دنیا
آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے امریکی حکمت عملی میں تبدیلی
واشنگٹن، توانائی کی بڑھتی قیمتوں اور عالمی معیشت پر پڑنے والے دباؤ کے پیش نظر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عسکری اور سیاسی قیادت پر زور دیا ہے کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے مؤثر حکمت عملی تیار کی جائے، جس میں اب زمینی کارروائیوں کے امکانات بھی شامل کیے جا رہے ہیں۔
توانائی کی قیمتوں میں شدید اضافے اور عالمی معیشت پر مرتب ہونے والے اثرات کے پیش نظر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ واشنگٹن کے عسکری اور سیاسی حلقوں پر دباؤ بڑھا رہے ہیں کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے کوئی موثر طریقہ کار تلاش کیا جائے۔
’وال اسٹریٹ جرنل‘ کے مطابق امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ایرانی جزائر قشم، خارک اور کیش پر کنٹرول حاصل کرنا زیر غور ہے تاکہ سمندری گزرگاہ کو بحال کیا جا سکے۔
رپورٹ کے مطابق امریکی پالیسی سازوں کے دائرہ کار میں اب صرف فضائی حملے ہی نہیں بلکہ زمینی فوجی اقدامات بھی سنجیدگی سے شامل ہو چکے ہیں۔ اسی تناظر میں امریکی وزارت دفاع نے مشرق وسطیٰ میں 31 ویں میرین ایکسپیڈیشنری یونٹ تعینات کر دی ہے، جو تقریباً 2200 اہلکاروں پر مشتمل ایک تیز رفتار ردعمل فورس ہے۔ یہ یونٹ ایمفی بیئس اسالٹ شپ یو ایس ایس تریپولی پر موجود ہے۔
یہ پیش رفت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ امریکا اب صرف فضائی کارروائیوں تک محدود رہنے کے بجائے محدود زمینی آپریشنز اور اہم تزویراتی اہداف پر قبضے کے امکانات پر بھی غور کر رہا ہے۔
یہ یونٹس سمندر سے خودمختار انداز میں کارروائی کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، جہاں بحری جہاز متحرک فوجی اڈوں کا کردار ادا کرتے ہیں۔ ان میں بکتر بند گاڑیوں اور توپ خانے سے لیس زمینی دستے، اوسپرے طیاروں، ہیلی کاپٹروں اور ایف-35 بی لڑاکا طیاروں پر مشتمل فضائی یونٹ اور مکمل لاجسٹک سپورٹ شامل ہوتی ہے۔ یہ فورسز تیز رفتار لینڈنگ اور اہم مقامات پر عارضی کنٹرول حاصل کرنے کے لیے تیار کی گئی ہیں۔
امریکی اقدام ایک پیچیدہ صورتحال کے پس منظر میں سامنے آیا ہے جہاں ایران تجارتی جہاز رانی کو نشانہ بنا کر آبنائے ہرمز کو عملی طور پر بند کرنے میں کامیاب رہا ہے۔ یہ آبی گزرگاہ عالمی تیل کی ترسیل کے تقریباً پانچویں حصے کے لیے نہایت اہم ہے، جس کی بندش نے عالمی منڈیوں میں بے چینی پیدا کر دی ہے اور توانائی کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔
امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے میزائل لانچنگ سائٹس، ڈرون گوداموں اور بحری بارودی سرنگوں پر کئی ہفتوں سے جاری حملوں کے باوجود ایرانی صلاحیتیں بدستور برقرار ہیں، جو جہاز رانی کے لیے خطرہ بنی ہوئی ہیں۔ یہ صورتحال اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ صرف فضائی طاقت کافی نہیں اور اہم جغرافیائی مقامات پر کنٹرول حاصل کرنے کے آپشن کو دوبارہ زیر غور لایا جا رہا ہے۔
یواین آئی۔ م س
دنیا
روس، امریکہ مذاکرات میں لوکوئل کے اربوں ڈالر کے تیل معاہدے پر بھی بات چیت
واشنگٹن، روس اور امریکہ کے درمیان یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے جاری مذاکرات میں روسی توانائی کمپنی لوکوئل سے متعلق اربوں ڈالر کے ممکنہ تیل معاہدے پر بھی بات چیت ہوئی ہے، جس سے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے دو سینئر مذاکرات کاروں سے وابستہ کاروباری شخصیات کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔
امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق یہ تجویز 5 ستمبر کو روسی صدر ولادیمیر پوتن اور امریکی مذاکرات کار اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کے درمیان ملاقات میں پیش کی گئی۔ مجوزہ معاہدے کے تحت لوکوئل روس سے باہر تیل کے شعبے کے اثاثے، جن میں تیل کے کنویں، ریفائنریاں اور پٹرول پمپس شامل ہیں، خرید سکتی ہے۔ ان میں نیو جرسی کے پٹرول پمپس بھی شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق مجوزہ سودے میں مشرق وسطیٰ کے دو کاروباری گروپ اور امریکی سرمایہ کار و ٹرمپ کے عطیہ دہندہ ٹوڈ بوہلی بھی شامل ہیں۔ ان گروپوں کے ماضی میں وٹکوف اور کشنر کے ساتھ کاروباری روابط رہے ہیں۔
رپورٹ میں یہ ثابت نہیں کیا گیا کہ وٹکوف یا کشنر کو ذاتی طور پر اس سودے سے مالی فائدہ ہوگا، تاہم مذاکرات میں شامل فریقوں سے ان کے کاروباری روابط نے مفادات کے ممکنہ ٹکراؤ سے متعلق سوالات اٹھائے ہیں۔
وٹکوف امریکی خصوصی ایلچی ہیں، جبکہ کشنر ٹرمپ کے داماد اور سابق سینئر وائٹ ہاؤس مشیر ہیں۔ دونوں نے روس اور یوکرین کے ساتھ مذاکرات میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
مجوزہ معاہدہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ٹرمپ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یوکرین جنگ کے خاتمے کے بعد امریکہ اور روس کے درمیان تجارتی اور اقتصادی تعلقات بحال ہونے کے امکانات پیدا ہوسکتے ہیں۔ تاہم روسی اور یوکرینی افواج کے درمیان جنگ جاری ہے اور دونوں جانب سے توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور دیگر اہداف پر میزائل اور ڈرون حملے کیے جا رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق مذاکرات میں توانائی کے اس بڑے سودے کو شامل کرنا مستقبل میں واشنگٹن اور ماسکو کے درمیان کسی ممکنہ معاہدے کے وسیع اقتصادی اثرات کی نشاندہی کرتا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
یمن میں حوثیوں کے خلاف کارروائیاں، 1540 ہلاک و زخمی ہونے کا دعویٰ
صنعا، یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی فوج نے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران حوثیوں کے خلاف تقریباً 500 فوجی کارروائیوں میں 1540 افراد کے ہلاک یا زخمی ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔
فوجی ترجمان کرنل ماجد عبداللہ النزیلی نے کہا کہ فوج نے صنعا میں حوثیوں کے اہم فوجی اہداف کو نشانہ بنایا، جبکہ ملک کے مختلف علاقوں میں میزائل، ڈرون اور توپ خانے سے بھی حملے کیے گئے۔ ان کے مطابق زیادہ تر ہلاکتیں تعز گورنری میں ہوئیں، جہاں حوثیوں کی پیش قدمی روک دی گئی۔
الجزیرہ کے مطابق تعز کے مختلف محاذوں پر شدید لڑائی جاری ہے اور شہری علاقوں پر گولہ باری سے عام شہری بھی متاثر ہوئے ہیں۔ صوبے کے ذُباب علاقے میں ایک گولہ رہائشی علاقے میں گرنے سے ایک شیرخوار بچہ ہلاک ہوگیا۔
دریں اثنا، حکومتی فوج نے حوثیوں کے زیر قبضہ الحوبان کو حکومتی کنٹرول والے تعز شہر سے ملانے والی اہم گزرگاہ بند کردی ہے۔ حکام کے مطابق یہ راستہ حوثیوں کی دراندازی کی کوشش، حملوں اور فوجی سرگرمیوں میں اضافے کے باعث بند کیا گیا۔
یمن میں حکومت اور حوثیوں کے درمیان 2022 میں قائم جنگ بندی رواں سال جولائی میں ختم ہونے کے بعد لڑائی میں تیزی آئی ہے۔ ستمبر کے وسط میں حوثیوں نے مغربی یمن کے بعض علاقوں، بندرگاہی شہر المخا اور باب المندب کے اہم جزیروں پر قبضہ کرلیا تھا۔ لڑائی دوبارہ شروع ہونے کے بعد لاکھوں افراد بے گھر ہوچکے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایران کا مسئلہ حل ہو جائے تو پٹرول کی قیمتیں گر جائیں گی :ٹرمپ
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انتخابی مہم کے سلسلے میں الاباما ریلی پر روانہ ہونے سے قبل وائٹ ہاؤس کے باغیچے میں صحافیوں کے سوالات کا جواب دیا۔
پیٹرول کے بلند نرخوں کے بارے میں سوالات کا جواب دیتے ہوئے ٹرمپ نے کہا، “جب ایران کا معاملہ حل ہو جائے گا — جو زیادہ دیر نہیں لے گا— تو پیٹرول کی قیمتیں اپنی پرانی سطح پر، یا شاید اس سے بھی نیچے آ جائیں گی۔”
ٹرمپ نے کہا کہ یورپی ممالک ڈیزل ایندھن کے معاملے میں تعاون کریں گے اور اس مسئلے کو حل کر دیا جائے گا۔
امریکی صدر نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا، “یورپ کے پاس وافر مقدار میں ڈیزل موجود ہے، وہ دنیا کو بڑا حصہ فراہم کریں گے، ہم بھی ایسا کریں گے۔ ہم برآمدات پر پابندی نافذ نہیں کریں گے۔”
یو این آئی۔ ع ا۔
-
ہندوستان1 week agoہندوستان دنیا کے لیے بھی مصنوعات تیار کرسکتا ہے : مودی
-
دنیا1 week agoہم فتح کے قریب : نیتن یاہو نے بڑے پیمانے پر واک آؤٹ کے باوجود نسل کشی کے الزام کو مسترد کردیا
-
دنیا1 week agoحوثیوں کے حملے بڑھنے پر سعودی عرب کے اتحادی مدد کے لیے آگے آئے
-
جموں و کشمیر1 week agoبی جے پی نے عمر کی ریاستی حیثیت کی بحالی کی قرارداد کی مخالفت کی، 2000 کی خود مختاری قرارداد کے حوالہ پر سوال اٹھایا
-
دنیا1 week agoکینیڈین وزیراعظم کارنی کا امریکہ کی ممکنہ فوجی کارروائی کے خطرے پر غور
-
کھیل1 week agoسروچی سنگھ اور کمل جیت سنگھ نے ہندوستان کو ایشیائی کھیلوں میں دوسرا طلائی تمغہ دلایا
-
ہندوستان1 week agoپی ایم مودی نے دین دیال اپادھیائے کو خراج عقیدت پیش کیا، انتودیہ اورشمولیت پرمبنی ترقی کے ان کے وژن کو یاد کیا
-
دنیا1 week agoٹرمپ کی شی جن پنگ کے ساتھ وائٹ ہاؤس عشائیے میں چین کے ساتھ قریبی تعلقات کی اپیل
-
دنیا6 days agoایران کے پاس امریکہ کے ساتھ مذاکرات کی کوئی منصوبہ بندی نہیں :ایرانی میڈیا
-
جموں و کشمیر1 week agoبی جے پی کے اشوک کول نے جنرل سکریٹری (آرگنائزیشن) کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا
-
دنیا5 days agoایران نے ثالثوں کے ساتھ مغربی ایشیا میں لڑائی ختم کرنے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا: عراقچی
-
ہندوستان1 week agoترون تیجپال نے 10 سال کی سزا کے خلاف سپریم کورٹ سے روجوع کیا؛ گوا کو نوٹس جاری
