جموں و کشمیر
کشمیر: تازہ برف باری نے خشک سالی کا قحط ختم کیا؛ خشک چشمے پھر سے رواں، کسانوں میں خوشی کی لہر
سری نگر وادی کشمیر میں طویل خشک سالی کی کیفیت، جو گزشتہ دو ماہ سے پورے خطے میں تشویش کا باعث بنی ہوئی تھی، بالآخر تازہ برف باری اور بارشوں کے بعد ختم ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ وادی کے قدرتی آبی ذخائر،جن میں چشمے، ندی نالے، دریا اور زیرِ زمین پانی شامل ہیں،ایک بار پھر پانی سے بھر گئے ہیں۔
تازہ برف باری نے نہ صرف پانی کی سطح کو بہتر بنایا ہے بلکہ زراعت، باغبانی اور ماحولیاتی تحفظ کے لیے بھی نئی امید کی کرن پیدا کی ہے۔
محکمہ موسمیات کی طرف سے جاری کیے گئے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، یکم نومبر سے 21 جنوری تک جموں و کشمیر میں 85 فیصد بارشوں کی کمی ریکارڈ کی گئی، جہاں عام طور پر 139 ملی میٹر بارش ہونی چاہیے تھی، وہاں صرف 20.6 ملی میٹر بارش ہوئی۔ اس شدید کمی نے پوری وادی میں پانی کے بحران کی ایک خطرناک تصویر کھینچ دی تھی۔
کولگام ضلع میں واقع ویشو ندی، جو دریائے جہلم کی ایک اہم معاون ندی ہے، خشک سالی کے دوران مکمل طور پر خشک ہو گئی تھی۔ مقامی باشندوں اور ماہرین نے اسے ایک خطرناک ماحولیاتی اشارہ قرار دیا تھا۔ مگر تازہ برف باری نے اس ندی میں پھر سے پانی کی روانی بحال کر دی ہے۔
محکمہ جل شکتی کے ایک افسر نے بتایا:’تازہ برف باری اور بارشوں کے بعد پانی کے اخراج میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ پچھلے ہفتوں میں جن علاقوں میں لائنوں میں پانی کی آمد گھٹ گئی تھی یا مکمل بند ہو گئی تھی، وہاں اب سپلائی معمول کے مطابق بحال ہوتی جا رہی ہے۔‘
کولگام، شوپیاں اور اننت ناگ کے متعدد چشمے،جو خشک سالی کے دوران مکمل طور پر سوکھ چکے تھے،اب دوبارہ ابھر رہے ہیں۔
خشک سالی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے کسان اور باغبان اس تازہ برف باری سے سب سے زیادہ خوش نظر آتے ہیں۔شوپیاں کے مقامی کسان نیاز وانی نے کہا:’دو مہینوں سے زمین میں نمی نہیں تھی۔ چشمے خشک، نالے بند، اور کھیت پیاسے تھے۔ ہم واقعی پریشان تھے کہ اس سال میوہ اور دھان کو شدید نقصان پہنچے گا۔ یہ برف باری ہماری زندگی ہے۔ اس نے ہماری امیدیں تازہ کر دی ہیں۔‘
انہوں نے مزید کہا:’برف قدرت کا بہترین کھاد ہے۔ یہ زمین کو نم رکھتی ہے، فصلوں کو ٹھنڈ کے اثر سے بچاتی ہے اور بہار میں پودوں کے بڑھنے کے لیے موزوں حالات فراہم کرتی ہے۔‘
ماحولیاتی ماہر فیضان نے یو این آئی کو بتایا کہ کشمیر وادی کی آبی معیشت کا دارومدار بڑی حد تک برف باری پر ہے۔
انہوں نے کہا:’برف ہی اصل میں کشمیر کے لیے پانی کا ذخیرہ ہے۔ بارشیں وقتی ریلیف دیتی ہیں، لیکن برف ہی وہ عنصر ہے جو چشموں، ندیوں اور دریاؤں کو سال بھر رواں رکھتی ہے۔ تازہ برف باری نے گلشیئرز کو بھی نئی توانائی دی ہے، جنہیں ہم کشمیر کی ‘واٹر بینکس’ کہتے ہیں۔‘
ان کے مطابق برف کے پگھلنے کا عمل نہ صرف قدرتی پانی کی فراہمی کو برقرار رکھتا ہے بلکہ گرمیوں میں درجہ حرارت کم کرنے، جنگلاتی آتشزدگی کے خطرات گھٹانے اور فضائی آلودگی کو کم کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔
جنوری کے پہلے دو ہفتوں میں وادی بھر میں پانی کی سطح انتہائی نچلی سطح پر پہنچ چکی تھی۔ شوپیاں، کولگام، پامپور، ترال اور بانہال کے متعدد علاقوں میں چشمے مکمل طور پر خشک ہوگئے تھے۔
موسم کی تازہ تبدیلی نے صورتحال کو یکسر تبدیل کر دیا ہے۔
محکمہ آبپاشی کے ایک اہلکار نے بتایا:’دو ماہ کے خشک موسم نے پانی کے ذخائر کو سخت متاثر کیا تھا، لیکن تازہ برف باری سے اب پانی کی سطح تیزی سے بحال ہو رہی ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ آئندہ دو ہفتوں میں مزید برف باری کے امکانات موجود ہیں جو وادی کی مجموعی آبی صورتحال کو اور بہتر بنائیں گے۔
ماہرین کے مطابق خشک سالی کے دوران جنگلات میں آگ لگنے کے واقعات میں خطرناک حد تک اضافہ دیکھا گیا، مگر تازہ برف باری نے جنگلات کو نمی فراہم کر کے آتشزدگی کے امکانات کو قریب قریب ختم کر دیا ہے۔
ماحولیاتی ماہر نے بتایا کہ پچھلے سال وادی میں جنگلاتی آگ کے سب سے زیادہ واقعات ریکارڈ ہوئے تھے۔ اس سال بھی دسمبر اور جنوری کے دوران آگ کے کئی واقعات رپورٹ ہوئے تھے۔ برف باری نے فوری طور پر اس رجحان کو روک دیا ہے۔
کوکرناگ، سونہ مرگ، گلمرگ، گریز اور پہلگام کے آس پاس موجود متعدد گلیشیئرز میں بھی برف کے ذخائر میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ یہ گلیشیئرز گرمیوں میں ندی نالوں، پانی کی سپلائی لائنوں اور بجلی گھروں کو رواں رکھنے میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔
خشک سالی کے باعث وادی کی دلکشی پر بھی نمایاں اثر پڑا تھا۔ گلمرگ، پہلگام اور دیگر مقامات—جو اس موسم میں برف سے ڈھکے ہوتے ہیں—بغیر برف کے ایک غیر معمولی منظر پیش کر رہے تھے۔ اس صورتحال نے سیاحتی سرگرمیوں کو بھی متاثر کیا۔لیکن تازہ برف باری کے بعد اب سیاحتی شعبے میں بھی نئی جان پیدا ہو گئی ہے۔
دو ماہ کی خشک سالی کے بعد ہونے والی تازہ برف باری نے وادی کشمیر کو نہ صرف قدرتی طور پر تازگی بخشی ہے بلکہ زراعت، پانی کی فراہمی، سیاحت اور ماحولیات جیسے اہم شعبوں کے لیے ایک نئی امید بھی پیدا کی ہے۔
یہ برف باری صرف ایک موسمی تبدیلی نہیں، بلکہ ایک ’زندگی بخش نعمت‘ ہے جس نے وادی کے خشک چشموں، پریشان حال کسانوں اور کم ہوتے گلیشیئرز کو نئی زندگی دی ہے۔
یو این آئی۔ ارشید بٹ
جموں و کشمیر
عمر عبداللہ کی لوگوں سے باغِ گلِ داؤد کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہونے کی اپیل
سری نگر، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعہ کو کہا کہ سری نگر کا پہلا مخصوص گلِ داؤدی باغ، ‘باغِ گلِ داؤد’، سیاحوں کو پھولوں کی ایک منفرد دل کشی فراہم کرکے کشمیر میں سیاحتی موسم کو وسعت دینے میں مددگار ثابت ہوگا۔
باغ کا دوسری مرتبہ افتتاح کرنے کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد کشمیر کے سیاحتی موسم کے آغاز اور اختتام، دونوں ادوار میں سیاحوں کے لیے خصوصی کشش کے مقامات تیار کرنا ہے۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کو تیار کرنے کے پیچھے ہمارا مقصد سیاحتی موسم کو فروغ دینا ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ محکمۂ گل کاری نے باغِ گلِ داؤد کو اس لیے تیار کیا ہے تاکہ ایسے عرصے میں سیاحوں کو ایک منفرد تجربہ فراہم کیا جا سکے، جب سیاحت کے لیے خاص کشش رکھنے والے مقامات نسبتاً کم ہوتے ہیں۔
زبرون پہاڑیوں کے دامن میں واقع اور ڈل جھیل کے چمکتے پانیوں کا نظارہ پیش کرنے والا یہ خوب صورت، زینہ دار باغ سری نگر کے مشہور ٹیولپ گارڈن کے قریب واقع ہے۔
عمر عبداللہ نے لوگوں کو باغ کی سیر کی دعوت دیتے ہوئے کہاکہ ”میں نہ صرف ملک بھر کے ان لوگوں کو کشمیر آنے کی دعوت دیتا ہوں جو یہاں کی سیر کے خواہش مند ہیں، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر سری نگر اور آس پاس کے علاقوں میں رہنے والے اپنے لوگوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ آئیں اور اس باغ کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہوں۔”
انہوں نے سیاحوں پر زور دیا کہ وہ باغ میں تصاویر کھینچیں اور یہاں کی خوب صورتی کی یادیں ہمیشہ کے لیے محفوظ کریں۔
گزشتہ سال باغ کے افتتاح کے بعد ہونے والی پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ باغ میں نمایاں بہتری آئی ہے اور اسے مزید دل کش بنانے کی کوششیں جاری رہیں گی۔
انہوں نے کہاکہ ”آپ میں سے جو لوگ گزشتہ سال افتتاح کے موقع پر میرے ساتھ تھے اور جنہوں نے اس مرتبہ یہاں آنے کا موقع حاصل کیا ہے، انہوں نے خود دیکھا ہوگا کہ اس باغ نے کتنی ترقی کی ہے۔”
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پائیداری کے اعتبار سے بھی اس باغ کو ایک فائدہ حاصل ہے، کیونکہ اس کے پودوں کو مقامی طور پر افزائش دے کر بڑھایا جا سکتا ہے، جب کہ ٹیولپ کے بلب بار بار درآمد کرنے پڑتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کا ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ ٹیولپ گارڈن کے برعکس، جس کے لیے ہمیں بار بار بیرونِ ملک سے بلب منگوانے پڑتے ہیں، باغِ گلِ داؤد کے پودوں کا مواد ہمارے اپنے پاس موجود ہے۔ ہم خود ان کی افزائش کرتے ہیں اور ان کی تعداد بڑھاتے ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت ہر سال باغ میں نئی خصوصیات متعارف کرانے کی کوشش کرے گی تاکہ اس کی کشش برقرار رہے اور سیاحتی مقام کے طور پر اس کا کردار مزید مستحکم ہو۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
لداخ کی پشمینہ کو عالمی منڈیوں تک پہنچانے کی پہل، لیفٹیننٹ گورنر نے خریداروں اور مقامی صنعت کاروں کے کنکلیو کا افتتاح کیا
سری نگر، لداخ کی عالمی شہرت یافتہ پشمینہ اون کو بین الاقوامی منڈیوں میں وسیع تر رسائی دلانے کی کوششوں کے تحت لیفٹیننٹ گورنر ونے کمار سکسینہ نے لیہ میں دو روزہ پشمینہ کنکلیو کا افتتاح کیا۔ اس کا مقصد مقامی مویشی پالنے والوں، دست کاروں اور کاروباری افراد کو بین الاقوامی خریداروں اور صنعت سے وابستہ اہم شخصیات سے جوڑنا ہے۔
‘لداخ پشمینہ کنکلیو: ریورس بائر سیلر میٹ’ میں پشمینہ کی پوری پیداواری اور تجارتی زنجیر سے وابستہ مختلف فریقوں نے شرکت کی، جن میں خانہ بدوش مویشی پالنے والے، دست کار، ڈیزائنر، کاروباری افراد، صنعتی نمائندے اور خریدار شامل تھے۔ منگولیا، جاپان اور تھائی لینڈ کے مندوبین نے بھی اس کنکلیو میں شرکت کی، جس سے بین الاقوامی تعاون، معلومات کے تبادلے اور لداخ کے اس قیمتی قدرتی ریشے کے لیے عالمی منڈیوں تک رسائی کے نئے امکانات پیدا ہوئے۔ پشمینہ کو اکثر ‘لداخ کا سنہرا ریشہ’ بھی کہا جاتا ہے۔
حکام کے مطابق، اس موقع پر حکومتِ ہند کی وزارتِ ٹیکسٹائل اور مرکز کے زیر انتظام علاقے لداخ کے محکمۂ صنعت و تجارت کے درمیان مفاہمت کی ایک یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کیے گئے۔ اس کا مقصد پشمینہ کے شعبے کے فروغ اور ترقی کے لیے باہمی تعاون کو مضبوط بنانا ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے جغرافیائی شناخت (جی آئی) ٹیگ یافتہ لداخی پشمینہ پر ایک ڈاک ٹکٹ بھی جاری کیا۔ اس کے ذریعے اس قیمتی ریشے کی منفرد شناخت، روایتی دست کاری اور اس سے وابستہ ثقافتی ورثے کو تسلیم کیا گیا ہے۔
کنکلیو کے ایک اہم حصے، ‘ریورس بائر سیلر میٹ’ کا مقصد پشمینہ تیار کرنے والوں اور کاروباری اداروں کو خریداروں، ٹیکسٹائل مینوفیکچررز، ڈیزائنروں اور مارکیٹ سے وابستہ دیگر فریقوں کے قریب لانا ہے۔ اس پلیٹ فارم کے ذریعے براہِ راست بات چیت ممکن ہوگی، مقامی پروڈیوسروں کو بازار کی ضروریات سمجھنے میں مدد ملے گی، مقامی مصنوعات کی نمائش کی جا سکے گی اور کاروباری مواقع کے ساتھ ممکنہ تجارتی شراکت داریوں کو بھی تلاش کیا جا سکے گا۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر: کشتواڑ میں ہندوستانی فوج نے طلبہ اور فوج میں بھرتی کے خواہش مند نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کی
جموں، سابقہ ڈوڈہ ضلع کے نوجوانوں سے رابطہ قائم کرنے اور ان کی رہنمائی و معاونت کی مسلسل کوششوں کے تحت آرمی ریکروٹنگ آفس (اے آر او)، جموں نے جموں و کشمیر کے ضلع کشتواڑ کے گورنمنٹ ڈگری کالج میں نوجوانوں کی حوصلہ افزائی اور عوامی رابطے کا ایک خصوصی پروگرام کامیابی کے ساتھ منعقد کیا۔
اے آر او، جالندھر کے ہیڈکوارٹر ریکروٹنگ زون کا حصہ ہے۔
وزارت دفاع، جموں کے تعلقات عامہ کے افسر اور ترجمان لیفٹیننٹ کرنل سنیل برتوال نے ایک سرکاری بیان میں بتایا کہ ہندوستانی فوج کی اس پہل کو طلبہ کی جانب سے زبردست پذیرائی حاصل ہوئی، جبکہ کالج انتظامیہ نے بھی اس کی بھرپور ستائش کی۔
انہوں نے کہاکہ ”اس پروگرام کا بنیادی مقصد ہندوستانی فوج میں بھرتی کے طریقۂ کار سے متعلق ابہام دور کرنا اور دفاعی شعبے میں کریئر بنانے کے خواہش مند نوجوانوں کے جوش و جذبے کو ایک منظم اور قابلِ عمل منصوبے کی شکل دینا تھا۔”
انہوں نے بتایا کہ مسلح افواج میں شمولیت کے طریقوں کے بارے میں واضح رہنمائی فراہم کرتے ہوئے اس رابطہ پروگرام کا مقصد مقامی نوجوانوں کو قومی خدمت کے لیے وقف کریئر اختیار کرنے اور ”ایک غیر معمولی زندگی گزارنے” کی ترغیب دینا تھا۔
انہوں نے کہا کہ پروگرام کے دوران منعقدہ باہمی تبادلۂ خیال کے اجلاسوں میں فوجی افسران نے بھرتی کی مختلف اسکیموں، اہلیت کے معیار اور امتحانات کے طریقۂ کار کے بارے میں تفصیلی معلومات فراہم کیں۔ اس طرح فوج میں شمولیت کے خواہش مند نوجوانوں کو دستیاب مواقع سے واقف کرانے اور ان کے درمیان موجود فاصلے کو کم کرنے کی کوشش کی گئی۔
تعلقات عامہ کے افسر نے کہاکہ ”ہندوستانی فوج خطے کے تمام دلچسپی رکھنے والے امیدواروں اور نوجوان قائدین کی حوصلہ افزائی کرتی ہے کہ وہ اپنے کریئر کے سفر میں اگلا قدم اٹھانے کے لیے بھرتی کے سرکاری پورٹل www.joinindianarmy.nic.in پر جائیں، جہاں آئندہ بھرتی مہمات، رجسٹریشن اور درخواست دینے کے طریقۂ کار سے متعلق تفصیلی معلومات دستیاب ہیں۔”
یواین آئی۔ ظ ا
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
دنیا6 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر کے بالائی علاقوں میں ہلکی برف باری، وادی میں بارش سے سردی میں اضافہ
-
دنیا6 days agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
-
دنیا6 days agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
-
پاکستان1 week agoپاکستان کے شمال مغربی علاقے میں اسکول کی چھت گرنے سے کم از کم 29 افراد ہلاک
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر کے قالین باف کو ہاتھ سے بنے قالینوں کے لیے قومی ایوارڈ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر اسمبلی کی کمیٹی نے آنچار جھیل کے آس پاس بڑے پیمانے پر تجاوزات پر تشویش ظاہر کی، فوری کارروائی کا مطالبہ سری نگر، 15 اکتوبر (یو
