تازہ ترین
فوجی قبضے کے ہوتے ہوئے کشمیر جنت نہیں بن سکتا: گیلانی
خبراردو:
حریت کانفرنس (گ) چیرمین سید علی گیلانی نے 26جنوری کی تقریب پر گورنر کی طرف سے ’ریاست جموں وکشمیر کو پھر ایک بار جنت بنایا جائے گا‘ جیسے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ بھارت کا جابرانہ فوجی قبضہ ہی ہے جس نے ریاست جیسے جنت نما خطے کو اپنی بربریت، سفاکیت اور ظلم و جبر سے جہنم زار بنادیا ہے۔ حریت (گ) چیرمین کا کہنا تھا کہ بھارتی افواج نے ہی یہاں کی دلفریب فضاؤں کو گولی بارود کی گن گرج سے زہر آلود بنایا اور یہاں کے سرسبز ڈھلوانوں کو اپنے فوجیوں کے بوٹوں تلے روند ڈالا ہے۔
حریت کانفرنس (گ) چیرمین سید علی گیلانی نے 26جنوری کی تقریب پر گورنر کی طرف سے ’ریاست جموں وکشمیر کو پھر ایک بار جنت بنایا جائے گا‘ جیسے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہیہ بھارت کا جابرانہ فوجی قبضہ ہی ہے جس نے ریاست جموں کشمیر کے جنت نما خطے کو اپنی بربریت، سفاکیت اور ظلم وجبر سے جہنم زار بنادیا ہے۔ یہاں کی دلفریب فضاؤں کو گولی بارود کی گن گرج سے زہر آلودبنا دیاہے۔ سرسبز ڈھلوانوں کو اپنے قابض فوجیوں کے بوٹوں تلے روندھ ڈالا ہے۔ یہاں کی ہنستی کھیلتی بستیوں کو ڈائنامائنڈ اور گن پورڈر سے کھنڈرات میں تبدیل کردیا۔ حریت (گ) چیرمین نے کہا کہ جب تک ریاست جموں کشمیر پر غیرملکی فوجی قبضہ جاری ہے اس خطے کو کسی بھی صورت میں ’’جنت‘‘ میں تبدیل نہیں کیا جاسکتا ہے، کیونکہ یہ ایک آفاقی اصول اور تاریخی حقیقت ہے کہ جب بھی کوئی ظالم اور غاصب کسی مظلوم اور مجبور قوم کی زمین پر زبردستی قبضہ کرتا ہے تو وہ اُس قوم کو فساد اور تباہی کے سوا کچھ نہیں دیتا۔
انہوں نے کہا کہ 1947 میں بھارت نے دھوکے اور فریب سے سرزمین کشمیر کو اپنی فوجی طاقت کے ذریعے ہتھیا لیا اور اس ناجائز ، غیر اخلاقی، غیر قانونی اور غیر جمہوری قبضے کے خلاف یہاں کے عوام پچھلے 71سال سے جدوجہد میں مصروف ہیں جس کے نتیجے میں آج تک چھ لاکھ سے زائد انسانی نفوس کو گاجر مولی کی طرح انتہائی بے دردی کے ساتھ کاٹا گیا ہے، لاکھوں کی تعداد میں بلالحاظ عمر وجنس ہمارے عزیز جوانوں، بزرگوں اور خواتین کو جیل کے آہنی سلاخوں کے اندر قیدوبند کی صعوبتوں میں مبتلا کیا گیا، تعذیب خانوں میں ہماری نوجوان نسل کے ساتھ جسمانی تشدد اور ناقابل بیان حد تک غیر انسانی سلوک روا رکھا گیا، معصوم اسکولی بچوں کوعمر بھر کے لیے بینائی سے محروم کردیا گیا، ہماری خواتین کی تذلیل اور ان کی عصمت ریزی کو بھارتی سورماؤں نے جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا۔
گیلانی نے کہا کہ بھارت کی 10؍لاکھ افواج کی موجودگی نے اس خطہ ارض کو بقول یورپی یونین ایک بڑے اور ’’خوبصورت جیل‘‘ کا خطاب بھی ملا۔بھارت کی فوج جدید سامان حرب وضرب سے لیس ، کالے قانون کے محفوظ حصار میں اور کشمیریوں کے خون کے پیاسے کیسے اس جہنم نما خطے کو جنت میں تبدیل کرسکتے ہیں اور ایسی پرفریب باتوں کو مضحکہ خیز ہی قرار دیا جاسکتا ہے، کیونکہ اندھی فوجی طاقت، ظلم وبربریت اور بے تحاشا قتل وغارت گری سے اُن گنت قبرستان تو ہوسکتے ہیں جنت نہیں۔کشمیرنیو زسروس کو موصولہ بیان کے مطابق انہوں نے حکمرانوں کے مکروفریب سے لوگوں کو آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ہمیشہ یہاں کے چاپلوسوں اور جی حضوریوں کی ایک کھیپ تیار کررکھی ہے جس کے ذریعے وہ شرم وغیرت کی ہر قبا چاک کرکے اپنی قوم کے سامنے ایکسپوز ہوچکے ہیں، لیکن اس کے باوجود وہ اپنی مکارانہ اور فریب کارانہ چالوں سے باز نہیں آرہے ہیں اور ہر وقت اپنے آقاؤں کی ڈوبتی کشتی کو سہارا دے کر ابن الوقتی اور حاشیہ برداری کا ثبوت فراہم کرتے ہیں۔
حریت (گ) چیرمین نے کہا کہ ہماری قوم پوری طرح سے متفق ہے کہ جب تک بھارت کا غاصبانہ قبضے سے ہم آزاد نہیں ہوں گے یہاں نہ تو کسی فرد کو چین اور سکون میسر ہوگا، نہ یہاں کی فضا دلفریب اورصحت افزا ہوں گی اور نہ یہاں کسی بھی تعمیر وترقی کی راہ ہموار ہوسکے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس بدنصیب خطہ میں اس گٹھن اور وحشت کا خاتمہ صرف اسی صورت میں ممکن ہے، جب ہمارا ناجائز قابض ہماری امنگوں اور آرزوؤں کے مطابق ہمارا بنیادی حق، حقِ خودارادیت کو تسلیم کرنے کے عملی اقدامات کرے۔ اسی حقیقت پسندی میں پر مرض کی دوا موجود ہے۔
کے این ایس
دنیا
روس یورپ کے ساتھ کسی بھی جنگ کی تیاری میں نہیں، یورپی عوام روس سے لڑنا نہیں چاہتے:پوتن
ماسکو، روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے جمعرات کو کہا کہ روس یورپ کے ساتھ کسی بھی جنگ کی تیاری نہیں کر رہا ہے اور اگر یورپ میں جاری سیاسی سرگرمیوں پر نظر ڈالی جائے تو یہ واضح ہوجاتا ہے کہ وہاں کے لوگ روس سے لڑنا نہیں چاہتے۔
مسٹر پوتن نے روسی ذرائع ابلاغ کو دیے گئے ایک ٹیلی ویژن انٹرویو میں کہا کہ مغربی ممالک کے رہنما مسلسل ‘روسی خطرے’ اور روس کے ساتھ براہ راست فوجی تصادم کی تیاریوں کی بات کررہے ہیں۔ تاہم، امید ہے کہ اب یہ بات واضح ہوچکی ہوگی کہ روس کو شکست دینا ممکن نہیں ہے۔
انہوں نے کہا، ”یہ بات سب کے سامنے واضح ہوچکی ہے کہ جنگ کے میدان میں روس کو شکست دینا ناممکن ہے اور اسے حکمت عملی کے اعتبار سے بھی شکست دینا غیر حقیقی ہے۔”
روسی صدر کے مطابق، یورپی سیاست دانوں کی جانب سے روس کے خلاف جنگ کی تیاریوں سے متعلق دیے جانے والے بیانات کسی طرح کی سیاسی ذہنی اختلال کی علامت ہیں۔
مسٹر پوتن نے کہا، ”میرا خیال ہے کہ جن لوگوں نے پوری تاریخ میں روس کو حکمت عملی کے اعتبار سے شکست دینے کی کوشش کی ہے اور بدقسمتی سے آج بھی ایسے لوگ موجود ہیں، وہ جدید دنیا کی حقیقتوں کو سمجھتے ہیں اور سمجھیں گے کہ روس کے ساتھ ہم آہنگی سے رہنا ہی بہتر ہے۔ یہ ان کے اپنے عوام کے مفاد میں ہے۔”
یو این آئی/اسپوتنک
ہندوستان
جرمنی کے ایک مطالعاتی و تحقیقی ادارے میں ہندوستان کے لیے خصوصی مرکز قائم
نئی دہلی، جرمنی میں بین الاقوامی تعلقات کے مطالعے اور تحقیق کرنے والے برلن کے خودمختار ادارے کونسل آن فارن ریلیشنز (ڈی جی اے پی) میں ہندوستان سے متعلق ایک مرکز قائم کیا گیا ہے۔
‘انڈیا سینٹر’ کے نام سے قائم اس مرکز کی افتتاحی تقریب میں ہندوستان کے وزیر تجارت و صنعت پیوش گوئل اور جرمنی کی وزیر برائے اقتصادی امور و توانائی کیتھرینا ریشے نے شرکت کی۔ مسٹر گوئل اس وقت جرمنی اور نیدرلینڈز کے سرکاری دورے پر ہیں۔
مسٹر گوئل نے کہا کہ ڈی جی اے پی میں ہندوستان کے لیے قائم کیا گیا یہ مرکز ہندوستان اور جرمنی کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلقات اور تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے ہمارے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
وزیر تجارت نے کہا، ”ہماری ایک دوسرے کی تکمیل کرنے والی صلاحیتیں ہمارے بلند حوصلہ اقتصادی اہداف کو حاصل کرنے کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ہندوستان اور یورپی یونین کے درمیان آزاد تجارتی معاہدہ اس شراکت داری کو مزید رفتار دینے کا کام کرے گا۔”
اس موقع پر مسٹر گوئل نے دونوں ممالک کے کاروباری اداروں اور سرمایہ کاروں سے اپیل کی کہ وہ باہمی خوشحالی اور ترقی کو مزید آگے بڑھانے کے لیے تعاون کے نئے راستے تلاش کریں۔
یو این آئی۔ ایم جے
ہندوستان
اگلے 30 سال تک اپوزیشن کی حکومت نہیں بنے گی: شاہ
نئی دہلی، مرکزی وزیر داخلہ و امدادباہمی امت شاہ نے کہا کہ اپوزیشن جس طرح کی منفی سیاست کررہی ہے، اس کے پیش نظر اگلے 30 سال تک اس کی حکومت بننے کا کوئی امکان نہیں ہے۔
مسٹر شاہ یہاں یمنا کی بحالی سے متعلق 8,941 کروڑ روپے کے منصوبوں کے افتتاح اور سنگِ بنیاد کی تقریب سے خطاب کررہے تھے۔ انہوں نے کانگریس لیڈر راہل گاندھی اور عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال کو نشانہ بناتے ہوئے الزام لگایا کہ اپوزیشن جماعتیں انتخابات میں شکست کے بعد ای وی ایم، ووٹ چوری اور الیکشن کمیشن کو لے کر بہانے بناتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جس طرح کی منفی سیاست کررہی ہے، اس سے اگلے 30 سال تک اس کی حکومت بننے کا امکان نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں کبھی ای وی ایم تو کبھی ووٹ چوری کا بہانہ بناتی ہیں۔ جب وہ کہتے ہیں کہ اگلے 30 سال تک ان کی پارٹی کی حکومت رہے گی تو اپوزیشن جماعتیں عوام سے کہتی ہیں کہ ووٹ چوری ہورہی ہے، ورنہ امت شاہ جی کو یہ بات کیسے معلوم ہوئی۔
مسٹر شاہ نے کہا کہ وہ یہیں پیدا ہوئے ہیں، یہیں رہتے ہیں اور ملک کے عوام کے درمیان رہتے ہیں۔ انہیں ہر چھ ماہ میں بیرون ملک جانے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جس طرح کی منفی سیاست کررہی ہے، اس کے پیش نظر اگلے 30 سال تک اس کی حکومت نہیں بنے گی۔ ملک کی مختلف ریاستوں میں بی جے پی کی حکومتیں منتخب ہونے سے اپوزیشن جماعتیں پریشان ہیں اور اسی وجہ سے وہ ووٹ چوری کا مسئلہ اٹھارہی ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اپوزیشن جماعتیں ووٹ چوری کا شور مچا کر دراندازوں کے ووٹ بچانا چاہتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن انتخابات میں شکست کے بعد الیکشن کمیشن اور ووٹر لسٹ پر سوال اٹھاتی ہے، جب کہ جیتنے پر انہی انتظامات کو درست قرار دیتی ہے۔ انہوں نے کیرالہ، تلنگانہ، ہماچل پردیش اور تمل ناڈو کے انتخابات کا ذکر کرتے ہوئے اپوزیشن پر دوہرے معیار اپنانے کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں آس پاس کی ریاستوں سے اپنے کارکنوں کو جمع کرکے دہلی میں مظاہرے کرنے کے ذریعے عوام کے فیصلے کو جھٹلا نہیں سکتیں۔ جمہوریت میں انتخابات جیتنے کے لیے عوام کے درمیان جانا، ان کے مسائل کو سمجھنا اور انہیں حل کرنا ضروری ہے۔ دھرنے، مظاہروں اور سیاسی ہتھکنڈوں کے ذریعے عوامی فیصلے کو چیلنج نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے بوتھ سطح کے کارکنوں سے لے کر وزیر اعظم نریندر مودی تک، پارٹی کے کروڑوں کارکن عوام کے درمیان رہ کر ان کے مسائل حل کرنے کے لیے کام کرتے ہیں۔
مسٹر شاہ نے مسٹر کیجریوال کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ دہلی کے سابق وزیر اعلیٰ انتخابات میں شکست کے بعد پنجاب میں ڈیرہ ڈالے ہوئے ہیں اور وہاں کے وزیر اعلیٰ کو کام نہیں کرنے دے رہے ہیں۔ انہوں نے پنجاب میں منشیات کے کاروبار کے معاملے پر ریاستی حکومت کو نشانہ بنایا اور دعویٰ کیا کہ آئندہ انتخابات میں پنجاب کے عوام بی جے پی کو اقتدار میں لانے کا فیصلہ کرچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی 2029 تک پنجاب سے منشیات کے کاروبار کو ختم کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ دہلی کی سابقہ حکومت نے تحریک کے نام پر اقتدار حاصل کیا، لیکن جمنا کی صفائی اور بنیادی شہری سہولتوں کی فراہمی کے لیے خاطر خواہ کام نہیں کیا۔
یمنا کی بحالی کا ذکر کرتے ہوئے مسٹر شاہ نے کہا کہ دہلی میں بی جے پی کی حکومت بننے کے بعد وزیر اعظم مودی نے دریا کو آلودگی سے پاک بنانے کے لیے ایک لائحہ عمل تیار کرنے کی ہدایت دی تھی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ منصوبے کا 40 فیصد سے زیادہ کام مکمل ہوچکا ہے اور مرکز کے ساتھ دہلی، ہریانہ اور اتر پردیش کی حکومتوں نے یمنا کو صاف کرنے کے لیے مقررہ مدت پر مبنی لائحہ عمل تیار کیا ہے۔ انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ مئی 2029 سے پہلے یمنا کو صاف و شفاف بنانے کا ہدف حاصل کرلیا جائے گا۔
یواین آئی ۔ ایف اے
-
ہندوستان1 week agoمرکزی حکومت نے جنوبی بحر ہند ماہی گیری معاہدے میں شمولیت کو دی منظوری
-
دنیا1 week agoجاپانی صحافی کی روس میں گرفتاری: دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کیوں بڑھ رہی ہے
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
ہندوستان1 week agoمظاہرین پر تشدد کرنے والوں کو ثبوتوں کی بنیاد پر سزا ملے گی: راہل
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
دنیا7 days agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میں 15 اکتوبر سے اسکولوں کے اوقات میں تبدیلی
-
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
ہندوستان1 week ago16 سالہ معصوم لڑکی اور 50 سالہ دولہے کی پانچ لاکھ روپے میں منگنی، بروقت ٹیم نے شادی کو روک دیا
-
دنیا1 week agoگرین لینڈ میں تیل، گیس اور معدنیات کی بڑے پیمانے پر تلاش جلد شروع ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
دنیا6 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
