ہندوستان
گھریلو ایل پی جی سلنڈر 60 روپے اور کمرشیل سلنڈر 114.50 روپے مہنگا
نئی دہلی، بین الاقوامی بازار میں خام تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ اور ڈالر کے مقابلے روپے کی مسلسل گراوٹ کے باعث تیل مارکیٹنگ کمپنیوں نے ہفتہ سے گھریلو گیس (ایل پی جی) کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا ہے۔
ملک کی سب سے بڑی تیل مارکیٹنگ کمپنی انڈین آئل کارپوریشن کی ویب سائٹ کے مطابق 14.2 کلوگرام کے گھریلو ایل پی جی سلنڈر کی قیمت میں آج سے 60 روپے کا اضافہ کیا گیا ہے، جبکہ 19 کلوگرام کے کمرشیل گیس سلنڈر کی قیمت 114.50 روپے بڑھ گئی ہے۔
نئی دہلی میں 7 مارچ سے گھریلو ایل پی جی سلنڈر کی نئی قیمت 913 روپے ہو گئی ہے، جو جولائی 2023 کے بعد سب سے زیادہ سطح ہے۔ کولکاتا میں اس کی قیمت 939 روپے، ممبئی میں 912.50 روپے اور چنئی میں 928.50 روپے ہو گئی ہے۔
گھریلو ایل پی جی سلنڈر کی قیمت میں تقریباً 11 ماہ بعد تبدیلی کی گئی ہے۔ اس سے پہلے 8 اپریل 2025 کو اس کی قیمت میں 50 روپے کا اضافہ کر کے اسے 853 روپے فی سلنڈر کر دیا گیا تھا۔
دوسری طرف کمرشیل گیس سلنڈر کی قیمت دہلی میں 1,768.50 روپے سے بڑھ کر اب 1,883 روپے ہو گئی ہے، جو اپریل 2023 کے بعد سب سے زیادہ ہے۔
کمرشیل ایل پی جی سلنڈر کی قیمت میں لگاتار چوتھی بار اضافہ کیا گیا ہے۔ اس سے قبل یکم مارچ کو بھی دہلی میں اس کی قیمت میں 28 روپے کا اضافہ کیا گیا تھا۔
کولکاتا میں آج سے 19 کلوگرام کا ایل پی جی سلنڈر 1,990 روپے، ممبئی میں 1,835 روپے اور چنئی میں 2,043.50 روپے کا ہو گیا ہے۔
چاروں بڑے شہروں میں ایل پی جی کی قیمتوں میں یکساں اضافہ کیا گیا ہے۔
قابلِ ذکر ہے کہ مغربی ایشیا میں جاری بحران کے باعث خام تیل اور گیس کی پیداوار اور عالمی سپلائی چین متاثر ہوئی ہے، جس کے نتیجے میں ان کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ہندستانی روپیہ بھی تاریخی نچلی سطح پر ہے، جس کی وجہ سے قیمتوں میں یہ اضافہ کیا گیا ہے۔
یو این آئی۔ ایم جے
ہندوستان
مودی حکومت غیر قانونی ہے، دوبارہ انتخابات کرائے جائیں: کھڑگے
نئی دہلی، کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے الزام عائد کیا ہے کہ مودی حکومت ’غیر قانونی‘ انتخابات کے ذریعے اقتدار میں آئی ہے، اس لیے اسے برطرف کرکے ملک میں دوبارہ انتخابات کرائے جائیں۔
مسٹر کھڑگے نے ہفتہ کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ بی جے پی حکومت نے جمہوریت کو برباد کر دیا ہے۔ ملک میں انتخابات میں بڑے پیمانے پر بے ضابطگیاں ہوئی ہیں اور تمام انتخابات غیر قانونی ہیں، لہٰذا ایسے انتخابات کے ذریعے قائم ہونے والی حکومتیں اور ان کے وزرا بھی غیر قانونی ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ’’ملک میں ’غیر قانونی انتخابات‘ ہو رہے ہیں، وزیر اعظم نریندر مودی ’غیر قانونی وزیر اعظم‘ اور امیت شاہ ’غیر قانونی وزیر داخلہ‘ ہیں۔ حکومتوں کو برطرف کیا جانا چاہیے اور انتخابات بیلٹ پیپر کے ذریعے کرائے جانے چاہئیں۔‘‘
کانگریس صدر نے کہا کہ ووٹر فہرست کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) کی وجہ سے پورا انتخابی عمل برباد ہو گیا ہے۔ جمہوریت میں جاری اس غیر قانونی عمل کے پیش نظر ہی انڈیا اتحاد کے رہنماؤں کی میٹنگ بلائی گئی تھی، جس میں 20 جماعتوں کے رہنماؤں کے ساتھ قانونی ماہر کپل سبل کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ اجلاس میں سبھی نے تسلیم کیا کہ ایس آئی آر غلط طریقے سے کیا جا رہا ہے اور اس کی وجہ سے غریب، پسماندہ اور خاص طور پر اقلیتی طبقے کے لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
مسٹر کھڑگے نے کہا کہ ووٹ کاٹنے کا کام بی جے پی اور آر ایس ایس کے لوگ کر رہے ہیں۔ ووٹر فہرست سے نام حذف کیے جانے کو غلط قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر ایک ایک بوتھ سے 500-500 افراد کے نام بھی حذف کر دیے جائیں تو اس سے بہت بڑا فرق پڑتا ہے۔ اب ان ناموں کو دوبارہ شامل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی اور آر ایس ایس کے لوگ اپنے لوگوں کے نام ووٹر فہرست میں برقرار رکھ رہے ہیں، جبکہ غریبوں کو اپنے نام شامل کرانے کے لیے وقت اور پیسہ خرچ کرنا پڑ رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بی جے پی حکومت غیر قانونی انتخابات کرانے پر یقین رکھتی ہے، اسی لیے انتخابی عمل پر قبضہ کرنے کے لیے وزیر اعظم ایسا قانون لائے ہیں جو ملک کی جمہوریت کو برباد کرنے والا ہے۔ اس قانون کو لانے سے پہلے الیکشن کمیشن کی تقرری کرنے والی کمیٹی کی تشکیل کے طریقہ کار میں تبدیلی کی گئی تھی۔ اس عمل میں وزیر اعظم، اپوزیشن کے رہنما اور سپریم کورٹ کے چیف جسٹس شامل ہوتے تھے اور وہ الیکشن کمیشن کی تشکیل کے عمل میں شریک رہتے تھے۔ مودی حکومت نے اس طریقہ کار میں تبدیلی کرتے ہوئے کمیٹی سے چیف جسٹس کو ہٹا کر ایک وزیر کو شامل کر دیا ہے۔ مودی حکومت نے چیف الیکشن کمشنر کے انتخاب کے لیے نیا طریقہ کار وضع کیا ہے۔
کانگریس صدر نے کہا کہ اگر چیف الیکشن کمشنر غلط کام بھی کرتے ہیں تو انہیں قصوروار نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ قانون میں ان کے خلاف کارروائی نہ کرنے کی گنجائش رکھی گئی ہے اور جب تک وہ زندہ ہیں، ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جا سکتی۔ انہوں نے کہا کہ اس انتظام کی وجہ سے من مانی ہو رہی ہے اور دو دیگر الیکشن کمشنروں کی جانب سے اعتراض درج کرائے جانے کے باوجود ان کی بات نہیں سنی جا رہی ہے۔ ایک اخبار میں خبر شائع ہونے کے بعد کانگریس نے اس معاملے کو اٹھایا، جس کے بعد ماحول بنا اور اب پورے ملک میں احتجاجی تحریکیں چل رہی ہیں۔
یواین آئی۔ ظ ا
ہندوستان
دنیا میں اگلے مالیاتی بحران کا سبب غیر مالیاتی عوامل بھی ہو سکتے ہیں: آر بی آئی گورنر
نئی دہلی، ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) کے گورنر سنجے ملہوترا نے ہفتہ کے روز کہا کہ دنیا میں آئندہ مالیاتی بحران کی وجہ غیر مالیاتی عوامل بھی ہو سکتے ہیں۔
مسٹر ملہوترا نے یہاں پانچویں کوٹلیہ اقتصادی کانفرنس میں ’’غیر یقینی صورتحال کے دور میں مرکزی بینکوں کا کردار‘‘ کے موضوع پر منعقدہ ایک سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ قطعی ضروری نہیں کہ دنیا میں اگلا مالیاتی بحران مالیاتی وجوہات ہی کی بنا پر آئے۔ اس لیے موجودہ معاشی استحکام مستقبل میں مالیاتی بحران سے تحفظ کی کوئی قطعی ضمانت نہیں ہے، اور بحیثیت مرکزی بینک بدلتے ہوئے حالات پر مسلسل نگاہ رکھنا ناگزیر ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ اگلا مالیاتی بحران جغرافیائی و سیاسی (جیو پولیٹیکل) وجوہات، کسی بڑے سائبر حملے یا پھر کسی سنگین تکنیکی خرابی کی صورت میں بھی رونما ہو سکتا ہے، اور اس کا دارومدار اس بات پر ہوگا کہ اس کا دائرہ اثر کتنا وسیع اور گہرا رہتا ہے۔
مسٹر ملہوترا نے کہا کہ اگرچہ مالیاتی استحکام کو یقینی بنانا براہ راست ریزرو بینک کی ذمہ داری نہیں ہے، لیکن بالواسطہ طور پر یہ اس کے دائرہ اختیار سے منسلک ہے۔ مالیاتی استحکام کے بغیر افراطِ زر (مہنگائی کی شرح) میں استحکام لانا ممکن نہیں، اور اس کے بنا معیشت میں بھی استحکام پیدا نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان اور عالمی سطح پر طویل عرصے تک برقرار رہنے والے مالیاتی استحکام کی بدولت ہی ہم حالیہ برسوں کے دوران مختلف بحرانوں کا کامیابی سے سامنا کر سکے ہیں—چاہے وہ کورونا وبا کا چیلنج رہا ہو یا پھر جغرافیائی و سیاسی بحران۔ انہوں نے مزید کہا کہ مغربی ایشیا کے بحران کے اثرات سے ہندوستانی معیشت بھی محفوظ نہیں رہی ہے اور اس کا اثر قیمتوں پر پڑا ہے، تاہم معیشت کی مضبوط بنیادوں کے باعث افراطِ زر طے شدہ ہدف کے دائرے میں رہی ہے اور ترقی کی شرح بھی مستحکم ہے۔
آر بی آئی گورنر نے کہا کہ موجودہ صدی کے ابتدائی برسوں کے دوران بینکوں کی جانب سے بغیر سوچے سمجھے دیے گئے قرضوں (این پی اے) کے منفی اثرات سے نجات پانے میں ملک کو ایک دہائی کا وقت لگ گیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ملکی معیشت میں نقد رقم (لیکویڈیٹی) کی فراہمی کو یقینی بنانا بھی ہندوستان میں مرکزی بینک کی اہم ذمہ داری ہے، اور اس مقصد کے حصول کے لیے بعض اوقات افراطِ زر میں اضافے کا خطرہ بھی مول لینا پڑتا ہے۔
یو این آئی۔ م س
ہندوستان
راہل گاندھی نے لوگوں سے اپنے مسائل اور جدوجہد شیئر کرنے کے لیے ’ستیہ گرہ‘ ڈیجیٹل پلیٹ فارم لانچ کیا
نئی دہلی، کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں اپوزیشن رہنما راہل گاندھی نے ’ستیہ گرہ‘ کے نام سے ایک نیا ڈیجیٹل پلیٹ فارم لانچ کیا ہے، جس کے ذریعے ملک بھر کے لوگ ناانصافی کے خلاف اپنی جدوجہد اور مسائل ان کے ساتھ شیئر کرسکیں گے۔
مسٹر گاندھی نے ہفتہ کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر کہا کہ ملک بھر میں لوگ اپنے حقوق کے لیے لڑ رہے ہیں اور اکثر اکیلے ہی جدوجہد کررہے ہیں۔ ’ستیہ گرہ‘ انہی آوازوں کو ایک نقشے پر یکجا کرنے کی ایک پہل ہے، تاکہ مقامی سطح پر جاری جدوجہد کو قومی پلیٹ فارم مل سکے۔
پارٹی نے ہفتہ کو یہ اطلاع دیتے ہوئے کہا کہ مسٹر گاندھی نے جمعہ کو گاندھی جینتی کے موقع پر اس سوشل میڈیا پلیٹ فارم کو لانچ کیا تھا۔
مسٹر گاندھی نے آج اس پلیٹ فارم کے بارے میں کہا، ’’ملک بھر میں لوگ ناانصافی کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں۔ اپوزیشن رہنما کی حیثیت سے آپ کی لڑائی میری لڑائی ہے۔ اب نئے ستیہ گرہ کا وقت ہے۔ آپ کن مسائل کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں، مجھے بتائیے۔ میں آپ کی بات سن رہا ہوں۔‘‘
انہوں نے کہا کہ ملک کے مختلف حصوں میں زمین، خواتین کے حقوق، دلتوں اور دیگر پسماندہ طبقات کے حقوق، تعلیم اور امتحانات سمیت مختلف مسائل کو لے کر احتجاج ہورہے ہیں۔ ’ستیہ گرہ‘ کے ذریعے ان تحریکوں کو منظم کرنے اور انہیں ایک نقشے پر یکجا کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
کانگریس رہنما نے کہا کہ اس پلیٹ فارم کے ذریعے شہری اپوزیشن رہنما کو بتاسکتے ہیں کہ وہ کون ہیں، ان کے لیے کیا اہم ہے اور ان کے حقوق کی راہ میں کون رکاوٹ بن رہا ہے۔ لوگوں کی جانب سے شیئر کیا گیا ہر مسئلہ ’ستیہ گرہ میپ‘ پر ایک پن کی شکل میں نظر آئے گا۔
مسٹرگاندھی نے کہا کہ مسئلے کی سنگینی اور ترجیح کی بنیاد پر ضروری اقدامات کیے جائیں گے، تاکہ لوگوں کی آواز سڑک سے لے کر پارلیمنٹ تک سنی جاسکے۔ انہوں نے کہا، ’’جہاں سچ کو دبایا جارہا ہے، وہاں لوگوں کو اس کی مخالفت کرنے میں مدد کرنا اپوزیشن رہنما کی حیثیت سے میری ذمہ داری ہے۔‘‘
’ستیہ گرہ‘ پلیٹ فارم پر لوگ اپنی جدوجہد کی کہانی شیئر کرسکتے ہیں۔مسٹر گاندھی نے کہا کہ وہ پارلیمنٹ، سڑک، خط لکھ کر یا جہاں بھی ان کی ضرورت ہوگی، لوگوں کے ساتھ کھڑے ہوکر مدد کرنے کی کوشش کریں گے۔
یو این آئی۔ م س
-
دنیا7 days agoایران کے پاس امریکہ کے ساتھ مذاکرات کی کوئی منصوبہ بندی نہیں :ایرانی میڈیا
-
جموں و کشمیر1 week agoبی جے پی کے اشوک کول نے جنرل سکریٹری (آرگنائزیشن) کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا
-
دنیا6 days agoایران نے ثالثوں کے ساتھ مغربی ایشیا میں لڑائی ختم کرنے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا: عراقچی
-
ہندوستان1 week agoڈاکٹر منموہن سنگھ کے یوم پیدائش پر کھرگے اور پرینکا کا خراج عقیدت
-
جموں و کشمیر1 week agoمحبوبہ مفتی کی 29 ستمبر کو دہلی میں احتجاج میں شرکت کی اپیل
-
ہندوستان1 week agoمودی-شاہ انتخابی میچ فکسنگ کے لیے گیانیش کمار کا استعمال کرتے ہیں: راہل
-
دنیا1 week agoعراقچی نے ایرانیوں کے خلاف مجرمانہ کارروائیوں کو چھپانے پر امریکہ اور اسرائیل کو تنقید کا نشانہ بنایا
-
ہندوستان1 week agoسونیا-راہل نے منموہن سنگھ کو خراجِ عقیدت پیش کیا
-
دنیا1 week agoایران جنگ میں زخمی ہونے والے امریکی فوجیوں کی تعداد 861 ہوگئی
-
دنیا7 days agoٹرمپ نے ایرانی ہرمز امن معاہدے کو مسترد کردیا، تیل کے بھاو 105 ڈالر سے تجاوز کر گئے
-
دنیا7 days agoیوکرین میں روسی حملوں میں آٹھ افراد ہلاک، درجنوں زخمی
-
دنیا6 days agoامریکہ گرین لینڈ میں نایاب معدنیات کی کان کنی کر سکتا ہے: روبیو
