دنیا
ایران کا جوہری پروگرام یا اسرائیلی دباؤ، ٹرمپ کے مستعفی مشیر نے ایران جنگ کی وجوہات بتا دیں
واشنگٹن، ایران جنگ کے مخالف امریکہ میں انسدادِ دہشت گردی سینٹر کے سابق سربراہ جو کینٹ نے اس جنگ کی وجوہات بیان کر دیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے انسدادِ دہشت گردی سابق سربراہ جو کینٹ نے انکشاف کیا ہے کہ 2004ء سے ایران کے اسلامی نظام میں ایک فتویٰ نافذ ہے، جو اسے جوہری ہتھیار تیار کرنے سے روکتا ہے۔
ایران جنگ کے خلاف احتجاجاً استعفیٰ دینے کے ایک روز بعد جو کینٹ نے امریکہ کو اس تنازع میں دھکیلنے کا ذمے دار اسرائیل کو ٹھہراتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ایران جوہری ہتھیار بنانے کے قریب بھی نہیں تھا۔
نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم سینٹر کے سابق ڈائریکٹر جو کینٹ نے پوڈکاسٹر ٹکر کارلسن کو ایک تفصیلی انٹرویو میں اپنے استعفے کی وجوہات اور جنگ سے متعلق اپنے خیالات سے آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل نے امریکہ سے اس کارروائی کا فیصلہ کروایا، حالانکہ ہمیں معلوم تھا کہ اس کے نتیجے میں واقعات کا ایک سلسلہ شروع ہوگا اور ایران جوابی کارروائی کرے گا۔
ان کے مطابق اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو کی حکومت کو یہ حوصلہ ملا ہوا تھا کہ وہ جنگ شروع کرسکتے ہیں اور امریکہ کو اس پر ردعمل دینا ہی پڑے گا۔
صدر ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ کے کئی اعلیٰ عہدیداروں نے دعویٰ کیا تھا کہ 28 فروری کو ایران پر حملے کی وجہ یہ تھی کہ اس کا جوہری پروگرام امریکی قومی سلامتی کے لیے فوری خطرہ بن چکا تھا۔
ٹرمپ نے ایک ہفتے قبل یہ بھی کہا تھا کہ ایران جوہری ہتھیار تیار کرنے سے صرف 2 ہفتے کی دوری پر تھا، تاہم جو کینٹ نے ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایسا کوئی خطرہ موجود نہیں تھا، نہ 3 ہفتے پہلے اور نہ ہی جون میں، جب ایران کے جوہری تنصیبات پر بمباری کی گئی تھی۔
انہوں نے کہا کہ 2004ء سے ایران کے پاس ایک فتویٰ (مذہبی حکم) موجود ہے، جو اسے جوہری ہتھیار بنانے سے روکتا ہے اور امریکی انٹیلی جنس کے پاس ایسا کوئی ثبوت نہیں تھا کہ اس حکم کی خلاف ورزی کی جا رہی ہو، ایرانی حکمتِ عملی، خاصی عملی تھی۔
جو کینٹ کے مطابق سابق سپریم لیڈر آیت اللّٰہ علی خامنہ ای کا قتل امریکا کے حق میں ثابت نہیں ہوا بلکہ اس سے ان کے سخت گیر حامی مزید مضبوط ہو گئے۔
انہوں نے کہا کہ میرا نہیں خیال کہ آیت اللّٰہ کو موت کا خوف تھا، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ اگر وہ مارے بھی گئے تو نظام برقرار رہے گا۔
وائٹ ہاؤس نے جو کینٹ کے بیانات کو مسترد کرتے ہوئے ان دعوؤں کو بے بنیاد قرار دیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کسی بیرونی دباؤ کے تحت فیصلے کرتے ہیں۔
صدر ٹرمپ کی پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ نے کہا کہ امریکی صدر صرف امریکا کے مفاد میں فیصلے کرتے ہیں اور وہ کسی دوسرے ملک کے کنٹرول میں نہیں ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ صدر دنیا کی سب سے طاقتور ریاست اور فوج کے سربراہ ہیں۔ انہیں کوئی حکم نہیں دیتا وہ فیصلے صرف اپنے ملک کے بہترین مفاد میں کرتے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
روس، امریکہ مذاکرات میں لوکوئل کے اربوں ڈالر کے تیل معاہدے پر بھی بات چیت
واشنگٹن، روس اور امریکہ کے درمیان یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے جاری مذاکرات میں روسی توانائی کمپنی لوکوئل سے متعلق اربوں ڈالر کے ممکنہ تیل معاہدے پر بھی بات چیت ہوئی ہے، جس سے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے دو سینئر مذاکرات کاروں سے وابستہ کاروباری شخصیات کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔
امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق یہ تجویز 5 ستمبر کو روسی صدر ولادیمیر پوتن اور امریکی مذاکرات کار اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کے درمیان ملاقات میں پیش کی گئی۔ مجوزہ معاہدے کے تحت لوکوئل روس سے باہر تیل کے شعبے کے اثاثے، جن میں تیل کے کنویں، ریفائنریاں اور پٹرول پمپس شامل ہیں، خرید سکتی ہے۔ ان میں نیو جرسی کے پٹرول پمپس بھی شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق مجوزہ سودے میں مشرق وسطیٰ کے دو کاروباری گروپ اور امریکی سرمایہ کار و ٹرمپ کے عطیہ دہندہ ٹوڈ بوہلی بھی شامل ہیں۔ ان گروپوں کے ماضی میں وٹکوف اور کشنر کے ساتھ کاروباری روابط رہے ہیں۔
رپورٹ میں یہ ثابت نہیں کیا گیا کہ وٹکوف یا کشنر کو ذاتی طور پر اس سودے سے مالی فائدہ ہوگا، تاہم مذاکرات میں شامل فریقوں سے ان کے کاروباری روابط نے مفادات کے ممکنہ ٹکراؤ سے متعلق سوالات اٹھائے ہیں۔
وٹکوف امریکی خصوصی ایلچی ہیں، جبکہ کشنر ٹرمپ کے داماد اور سابق سینئر وائٹ ہاؤس مشیر ہیں۔ دونوں نے روس اور یوکرین کے ساتھ مذاکرات میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
مجوزہ معاہدہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ٹرمپ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یوکرین جنگ کے خاتمے کے بعد امریکہ اور روس کے درمیان تجارتی اور اقتصادی تعلقات بحال ہونے کے امکانات پیدا ہوسکتے ہیں۔ تاہم روسی اور یوکرینی افواج کے درمیان جنگ جاری ہے اور دونوں جانب سے توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور دیگر اہداف پر میزائل اور ڈرون حملے کیے جا رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق مذاکرات میں توانائی کے اس بڑے سودے کو شامل کرنا مستقبل میں واشنگٹن اور ماسکو کے درمیان کسی ممکنہ معاہدے کے وسیع اقتصادی اثرات کی نشاندہی کرتا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
یمن میں حوثیوں کے خلاف کارروائیاں، 1540 ہلاک و زخمی ہونے کا دعویٰ
صنعا، یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی فوج نے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران حوثیوں کے خلاف تقریباً 500 فوجی کارروائیوں میں 1540 افراد کے ہلاک یا زخمی ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔
فوجی ترجمان کرنل ماجد عبداللہ النزیلی نے کہا کہ فوج نے صنعا میں حوثیوں کے اہم فوجی اہداف کو نشانہ بنایا، جبکہ ملک کے مختلف علاقوں میں میزائل، ڈرون اور توپ خانے سے بھی حملے کیے گئے۔ ان کے مطابق زیادہ تر ہلاکتیں تعز گورنری میں ہوئیں، جہاں حوثیوں کی پیش قدمی روک دی گئی۔
الجزیرہ کے مطابق تعز کے مختلف محاذوں پر شدید لڑائی جاری ہے اور شہری علاقوں پر گولہ باری سے عام شہری بھی متاثر ہوئے ہیں۔ صوبے کے ذُباب علاقے میں ایک گولہ رہائشی علاقے میں گرنے سے ایک شیرخوار بچہ ہلاک ہوگیا۔
دریں اثنا، حکومتی فوج نے حوثیوں کے زیر قبضہ الحوبان کو حکومتی کنٹرول والے تعز شہر سے ملانے والی اہم گزرگاہ بند کردی ہے۔ حکام کے مطابق یہ راستہ حوثیوں کی دراندازی کی کوشش، حملوں اور فوجی سرگرمیوں میں اضافے کے باعث بند کیا گیا۔
یمن میں حکومت اور حوثیوں کے درمیان 2022 میں قائم جنگ بندی رواں سال جولائی میں ختم ہونے کے بعد لڑائی میں تیزی آئی ہے۔ ستمبر کے وسط میں حوثیوں نے مغربی یمن کے بعض علاقوں، بندرگاہی شہر المخا اور باب المندب کے اہم جزیروں پر قبضہ کرلیا تھا۔ لڑائی دوبارہ شروع ہونے کے بعد لاکھوں افراد بے گھر ہوچکے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایران کا مسئلہ حل ہو جائے تو پٹرول کی قیمتیں گر جائیں گی :ٹرمپ
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انتخابی مہم کے سلسلے میں الاباما ریلی پر روانہ ہونے سے قبل وائٹ ہاؤس کے باغیچے میں صحافیوں کے سوالات کا جواب دیا۔
پیٹرول کے بلند نرخوں کے بارے میں سوالات کا جواب دیتے ہوئے ٹرمپ نے کہا، “جب ایران کا معاملہ حل ہو جائے گا — جو زیادہ دیر نہیں لے گا— تو پیٹرول کی قیمتیں اپنی پرانی سطح پر، یا شاید اس سے بھی نیچے آ جائیں گی۔”
ٹرمپ نے کہا کہ یورپی ممالک ڈیزل ایندھن کے معاملے میں تعاون کریں گے اور اس مسئلے کو حل کر دیا جائے گا۔
امریکی صدر نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا، “یورپ کے پاس وافر مقدار میں ڈیزل موجود ہے، وہ دنیا کو بڑا حصہ فراہم کریں گے، ہم بھی ایسا کریں گے۔ ہم برآمدات پر پابندی نافذ نہیں کریں گے۔”
یو این آئی۔ ع ا۔
-
ہندوستان1 week agoہندوستان دنیا کے لیے بھی مصنوعات تیار کرسکتا ہے : مودی
-
دنیا1 week agoہم فتح کے قریب : نیتن یاہو نے بڑے پیمانے پر واک آؤٹ کے باوجود نسل کشی کے الزام کو مسترد کردیا
-
دنیا1 week agoکینیڈین وزیراعظم کارنی کا امریکہ کی ممکنہ فوجی کارروائی کے خطرے پر غور
-
دنیا1 week agoحوثیوں کے حملے بڑھنے پر سعودی عرب کے اتحادی مدد کے لیے آگے آئے
-
جموں و کشمیر1 week agoبی جے پی نے عمر کی ریاستی حیثیت کی بحالی کی قرارداد کی مخالفت کی، 2000 کی خود مختاری قرارداد کے حوالہ پر سوال اٹھایا
-
کھیل1 week agoسروچی سنگھ اور کمل جیت سنگھ نے ہندوستان کو ایشیائی کھیلوں میں دوسرا طلائی تمغہ دلایا
-
ہندوستان1 week agoپی ایم مودی نے دین دیال اپادھیائے کو خراج عقیدت پیش کیا، انتودیہ اورشمولیت پرمبنی ترقی کے ان کے وژن کو یاد کیا
-
دنیا1 week agoٹرمپ کی شی جن پنگ کے ساتھ وائٹ ہاؤس عشائیے میں چین کے ساتھ قریبی تعلقات کی اپیل
-
دنیا5 days agoایران کے پاس امریکہ کے ساتھ مذاکرات کی کوئی منصوبہ بندی نہیں :ایرانی میڈیا
-
دنیا4 days agoایران نے ثالثوں کے ساتھ مغربی ایشیا میں لڑائی ختم کرنے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا: عراقچی
-
جموں و کشمیر1 week agoبی جے پی کے اشوک کول نے جنرل سکریٹری (آرگنائزیشن) کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا
-
ہندوستان1 week agoترون تیجپال نے 10 سال کی سزا کے خلاف سپریم کورٹ سے روجوع کیا؛ گوا کو نوٹس جاری
