دنیا
ایران نے جنگ ٹالنے کیلئے ہر راستہ تلاش کیا، صدر پزشکیان
تہران، ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران نے مسلسل اپنے وعدوں کی پاسداری کی اور جنگ کو ٹالنے کے لیے ہر راستہ تلاش کیا ہے
.
مسعود پزشکیان نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ایران کی طرف سے تمام راستے کھلے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کو جبر کے ذریعے ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنے کی خواہش وہم کے سوا کچھ نہیں ہے۔ ایرانی صدر نے مزید کہا کہ سفارتکاری میں ایک دوسرے کا احترام کرنا جنگ کرنے سے زیادہ سمجھداری، محفوظ اور دیرپا طریقہ ہے۔
دوسری جانب ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنے پیغام میں تحریر کیا کہ ایران دو عالمی دہشت گرد افواج کے خلاف ایک تاریخی اور منفرد مزاحمت کر رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جنگ نے ایرانی حکام پر پہلے سے زیادہ بوجھ ڈال دیا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
حوثیوں کے حملے بڑھنے پر سعودی عرب کے اتحادی مدد کے لیے آگے آئے
ریاض، حوثی باغیوں کے حملوں میں اضافے کے درمیان سعودی عرب کے اتحادی ملک اس کی حمایت کے لیے آگے آ رہے ہیں۔
فرانس نے جمعہ کو تصدیق کی کہ وہ بحیرۂ احمر کی اہم بندرگاہ یَنبُع میں واقع بڑے تیل ٹرمینل کی حفاظت کے لیے اپنے فوجی بھیجے گا۔ ادھر سعودی حکام پاکستان اور ترکی کے حکام کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدے کے تحت ممکنہ اقدامات پر تبادلۂ خیال کر رہے ہیں۔
فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے ٹی ایف ون اور فرانس ٹو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پیرس یَنبُع بندرگاہ پر ’’فوجی، رڈار اور دفاعی نظام‘‘ بھیجے گا۔انہوں نے کہا، ’’ہم کسی تنازع میں شامل ہونے کے لیے نہیں بلکہ اس مقام کے تحفظ کے لیے یہ اقدام کر رہے ہیں۔‘‘
یَنبُع میں تیل ذخیرہ کرنے اور صاف کرنے کی بڑی تنصیبات موجود ہیں اور یہ مشرقی-مغربی پائپ لائن سے منسلک ہے، جس کے ذریعے روزانہ 70 لاکھ بیرل تک تیل منتقل کیا جا سکتا ہے۔
حوثی، جنہیں انصار اللہ بھی کہا جاتا ہے، سعودی عرب پر مسلسل میزائل اور ڈرون حملے کرتے رہے ہیں، جس سے دنیا کے سب سے بڑے توانائی برآمد کنندہ ملک سے تیل کی ترسیل متاثر ہوئی ہے۔
جمعرات کو حوثیوں نے کہا کہ انہوں نے یَنبُع میں سرکاری تیل کمپنی آرامکو کی تنصیبات اور ریاض میں ایک ’’حساس مقام‘‘ کو نشانہ بنایا ہے۔ سعودی فورسز نے کہا کہ انہوں نے چھ بیلسٹک میزائلوں کو روک لیا۔ حکام نے کسی نقصان کی تصدیق نہیں کی ہے۔
سعودی عرب، پاکستان اور ترکی کے وزرائے خارجہ نے جمعرات کو مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت تینوں ممالک کے فوجی سربراہان کی ’’ہنگامی ملاقات‘‘ کا انتظام کرنے کے لیے اجلاس کیا۔ سعودی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ اس معاہدے کے تحت کسی ایک رکن پر حملہ تمام ارکان پر حملہ تصور کیا جاتا ہے۔
تینوں ممالک نے حوثیوں کے ان حملوں کی بھی مذمت کی جن کے بارے میں ان کا دعویٰ تھا کہ ان میں مکہ اور دیگر شہری مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔
تاہم، اس معاہدے کے تحت ترکی اور پاکستان کی جانب سے ممکنہ اقدام کے بارے میں اب بھی ابہام برقرار ہے، کیونکہ اس معاہدے کو ابھی باضابطہ طور پر فعال نہیں کیا گیا ہے۔ سعودی عرب کے دونوں اتحادی مشرق وسطیٰ میں جاری تنازعات کے خاتمے کے لیے ثالثی کی کوششوں میں بھی سرگرم ہیں۔
سعودی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق، سعودی عرب کے مفتی اعظم نے فوجیوں سے حوثیوں کے خلاف لڑنے کے لیے اپنی جانیں قربان کرنے کے لیے تیار رہنے کی اپیل کی ہے۔
ایران کے حامی حوثی ایک دہائی سے زائد عرصے سے سعودی حمایت یافتہ یمنی حکومت کے خلاف لڑ رہے ہیں۔ یہ تنازع غزہ میں ایران کے حامی حماس اور لبنان میں حزب اللہ کے خلاف اسرائیل کی جنگوں اور امریکہ کی ایران کے خلاف جنگ کے دوران ایک بار پھر شدت اختیار کر گیا ہے۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
کینیڈین وزیراعظم کارنی کا امریکہ کی ممکنہ فوجی کارروائی کے خطرے پر غور
اوٹاوا، کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی نے اپنے ملک کے خلاف امریکہ کی ممکنہ فوجی کارروائی کے انتہائی کم مگر سنگین خطرے کا جائزہ لینے اور اس کے لیے تیاری کرنے کا انکشاف کیا ہے۔ بی بی سی نے جمعہ کو ’دی نیویارک ٹائمز‘ کو دیے گئے ان کے انٹرویو کے حوالے سے یہ اطلاع دی۔
کارنی نے کہا کہ ان کی حکومت نے اس انتہائی سنگین صورتحال کا محتاط جائزہ لیا ہے جس میں امریکہ کینیڈا کے خلاف فوجی کارروائی کرسکتا ہے، تاہم انہوں نے اس سلسلے میں مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔
انہوں نے کہا، ’’ہماری ذمہ داری ہے کہ انتہائی کم امکان والے لیکن انتہائی سنگین خطرات پر بھی توجہ دیں۔ یہ صرف خطرے کا انتظام ہے۔ یہ معمول کی صورتحال نہیں ہے، لیکن اس کے لیے تیاری نہ کرنا غیر ذمہ دارانہ ہوگا۔‘‘
ٹرمپ انتظامیہ کے دوران دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان کشیدگی بڑھی ہے۔ امریکی فوج میں 20 لاکھ سے زیادہ فعال اور ریزرو اہلکار ہیں، جبکہ کینیڈا کے پاس دو لاکھ سے بھی کم فوجی ہیں۔ 2024 تک امریکہ کے پاس 65 فوجی آبدوزیں تھیں، جبکہ کینیڈا کے پاس صرف چار تھیں۔
کارنی نے عہدہ سنبھالنے کے بعد کینیڈا کی طویل ساحلی پٹی اور آرکٹک سے قربت کے پیش نظر دفاعی اخراجات میں اضافے کا فیصلہ کیا ہے۔
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ متعدد بار کینیڈا کو امریکہ کی 51ویں ریاست قرار دے چکے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی جنگ بھی جاری ہے اور گزشتہ ماہ متعدد مصنوعات پر ایک دوسرے کے خلاف محصولات میں اضافہ کیا گیا۔
کارنی نے کہا کہ اس کے باوجود وہ ٹرمپ سے مسلسل رابطے میں ہیں اور دونوں کے درمیان تعلقات اچھے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کے ساتھ تجارتی مذاکرات دوبارہ شروع کرنے اور دونوں ممالک کے درمیان دوستانہ تعلقات بحال کرنے کی گنجائش اب بھی موجود ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ہم فتح کے قریب : نیتن یاہو نے بڑے پیمانے پر واک آؤٹ کے باوجود نسل کشی کے الزام کو مسترد کردیا
نیویارک، اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں غزہ، ایران اور خطے کے دیگر علاقوں میں اسرائیل کی جنگوں کا جارحانہ انداز میں دفاع کیا اور نسل کشی کے الزامات کو مسترد کردیا۔ ان کے خطاب کے لیے روسٹرم پر پہنچتے ہی درجنوں سفارت کاروں نے فلسطینی وفد سے اظہار یکجہتی کے طور پر اجتماعی طور پر اجلاس سے واک آؤٹ کیا۔
نیتن یاہو نے اس الزام کو مسترد کردیا کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ’’نسل کشی کے بالکل برعکس‘‘ ہے۔ ان کے خطاب کے دوران سفارت کار فلسطینی وفد سے اظہار یکجہتی کے لیے منظم انداز میں اجلاس سے باہر نکلتے رہے۔
نیتن یاہو نے خطاب روکنے کے بجائے وہاں موجود افراد کو مخاطب کرتے ہوئے کہا، ’’اگر کوئی اور اخلاقی بزدل یہاں موجود ہے جو ابھی تک اجلاس سے باہر نہیں گیا تو براہ کرم اب چلا جائے۔‘‘
نیتن یاہو نے اپنے آنجہانی بھائی یوناتان نیتن یاہو کا حوالہ دیتے ہوئے کہا، ’’ہم جیتنے والے ہیں۔ ہمارے پاس اس کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہے۔‘‘ یوناتان نیتن یاہو 1976 میں اینٹی بی میں یرغمالیوں کو چھڑانے کی کارروائی کے دوران مارے گئے تھے۔
ان کی تقریر میں غزہ کی جنگ، مقبوضہ مغربی کنارے میں آباد کاروں کے تشدد یا خطے کے دیگر تنازعات، جن میں ایران کے خلاف امریکہ کے ساتھ مشترکہ جنگ بھی شامل ہے، کے حوالے سے اسرائیل کی پالیسی میں کوئی خاص نئی بات سامنے نہیں آئی۔
نیتن یاہو نے اس الزام کو بھی سختی سے مسترد کیا کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنگ ’’نسل کشی نہیں ہے بلکہ نسل کشی کے بالکل برعکس ہے۔‘‘
انہوں نے کہا، ’’لہٰذا ان تمام لوگوں سے جو میرے ملک اور ہمارے بہادر فوجیوں کے بارے میں یہ جھوٹ پھیلا رہے ہیں، خواہ وہ اس اجلاس میں بیٹھے ہوں یا نیویارک کے یہود مخالف میئر کے دفتر میں، میں صرف اتنا کہوں گا: آپ کو شرم آنی چاہیے!‘‘ اس طرح انہوں نے نیویارک شہر کے میئر زوہران ممدانی کو نشانہ بنایا۔
یو این آئی، ایم جے
-
ہندوستان1 week agoکھرگے اور راہل نے یومِ پیدائش پر مودی کو مبارکباد دی
-
جموں و کشمیر6 days agoگوریز میں مجوزہ ’تنتر سائلنس‘ ریٹریٹ پر تنازع
-
جموں و کشمیر6 days agoاپوزیشن لیڈر سنیل شرما کا جموں و کشمیر اسمبلی تحلیل کرنے کا مطالبہ
-
دنیا7 days agoجنوبی کوریا کا آبنائے ہرمز میں جنگی کردار سنبھالنے سے انکار ، جنگی مقاصد کی تعنیاتی نہیں ہو گی
-
دنیا1 week agoہم نے جزیرہ قشم کے اوپر ایک امریکی ڈراون کو گرایا:ایران
-
دنیا1 week agoامریکی ویزا سے انکار کے بعد اقوام متحدہ نے فلسطینی صدر عباس کو ویڈیو خطاب کی اجازت دی
-
دنیا7 days agoایران میں جنگ چھڑنے کے بعد حکومت کے حق میں بڑی ترین ریلی، لاکھوں ایرانی شہری یکجا ہوئے
-
دنیا1 week agoامریکہ کی سعودی عرب کو 48 ایف-35 طیارے فروخت کرنے کی ممکنہ منظوری
-
دنیا1 week agoباب المندب سے بحری جہازوں کی محفوظ آمدورفت کے لیے اٹلی جنگی بحری جہاز تعینات کرے گا
-
دنیا6 days agoایرانی وزیر خارجہ عراقچی کا بین الاقوامی قانون کے بلاامتیاز نفاذ پر زور
-
جموں و کشمیر7 days agoہائی کورٹ نے معزول حضرت بل امام کی عرضی پر نوٹس جاری کیا، 2024 کی عرضداشت پر غور کی ہدایت
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں میں سالگرہ کی تقریب کے دوران 35 سالہ شخص قتل، 2 گرفتار
