جموں و کشمیر
ریل رابطے میں تاریخی پیش رفت: وندے بھارت اب سری نگر سے براہِ راست جموں تک دوڑے گی
سری نگر، شمالی ریلوے نے اعلان کیا ہے کہ یکم مارچ 2026 سے سری نگر اور جموں کے درمیان براہِ راست وندے بھارت ایکسپریس چلائی جائے گی، جس سے دونوں خطوں کے درمیان تیز رفتار اور آرام دہ سفری سہولت کو نئی جہت ملے گی۔ اس فیصلے نے وادی اور جموں دونوں علاقوں میں مسافروں کے چہروں پر خوشی کی لہر دوڑا دی ہے۔
ریلوے حکام کے مطابق وندے بھارت ٹرین، جو اس وقت سری نگر سے شری ماتا ویشنوی دیوی کٹرا تک چل رہی ہے، اب اسے بڑھا کر جموں توی تک کیا جا رہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ٹرین کی کوچ تعداد میں نمایاں اضافہ کیا گیا ہے—موجودہ آٹھ کوچوں کے بجائے اب بیس کوچوں پر مشتمل ریک چلائی جائے گی تاکہ متوقع رش اور بڑھتی مسافر طلب کو بہتر انداز میں سنبھالا جا سکے۔
ریلوے حکام کا کہنا ہے کہ یہ قدم نہ صرف خطے کی سفری ضرورت کو پورا کرے گا بلکہ کشمیر میں جاری بڑے ریل منصوبوں کے لیے ایک سنگِ میل ثابت ہوگا۔ حکام کے مطابق نئی توسیع سے وادی اور جموں کے درمیان تجارتی سرگرمیوں، طبی سفر، تعلیمی نقل و حرکت اور سیاحت میں بھی اضافہ متوقع ہے۔
وادی کے عام لوگوں نے اس فیصلے کو ’ایک دیرینہ مطالبے کی تکمیل‘ قرار دیا ہے۔
کشمیر یونیورسٹی کے ایک طالب علم بلال احمد، جو اکثر جموں سفر کرتا ہے، نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا:’ہمیں ہمیشہ گھنٹوں کا انتظار اور بسوں کی تھکا دینے والی مسافت جھیلنی پڑتی تھی۔ براہِ راست ٹرین ہمارے لیے واقعی راحت ہے—تیز بھی، آرام دہ بھی، اور محفوظ بھی۔‘
اسی طرح بارہمولہ کے ایک تاجر محمد شفیع نے کہا:’کاروبار کے لیے ہمیں ہر دوسرے ہفتے جموں جانا ہوتا ہے۔ براہِ راست ٹرین سے وقت بھی بچے گا اور سامان کے ساتھ سفر کرنا بھی آسان ہو جائے گا۔‘
جموں میں رہنے والی نرگس عباسی، جن کا خاندان سری نگر میں ہے، نے اسے ’دلوں کو جوڑنے‘ والی پیش رفت قرار دیا۔’ سفر مختصر ہو جائے گا، ملاقاتیں بڑھیں گی، اور گھر آنا جانا بہت سہل ہو جائے گا۔‘
ماہرین کے مطابق وندے بھارت کی یہ توسیع جموں و کشمیر میں ریل رابطے کے بڑے منصوبے یو ایس بی آر ایل پروجیکٹ کی پیش رفت سے بھی جڑی ہوئی ہے، جس کے بعد پوری وادی کو ملک کے باقی ریلوے نیٹ ورک سے براہِ راست منسلک ہونا ہے۔
ریلوے حکام نے امید ظاہر کی ہے کہ یکم مارچ سے شروع ہونے والی یہ نئی براہِ راست سروس نہ صرف عام مسافروں بلکہ سیاحوں کے لیے بھی نئی سہولت ثابت ہوگی اور خطے میں نقل و حمل کا معیار بہتر بنائے گی۔
یو این آئی، ارشید بٹ۔ایف اے
جموں و کشمیر
کشمیر سے تقریباً 150 بنگلہ دیشی شہری ملک بدر
سری نگر، جموں و کشمیر کے حکام نے پیر کو مبینہ طور پر مرکز کے زیر انتظام علاقے میں غیر قانونی طور پر مقیم تقریباً 150 بنگلہ دیشی شہریوں کو ملک بدر کردیا۔ انہیں ہندوستانی فضائیہ کے خصوصی طیارے کے ذریعے کشمیر سے مغربی بنگال کے باگ ڈوگرا لے جایا گیا۔
حکام نے بتایا کہ ملک بدر کیے گئے افراد کو باگ ڈوگرا لے جایا گیا، جہاں انہیں مزید بنگلہ دیش واپس بھیجنے کے لیے بارڈر سکیورٹی فورس (بی ایس ایف) کے حوالے کردیا گیا۔
حکام نے ان افراد کو مختلف واقعات میں حراست میں لیا تھا۔ پولیس ذرائع نے بتایا کہ ان میں سے کئی افراد کو کشمیر کے مختلف علاقوں میں کی گئی چھاپہ مار کارروائیوں کے دوران گرفتار کیا گیا تھا۔
ملک بدر کیے گئے بہت سے افراد غیر رسمی شعبے میں کام کر رہے تھے، جن میں تعمیراتی مزدور بھی شامل ہیں۔
ایک عہدیدار نے کہاکہ’’یہ کارروائی مرکزی ایجنسیوں کے ساتھ تال میل کرکے انجام دی جا رہی ہے۔‘‘
معلوم ہوا ہے کہ بنگلہ دیشی شہریوں کے ایک اور گروپ کو بھی آنے والے دنوں میں ملک بدر کیے جانے کا امکان ہے۔
بنگلہ دیشی شہریوں کے خلاف تازہ کارروائی سرحدی ریاستوں میں آبادیاتی تبدیلیوں کا جائزہ لینے کی وسیع تر مشق کے تحت کی گئی ہے۔
مرکز کی جانب سے تشکیل دی گئی چار رکنی کمیٹی نے، جس کی سربراہی ریٹائرڈ جسٹس پربھاکر ناولیکر کر رہے ہیں، اگست میں جموں کا دورہ کیا تھا تاکہ مبینہ غیر قانونی امیگریشن سمیت آبادیاتی تبدیلیوں کا جائزہ لیا جا سکے۔
ذرائع کے مطابق، کمیٹی کے سامنے پیش کیے گئے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ جموں و کشمیر میں اس وقت 6,000 سے زیادہ روہنگیا اور صرف 500 بنگلہ دیشی شہری مقیم ہیں۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
جموں بار ایسوسی ایشن نے موٹر وہیکل کے نئے ای-چالان نظام پر تشویش ظاہر کی
جموں، جموں و کشمیر ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن، جموں (رجسٹرڈ) نے پیر کو موٹر وہیکل قانون کے تحت الیکٹرانک ٹریفک چالان نظام سے متعلق حالیہ ترامیم اور پالیسی تبدیلیوں پر تشویش ظاہر کی۔
ایسوسی ایشن کے ارکان نے یہاں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مؤثر ٹریفک نظام، سڑکوں کی حفاظت اور ٹریفک قوانین کے ذمہ دارانہ نفاذ کی اہمیت کو تسلیم کیا اور اس بات پر تشویش ظاہر کی کہ نئے ای-چالان نظام کو جس طریقے سے نافذ کیا جا رہا ہے، اس کا عام شہریوں، گاڑی مالکان اور ڈرائیوروں پر ممکنہ اثر پڑ سکتا ہے۔
جے کے بی اے جے کے صدر کے نرمل کوتوال نے نائب صدر بلدیو سنگھ، جنرل سکریٹری پردیپ مجوترا، جوائنٹ سکریٹری انشو مہاجن اور خزانچی راہل اگروال کے ہمراہ کہا کہ ٹریفک قوانین کے نفاذ میں تکنیکی ترقی کے ساتھ شفافیت، جواب دہی، طریقہ کار میں انصاف اور شہریوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے مناسب انتظامات بھی ضروری ہیں۔
ایسوسی ایشن نے ای-چالان خودکار طور پر جاری کرنے اور ان کی وصولی سے پیدا ہونے والی عملی مشکلات کی جانب توجہ دلائی، خاص طور پر ان حالات میں جب کوئی شہری مبینہ خلاف ورزی، ڈرائیور کی شناخت، الیکٹرانک ریکارڈ کی درستگی یا چالان جاری کیے جانے کے حالات پر اعتراض کرے۔
انہوں نے مزید زور دیا کہ ٹیکنالوجی کے اعتبار سے کتنا ہی جدید نفاذ کا نظام کیوں نہ ہو، وہ قدرتی انصاف کے بنیادی اصولوں اور قانونی طریقہ کار سے الگ ہو کر کام نہیں کرسکتا۔
انہوں نے کہاکہ ’’شہریوں کو مبینہ خلاف ورزی کی بنیاد جاننے، غلط چالان پر اعتراض کرنے، مناسب اصلاح یا نظرثانی کی درخواست کرنے اور جہاں کوئی غلطی ہوئی ہو وہاں مؤثر تدارک حاصل کرنے کا بامعنی اور آسان موقع ملنا چاہیے۔‘‘
ایسوسی ایشن نے ان عوامی افراد کو پیش آنے والی مشکلات پر بھی تشویش ظاہر کی جو تکنیکی سہولیات سے پوری طرح لیس نہیں ہیں یا جنہیں الیکٹرانک چالان تک رسائی حاصل کرنے، اسے سمجھنے یا اس پر اعتراض کرنے میں دشواری کا سامنا ہوسکتا ہے۔
انہوں نے مزید زور دیا کہ ڈیجیٹل نظام انصاف اور عوامی خدمات تک رسائی کو آسان بنانے کا ذریعہ ہونا چاہیے، نہ کہ شہریوں کے لیے مزید رکاوٹیں پیدا کرنے کا۔
یو این آئی۔ این یو۔
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر پولیس نے مبینہ طور پر غیر قانونی منشیات رکھنے پر بلیوار میں میڈیکل شاپ سیل کردی
جموں، جموں و کشمیر پولیس نے محکمہ ڈرگ کنٹرول کے تعاون سے کٹھوعہ ضلع کے بلیوار علاقے میں ایک میڈیکل شاپ کو مبینہ طور پر عادت بنانے والی منشیات کی کھیپ برآمد ہونے کے بعد سیل کردیا۔ حکام نے اتوار کو یہ اطلاع دی۔
کٹھوعہ ضلع کے بلیوار میں سب ڈسٹرکٹ اسپتال کے قریب غیر قانونی منشیات برآمد ہونے کے بعد پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے دکان کو مبینہ طور پر ڈرگس اینڈ کاسمیٹکس ایکٹ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پایا۔
ایک سرکاری بیان کے مطابق پولیس کو بلیوار کے سب ڈسٹرکٹ اسپتال کے قریب غیر قانونی منشیات کی مشتبہ کھیپ موجود ہونے کی ٹیلی فون پر اطلاع ملی۔ اطلاع ملتے ہی پولیس کی ایک ٹیم نے ڈرگ انسپکٹر کے ساتھ کھیپ کو روکا اور اس کی جانچ کی۔
حکام نے بتایا کہ جانچ کے دوران ٹیم نے مہاجن میڈیکل ایجنسی سے پریگابلن 300 ملی گرام کے 320 کیپسول برآمد کیے۔
حکام کے مطابق برآمد کی گئی ادویات کے ساتھ متعلقہ بل یا واؤچر موجود نہیں تھے، جو قابل اطلاق ڈرگ کنٹرول ضوابط کی خلاف ورزی ہے۔
برآمدگی کے بعد لٹ لگانے والی منشیات کو غیر مجاز طور پر رکھنے اور فروخت کرنے کے الزام میں ڈرگس اینڈ کاسمیٹکس ایکٹ، 1940 کی متعلقہ دفعات کے تحت میڈیکل شاپ کو سیل کردیا گیا۔
یو این آئی۔ این یو۔
-
دنیا1 week agoایران کے پاس امریکہ کے ساتھ مذاکرات کی کوئی منصوبہ بندی نہیں :ایرانی میڈیا
-
دنیا7 days agoایران نے ثالثوں کے ساتھ مغربی ایشیا میں لڑائی ختم کرنے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا: عراقچی
-
دنیا1 week agoٹرمپ نے ایران تنازع ختم ہونے کے اشارے دیے، تاہم نئے حملوں کا امکان مسترد نہیں کیا
-
دنیا1 week agoیوکرین میں روسی حملوں میں آٹھ افراد ہلاک، درجنوں زخمی
-
دنیا7 days agoامریکہ گرین لینڈ میں نایاب معدنیات کی کان کنی کر سکتا ہے: روبیو
-
جموں و کشمیر5 days agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا7 days agoعالمی قوانین کے زوال سے دنیا ’ہابسیائی‘ نظام کی طرف بڑھ سکتی ہے: جے شنکر
-
دنیا6 days agoقطری ثالثی کی امریکہ، ایران کے درمیان مذاکرات میں معمولی پیش رفت
-
ہندوستان1 week agoاپوزیشن پر ای ڈی-سی بی آئی، عوام پر تھپڑ-لاٹھی-گولی: کھرگے
-
دنیا1 week agoٹرمپ نے ایرانی ہرمز امن معاہدے کو مسترد کردیا، تیل کے بھاو 105 ڈالر سے تجاوز کر گئے
-
جموں و کشمیر7 days agoجموں و کشمیر پولیس نے جعلی کرنسی کے ریکیٹ کا پردہ فاش کیا، تین افراد گرفتار
-
دنیا7 days agoغزہ میں اسرائیلی جنگ کے تین سال بعد تباہی کی ہولناک تصویر، سیٹلائٹ تصاویر سے تباہی کا پیمانہ نمایاں
