جموں و کشمیر
نوآبادیاتی ذہنیت ترک کیے بغیر ہندوستان عالمی رہنما نہیں بن سکتا: نائب صدر
سری نگر، ہندوستان کے نائب صدرسی پی رادھا کرشنن نے سری نگر میں کشمیر یونیورسٹی کے 21 ویں کنووکیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر ہندستان کو مستقبل میں عالمی سطح پر جدت، اختراع اور ترقی کی قیادت کرنی ہے تو اسے سب سے پہلے نوآبادیاتی ذہنیت کو یکسر ترک کرنا ہوگا۔ انہوں نے نوجوان طلبا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ملک کی اصل طاقت اس کے لوگ اور ان کی تخلیقی صلاحیتیں ہیں اور اگر یہی صلاحیت ‘سوَدیشی’ بنیادوں پر مستحکم ہو جائے تو کوئی بھی طاقت بھارت کو ترقی کی بلند ترین چوٹیوں تک پہنچنے سے نہیں روک سکتی۔
نائب صدر نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہندستان صدیوں تک بیرونی تسلط کا شکار رہا، جس کے اثرات آج بھی ذہنی رویّوں، تعلیمی ڈھانچے اور فیصلہ سازی میں جھلکتے ہیں۔ انہوں نے طلبا سے اپیل کی کہ وہ خود اعتمادی پیدا کریں، اپنی ماضي کی وراثت پر فخر کریں اور تحقیقات، اختراعات اور سائنسی ترقی کو ملکی ذہانت، مقامی وسائل اور قومی ضروریات کے مطابق آگے بڑھائیں۔
خطاب کے دوران انہوں نے صاف الفاظ میں کہا کہ ‘ہمیں خوف زدہ ہونے کی ضرورت نہیں، احساسِ کمتری میں مبتلا ہونے کی ضرورت نہیں، سب سے پہلے ہمیں اپنی نوآبادیاتی ذہنیت کو ختم کرنا ہوگا۔’
نائب صدر نے اس موقع پر وزیراعظم نریندر مودی کی قیادت میں ملک میں اختراع اور اسٹارٹ اپ ماحول کو ملی تقویت کی بھی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے ملک کی سائنسی برادری، نوجوان محققین اور صنعت کاروں کے لیے جو معاون ماحول تشکیل دیا ہے، اس نے بھارت کو عالمی سطح پر ‘سب سے زیادہ امکانات والی معیشت’ کے طور پر ابھار دیا ہے۔ وبا کے دوران ویکسین تیار کرنے کی مثال دیتے ہوئے نائب صدر نے کہا کہ جب دنیا کو شبہ تھا کہ بھارت خود اپنی ویکسین بنا سکے گا یا نہیں، وزیر اعظم نے ملک کے سائنس دانوں کو چیلنج اور اعتماد دونوں دیا، ہم نے دنیا کو دکھایا کہ اختراع کسی کی جاگیر نہیں ہوتی۔
انہوں نے مزید کہا کہ مغربی ممالک نے اسی ویکسین کو مہنگے پیٹنٹ کے ذریعے بیچنے کی کوشش کی لیکن ہندستان نے دنیا کے غریب ممالک کو بھی قابلِ رسائی قیمت پر ویکسین فراہم کی، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ بھارتی اختراع انسانی فلاح کے لیے ہے، نہ کہ سرمایہ دارانہ فائدے کے لیے۔ ان کا کہنا تھا کہ ‘ایک ویکسین کی قیمت 7,500 امریکی ڈالر تک ہو سکتی ہے، سوچئے ایک غریب انسان کیسے خریدے گا؟’
نائب صدر نے اپنے خطاب میں سری نگر انٹرنیشنل ائر پورٹ کی ترقی و توسیع کے لیے مرکز کی جانب سے منظور شدہ 1600 کروڑ روپے کے منصوبے کا بھی حوالہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ بہتر ہوا بازی کا ڈھانچہ کشمیر کی سیاحت کو نئی بلندیوں تک لے جائے گا بشرطیکہ یہ ترقی وادی کے نازک ماحولیاتی توازن کو متاثر کیے بغیر کی جائے۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کے اس بیان کا بھی ذکر کیا جس میں انہوں نے پائیدار اور ماحول دوست سیاحت کی ضرورت پر زور دیا تھا۔
اس دوران نائب صدر نے دنیا کے سب سے اونچے ریلوے پل چناب برج کو ‘انجینئرنگ کا عالمی شاہکار’ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ محض ایک ڈھانچہ نہیں بلکہ سماجی ہم آہنگی کا ذریعہ بھی ہے، کیونکہ جب راستے جڑتے ہیں تو لوگ جڑتے ہیں اور جب لوگ جڑتے ہیں تو دل قریب آ جاتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مرکز کی اسکیمیں، خصوصاً ‘وزیراعظم خصوصی اسکالرشپ اسکیم’، وادیٔ کشمیر میں نوجوانوں کے لیے مواقع کے نئے دروازے کھول رہی ہیں اور انہیں ملک کے مختلف حصوں میں اعلیٰ تعلیمی اداروں تک رسائی فراہم کر رہی ہیں۔
نائب صدر نے کہا کہ یہ اسکیم نہ صرف تعلیمی میدان میں نوجوانوں کی رہنمائی کا ذریعہ ہے بلکہ قومی یکجہتی کا پل بھی ہے جو کشمیری نوجوانوں کو ملک کے دوسرے علاقوں کے ساتھ ایک مضبوط رشتے میں جوڑتی ہے۔
اپنے خطاب میں نائب صدر نے نشہ آور ادویات کے بڑھتے ہوئے استعمال پر شدید تشویش ظاہر کرتے ہوئے نوجوانوں کو خبردار کیا کہ منشیات صرف صحت کو تباہ نہیں کرتیں بلکہ خاندانوں کی بنیادیں ہلا دیتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ‘آپ کے والدین آپ سے امید رکھتے ہیں، وہ چاہتے ہیں کہ آپ زندگی میں کامیاب ہوں۔’ انہوں نے تمام مذاہب کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دنیا کا کوئی مذہب منشیات کی اجازت نہیں دیتا، اس لیے نوجوانوں کو چاہیے کہ خود بھی بچیں اور دوسروں کو بھی دور رکھیں۔
نائب صدر نے نوجوانوں کو سوشل میڈیا کے بے جا استعمال سے بھی خبردار کیا، کہتے ہوئے کہ حد سے زیادہ انحصار انسان کو حقیقت سے دور کر دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا آپ کی کامیابی نہیں بنا سکتا، کامیابی کے لیے محنت، نظم و ضبط اور علم کی ضرورت ہوتی ہے۔
اختتام پر انہوں نے طلبا کو ایک علامتی پیغام دیتے ہوئے کہا:’میرا کشمیر نہیں، تمہارا کشمیر نہیں، ہمارا کشمیر۔’
انہوں نے کہا کہ یہی سوچ کشمیر کے روشن مستقبل کی ضمانت ہے، کیونکہ وادی کی اصل طاقت اس کے نوجوان ہیں جو امن، اتحاد اور ترقی کے سفر میں مرکزی کردار ادا کر سکتے ہیں۔
یو این آئی۔ ارشید بٹ
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر کے بارہمولہ میں افضل گورو کے خاندان سے مبینہ طور پر وابستہ ڈیری شیڈ منہدم
سری نگر، حکام نے منگل کو جموں و کشمیر کے بارہمولہ قصبے میں پارلیمنٹ حملہ کیس کے مجرم محمد افضل گورو کے رشتہ داروں کی جانب سے مبینہ طور پر سرکاری زمین پر تعمیر کیے گئے ڈیری فارم کے شیڈ کو منہدم کر دیا۔
حکام نے بتایا کہ بارہمولہ قصبے کے گلنار پارک کے قریب سیلابی بیسن میں واقع اس ڈھانچے کو محکمہ مال کی جانب سے تجاوزات کے خلاف چلائی گئی مہم کے دوران منہدم کیا گیا۔ کارروائی کے وقت موقع پر پولیس اور مرکزی مسلح پولیس فورسز کی بڑی تعداد تعینات کی گئی تھی۔
حکام کے مطابق یہ ڈھانچہ سرکاری زمین پر تعمیر کرکے اس پر قبضہ کیا گیا تھا۔
تاہم، خاندان کا دعویٰ ہے کہ انہدام سے قبل انہیں کوئی نوٹس نہیں دیا گیا تھا۔
خاندان کے ایک رکن نے کہاکہ ’’حکام آئے اور دو مرلہ زمین پر پھیلے اس ڈھانچے کو منہدم کر دیا۔ انہدام کی کارروائی دوپہر کے قریب کی گئی۔‘‘
حکام نے بتایا کہ یہ شیڈ مبینہ طور پر گورو کی اہلیہ سے وابستہ تھا اور تقریباً ایک دہائی سے گائے کے باڑے کے طور پر استعمال کیا جا رہا تھا۔
گورو کو 2001 کے پارلیمنٹ حملہ کیس میں قصوروار قرار دیا گیا تھا اور فروری 2013 میں اسے پھانسی دی گئی تھی۔
بارہمولہ کے ایک افسر نے بتایا کہ منگل کو ضلع بارہمولہ میں غیر قانونی قبضے میں موجود کئی کنال قیمتی سرکاری زمین کو واگزار کرایا گیا۔
کروڑوں روپے مالیت کی اس زمین کو حکام کی جانب سے وہاں موجود ڈھانچوں اور غیر قانونی قبضے کو ہٹانے کے بعد دوبارہ حکومت کے کنٹرول میں دے دیا گیا۔
حکام نے مبینہ تجاوزات کرنے والوں میں سے ایک کی شناخت پارلیمنٹ حملہ کیس کے مجرم محمد افضل گورو کی اہلیہ تبسم گورو کے طور پر کی ہے۔ انتظامیہ نے کہا کہ ضلع بھر میں تجاوزات کے خلاف مزید کارروائیاں کی جائیں گی اور سرکاری زمین پر غیر قانونی قبضہ کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
دریں اثنا، پی ڈی پی لیڈر زہیب یوسف میر نے تجاوزات کے خلاف مہم پر حکام کو تنقید کا نشانہ بنایا اور الزام عائد کیا کہ یہ کارروائی کشمیر سے متعلق ایک ’’بیانیہ‘‘ درآمد کرنے کی کوشش کا حصہ ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر اور لداخ کے برف پوش علاقوں میں مردم شماری کا عمل کامیابی سے مکمل، 5,292 بلاکس کا احاطہ: امیت
جموں، چیف پرنسپل مردم شماری افسر (سی پی سی او) اور جموں و کشمیر و لداخ کے ڈائریکٹر مردم شماری آپریشنز (ڈی سی او) امیت شرما نے منگل کو کہا کہ دونوں مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے مقررہ برف پوش علاقوں میں آبادی کی گنتی کا عمل کامیابی سے مکمل ہونا مردم شماری 2027 کے لیے ایک اہم عملی سنگ میل ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اس مہم کے تحت مجموعی طور پر 5,292 مردم شماری بلاکس (ای بی) کا احاطہ کیا گیا، جن میں 4,597 جموں و کشمیر اور 695 لداخ میں ہیں۔ اس کے لیے وسیع پیمانے پر تیاری، خصوصی میدانی انتظامات اور ضلعی انتظامیہ و خصوصی چارجز کے ساتھ قریبی تال میل ضروری تھا۔
برف پوش علاقوں میں آبادی کی گنتی سے قبل 17 سے 31 اگست 2026 تک سیلف اینیومریشن (خود شماری) کا مرحلہ مکمل کیا گیا، جس کے بعد یکم سے 30 ستمبر 2026 تک میدانی کارروائی انجام دی گئی۔
یہاں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شرما نے کہا کہ لداخ میں ستمبر کی مہم کے دوران پورے مرکز کے زیر انتظام علاقے کا احاطہ کیا گیا اور مجموعی طور پر 695 مردم شماری بلاکس مکمل کیے گئے، جن میں 367 لیہ اور 328 کرگل میں تھے۔ لداخ میں آبادی کی گنتی مکمل ہونے کے ساتھ ہی یہ مردم شماری 2027 کے لیے آبادی کی گنتی مکمل کرنے والا ملک کا پہلا مرکز کے زیر انتظام علاقہ بن گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر میں برف پوش علاقوں کے لیے چلائی گئی مہم کے تحت 16 اضلاع اور 95 چارجز کا احاطہ کیا گیا۔ ڈوڈہ میں سب سے زیادہ 798 مردم شماری بلاکس مکمل کیے گئے، اس کے بعد کشتواڑ میں 602، رام بن میں 418، اننت ناگ میں 377 اور بارہمولہ میں 359 بلاکس مکمل ہوئے۔
شرما نے بتایا کہ ریاسی میں 345 اور ادھم پور میں 313 مردم شماری بلاکس مکمل کیے گئے، جبکہ کشتواڑ ضلع کو مکمل طور پر برف پوش قرار دیا گیا ہے۔ اس طرح کشتواڑ مردم شماری 2027 کے لیے آبادی کی گنتی مکمل کرنے والا ملک کا پہلا ضلع بھی بن گیا ہے۔
سی پی سی او شرما نے ضلعی انتظامیہ، مردم شماری عملے، خصوصی چارجز، شمار کنندگان اور سپروائزرز کی مشترکہ کوششوں اور مقامی باشندوں کی جانب سے فراہم کیے گئے تعاون کی ستائش کی۔
یواین آئی۔ ط ا
جموں و کشمیر
عمر عبداللہ نے کہا، الیکشن کمیشن کے خلاف انڈیا بلاک کی مہم جاری رہے گی
سری نگر، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے منگل کو کہا کہ انتخابی فہرستوں سے مبینہ طور پر نام حذف کیے جانے کے معاملے پر الیکشن کمیشن کے خلاف اپوزیشن کے انڈیا بلاک کی مہم جاری رہے گی۔
عمر عبداللہ نے کہا کہ انڈیا بلاک کے رہنماؤں نے اکتوبر کے لیے پروگراموں کا کیلنڈر طے کیا ہے، جس کے تحت اپوزیشن اتحاد کے ارکان پارلیمنٹ نے منگل کو الیکشن کمیشن کے دفتر تک مارچ کرنا تھا۔
یہ مارچ انتخابی فہرستوں کی جاری نظرثانی اور ووٹروں کے نام مبینہ طور پر حذف کیے جانے کے معاملے پر تشویش ظاہر کرنے کے لیے منعقد کیا گیا۔
عمر عبداللہ نے سری نگر میں نامہ نگاروں سے کہاکہ ’’چند روز قبل دہلی میں انڈیا بلاک کے رہنماؤں کی میٹنگ ہوئی تھی۔ اس ماہ کے لیے ایک کیلنڈر طے کیا گیا تھا۔ اس کے تحت انڈیا بلاک کے ارکان پارلیمنٹ کو الیکشن کمیشن کے سامنے احتجاج کرنا تھا۔ یہ عمل جاری رہے گا، جیسا کہ میڈیا نے بھی ثابت کیا ہے۔ ہم بار بار یہ بات کہتے رہے ہیں، لیکن کچھ لوگوں نے اس پر توجہ نہیں دی۔ اب میڈیا نے بھی اس بارے میں کہنا شروع کر دیا ہے۔‘‘
ووٹرفہرستوں کی نظرثانی سے متعلق قانونی کارروائی کا حوالہ دیتے ہوئے عمر نے کہا کہ سپریم کورٹ بھی سوالات اٹھا رہی ہے۔
وزیر اعلیٰ نے کہاکہ ’’سپریم کورٹ بھی سوالات اٹھا رہی ہے۔ سپریم کورٹ نے ووٹروں کے نام حذف کیے جانے کے معاملے پر الیکشن کمیشن اور حکومت ہند سے جواب بھی طلب کیا ہے۔ ہم عدالت کے فیصلے کا انتظار کریں گے۔‘‘
سپریم کورٹ نے پیر کو خصوصی جامع نظرثانی (ایس آئی آر) کی مشق اور ووٹر رجسٹریشن سے متعلق تبدیلیوں کو چیلنج کرنے والی عرضیوں پر الیکشن کمیشن اور اس کے عہدیداروں سے جواب طلب کیا تھا۔
یواین آئی۔ط ا
-
دنیا1 week agoایران کے پاس امریکہ کے ساتھ مذاکرات کی کوئی منصوبہ بندی نہیں :ایرانی میڈیا
-
دنیا1 week agoایران نے ثالثوں کے ساتھ مغربی ایشیا میں لڑائی ختم کرنے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا: عراقچی
-
دنیا1 week agoٹرمپ نے ایران تنازع ختم ہونے کے اشارے دیے، تاہم نئے حملوں کا امکان مسترد نہیں کیا
-
جموں و کشمیر6 days agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoعالمی قوانین کے زوال سے دنیا ’ہابسیائی‘ نظام کی طرف بڑھ سکتی ہے: جے شنکر
-
دنیا6 days agoقطری ثالثی کی امریکہ، ایران کے درمیان مذاکرات میں معمولی پیش رفت
-
دنیا1 week agoیوکرین میں روسی حملوں میں آٹھ افراد ہلاک، درجنوں زخمی
-
دنیا1 week agoامریکہ گرین لینڈ میں نایاب معدنیات کی کان کنی کر سکتا ہے: روبیو
-
ہندوستان1 week agoاپوزیشن پر ای ڈی-سی بی آئی، عوام پر تھپڑ-لاٹھی-گولی: کھرگے
-
دنیا1 week agoٹرمپ نے ایرانی ہرمز امن معاہدے کو مسترد کردیا، تیل کے بھاو 105 ڈالر سے تجاوز کر گئے
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر پولیس نے جعلی کرنسی کے ریکیٹ کا پردہ فاش کیا، تین افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoغزہ میں اسرائیلی جنگ کے تین سال بعد تباہی کی ہولناک تصویر، سیٹلائٹ تصاویر سے تباہی کا پیمانہ نمایاں
