دنیا
ٹرمپ کا ایران پر دباؤ برقرار رکھنے کا اعلان، ہرمز سے متعلق بھی سخت مؤقف
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات اب بھی جاری ہیں، تاہم امریکہ کسی بھی ممکنہ معاہدے میں تہران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کے ساتھ جاری تنازع بہت جلد اپنے اختتام کو پہنچ جائے گا۔
وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ جو چاہتا ہے وہ کسی نہ کسی طریقے سے حاصل کر کے رہے گا۔
انہوں نے کہا کہ واشنگٹن تہران پر شدید دباؤ برقرار رکھے ہوئے ہے اور امریکی بحریہ ایران کے خلاف سخت ناکہ بندی جاری رکھے ہوئے ہے۔
ٹرمپ کے مطابق امریکہ نے فولادی محاصرے کے ذریعے آبنائے ہرمز پر مؤثر کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔
امریکی صدر نے واضح کیا کہ واشنگٹن نہیں چاہتا کہ افزودہ یورینیم ایران کے اندر موجود رہے اور امریکہ ایرانی افزودہ یورینیم کے ذخائر کو حاصل کرنے کے بعد انہیں تباہ کرنے پر کام کرے گا۔
سمندری تجارت سے متعلق گفتگو میں ٹرمپ نے زور دیا کہ آبنائے ہرمز کو بین الاقوامی جہاز رانی کے لیے بغیر کسی ٹیکس یا پابندی کے کھلا رہنا چاہیے۔
یہ بیانات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب ایران کے جوہری معاملے پر سفارتی سرگرمیاں جاری ہیں۔
اس سے قبل امریکی وزیر خارجہ مارکوروبیو نے امید ظاہر کی تھی کہ پاکستان کی ثالثی امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے کسی معاہدے تک پہنچنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔
مارکو روبیو نے کہا کہ پاکستانی حکام آج تہران جا رہے ہیں اور انہیں امید ہے کہ اس سے مذاکراتی عمل آگے بڑھے گا۔
رپورٹس کے مطابق تہران پاکستانی آرمی چیف جنرل عاصم منیر کے ممکنہ دورے کا منتظر ہے، جو اسلام آباد کی جانب سے جاری ثالثی کوششوں کا حصہ سمجھا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ تہران 28 فروری کو شروع ہونے والی جنگ کے خاتمے کے لیے امریکہ کی جانب سے پیش کی گئی ایک تجویز پر غور کر رہا ہے۔
یواین آئی۔ م س
دنیا
ٹرمپ کی شی جن پنگ کے ساتھ وائٹ ہاؤس عشائیے میں چین کے ساتھ قریبی تعلقات کی اپیل
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں منعقدہ سرکاری عشائیے کے دوران چین کے ساتھ مزید قریبی تعلقات کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن اور بیجنگ کو ایسے تعلقات کے لیے مل کر کام کرنا چاہیے جو آنے والی نسلوں کے لیے خوشحالی اور سلامتی کو فروغ دیں۔
ٹرمپ نے چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ اپنے ذاتی تعلقات کا اکثر ذکر کیا ہے۔ انہوں نے شی جن پنگ اور ان کی اہلیہ کو ’’واقعی غیر معمولی اور حیرت انگیز لوگ‘‘ قرار دیا۔
ٹرمپ نے جمعرات کو عشائیے سے خطاب کرتے ہوئے کہا، ’’اپنے دونوں ممالک کے رہنماؤں کی حیثیت سے صدر شی اور میں دونوں اس بات کو سمجھتے ہیں کہ ہم مختلف نظاموں کی نمائندگی کرتے ہیں، لیکن ہمارے عوام کے درمیان تعلقات برقرار ہیں۔ اور ہمارے تعلقات کبھی اس سے بہتر نہیں رہے۔‘‘
عشائیے سے خطاب کرتے ہوئے شی جن پنگ نے کہا کہ دونوں رہنماؤں نے دن کے اوائل میں ’’مخلصانہ اور تفصیلی تبادلۂ خیال‘‘ کیا اور ’’بہت سے معاملات پر مشترکہ مفاہمت‘‘ تک پہنچے ہیں۔
شی نے مترجم کے ذریعے کہا، ’’اس سے چین اور امریکہ کے تعمیری اور تزویراتی استحکام پر مبنی تعلقات میں نئی جہت پیدا ہوئی ہے۔‘‘
انہوں نے ان معاملات کی تفصیلات نہیں بتائیں جن پر بات چیت ہوئی اور نہ ہی یہ کہا کہ کوئی نیا معاہدہ طے پایا ہے۔ توقع کی جا رہی تھی کہ دونوں رہنماؤں کے مذاکرات میں تجارت اور مصنوعی ذہانت اہم موضوعات ہوں گے۔
امریکہ اور چین نے رواں ہفتے کے اوائل میں محصولات پر عارضی جنگ بندی میں مزید دو ماہ کی توسیع پر اتفاق کیا تھا، جس سے فی الحال تجارتی تنازع میں ایک اور شدت پیدا ہونے سے گریز کیا گیا ہے، تاہم دونوں ممالک کے درمیان وسیع تر تجارتی معاہدہ ابھی طے نہیں پایا ہے۔
دونوں ممالک جدید مصنوعی ذہانت کے شعبے میں بھی ایک دوسرے کے حریف ہیں۔ ٹرمپ امریکہ میں نسبتاً کم ضابطہ کاری کی حمایت کرتے رہے ہیں تاکہ ملک کو چین پر سبقت حاصل کرنے میں مدد مل سکے۔
دیگر اہم اختلافات میں چین کے ایران اور روس کے ساتھ تعلقات اور تائیوان کے بارے میں اس کی پالیسی شامل ہیں، جس پر چین اپنی ملکیت کا دعویٰ برقرار رکھتا ہے۔
شی نے چین اور امریکہ کے تعلقات کی تاریخ پر بھی مختصراً روشنی ڈالی۔ انہوں نے جارج واشنگٹن کی جانب سے چینی چینی مٹی کے برتن خریدنے، دوسری عالمی جنگ کے دوران دونوں ممالک کے تعاون اور عوامی جمہوریہ چین کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے کے لیے صدر رچرڈ نکسن کی کوششوں کا حوالہ دیا۔انہوں نے کہا کہ امریکہ اور چین ایک ’’اور تاریخی موڑ‘‘ پر پہنچ چکے ہیں اور دونوں ممالک کی امنگیں ’’یقینی طور پر ایک دوسرے کو تقویت دے سکتی ہیں‘‘۔
شی نے مزید کہا، ’’چین اور امریکہ کو ذمہ دار بڑی طاقتوں کے طور پر کام کرنا چاہیے، اپنے عوام کی توقعات پر پورا اترنا چاہیے، اپنے عہد کے رجحانات کے ساتھ قدم ملا کر چلنا چاہیے اور بڑی طاقتوں کے ایک دوسرے کے ساتھ رہنے کے لیے ایک نیا طریقہ تلاش کرنا چاہیے۔‘‘
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
حوثیوں کے حملے بڑھنے پر سعودی عرب کے اتحادی مدد کے لیے آگے آئے
ریاض، حوثی باغیوں کے حملوں میں اضافے کے درمیان سعودی عرب کے اتحادی ملک اس کی حمایت کے لیے آگے آ رہے ہیں۔
فرانس نے جمعہ کو تصدیق کی کہ وہ بحیرۂ احمر کی اہم بندرگاہ یَنبُع میں واقع بڑے تیل ٹرمینل کی حفاظت کے لیے اپنے فوجی بھیجے گا۔ ادھر سعودی حکام پاکستان اور ترکی کے حکام کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدے کے تحت ممکنہ اقدامات پر تبادلۂ خیال کر رہے ہیں۔
فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے ٹی ایف ون اور فرانس ٹو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پیرس یَنبُع بندرگاہ پر ’’فوجی، رڈار اور دفاعی نظام‘‘ بھیجے گا۔انہوں نے کہا، ’’ہم کسی تنازع میں شامل ہونے کے لیے نہیں بلکہ اس مقام کے تحفظ کے لیے یہ اقدام کر رہے ہیں۔‘‘
یَنبُع میں تیل ذخیرہ کرنے اور صاف کرنے کی بڑی تنصیبات موجود ہیں اور یہ مشرقی-مغربی پائپ لائن سے منسلک ہے، جس کے ذریعے روزانہ 70 لاکھ بیرل تک تیل منتقل کیا جا سکتا ہے۔
حوثی، جنہیں انصار اللہ بھی کہا جاتا ہے، سعودی عرب پر مسلسل میزائل اور ڈرون حملے کرتے رہے ہیں، جس سے دنیا کے سب سے بڑے توانائی برآمد کنندہ ملک سے تیل کی ترسیل متاثر ہوئی ہے۔
جمعرات کو حوثیوں نے کہا کہ انہوں نے یَنبُع میں سرکاری تیل کمپنی آرامکو کی تنصیبات اور ریاض میں ایک ’’حساس مقام‘‘ کو نشانہ بنایا ہے۔ سعودی فورسز نے کہا کہ انہوں نے چھ بیلسٹک میزائلوں کو روک لیا۔ حکام نے کسی نقصان کی تصدیق نہیں کی ہے۔
سعودی عرب، پاکستان اور ترکی کے وزرائے خارجہ نے جمعرات کو مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت تینوں ممالک کے فوجی سربراہان کی ’’ہنگامی ملاقات‘‘ کا انتظام کرنے کے لیے اجلاس کیا۔ سعودی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ اس معاہدے کے تحت کسی ایک رکن پر حملہ تمام ارکان پر حملہ تصور کیا جاتا ہے۔
تینوں ممالک نے حوثیوں کے ان حملوں کی بھی مذمت کی جن کے بارے میں ان کا دعویٰ تھا کہ ان میں مکہ اور دیگر شہری مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔
تاہم، اس معاہدے کے تحت ترکی اور پاکستان کی جانب سے ممکنہ اقدام کے بارے میں اب بھی ابہام برقرار ہے، کیونکہ اس معاہدے کو ابھی باضابطہ طور پر فعال نہیں کیا گیا ہے۔ سعودی عرب کے دونوں اتحادی مشرق وسطیٰ میں جاری تنازعات کے خاتمے کے لیے ثالثی کی کوششوں میں بھی سرگرم ہیں۔
سعودی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق، سعودی عرب کے مفتی اعظم نے فوجیوں سے حوثیوں کے خلاف لڑنے کے لیے اپنی جانیں قربان کرنے کے لیے تیار رہنے کی اپیل کی ہے۔
ایران کے حامی حوثی ایک دہائی سے زائد عرصے سے سعودی حمایت یافتہ یمنی حکومت کے خلاف لڑ رہے ہیں۔ یہ تنازع غزہ میں ایران کے حامی حماس اور لبنان میں حزب اللہ کے خلاف اسرائیل کی جنگوں اور امریکہ کی ایران کے خلاف جنگ کے دوران ایک بار پھر شدت اختیار کر گیا ہے۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
کینیڈین وزیراعظم کارنی کا امریکہ کی ممکنہ فوجی کارروائی کے خطرے پر غور
اوٹاوا، کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی نے اپنے ملک کے خلاف امریکہ کی ممکنہ فوجی کارروائی کے انتہائی کم مگر سنگین خطرے کا جائزہ لینے اور اس کے لیے تیاری کرنے کا انکشاف کیا ہے۔ بی بی سی نے جمعہ کو ’دی نیویارک ٹائمز‘ کو دیے گئے ان کے انٹرویو کے حوالے سے یہ اطلاع دی۔
کارنی نے کہا کہ ان کی حکومت نے اس انتہائی سنگین صورتحال کا محتاط جائزہ لیا ہے جس میں امریکہ کینیڈا کے خلاف فوجی کارروائی کرسکتا ہے، تاہم انہوں نے اس سلسلے میں مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔
انہوں نے کہا، ’’ہماری ذمہ داری ہے کہ انتہائی کم امکان والے لیکن انتہائی سنگین خطرات پر بھی توجہ دیں۔ یہ صرف خطرے کا انتظام ہے۔ یہ معمول کی صورتحال نہیں ہے، لیکن اس کے لیے تیاری نہ کرنا غیر ذمہ دارانہ ہوگا۔‘‘
ٹرمپ انتظامیہ کے دوران دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان کشیدگی بڑھی ہے۔ امریکی فوج میں 20 لاکھ سے زیادہ فعال اور ریزرو اہلکار ہیں، جبکہ کینیڈا کے پاس دو لاکھ سے بھی کم فوجی ہیں۔ 2024 تک امریکہ کے پاس 65 فوجی آبدوزیں تھیں، جبکہ کینیڈا کے پاس صرف چار تھیں۔
کارنی نے عہدہ سنبھالنے کے بعد کینیڈا کی طویل ساحلی پٹی اور آرکٹک سے قربت کے پیش نظر دفاعی اخراجات میں اضافے کا فیصلہ کیا ہے۔
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ متعدد بار کینیڈا کو امریکہ کی 51ویں ریاست قرار دے چکے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی جنگ بھی جاری ہے اور گزشتہ ماہ متعدد مصنوعات پر ایک دوسرے کے خلاف محصولات میں اضافہ کیا گیا۔
کارنی نے کہا کہ اس کے باوجود وہ ٹرمپ سے مسلسل رابطے میں ہیں اور دونوں کے درمیان تعلقات اچھے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کے ساتھ تجارتی مذاکرات دوبارہ شروع کرنے اور دونوں ممالک کے درمیان دوستانہ تعلقات بحال کرنے کی گنجائش اب بھی موجود ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
ہندوستان1 week agoکھرگے اور راہل نے یومِ پیدائش پر مودی کو مبارکباد دی
-
جموں و کشمیر6 days agoگوریز میں مجوزہ ’تنتر سائلنس‘ ریٹریٹ پر تنازع
-
دنیا1 week agoجنوبی کوریا کا آبنائے ہرمز میں جنگی کردار سنبھالنے سے انکار ، جنگی مقاصد کی تعنیاتی نہیں ہو گی
-
جموں و کشمیر6 days agoاپوزیشن لیڈر سنیل شرما کا جموں و کشمیر اسمبلی تحلیل کرنے کا مطالبہ
-
دنیا1 week agoایران میں جنگ چھڑنے کے بعد حکومت کے حق میں بڑی ترین ریلی، لاکھوں ایرانی شہری یکجا ہوئے
-
دنیا1 week agoامریکی ویزا سے انکار کے بعد اقوام متحدہ نے فلسطینی صدر عباس کو ویڈیو خطاب کی اجازت دی
-
دنیا1 week agoامریکہ کی سعودی عرب کو 48 ایف-35 طیارے فروخت کرنے کی ممکنہ منظوری
-
دنیا1 week agoباب المندب سے بحری جہازوں کی محفوظ آمدورفت کے لیے اٹلی جنگی بحری جہاز تعینات کرے گا
-
دنیا6 days agoایرانی وزیر خارجہ عراقچی کا بین الاقوامی قانون کے بلاامتیاز نفاذ پر زور
-
جموں و کشمیر1 week agoہائی کورٹ نے معزول حضرت بل امام کی عرضی پر نوٹس جاری کیا، 2024 کی عرضداشت پر غور کی ہدایت
-
دنیا4 days agoمیں پورے ایران کو ہوا میں اڑا سکتا ہوں:ٹرمپ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں میں سالگرہ کی تقریب کے دوران 35 سالہ شخص قتل، 2 گرفتار
