ہندوستان
مغربی ایشیا کی وجہ سے پیدا ہونے والے بحران سے مل کر نمٹنا ہے: مودی
نئی دہلی، مغربی ایشیا کے بحران کو سنگین تشویش کا معاملہ قرار دیتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی نے پیر کو کہا کہ خام تیل اور گیس کی ضروریات کا ایک بڑا حصہ اسی خطے سے پورا ہوتا ہے، اس لیے اس کا ہندوستان پر اثر فطری ہے، لیکن اس چیلنج کا مل جل کر اور اتحاد کے ساتھ مقابلہ کرنے کی ضرورت ہے۔
لوک سبھا میں مغربی ایشیا کی صورت حال پر بیان دیتے ہوئے مسٹر مودی نے کہا کہ اس بحران کی وجہ سے ہندوستان کی تشویش فطری ہے، لیکن ہندوستان جانتا ہے کہ متحد رہ کر چیلنجوں کا سامنا کیسے کرنا ہے۔ ہم نے کورونا بحران کے دوران بھی متحد رہ کر ایسے ہی چیلنج کا سامنا کیا تھا اور اب اس چیلنج کا بھی اسی اتحاد سے مقابلہ کرنا ہو گا۔
مغربی ایشیائی ممالک میں رہنے والے ہندوستانیوں کی حفاظت کی یقین دہانی کراتے ہوئے، انہوں نے کہا، “ان ممالک میں ہمارے مشن ہندوستانیوں کی مدد میں مصروف ہیں۔ متاثرہ ممالک میں ہمارے مشن مسلسل ہندوستانیوں کی مدد میں مصروف ہیں۔ چاہے وہاں کام کرنے والے ہندوستانی ہوں یا وہاں گئے ہوئے سیاح، ہر کسی کو ہر ممکن مدد فراہم کی جارہی ہے۔ ہندوستانی مشن باقاعدگی سے ایڈوائزری جاری کر رہے ہیں۔ ہندوستان اوردیگر متاثرہ ممالک میں 24/7 ہیلپ لائنز اور ہنگامی ہیلپ لائنز قائم کی گئی ہیں۔ ان کے ذریعے تمام متاثرہ لوگوں کو تازہ ترین معلومات فراہم کی جا رہی ہیں۔
انہوں نے کہا، “اس بحران کے وقت میں ہندوستان اور بیرون ملک ہندوستانیوں کی حفاظت سب سے اہم ہے۔ اس جنگ کے آغاز سے ہی متاثرہ ممالک میں رہنے والے ہر ہندوستانی کو مدد فراہم کی گئی ہے۔ میں نے مغربی ایشیائی ممالک کے بیشتر سربراہان مملکت کے ساتھ فون پر دو بار بات کی ہے۔ سبھی نے ہندوستانیوں کی حفاظت کی یقین دہانی کرائی ہے۔ یہ افسوسناک صورتحال ہے کہ تنازعہ کے دوران کچھ لوگوں کی جانیں گئی ہیں اور کچھ زخمی ہوئے ہیں۔”
جنگ زدہ اور تنازعات سے متاثرہ ممالک کے ساتھ ہندوستان کے وسیع تجارتی تعلقات کا تذکرہ کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا، “جس خطہ میں تنازعہ جاری ہے، وہ دنیا کے دیگر ممالک کے ساتھ ہماری تجارت کا ایک اہم راستہ بھی ہے۔ یہ خطہ خاص طور پر خام تیل اور گیس کی ضروریات کے لیے ہمارے لیے انتہائی اہم ہے۔ اس کے علاوہ یہ خطہ ہمارے لیے اس لیے بھی اہم ہے کہ خلیجی ممالک میں تقریباً ایک کروڑ ہندوستانی کام کرتے ہیں۔ وہاں کمرشل جہاز چلتے ہیں۔ ہندستانی عملے کے ارکان کی تعداد بھی بہت زیادہ ہے۔ ان مختلف وجوہات کی بناء پر ہندوستان کی تشویش فطری طور پر زیادہ ہے۔ ان تمام حالات کے پیش نظر یہ ضروری ہے کہ پارلیمنٹ کے ذریعے اس بحران پر ہماری ایک آواز اور اتفاق رائے دنیا تک پہنچے۔
جاری یواین آئی۔الف الف
ہندوستان
فارم-6 میں ہوئی غیر قانونی تبدیلی، گیانیش کمار نے اپنے عہدے کا غلط استعمال کیا: راہل
نئی دہلی، لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے آن لائن فارم-6 میں غیر قانونی اور یکطرفہ تبدیلیاں کیے جانے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار نے عہدے کا غلط استعمال کر کے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی مدد کی ہے۔
مسٹر گاندھی نے پیر کے روز سوشل میڈیا ‘ایکس’ پر کہا، “اب یہ واضح ہو گیا ہے کہ مسٹر گیانیش کمار نے فارم-6 میں غیر قانونی اور یکطرفہ تبدیلی کی ہے اور یہ تبدیلی واضح طور پر بی جے پی کی مدد کے لیے کی گئی۔ یہ ان کے عہدے کے غلط استعمال کا ایک اور ثبوت ہے۔ اس معاملے کی سازش میں شامل تمام لوگوں کو ‘ووٹ چوری’ کے لیے جوابدہ ٹھہرایا جائے گا۔”
انہوں نے کہا کہ آن لائن فارم-6 میں غیر قانونی تبدیلی کی بات الیکشن کمیشن کے اپنے کمشنروں نے بھی درج کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بھی سامنے آنا چاہیے کہ الیکشن کمیشن میں کس کے حکم پر ٹاٹا کنسلٹنسی سروسز (ٹی سی ایس) سے یہ تبدیلی کروائی گئی۔ مسٹر گاندھی نے کہا کہ گیانیش کمار اور اس معاملے میں شامل دیگر تمام لوگوں کو جمہوریت پر کیے گئے اس مبینہ مجرمانہ حملے کے لیے جوابدہ ٹھہرایا جائے گا۔
مسٹر گاندھی نے اپنے پوسٹ میں 26 ستمبر کو الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ وضاحت بھی شیئر کی ہے جس میں کہا گیا تھا کہ ایس آئی آر ( کی مدت کے لیے فارم-6 کے ساتھ منسلک ڈیکلریشن کو سپریم کورٹ نے برقرار رکھا ہے۔ کمیشن نے کہا تھا کہ غیر ایس آئی آر مدت میں ضوابط کے مطابق لاگو فارم کا استعمال کیا جائے گا۔
قابلِ ذکر ہے کہ سپریم کورٹ نے پیر کے روز چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو معطل کرنے کا مطالبہ کرنے والی درخواست پر کوئی یکطرفہ عبوری حکم جاری کرنے سے انکار کر دیا۔ عدالت نے کہا کہ وہ ووٹر لسٹ کے ایس آئی آر سے جڑے اہم فیصلے، چیف الیکشن کمشنر کی جانب سے یکطرفہ طور پر لیے جانے کے الزامات پر پہلے الیکشن کمیشن اور دیگر مدعا علیہان کا موقف سنے گی۔
یواین آئی۔الف الف
ہندوستان
جی ایس ٹی میں اگلی نسل کی اصلاحات سے کاروبار میں آسانی بڑھے گی، اعتماد مضبوط ہوگا: مودی
نئی دہلی، وزیراعظم نریندر مودی نے گڈز اینڈ سروسز ٹیکس (جی ایس ٹی) کی اصلاحات کے اگلے مرحلے کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ مجوزہ تبدیلیاں ٹیکس کے نظام کو مزید سادہ بنائیں گی اور ٹیکس کی ذمہ داریوں کا پہلے سے اندازہ لگانا آسان ہو جائے گا۔
جی ایس ٹی کونسل کی میٹنگ 7 اکتوبر کو ہونے جا رہی ہے جس میں اس بالواسطہ ٹیکس کے نظام میں اصلاحات کے اگلے دور پر بات چیت کی امید ہے۔
خزانہ اور کارپوریٹ امور کی وزیر نرملا سیتارمن کے ‘ایکس’ کے ایک پوسٹ کو شیئر کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا، “اگلی نسل کا جی ایس ٹی نظام ٹیکسیشن کو مزید سادہ بنائے گا اور اس کے بارے میں اندازہ لگانا آسان ہوگا۔ اس سے تعمیل آسان ہوگی، ریفنڈ کے طریقہ کار میں بہتری آئے گی اور تاجروں کو سرمایہ کاری نیز توسیع کے لیے زیادہ اعتماد ملے گا۔ حکومت ان اصلاحات کو ‘وکسِت بھارت’ کے ہدف سے جوڑ کر دیکھ رہی ہے۔” انہوں نے کہا کہ اصلاحات سے تجارتی اداروں اور خاندانوں کو مدد مل رہی ہے۔
مسٹر مودی نے کہا کہ یہ اصلاحات معاشی سرگرمیوں کو بڑھانے، ریونیو کو مضبوط کرنے اور ملک بھر کے کاروباری اداروں کے لیے نئے مواقع پیدا کرنے میں مدد کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جی ایس ٹی اصلاحات کے اگلے مرحلے میں تعمیل کو آسان بنانے اور ریفنڈ کے عمل کو بہتر کرنے پر توجہ دی جائے گی، جس سے تاجروں کو سرمایہ کاری اور ترقی کے لیے مزید اعتماد ملے گا۔ اس سے ترقی یافتہ ہندستان کی بنیاد مزید مضبوط ہوگی۔ رجسٹریشن سے لے کر ریفنڈ تک اس کی تعمیل آسان ہوگی۔
وزیر خزانہ محترمہ سیتارمن نے اپنے پوسٹ میں کہا کہ جی ایس ٹی اصلاحات کا اگلا مرحلہ پہلے سے کی گئی تبدیلیوں کو آگے بڑھائے گا اور ٹیکس کے نظام کو ٹیکس دہندگان کے لیے مزید سازگار بنانے پر مرکوز ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ اگلی نسل کے جی ایس ٹی کے دوہرے مقاصد—ٹیکس دہندگان کو راحت اور معیشت کو مزید رفتار—کو پورا کیا جا رہا ہے۔ اگلے مرحلے میں رجسٹریشن، ریٹرن فائل کرنے، ریفنڈ، تنازعات کے حل اور ان پٹ ٹیکس کریڈٹ (آئی ٹی سی) سے جڑی تعمیل کو سادہ بنانے پر خاص توجہ دی جائے گی۔
حکومت کی توجہ اب صرف جی ایس ٹی کی شرحوں کو مناسب بنانے سے آگے بڑھ کر ٹیکس انتظامیہ سے جڑے طریقہ کار کو بہتر کرنے پر ہے۔ اس کا مقصد تاجروں اور ٹیکس دہندگان کے لیے تعمیل میں لگنے والے وقت اور لاگت کو کم کرنا نیز ٹیکس کے نظام کو مزید قابلِ اعتماد بنانا ہے۔ حکومت نے گزشتہ سال جی ایس ٹی نظام میں بڑی تبدیلیاں کی تھیں۔ جی ایس ٹی کونسل کے 56 ویں اجلاس کے فیصلوں کے تحت 22 ستمبر 2025 کو جی ایس ٹی کے ڈھانچے میں بڑی تبدیلیاں نافذ کی گئیں اور زیادہ تر مصنوعات کو 5 فیصد اور 18 فیصد ٹیکس کے تحت لادیا گیا۔ اس کے ساتھ ہی 28 فیصد کا معاوضہ سیس بھی ختم کر دیا گیا۔
جی ایس ٹی کی شروعات یکم جولائی 2017 کو ہوئی تھی۔ اس کے تحت مرکز اور ریاستوں کے متعدد بالواسطہ ٹیکسوں کو ایک مربوط نظام میں لایا گیا اور ملک میں ایک مشترکہ قومی مارکیٹ تیار کی گئی۔ اس کے بعد سے جی ایس ٹی کی شرحوں، طریقہ کار اور تکنیکی نظام میں کئی تبدیلیاں کی جا چکی ہیں۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، جی ایس ٹی کے تحت رجسٹرڈ ٹیکس دہندگان کی تعداد 2017 میں تقریباً 66.5 لاکھ تھی، جو مئی 2026 تک بڑھ کر 1.65 کروڑ ہو گئی۔
جی ایس ٹی میں اصلاحات پر غور کے لیے جی ایس ٹی کونسل کی قانون سے متعلق کمیٹی نے جی ایس ٹی قوانین کے تحت مجرمانہ زمرے میں رکھے گئے افعال کو غیر مجرمانہ بنانے اور نفاذ سے جڑے التزامات میں تبدیلی کی تجاویز پر غور کیا ہے۔ کونسل کے اس آئندہ اجلاس میں اس پر بحث ہو سکتی ہے۔ اس میں سنٹرل گڈز اینڈ سروسز ٹیکس (سی جی ایس ٹی) ایکٹ کی دفعہ 69 کے تحت دستیاب گرفتاری کے آزادانہ اختیار کو ہٹانے کا امکان بھی شامل ہے۔
فی الحال دفعہ 69 کے تحت کمشنر کو ایسے شخص کو گرفتار کرنے کی اجازت دینے کا اختیار حاصل ہے، جس کے بارے میں یہ ماننے کی ٹھوس وجہ ہو کہ اس نے سی جی ایس ٹی ایکٹ کی دفعہ 132 کے تحت متعین جرم کیا ہے۔ فرضی انوائس، فرضی طریقے سے ان پٹ ٹیکس کریڈٹ حاصل کرنے یا اس کا غلط استعمال کرنے جیسے سنگین معاملات میں اس التزام کا استعمال کیا گیا ہے۔
یواین آئی۔الف الف
ہندوستان
سی ای سی کے خلاف احتجاجی مظاہرے کی درخواست پر سپریم کورٹ غور کرے گی
نئی دہلی، سپریم کورٹ پیر کے روز اس درخواست پر سماعت کے لیے رضامند ہو گئی، جس میں دہلی پولیس کو قومی دارالحکومت کے جنتر منتر پر پرامن مظاہرہ کرنے کی اجازت دینے کی ہدایت کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
یہ مطالبہ چیف الیکشن کمشنر (سی ای سی) گیانیش کمار کے خلاف جاری احتجاجی مظاہروں کے درمیان کیا گیا ہے۔ درخواست کا ذکر چیف جسٹس سوریا کاَنت کی سربراہی والی بنچ کے سامنے کیا گیا۔ درخواست گزار کی جانب سے پیش ہونے والے وکیل نے کہا کہ دہلی پولیس شہر میں پرامن مظاہروں کی اجازت نہیں دے رہی ہے، جن میں طلباء، شہریوں، رجسٹرڈ سیاسی جماعتوں کے عہدیداروں اور اراکینِ پارلیمنٹ کے مظاہرے شامل ہیں۔
سی ای سی کے خلاف احتجاجی مظاہروں کے درمیان دائر اس درخواست میں دہلی پولیس کو پرامن مظاہروں کی اجازت دینے کا حکم دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
چیف جسٹس سوریا کاَنت نے وکیل سے یہ واضح کرنے کو کہا کہ وہ کیا راحت مانگ رہے ہیں اور کیا یہ ایک مفاد عامہ کی عرضی ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت یہ دیکھے گی کہ آیا ایسی ہی دیگر درخواستیں زیرِ التوا ہیں یا نہیں، اور معاملے کو سماعت کے لیے فہرست بند کرنے پر اتفاق ظاہر کیا۔
یواین آئی۔الف الف
-
دنیا1 week agoایران کے پاس امریکہ کے ساتھ مذاکرات کی کوئی منصوبہ بندی نہیں :ایرانی میڈیا
-
دنیا7 days agoایران نے ثالثوں کے ساتھ مغربی ایشیا میں لڑائی ختم کرنے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا: عراقچی
-
دنیا1 week agoٹرمپ نے ایران تنازع ختم ہونے کے اشارے دیے، تاہم نئے حملوں کا امکان مسترد نہیں کیا
-
دنیا1 week agoٹرمپ نے ایرانی ہرمز امن معاہدے کو مسترد کردیا، تیل کے بھاو 105 ڈالر سے تجاوز کر گئے
-
دنیا1 week agoیوکرین میں روسی حملوں میں آٹھ افراد ہلاک، درجنوں زخمی
-
دنیا7 days agoامریکہ گرین لینڈ میں نایاب معدنیات کی کان کنی کر سکتا ہے: روبیو
-
دنیا6 days agoعالمی قوانین کے زوال سے دنیا ’ہابسیائی‘ نظام کی طرف بڑھ سکتی ہے: جے شنکر
-
دنیا6 days agoغزہ میں اسرائیلی جنگ کے تین سال بعد تباہی کی ہولناک تصویر، سیٹلائٹ تصاویر سے تباہی کا پیمانہ نمایاں
-
جموں و کشمیر4 days agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا5 days agoقطری ثالثی کی امریکہ، ایران کے درمیان مذاکرات میں معمولی پیش رفت
-
ہندوستان1 week agoاپوزیشن پر ای ڈی-سی بی آئی، عوام پر تھپڑ-لاٹھی-گولی: کھرگے
-
جموں و کشمیر7 days agoجموں و کشمیر پولیس نے جعلی کرنسی کے ریکیٹ کا پردہ فاش کیا، تین افراد گرفتار
