تازہ ترین
کیلم کولگام مسلح تصادم:جاںبحق جنگجوئوں میں اسکالر وسیم راتھر بھی شامل، مکمل رپورٹ
خبراردو:
جنوبی کشمیر میں فوج نے اتوارکوجنگجو مخالف آپریشن کو جاری و ساری رکھتے ہوئے کیلم کولگام کا علی الصبح محاصرہ عمل میں لایا جس دوران یہاں گھر گھر تلاشی کا باضابطہ آغاز کیا گیا۔ معلوم ہوا کہ فوج کی 9آر آر، سی آر پی ایف اور ایس او جی کولگام کی مشترکہ پارٹی نے کیلم نامی گاؤں کا کڑا محاصرہ عمل میں لایا۔ فوج و فورسز کو مصدقہ اطلاع موصول ہوئی تھی کہ یہاں 2سے 3جنگجو چھپے بیٹھے ہیں جس کے بعد فوج نے دیگر فورسز ایجنسیوں کے اشتراک سے کیلم کولگام کا علی اآصبح محاصرہ کیا اور یہاں جگہ جگہ فورسز کے اضافی دستوں کو تعینات کردیا۔ پولیس کے مطابق جنگجوؤں سے متعلق مصدقہ اطلاع موصول ہونے کے بعد فوج، ایس ا وجی کولگام اور سی آر پی ایف کی مشترکہ جمعیت نے کیلم نامی دیہات کا اتوار کی صبح کڑا محاصرہ عمل میں لاتے ہوئے یہاں گھر گھر تلاشی مہم شروع کی۔
انہوں نے بتایا کہ تلاشی پارٹی جونہی گاؤں کے اندر تلاشی مہم میں مصروف تھی تو اسی دوران مشتبہ مکان کے نزدیک پہنچنے کے ساتھ یہاں چھپے بیٹھے جنگجوؤں نے فورسز اہلکاروں پر خودکار ہتھیاروں سے زبردست فائرنگ شروع کردی۔ پولیس کا کہنا تھا کہ اس اثنا میں فورسز اہلکاروں نے فوراً مورچہ سنبھالتے ہوئے جنگجوؤں کی طرف سے کی گئی فائرنگ کا بھر پور جواب دیتے ہوئے مکان کے ارد گرد گھیراؤ تنگ کردیا۔انہوں نے بتایا کہ طرفین کے درمیان کئی گھنٹوں تک گولیوں کا شدید تبادلہ ہوا جس دوران مکان مکمل طور پر تباہ ہوااور اسی کیساتھ ہی یہاں فائرنگ کا تبادلہ کچھ دیر کے لیے تھم گیا۔
پولیس کے مطابق فورسز اہلکاروں نے جونہی مکان کے ملبے کو ہٹانے کے لیے جے سی بی کی خدمات حاصل کی اور یہاں موجود اہلکار ملبے سے جنگجوؤں کی نعشوں کو حاصل کرنے میں مشغول تھے تو اسی دوران یہاں ملبے کے نیچے سے مزید زندہ جنگجوؤں نے فورسز پر دوبارہ فائرنگ شروع کردی جس کے ساتھ ہی یہاں جھڑپ دوبارہ شروع ہوئی۔ اس کے بعد فورسز اہلکاروں نے چند مکانات کے ارد گرد محاصرے کو تنگ کرتے ہوئے یہاں فائرنگ کررہے جنگجوؤں کے خلاف حتمی کارروائی کا آغاز کیا ۔
انہوں نے کہا کہ جھڑپ کے اختتام پر ملبے سے کل 5جنگجوؤں کی لاشیں برآمد کی گئی جن میں ڈاکٹر وسیم راتھر ساکن اشموجی کولگام، محمد ابراہیم ساکن آرونی، خبیب ساکن قیموہ، ارہان احمد ساکن زنگل پورہ کولگام اور عزیر احمد ساکن گوپالپورہ کولگام شامل ہیں جن کے قبضے سے بھاری مقدار میں اسلحہ، گولہ بارود اور قابل اعتراض مواد ضبط کیا گیا۔اس سلسلے میں پولیس نے باضابطہ طور پر کئی قانونی دفعات کے تحت مقدمات درج کرتے ہوئے کیس کی مزید تحقیقات شروع کردی۔پولیس نے اس موقعے پر مقامی آبادی سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ جائے جھڑپ کے ارد گرد تک تک پیش قدمی کرنے سے گریز کریں جب تک نہ جائے جھڑپ کو مکمل طور پر ممکنہ بارودی مواد سے پاک و صاف کیا جاتا ہے۔ پولیس نے عوام سے تعاون طلب کرتے ہوئے کہا کہ عام شہری کی ہلاکت سے بچنے کی خاطر جائے جھڑپ تک پیش قدمی سے گریز کیا جائے۔
ادھرعینی شاہدین کا کہنا تھا کہ گاؤں میں علی الصبح جونہی جھڑپ شروع ہوئی تو یہاں نزدیکی بستیوں سے نوجوانوں کی مختلف ٹولیوں نے سڑکوں کا رخ کرتے ہوئے فورسز کارروائی کے خلاف جم کر نعرے بازی کی۔ معلوم ہوا کہ مظاہرین نے اس موقعے پر اسلام اور آزادی کے حق میں زور دار نعرے بازی کرنے کے علاوہ یہاں موجود اہلکاروں پر خشت باری بھی کی۔ معلوم ہوا کہ نوجوانوں کی مختلف ٹولیوں نے جنگجو مخالف آپریشن میں رخنہ ڈالنے کی خاطر جائے جھڑپ کی جانب پیش قدمی شروع کی تاہم یہاں تعینات پولیس اور سی آر پی ایف اہلکاروں نے مظاہرین کی کوشش کو ناکام بناتے ہوئے ان پر ٹیر گیس کے درجنوں شل اور پیلٹ فائرنگ کی جس کے ساتھ ہی علاقے میں افرا تفری کا ماحول پیدا ہوا۔ معلوم ہوا ہے کہ فورسز کارروائی کے نتیجے میں یہاں ایک درجن سے زائد افراد بری طرح مجروح ہوئے ہیں جنہیں نزدیکی ہسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔
عینی شاہدین کا کہنا تھا کہ فورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کی غرض سے ٹیر گیس شلنگ، فائرنگ اور پیلٹ کا استعمال کرتے ہوئے درجن بھر افراد کو زخمی کردیا جنہیں ضلع ہسپتال کولگام منتقل کیا گیا۔ ادھر انتظامیہ نے اتوار صبح کو کیلم میں شروع جھڑپ کے پیش نظر پورے ضلع میں موبائل انٹرنیٹ خدمات کو بند رکھنے کا فیصلہ لیا ہے۔
انتظامیہ کے اعلیٰ افسر نےبتایا کہ کیلم میں فوج اور جنگجوؤں کے مابین جھڑپ کے پیش نظر موبائل انٹرنیٹ خدمات کو معطل کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے مواقع پر بے لگام افواہ بازی اور امن و قانون کی صورتحال میں شر پسند عناصر رخنہ ڈالنے کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں جس کے پیش نظر ہی ایسا اقدام اُٹھانا ناگزیر بن جاتا ہے تاہم انہوں نے واضح کردیا کہ حالات پٹری پر لوٹ آنے کے ساتھ ہی انٹرنیٹ خدمات کو بحال کیا جائے گا۔ ادھر محکمہ ریلوے نے بھی جنوبی کشمیر عوامی مظاہروں کے پیش نظر سرینگر سے بانہال ٹریک پر چلنے والی ریل سروس کو احتیاطی طور پر بند کردیا ہے۔ محکمہ کے آفسر نے بتایا کہ مسافروں کی حفاظت اور ریلوے جائیداد کا تحفظ یقینی بنانے کی خاطر محکمہ نے سرینگر سے بانہال تک چلنے والی ریل سروس کو اگلے احکامات تک معطل رکھنے کا فیصلہ لیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ جونہی امن و قانون کی صورتحال میں نمایاں تبدیلی دیکھنے کو ملے گی تو سروس کو واپس بحال کیا جائے گا۔
ادھر جائے جھڑپ کے نزدیک ذرائع ابلاغ سے وابستہ فوٹو جرنلسٹ شاہ جنید کو اُ س وقت لوگوں نے تختہ مشق بنایا جب وہ جھڑپ اور یہاں بھڑکے تشدد کو عکس بند کرنے میں مصروف تھا۔فوٹو جرنلسٹ کا کہنا تھا کہ میں جائے جھڑپ کے نزدیک فورسز اور مظاہرین کے مابین جھڑپوں کو عکس بند کرنے میں مصروف تھا کہ اسی دوران عوامی بھیڑ میں سے کسی مولوی صاحب نے چلاتے ہوئے کہا کہ میرے کیمرے میں سی سی ٹی وی نصب ہے جس کے ساتھ ہی چند افراد میری طرف متوجہ ہوئے اور انہوں نے مجھے مارنا پیٹنا شروع کردیا۔
فن و ادب
ریکھا کی ادکاری ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب
ممبئی،
ریکھا محض ایک اداکارہ نہیں بلکہ ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب ہیں۔ ان کی اداکاری، شخصیت اور فن آنے والی نسلوں کے لیے بھی اہمیت رکھتے ہیں۔ ان کا فلمی سفر اس حقیقت کی گواہی دیتا ہے کہ اصل عظمت صرف شہرت حاصل کرنے میں نہیں، بلکہ اپنے فن کے ذریعے وقت کی حدود سے آگے نکل جانے میں ہے۔
ریکھا کی زندگی کامیابی، جدوجہد، تنہائی، شہرت اور خود کو نئے انداز میں پیش کرنے کی ایک طویل داستان ہے۔ انہوں نے بچپن کی مشکلات سے نکل کر ہندوستانی فلمی دنیا میں وہ مقام حاصل کیا جس تک پہنچنا ہر فنکار کے لیے ممکن نہیں ہوتا۔
‘خوب صورت’ کی زندہ دل منجو ہو، ‘امراو جان’ کی غم زدہ شاعرہ، ‘گھر’ کی دکھ سہنے والی عورت یا ‘خون بھری مانگ’ کی مضبوط کردار والی ہیروئن، ریکھا نے ہر کردار میں اپنی الگ شناخت قائم کی۔
بالی وڈ کی امراؤ جان، قاتل نگاہیں اور نمکین رنگت والی مشہور اداکارہ ریکھا دس اکتوبر 1954 کو مدراس کے ایک گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ اُن کا حقیقی نام بھانو ریکھا گنیشن ہے۔ان کے والد جیمنی گنیشن اور ان کی ماں تیلگو اداکارہ پشپ دیوی نے باقاعدہ شادی نہیں کی تھی۔ بچپن سے ہی تیلگو فلموں سے اپنا فلمی سفر شروع کرنے والی ریکھا کو کافی جدوجہد کرنی پڑی۔
ریکھا نے محض گیارہ سال کی عمر میں تیلگو فلم میں اداکاری سے اپنےکیرئیر کاآغاز کیا، 1969 میں ہندی فلم ‘دو شکاری’ کی ہیروئن کے روپ میں جلوہ گر ہوئیں اور جلد ہی فلمی دنیا پر راج کرنے لگیں۔
سال 1976 میں انہوں نے پہلی بار امیتابھ بچن کے ساتھ فلم ‘دو انجانے’ میں کام کیا اور فلم کو امر کردیا۔ اس کے بعد یہ جوڑی نٹور لال، خون پسینہ، مقدر کا سکندر اور بہت سی فلموں میں ایک ساتھ نظر آئی ۔
1978 میں فلم ‘مقدرکا سکندر’ نے ریکھا کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچادیا اورانہیں فلم فیئر ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔
جاری یو این آئی۔ ایم جے
دنیا
ہزیشکیان نے پوتن کو ایران اور امریکہ کے مابین نئی مذاکراتی تجاویز سے آگاہی کرائی
تہران، صدرِ ایران مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران اور امریکہ نے جنگ ختم کرنے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے نئی تجاویز کا تبادلہ کیا ہے۔
ایرانی صدر نے ترکمانستان میں اپنے روسی ہم منصب ولادیمیر پوتن سے دوطرفہ اقتصادی اور اسٹریٹجک تعاون کو بڑھانے پر بات چیت کے لیے ملاقات کی۔
ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی ایرنا کے مطابق یہ ملاقات کامن ویلتھ آف انڈیپنڈنٹ سٹیٹس (سی آئی ایس) سربراہی اجلاس اور بحیرہ کیسپین کے ماحولیاتی اجلاس کے اجلاس کے موقع پر ہوئی۔
دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات میں پیش رفت کا جائزہ لیا اور توانائی، زراعت، نقل و حمل اور تجارت سمیت اہم شعبوں میں تعاون کو مضبوط بنانے پر تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے مشترکہ منصوبوں کی تکمیل اور حتمی منظوری میں تیزی لانے کی ضرورت پر زور دیا اور دونوں ممالک کے قومی مفادات اور علاقائی استحکام کے مطابق جامع تعاون کو وسیع کرنے کے عزم کی تکرار کی۔
ایرانی طلبا کی خبر رساں ایجنسی اسنا کے مطابق پزشکیان نے کہا کہ جنگ کے باوجود ایران امریکہ کے ساتھ مذاکرات سے کنارہ کش نہیں ہوگا۔
“ہم بات چیت کر رہے ہیں، مگر جب بھی ہم امریکہ سے بات کرتے ہیں، وہ دوبارہ حملہ کر دیتے ہیں۔ تاہم ہم مذاکراتی میز اور گفت و شنید سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔”
پزشکیان نے کہا کہ تہران اور واشنگٹن نے دو طرفہ طور پر نئی تجاویز پیش کی ہیں۔
“ہم نے ان تجاویز میں اپنی ترامیم کی ہیں۔ جب یہ حتمی ہو جائیں گی تو ہمیں موجودہ ثالثوں کے ذریعے بیٹھ کر انہیں یکجا کرنا ہوگا۔”
پزشکیان نے علاقائی امور اور اقوامِ متحدہ میں روس کے موقف کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ماسکو نے یکطرفہ پالیسیوں کے خلاف مدد کی۔انہوں نے یہ بھی امید ظاہر کی کہ تہران اور ماسکو کے درمیان بڑھتی ہوئی ہم آہنگی “تیزی اورمظبوطی کے ساتھ” آگے بڑھے گی، اور کہا کہ موجودہ حالات تعاون کو گہرا کرنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تہران جنگ کے خاتمے کا خواہاں ہے، بشرطیکہ ایرانی عوام کے حقوق بین الاقوامی قانون کے تحت محفوظ رہیں۔
دونوں رہنماؤں کی آخری ذاتی ملاقات یکم ستمبر کو کرغزستان میں شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کے موقع پر ہوئی تھی، جہاں انہوں نے دوطرفہ تعلقات اور امریکہ-ایران جنگ پر بات کی تھی۔
اس ملاقات کے دوران پوتن نے امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کو “غیر مستحکم اور بہت نازک” قرار دیا اور تہران کی حمایت جاری رکھنے کا عندیہ دیا۔
مزید یہ کہ پزشکیان اور پوتن نے تاکہ ایران-امریکہ مذاکرات پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے بدھ کو فون پر بات کی تھی، جس میں روسی صدر نے تنازع کے حل کے لیے سفارتی کوششوں کی حمایت میں ماسکو کی آمادگی ظاہر کی۔
پوتن سی آئی ایس سربراہی اجلاس اور بحیرہ کیسپین کے ماحولیاتی اجلاس میں شرکت کرنے کے لیے جمعرات کو دو روزہ دورے پر ترکمانستان پہنچے تھے۔
توقع ہے کہ سی آئی ایس اجلاس رکن ممالک کے درمیان تعاون کے ساتھ ساتھ علاقائی اور بین الاقوامی پیش رفت کا جائزہ لے گا۔
بحیرہ کیسپین ماحولیاتی اجلاس میں پانچ ساحلی ممالک – آذربائیجان، ایران، قازقستان، روس اور ترکمانستان – کے رہنما یکجا ہوئے ہیں ، اجلاس کے ایجنڈے میں خطے میں ماحولیاتی تعاون شامل ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
مودی حکومت کی پالیسیوں نے معاشی لبرلائزیشن کو برباد کر دیا: کھرگے
نئی دہلی، کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے مودی حکومت کی معاشی پالیسیوں پر شدید نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس حکومت نے عام لوگوں کے مفادات کو نظر انداز کر کے صارفین کے لیے متعدد اختیارات کی مسابقت کو ختم کر دیا ہے اور منتخب سرمایہ دار دوستوں کو فائدہ پہنچایا جا رہا ہے، جس سے معاشی لبرلائزیشن کی بنیاد برباد ہو گئی ہے۔
مسٹر کھرگے نے جمعہ کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر لکھا کہ مودی حکومت کی معاشی پالیسیوں کا مقصد معیشت کا کنٹرول اپنے چہیتے سرمایہ دار دوستوں کے ہاتھوں میں سونپنا ہے، تاکہ بدلے میں منافع میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کا حصہ برقرار رہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مسابقت کو ختم کر کے اجارہ داری اور دو کمپنیوں کے غلبے والے نظام کو نافذ کر کے بی جے پی کے خزانے کو بھرنے کا کام کیا گیا ہے۔
کانگریس صدر نے کہا کہ ٹیلی کام کے شعبے میں 2014 سے پہلے 13 کمپنیاں تھیں، جبکہ اب صرف تین بڑی نجی کمپنیاں رہ گئی ہیں۔ اسی طرح اندرونِ ملک ہوا بازی کے شعبے میں 2014 سے پہلے سات کمپنیوں کے مقابلے اب صرف دو بڑی کمپنیاں رہ گئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل ادائیگی، سیمنٹ اور فوڈ ڈیلیوری ایپس سمیت مختلف شعبوں میں حکومت کی ترجیح مسابقت کو ختم کرنا رہی ہے۔ مسٹر کھرگے نے کہا کہ کانگریس معاشی لبرلائزیشن کی بانی ہے، جبکہ بی جے پی پر اپنے منافع کے لیے ‘معاشی دہشت گردی’ نافذ کرنے کا الزام لگایا۔
مسٹر کھرگے نے دعویٰ کیا کہ حکومت کی معاشی پالیسیوں سے مائیکرو، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز (ایم ایس ایم ای) اور دیگر چھوٹے و درمیانے درجے کی صنعتوں کو نقصان پہنچا ہے نیز ملک کے نوجوانوں کو شدید بے روزگاری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
یواین آئی ایف اے
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoقطری ثالثی کی امریکہ، ایران کے درمیان مذاکرات میں معمولی پیش رفت
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
جموں و کشمیر7 days agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
ہندوستان1 week agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
دنیا6 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
جموں و کشمیر1 week agoجاوید ڈار نے اسمبلی میں سی اے جی کی رپورٹیں پیش کیں
-
دنیا1 week agoامریکی فوج کے انخلا کے بعد عراق کو نئی سکیورٹی صورتحال میں توازن کے چیلنج کا سامنا
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
-
جموں و کشمیر1 week agoاپوزیشن لیڈر کا عمر پر ریاستی حیثیت کی بحالی کے مطالبے کو ’سبوتاژ‘ کرنے کا الزام، جموں و کشمیر اسمبلی کا اجلاس ’بدقسمت‘ قرار
-
دنیا7 days agoامریکہ، ایران جنگ بندی معاہدے کی راہ میں بداعتمادی اور گہرے اختلافات حائل
