تازہ ترین
جموں وکشمیر سرحد پر تعینات فوج کو 6ہزارسنائپر فراہم کئے جائیں گے: رپورٹ
خبراردو:
لائن آف کنٹرول اور بین الاقوامی سرحد پر جنگجو مخالف نیٹ ورک کو مضبوط بنانے اور دراندازی کی کوششوں پر روک لگانے کے لیے فوج آنے والے دنوں میں 6ہزار قناص رائفلیں اور دیگر جدید آلات کوسرحد پر تعینات اہلکاروں کو سونپنے جارہی ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ پاکستان کی طرف سے مسلسل سنائپر حملوں کا منہ توڑ جواب دینے کی غرض سے فوج نے لائن آف کنٹرول پر تعینات اپنے جوانوں کو بھی قناص رائفلیں اور ٹھوس چیزوں کو پاش پاش کردینے والے جدید طرز کے ہتھیار سونپ دینے کو منظوری دی ہے۔
لائن آف کنٹرول اور بین الاقوامی سرحد پر جنگجو مخالف نیٹورک کو سخت کرنے اور یہاں سرحد پار سے جاری دراندازی کا سختی سے مقابلہ کرنے کی خاطر فوج آنے والے دنوں میں یہاں تعینات اپنے اہلکاروں کو 6ہزار سنائپر (قناص) رائفلیں فراہم کررہی ہیں ۔ معلوم ہوا ہے کہ سرحد پار دراندازی سے نمٹنے اور پاکستان کی طرف سے بار بار جنگ بندی معاہدوں کی خلاف ورزی سے نمٹنے کے لئے فوج کو جدید ترین ہتھیار بھی فراہم کئے جائیں گے۔اس سلسلے میں فوج نے نئے منصوبے پر کام شروع کردیا ہے اور آنے والے دنوں میں اس کو مکمل کئے جانے کا قوی امکان ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ فوج آنے والے دنوں میں لائن آف کنٹرول اور خطے پیر پنچال کے پونچھ اور راجوری کے علاوہ کپوارہ اور بارہمولہ اضلاع سے ملنے والی سرحدی لائن پر آنے والے دنوں میں 6ہزار سنائپر رائفلیں نصب کرے گی جس کی نتیجے میں فوج کو جنگجو مخالف نیٹ ورک اور دراندازی کے واقعات سے نمٹنے میں بھر پور مدد ملے گی۔ ذرائع نے بتایا کہ نئے قناص رائفلوں کی فراہمی کے بعد سرحد پر تعینات فوجی اہلکار پاکستان کی طرف سے جاری گولہ باری اور دراندازی کی کوششوں کا منہ توڑ جواب دینے کی اہل ہوگی۔ انہو ں نے بتایا کہ سنائپر رائفلوں کی فراہمی کے بعد فوج دور سے بھی دشمن کو نشانہ بنانے کی صلاحیت سے لیس ہوگی۔ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ فوج نے سرحد پر تعینات اہلکاروں کو جدید ہتھیاروں سے لیس کرنے کی غرض سے 6ہزار سنائپر رائفلیں اور جدید آلات خریدنے کا نشانہ مقرر کیا ہے۔معلوم ہوا ہے کہ اس منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے فی الحال ایک کھیپ بین الاقوامی سپلائروں سے حاصل کی گئی ہے۔ فوج کا کہنا ہے کہ جونہی تمام ہتھیار مہیا ہوں گے تو عین اُسی وقت انہیں سرحد پر تعینات اہلکاروں کو سونپ دیا جائے گا تاکہ لائن آف کنٹرول اور بین الاقوامی سرحد پر کسی بھی چیلنج سے نبردآزماہوا جائے۔
ذرائع نے کے این ایس کو بتایا کہ سرحد پر پہلے سے ہی جنگجو مخالف کارروائیوں کے دوران ’’ڈریگونو ایس وی ڈی‘‘ نامی ہتھیار موجود ہے تاہم اب سنائپر رائفل حاصل ہونے کے بعد انہیں وہاں سے ہٹالیا جائے گا۔ معلوم ہوا ہے کہ نئے قناص رائفلوں کو سرحد پر استعمال میں لانے سے فوج بھر پور صلاحیت سے لیس ہوگی اور کسی بھی بڑے جنگجوانہ حملے سے نمٹ سکتی ہے جس کے دور رس نتائج برآمد ہونے کا امکانات موجود ہیں۔انہوں نے بتایا کہ سنائپر رائفلوں کے ذریعے فوج اپنے ٹارگیٹ کو بہ آسانی نشانہ بناسکتی ہے جس کے نتیجے میں دشمن کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچنے کا احتمال ہے۔ادھرخفیہ ذرائع نے بتایا کہ سنائپر کے علاوہ لائن آف کنٹرول پر مضبوط نیٹورک کو یقینی بنانے کی خاطر جدید قسم کے آلات نصب کئے جارہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ فوجی اہلکاروں کو جدید طرز کی ٹیکنالوجی سے لیس کرنے اور دشمن کو منہ توڑ جواب دینے کی خاطر فوج کے پاس کئی اہم منصوبے زیر غور ہے جن پر کام کیا جارہا ہے۔معلوم ہوا ہے کہ لائن آف کنٹرول اور بین الاقوامی سرحد پرتعینات فوجی اہلکاروں کو جدید طرزکے مہلک ہتھیار فراہم کئے جائیں گے جن میں جدید سنائپر رائفل بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ یہاں اہلکاروں کو کسی بھی چیلنج سے نمٹنے کے لیے ’’انٹی میٹریئل رائفل‘‘ فراہم کی جائے گی جو موٹی سی موٹی دیوار کو بھی تباہ کرسکتی ہے۔معلوم ہوا ہے کہ ’’انٹی میٹریئل رائفل‘‘ سے کسی بھی ٹھوس چیزجیسے فوجی گاڑی کو بہ آسانی تباہ کیا جاسکتا ہے۔
ادھر ذرائع نے بتایا کہ نئے منصوبے کے تحت سرحد پر مامور اہلکاروں کو بریٹا کی طرف سے تیار کردہ’’ 338لاپا میگنم اسکارپیو‘‘اور ’’ 50کیلبر ایم 95‘‘ہتھیار بھی فراہم کئے جارہے ہیں۔خیال رہے گزشتہ مہینے فوجی سربراہ جنرل بپن راوت نے اس بات کا انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ لائن آف کنٹرول اور بین الاقوامی سرحد پر تعینات فوجی اہلکاروں کو سرحدوں کی کڑی نگہبانی اور یہاں کسی بھی چیلنج کا مقابلہ کرنے کی خاطر جلد ہی جدید ہتھیار وں سے لیس کیا جارہا ہے جن میں سنائپر رائفل بھی شامل ہیں۔معلوم ہو اہے کہ بریٹا نامی کمپنی کی طرف سے تیار کردہ ہتھیار ’’ 50کیلبر ایم 95‘‘کسی بھی ٹھوس چیز کو پاش پاش کردینے کی صلاحیت رکھتی ہے ۔ مذکورہ ہتھیار 1800میٹر کی دوری سے بھی دشمن کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
فن و ادب
ریکھا کی ادکاری ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب
ممبئی،
ریکھا محض ایک اداکارہ نہیں بلکہ ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب ہیں۔ ان کی اداکاری، شخصیت اور فن آنے والی نسلوں کے لیے بھی اہمیت رکھتے ہیں۔ ان کا فلمی سفر اس حقیقت کی گواہی دیتا ہے کہ اصل عظمت صرف شہرت حاصل کرنے میں نہیں، بلکہ اپنے فن کے ذریعے وقت کی حدود سے آگے نکل جانے میں ہے۔
ریکھا کی زندگی کامیابی، جدوجہد، تنہائی، شہرت اور خود کو نئے انداز میں پیش کرنے کی ایک طویل داستان ہے۔ انہوں نے بچپن کی مشکلات سے نکل کر ہندوستانی فلمی دنیا میں وہ مقام حاصل کیا جس تک پہنچنا ہر فنکار کے لیے ممکن نہیں ہوتا۔
‘خوب صورت’ کی زندہ دل منجو ہو، ‘امراو جان’ کی غم زدہ شاعرہ، ‘گھر’ کی دکھ سہنے والی عورت یا ‘خون بھری مانگ’ کی مضبوط کردار والی ہیروئن، ریکھا نے ہر کردار میں اپنی الگ شناخت قائم کی۔
بالی وڈ کی امراؤ جان، قاتل نگاہیں اور نمکین رنگت والی مشہور اداکارہ ریکھا دس اکتوبر 1954 کو مدراس کے ایک گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ اُن کا حقیقی نام بھانو ریکھا گنیشن ہے۔ان کے والد جیمنی گنیشن اور ان کی ماں تیلگو اداکارہ پشپ دیوی نے باقاعدہ شادی نہیں کی تھی۔ بچپن سے ہی تیلگو فلموں سے اپنا فلمی سفر شروع کرنے والی ریکھا کو کافی جدوجہد کرنی پڑی۔
ریکھا نے محض گیارہ سال کی عمر میں تیلگو فلم میں اداکاری سے اپنےکیرئیر کاآغاز کیا، 1969 میں ہندی فلم ‘دو شکاری’ کی ہیروئن کے روپ میں جلوہ گر ہوئیں اور جلد ہی فلمی دنیا پر راج کرنے لگیں۔
سال 1976 میں انہوں نے پہلی بار امیتابھ بچن کے ساتھ فلم ‘دو انجانے’ میں کام کیا اور فلم کو امر کردیا۔ اس کے بعد یہ جوڑی نٹور لال، خون پسینہ، مقدر کا سکندر اور بہت سی فلموں میں ایک ساتھ نظر آئی ۔
1978 میں فلم ‘مقدرکا سکندر’ نے ریکھا کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچادیا اورانہیں فلم فیئر ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔
جاری یو این آئی۔ ایم جے
دنیا
ہزیشکیان نے پوتن کو ایران اور امریکہ کے مابین نئی مذاکراتی تجاویز سے آگاہی کرائی
تہران، صدرِ ایران مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران اور امریکہ نے جنگ ختم کرنے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے نئی تجاویز کا تبادلہ کیا ہے۔
ایرانی صدر نے ترکمانستان میں اپنے روسی ہم منصب ولادیمیر پوتن سے دوطرفہ اقتصادی اور اسٹریٹجک تعاون کو بڑھانے پر بات چیت کے لیے ملاقات کی۔
ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی ایرنا کے مطابق یہ ملاقات کامن ویلتھ آف انڈیپنڈنٹ سٹیٹس (سی آئی ایس) سربراہی اجلاس اور بحیرہ کیسپین کے ماحولیاتی اجلاس کے اجلاس کے موقع پر ہوئی۔
دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات میں پیش رفت کا جائزہ لیا اور توانائی، زراعت، نقل و حمل اور تجارت سمیت اہم شعبوں میں تعاون کو مضبوط بنانے پر تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے مشترکہ منصوبوں کی تکمیل اور حتمی منظوری میں تیزی لانے کی ضرورت پر زور دیا اور دونوں ممالک کے قومی مفادات اور علاقائی استحکام کے مطابق جامع تعاون کو وسیع کرنے کے عزم کی تکرار کی۔
ایرانی طلبا کی خبر رساں ایجنسی اسنا کے مطابق پزشکیان نے کہا کہ جنگ کے باوجود ایران امریکہ کے ساتھ مذاکرات سے کنارہ کش نہیں ہوگا۔
“ہم بات چیت کر رہے ہیں، مگر جب بھی ہم امریکہ سے بات کرتے ہیں، وہ دوبارہ حملہ کر دیتے ہیں۔ تاہم ہم مذاکراتی میز اور گفت و شنید سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔”
پزشکیان نے کہا کہ تہران اور واشنگٹن نے دو طرفہ طور پر نئی تجاویز پیش کی ہیں۔
“ہم نے ان تجاویز میں اپنی ترامیم کی ہیں۔ جب یہ حتمی ہو جائیں گی تو ہمیں موجودہ ثالثوں کے ذریعے بیٹھ کر انہیں یکجا کرنا ہوگا۔”
پزشکیان نے علاقائی امور اور اقوامِ متحدہ میں روس کے موقف کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ماسکو نے یکطرفہ پالیسیوں کے خلاف مدد کی۔انہوں نے یہ بھی امید ظاہر کی کہ تہران اور ماسکو کے درمیان بڑھتی ہوئی ہم آہنگی “تیزی اورمظبوطی کے ساتھ” آگے بڑھے گی، اور کہا کہ موجودہ حالات تعاون کو گہرا کرنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تہران جنگ کے خاتمے کا خواہاں ہے، بشرطیکہ ایرانی عوام کے حقوق بین الاقوامی قانون کے تحت محفوظ رہیں۔
دونوں رہنماؤں کی آخری ذاتی ملاقات یکم ستمبر کو کرغزستان میں شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کے موقع پر ہوئی تھی، جہاں انہوں نے دوطرفہ تعلقات اور امریکہ-ایران جنگ پر بات کی تھی۔
اس ملاقات کے دوران پوتن نے امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کو “غیر مستحکم اور بہت نازک” قرار دیا اور تہران کی حمایت جاری رکھنے کا عندیہ دیا۔
مزید یہ کہ پزشکیان اور پوتن نے تاکہ ایران-امریکہ مذاکرات پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے بدھ کو فون پر بات کی تھی، جس میں روسی صدر نے تنازع کے حل کے لیے سفارتی کوششوں کی حمایت میں ماسکو کی آمادگی ظاہر کی۔
پوتن سی آئی ایس سربراہی اجلاس اور بحیرہ کیسپین کے ماحولیاتی اجلاس میں شرکت کرنے کے لیے جمعرات کو دو روزہ دورے پر ترکمانستان پہنچے تھے۔
توقع ہے کہ سی آئی ایس اجلاس رکن ممالک کے درمیان تعاون کے ساتھ ساتھ علاقائی اور بین الاقوامی پیش رفت کا جائزہ لے گا۔
بحیرہ کیسپین ماحولیاتی اجلاس میں پانچ ساحلی ممالک – آذربائیجان، ایران، قازقستان، روس اور ترکمانستان – کے رہنما یکجا ہوئے ہیں ، اجلاس کے ایجنڈے میں خطے میں ماحولیاتی تعاون شامل ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
مودی حکومت کی پالیسیوں نے معاشی لبرلائزیشن کو برباد کر دیا: کھرگے
نئی دہلی، کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے مودی حکومت کی معاشی پالیسیوں پر شدید نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس حکومت نے عام لوگوں کے مفادات کو نظر انداز کر کے صارفین کے لیے متعدد اختیارات کی مسابقت کو ختم کر دیا ہے اور منتخب سرمایہ دار دوستوں کو فائدہ پہنچایا جا رہا ہے، جس سے معاشی لبرلائزیشن کی بنیاد برباد ہو گئی ہے۔
مسٹر کھرگے نے جمعہ کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر لکھا کہ مودی حکومت کی معاشی پالیسیوں کا مقصد معیشت کا کنٹرول اپنے چہیتے سرمایہ دار دوستوں کے ہاتھوں میں سونپنا ہے، تاکہ بدلے میں منافع میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کا حصہ برقرار رہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مسابقت کو ختم کر کے اجارہ داری اور دو کمپنیوں کے غلبے والے نظام کو نافذ کر کے بی جے پی کے خزانے کو بھرنے کا کام کیا گیا ہے۔
کانگریس صدر نے کہا کہ ٹیلی کام کے شعبے میں 2014 سے پہلے 13 کمپنیاں تھیں، جبکہ اب صرف تین بڑی نجی کمپنیاں رہ گئی ہیں۔ اسی طرح اندرونِ ملک ہوا بازی کے شعبے میں 2014 سے پہلے سات کمپنیوں کے مقابلے اب صرف دو بڑی کمپنیاں رہ گئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل ادائیگی، سیمنٹ اور فوڈ ڈیلیوری ایپس سمیت مختلف شعبوں میں حکومت کی ترجیح مسابقت کو ختم کرنا رہی ہے۔ مسٹر کھرگے نے کہا کہ کانگریس معاشی لبرلائزیشن کی بانی ہے، جبکہ بی جے پی پر اپنے منافع کے لیے ‘معاشی دہشت گردی’ نافذ کرنے کا الزام لگایا۔
مسٹر کھرگے نے دعویٰ کیا کہ حکومت کی معاشی پالیسیوں سے مائیکرو، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز (ایم ایس ایم ای) اور دیگر چھوٹے و درمیانے درجے کی صنعتوں کو نقصان پہنچا ہے نیز ملک کے نوجوانوں کو شدید بے روزگاری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
یواین آئی ایف اے
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoقطری ثالثی کی امریکہ، ایران کے درمیان مذاکرات میں معمولی پیش رفت
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
جموں و کشمیر7 days agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
ہندوستان1 week agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
دنیا6 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
جموں و کشمیر1 week agoجاوید ڈار نے اسمبلی میں سی اے جی کی رپورٹیں پیش کیں
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
-
جموں و کشمیر1 week agoاپوزیشن لیڈر کا عمر پر ریاستی حیثیت کی بحالی کے مطالبے کو ’سبوتاژ‘ کرنے کا الزام، جموں و کشمیر اسمبلی کا اجلاس ’بدقسمت‘ قرار
-
دنیا7 days agoامریکہ، ایران جنگ بندی معاہدے کی راہ میں بداعتمادی اور گہرے اختلافات حائل
-
ہندوستان1 week agoکھرگے- راہل نے گاندھی اور شاستری کو یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش کیا
