دنیا
جنگ کے خلاف بولتا رہوں گا، مسیحیوں کے مذہبی پیشوا پوپ لیو کا ٹرمپ کی تنقید پر ردعمل
ویٹی کن سٹی، کیتھولک مسیحیوں کے مذہبی پیشوا پوپ لیو کا امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے تنقید کا نشانہ بنائے جانے پر ردعمل سامنے آگیا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگ کے خلاف بیانات دینے پر کیتھولک مسیحیوں کے مذہبی پیشوا پوپ لیو کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہیں کمزور اور خطرناک شخصیت قرار دیا تھا۔ سوشل میڈیا پر اپنے ایک بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ میں پوپ لیو کا بڑا مداح نہیں ہوں، جرم کے معاملے میں پوپ لیو کمزور ہیں اور خارجہ پالیسی کے معاملے میں وہ خوفناک ہیں۔
پوپ لیو نے ٹرمپ کے بیان پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ وہ جنگ کے خلاف آواز اٹھاتے رہیں گے، چاہے اس حوالے سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ان پر تنقید ہی کیوں نہ کی جائے۔
خبر رساں ایجنسی کے مطابق پوپ لیو نے خصوصی طیارے میں الجزائر جاتے ہوئے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں ان کے ساتھ بحث میں نہیں پڑنا چاہتا، میں جنگ کے خلاف، امن کے فروغ، مکالمے اور ریاستوں کے درمیان کثیرالجہتی تعلقات کو آگے بڑھانے کے لیے بلند آواز میں بولتا رہوں گا۔ ان کا کہنا تھا کہ بہت زیادہ معصوم لوگ مارے جا رہے ہیں اور میرا خیال ہے کہ کسی نہ کسی کو کھڑا ہو کر یہ کہنا ہوگا کہ اس سے بہتر راستہ بھی موجود ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
روس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
ماسکو، روسی صدر ولادیمیر پوتن نے کہا کہ وہ یورپ پر حملہ کرنے کا ارادہ نہیں رکھتے اور کہا: “اگر کالیننگراد سمیت روس پر براہِ راست حملہ ہوا تو ہمارے ملک کے پاس موجود تمام ہتھیاروں کے استعمال کا معاملہ ناگزیر اور فوراً زیرِ غور آجائے گا۔”
ولادیمیر پوتن نے دارالحکومت ماسکو میں منعقد ہونے والی بین الاقوامی ولدای مباحثہ کلب کی سالانہ نشست میں روس اور یورپی ممالک کے درمیان کشیدگی سمیت یوکرین میں جاری جنگ کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
روسی وزارتِ خارجہ کے کالیننگراد کے بارے میں بیان اور بعض ممالک کو بھیجے گئے خطوط میں شامل عبارتوں کا دفاع کرتے ہوئے پوتن نے کہا: “اگر روس سے منسلک کسی بھی علاقے پر براہِ راست حملہ ہوا تو ہمارے ملک کے پاس موجود تمام ہتھیاروں کا استعمال ناگزیر اور فوری ماہیت اختیار کر لے گا۔”
پوتن نے زور دیتے ہوئے کہا کہ وہ کسی ملک کو دھمکانے کا ارادہ نہیں رکھتے اور کہا: “ہم کسی کو ڈراتے نہیں ۔ روسی وزارتِ خارجہ کا بیان اور بعض ممالک کو بھیجے گئے خطوط دھمکی دینے کے لیے نہیں بلکہ ہمارے خلاف دھمکانے کی کوشش کا جواب ہیں۔”
پوتن نے اعادہ کیا کہ ہم کسی پر حملے کا منصوبہ نہیں بنا رہے: “نہ 2029 میں، نہ 2030 میں، نہ 2050 میں ہمارے پاس ایسا کوئی منصوبہ نہیں ، مگر اگر حملہ ہوا تو ہمیں جواب دینا پڑے گا۔ یورپی ممالک کے شہریوں کو یہ بات واضح طور پر سمجھنی چاہیے کہ ہمارے موقف اور اُن کے ممالک کے بعض سیاسی حکمرانوں کے موقف میں فرق ہے۔”
پوتن نے بتایا کہ روس کے سامنے ایک فریق ہے جس کی آبادی روس سے دو گنا ہے اور جس کے پاس بڑی اقتصادی و عسکری صلاحیت موجود ہے اور کہا کہ ایسے خطرے کے مقابلے میں ہماری طاقت اور وسائل محدود رہیں گے، اس لیے ہمیں اپنی برتری استعمال کرنا پڑے گی۔
ولادیمیر پوتن نے کہا: “آج روس کے پاس جو ہتھیار ہیں وہ کسی اور کے پاس نہیں۔ یہی ہماری برتری ہے۔”
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
معاہدہ نہ ہونے پر وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ فوجی کارروائی ممکن: ٹرمپ
واشنگٹن، یکم اکتوبر (یو این آئی) امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ اطمینان بخش معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں امریکہ وسط مدتی انتخابات کے بعد تہران کے خلاف دوبارہ فوجی کارروائی کرسکتا ہے، تاہم انہوں نے ایران کے ساتھ دیرپا امن کے امکان پر بھی سوال اٹھایا۔
ٹائم میگزین کو دیے گئے انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے سے متعلق ایرانی تجویز مسترد کردی کیونکہ اس کی شرائط ان کی توقعات کے مطابق نہیں تھیں۔ ان کے بقول ایران نے آبنائے کے صرف ’’کچھ حصوں‘‘ کو کھولنے کی پیشکش کی تھی۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقی نے کہا تھا کہ تہران نے آبنائے ہرمز سات روز میں دوبارہ کھولنے کا منصوبہ امریکہ کو پیش کیا ہے۔ بعد میں ایرانی حکام اور سرکاری میڈیا نے بتایا کہ واشنگٹن نے جوابی تجویز دی ہے جس پر تہران غور کررہا ہے۔
ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائی حالیہ ہفتوں میں بڑی حد تک رک گئی ہے، تاہم ضرورت پڑنے پر اسے دوبارہ شروع کیا جاسکتا ہے۔ وسط مدتی انتخابات کے بعد نئے حملوں کے امکان سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا، ’’یہ ممکن ہے‘‘، اور امریکہ کے پاس ’’بہت سے ہتھیار‘‘ موجود ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ابتدا میں انہیں توقع تھی کہ جنگ چھ سے آٹھ ہفتے جاری رہے گی، لیکن ایران کی جوہری صلاحیتوں کی تباہی کے بعد انہوں نے کارروائی جاری رکھنے کا فیصلہ کیا تاکہ تہران اپنی صلاحیتیں کسی اور شکل میں دوبارہ بحال نہ کرسکے۔
دوسری جانب ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے کہا ہے کہ تہران واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہے، باوجود اس کے کہ ان کے مطابق مذاکرات کے دوران امریکہ نے ایران پر تین حملے کیے۔ انہوں نے کہا، ’’ہم نے کبھی مذاکرات سے گریز نہیں کیا اور نہ کریں گے۔‘‘
پیزشکیان نے کہا کہ ایران اقتصادی مسائل حل کرنے اور پاکستان، عراق، ترکمانستان اور آذربائیجان کے راستے تجارتی روابط بڑھانے کی کوشش کررہا ہے۔
آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین تیل بردار بحری راستوں میں شامل ہے۔ 2025 میں روزانہ تقریباً دو کروڑ بیرل تیل اور تیل کی مصنوعات اس راستے سے گزرتی تھیں، جو عالمی تیل تجارت کا تقریباً 20 فیصد ہے۔ عالمی ایل این جی کی تقریباً 20 فیصد تجارت بھی آبنائے سے ہوتی ہے، جس میں قطر کا نمایاں حصہ ہے۔
ایران کے شمال میں واقع آبنائے ہرمز کے جنوب میں عمان اور متحدہ عرب امارات ہیں اور یہ خلیج فارس کو بحیرہ عرب سے ملاتی ہے۔ یہ آبنائے توانائی کے علاوہ ایل این جی، کھاد، خوراک، ادویات اور دیگر اشیا کی عالمی ترسیل کے لیے بھی اہم ہے۔ عالمی کھاد تجارت کا تقریباً ایک تہائی حصہ معمول کے حالات میں اسی راستے سے گزرتا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
تہران، ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے کہا ہے کہ امریکہ کی جانب سے مذاکرات کے دوران ایران پر تین حملوں کے باوجود تہران واشنگٹن کے ساتھ بات چیت کی کوشش جاری رکھے گا۔
نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق کاروباری شخصیات سے ملاقات میں پیزشکیان نے کہا، ’’ہم نے کبھی مذاکرات سے گریز نہیں کیا اور نہ کریں گے، اگرچہ امریکہ نے ہمارے ملک کو تین بار نشانہ بنایا۔‘‘
انہوں نے کہا کہ حکومت کاروباری شعبے کو درپیش مسائل حل کرنے کے لیے سنجیدگی سے کام کررہی ہے اور ایرانی قیادت معاشی مشکلات سے نمٹنے کی کوششوں میں ہم آہنگی پیدا کررہی ہے۔
پیزشکیان نے کہا کہ آبنائے ہرمز کے ذریعے بحری آمدورفت میں رکاوٹوں کے پیش نظر ایران پاکستان، عراق، ترکمانستان اور آذربائیجان سمیت پڑوسی ممالک کے راستے تجارتی روابط بڑھانے کی کوشش کررہا ہے۔
ادھر آبنائے ہرمز میں بحری نقل و حمل میں جاری رکاوٹوں پر عالمی سطح پر توانائی اور غذائی تحفظ کے حوالے سے تشویش بڑھ رہی ہے۔ اقوام متحدہ کے انڈر سیکریٹری جنرل اور آبنائے ہرمز ٹاسک فورس کے سربراہ جارج موریرا دا سلوا نے یورپی پارلیمنٹ کی خارجہ امور کمیٹی کو بتایا کہ بحران عالمی توانائی اور غذائی تحفظ کو متاثر کررہا ہے، جبکہ خلیج سے کھاد کی درآمد پر انحصار کرنے والے ترقی پذیر ممالک خاص طور پر متاثر ہوسکتے ہیں۔
انہوں نے سوڈان، صومالیہ، موزمبیق اور تنزانیہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان ممالک کی کھاد کی 50 سے 60 فیصد ضروریات خلیجی خطے سے پوری ہوتی ہیں۔
دا سلوا کے مطابق بحران کے باعث کھاد کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ اور اس کے استعمال میں کمی آئی ہے، جس سے زرعی پیداوار متاثر ہونے اور غذائی عدم تحفظ بڑھنے کا خدشہ ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اقوام متحدہ نے آبنائے ہرمز سے کھاد کی ترسیل جاری رکھنے کے لیے ایک مجوزہ طریقہ کار تیار کیا ہے۔ اس کے تحت شپنگ ایجنٹس کھاد کی ترسیل کے لیے درخواستیں رجسٹر کریں گے اور منظوری کے بعد اقوام متحدہ متعلقہ فریقوں اور ریاستوں کے ساتھ رابطہ کرکے بحری جہازوں کے لیے محفوظ راستہ یقینی بنانے میں مدد کرے گا۔
یو این آئی ۔ ع ا۔
-
ہندوستان1 week agoہندوستان نے جموں و کشمیر پر او آئی سی کے رابطہ گروپ کے بیان کو مسترد کر دیا
-
دنیا1 week agoایران کی وارننگ، امریکہ کے دوبارہ حملے کی صورت میں جنگ بحر ہند تک پھیل سکتی ہے
-
ہندوستان1 week agoلداخ میں چھٹے شیڈول کو نافذ کر کے پولیس فائرنگ میں شہید نوجوانوں کو ملے انصاف: کانگریس
-
ہندوستان1 week agoانتخابی کمیشن میں مبینہ اختلافات کی رپورٹ پر اپوزیشن کا چیف الیکشن کمشنر سے استعفیٰ کا مطالبہ
-
دنیا1 week agoایرانی صدر مسعود پزشکیان کا امریکہ سے مذاکرات پر آمادگی کا اظہار، طاقت کے دباؤ کو مسترد کردیا
-
دنیا1 week agoایران جنگ کے ساتویں ماہ میں عالمی تیل کی قیمتوں میں 3 فیصد اضافہ، برینٹ 106.24 ڈالر فی بیرل
-
ہندوستان7 days agoہندوستان دنیا کے لیے بھی مصنوعات تیار کرسکتا ہے : مودی
-
دنیا7 days agoحوثیوں کے حملے بڑھنے پر سعودی عرب کے اتحادی مدد کے لیے آگے آئے
-
دنیا1 week agoہم فتح کے قریب : نیتن یاہو نے بڑے پیمانے پر واک آؤٹ کے باوجود نسل کشی کے الزام کو مسترد کردیا
-
دنیا1 week agoکینیڈین وزیراعظم کارنی کا امریکہ کی ممکنہ فوجی کارروائی کے خطرے پر غور
-
جموں و کشمیر1 week agoعمر نے کتابوں پر پابندی کے معاملے پر سوال اٹھائے، میر واعظ نے ان کے نام اور وجوہات عوام کے سامنے رکھنے کا مطالبہ کیا
-
دنیا1 week agoیو ایس ایس ابراہم لنکن اسٹرائیک گروپ میں خودکشی کی آٹھ سے زائد کوششیں
