے۔”
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پائیداری کے اعتبار سے بھی اس باغ کو ایک فائدہ حاصل ہے، کیونکہ اس کے پودوں کو مقامی طور پر افزائش دے کر بڑھایا جا سکتا ہے، جب کہ ٹیولپ کے بلب بار بار درآمد کرنے پڑتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کا ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ ٹیولپ گارڈن کے برعکس، جس کے لیے ہمیں بار بار بیرونِ ملک سے بلب منگوانے پڑتے ہیں، باغِ گلِ داؤد کے پودوں کا مواد ہمارے اپنے پاس موجود ہے۔ ہم خود ان کی افزائش کرتے ہیں اور ان کی تعداد بڑھاتے ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت ہر سال باغ میں نئی خصوصیات متعارف کرانے کی کوشش کرے گی تاکہ اس کی کشش برقرار رہے اور سیاحتی مقام کے طور پر اس کا کردار مزید مستحکم ہو۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
لداخ کی پشمینہ کو عالمی منڈیوں تک پہنچانے کی پہل، لیفٹیننٹ گورنر نے خریداروں اور مقامی صنعت کاروں کے کنکلیو کا افتتاح کیا
سری نگر، لداخ کی عالمی شہرت یافتہ پشمینہ اون کو بین الاقوامی منڈیوں میں وسیع تر رسائی دلانے کی کوششوں کے تحت لیفٹیننٹ گورنر ونے کمار سکسینہ نے لیہ میں دو روزہ پشمینہ کنکلیو کا افتتاح کیا۔ اس کا مقصد مقامی مویشی پالنے والوں، دست کاروں اور کاروباری افراد کو بین الاقوامی خریداروں اور صنعت سے وابستہ اہم شخصیات سے جوڑنا ہے۔
‘لداخ پشمینہ کنکلیو: ریورس بائر سیلر میٹ’ میں پشمینہ کی پوری پیداواری اور تجارتی زنجیر سے وابستہ مختلف فریقوں نے شرکت کی، جن میں خانہ بدوش مویشی پالنے والے، دست کار، ڈیزائنر، کاروباری افراد، صنعتی نمائندے اور خریدار شامل تھے۔ منگولیا، جاپان اور تھائی لینڈ کے مندوبین نے بھی اس کنکلیو میں شرکت کی، جس سے بین الاقوامی تعاون، معلومات کے تبادلے اور لداخ کے اس قیمتی قدرتی ریشے کے لیے عالمی منڈیوں تک رسائی کے نئے امکانات پیدا ہوئے۔ پشمینہ کو اکثر ‘لداخ کا سنہرا ریشہ’ بھی کہا جاتا ہے۔
حکام کے مطابق، اس موقع پر حکومتِ ہند کی وزارتِ ٹیکسٹائل اور مرکز کے زیر انتظام علاقے لداخ کے محکمۂ صنعت و تجارت کے درمیان مفاہمت کی ایک یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کیے گئے۔ اس کا مقصد پشمینہ کے شعبے کے فروغ اور ترقی کے لیے باہمی تعاون کو مضبوط بنانا ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے جغرافیائی شناخت (جی آئی) ٹیگ یافتہ لداخی پشمینہ پر ایک ڈاک ٹکٹ بھی جاری کیا۔ اس کے ذریعے اس قیمتی ریشے کی منفرد شناخت، روایتی دست کاری اور اس سے وابستہ ثقافتی ورثے کو تسلیم کیا گیا ہے۔
کنکلیو کے ایک اہم حصے، ‘ریورس بائر سیلر میٹ’ کا مقصد پشمینہ تیار کرنے والوں اور کاروباری اداروں کو خریداروں، ٹیکسٹائل مینوفیکچررز، ڈیزائنروں اور مارکیٹ سے وابستہ دیگر فریقوں کے قریب لانا ہے۔ اس پلیٹ فارم کے ذریعے براہِ راست بات چیت ممکن ہوگی، مقامی پروڈیوسروں کو بازار کی ضروریات سمجھنے میں مدد ملے گی، مقامی مصنوعات کی نمائش کی جا سکے گی اور کاروباری مواقع کے ساتھ ممکنہ تجارتی شراکت داریوں کو بھی تلاش کیا جا سکے گا۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر: کشتواڑ میں ہندوستانی فوج نے طلبہ اور فوج میں بھرتی کے خواہش مند نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کی
جموں، سابقہ ڈوڈہ ضلع کے نوجوانوں سے رابطہ قائم کرنے اور ان کی رہنمائی و معاونت کی مسلسل کوششوں کے تحت آرمی ریکروٹنگ آفس (اے آر او)، جموں نے جموں و کشمیر کے ضلع کشتواڑ کے گورنمنٹ ڈگری کالج میں نوجوانوں کی حوصلہ افزائی اور عوامی رابطے کا ایک خصوصی پروگرام کامیابی کے ساتھ منعقد کیا۔
اے آر او، جالندھر کے ہیڈکوارٹر ریکروٹنگ زون کا حصہ ہے۔
وزارت دفاع، جموں کے تعلقات عامہ کے افسر اور ترجمان لیفٹیننٹ کرنل سنیل برتوال نے ایک سرکاری بیان میں بتایا کہ ہندوستانی فوج کی اس پہل کو طلبہ کی جانب سے زبردست پذیرائی حاصل ہوئی، جبکہ کالج انتظامیہ نے بھی اس کی بھرپور ستائش کی۔
انہوں نے کہاکہ ”اس پروگرام کا بنیادی مقصد ہندوستانی فوج میں بھرتی کے طریقۂ کار سے متعلق ابہام دور کرنا اور دفاعی شعبے میں کریئر بنانے کے خواہش مند نوجوانوں کے جوش و جذبے کو ایک منظم اور قابلِ عمل منصوبے کی شکل دینا تھا۔”
انہوں نے بتایا کہ مسلح افواج میں شمولیت کے طریقوں کے بارے میں واضح رہنمائی فراہم کرتے ہوئے اس رابطہ پروگرام کا مقصد مقامی نوجوانوں کو قومی خدمت کے لیے وقف کریئر اختیار کرنے اور ”ایک غیر معمولی زندگی گزارنے” کی ترغیب دینا تھا۔
انہوں نے کہا کہ پروگرام کے دوران منعقدہ باہمی تبادلۂ خیال کے اجلاسوں میں فوجی افسران نے بھرتی کی مختلف اسکیموں، اہلیت کے معیار اور امتحانات کے طریقۂ کار کے بارے میں تفصیلی معلومات فراہم کیں۔ اس طرح فوج میں شمولیت کے خواہش مند نوجوانوں کو دستیاب مواقع سے واقف کرانے اور ان کے درمیان موجود فاصلے کو کم کرنے کی کوشش کی گئی۔
تعلقات عامہ کے افسر نے کہاکہ ”ہندوستانی فوج خطے کے تمام دلچسپی رکھنے والے امیدواروں اور نوجوان قائدین کی حوصلہ افزائی کرتی ہے کہ وہ اپنے کریئر کے سفر میں اگلا قدم اٹھانے کے لیے بھرتی کے سرکاری پورٹل www.joinindianarmy.nic.in پر جائیں، جہاں آئندہ بھرتی مہمات، رجسٹریشن اور درخواست دینے کے طریقۂ کار سے متعلق تفصیلی معلومات دستیاب ہیں۔”
یواین آئی۔ ظ ا
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا6 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر کے بالائی علاقوں میں ہلکی برف باری، وادی میں بارش سے سردی میں اضافہ
-
دنیا7 days agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
-
دنیا6 days agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
-
پاکستان1 week agoپاکستان کے شمال مغربی علاقے میں اسکول کی چھت گرنے سے کم از کم 29 افراد ہلاک
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر کے قالین باف کو ہاتھ سے بنے قالینوں کے لیے قومی ایوارڈ
-
ہندوستان6 days agoگیانیش کمار سرکاری گواہ بنیں: راہل
