دنیا
امریکہ-ایران معاہدے سے متعلق تیکنیکی مسائل تا حال حل نہیں ہوئے: ترک وزیر خارجہ
ماسکو، ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے کہا ہے کہ امریکہ اور ایران نے اصولی طور پر اہم نکات پر اتفاق کر لیا ہے، مگر تکنیکی مسائل، بشمول ایران کے غنی شدہ یورینیم کی تقدیر اور آئندہ افزودگی پر معطلی کے نفاذ، ابھی حل طلب ہیں۔
روسی دورے کے دوران دو روزہ قیام میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے فیدان نے کہا کہ تکنیکی ٹیموں کو ایران کے غنی شدہ یورینیم کے ذخائر سے متعلق معاملات طے کرنے کی ضرورت ہے۔
”ایران میں 400 کلوگرام غنی شدہ یورینیم کی تخفیف کے بارے میں ایک اصولی مفاہمت موجود ہے۔ مگر یہ بحث باقی ہے کہ تخفیف کون انجام دے گا، کون نگرانی کرے گا، اور اسے کیسے تصدیق کیا جائے گا۔”
فیدان نے کہا کہ جنگی حالات، باہمی عدم اعتماد اور علاقائی پیش رفت، جن میں اسرائیل کا لبنان پر قبضہ بھی شامل ہے، نے واشنگٹن اور تہران کے درمیان مذاکرات کو سست کر دیا ہے۔
”جبکہ امریکی طرف ایک گھنٹے میں جواب دے سکتا تھا، ایرانی بعض اوقات ایک ہفتے کی ضرورت محسوس کرتے تھے،” انہوں نے کہا اور دونوں فریقین کو براہِ راست مذاکرات کی ترغیب دینے کا تذکرہ کیا۔
ترک وزیر خارجہ نے اسرائیل کی علاقائی پالیسیوں پر بھی تنقید کی اور انہیں ”عالمی مسئلہ” قرار دیا۔
”اسرائیل خطے میں تباہی چاہتا ہے۔ وہ بعض ممالک پر قبضہ کرنا اور دہشت گردی کو استعمال کرنا چاہتا ہے۔ اس کے اثرات عالمی سلامتی اور معیشت دونوں پر پڑ رہے ہیں۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ اسرائیل کو سفارتی سطح پر بڑھتا ہوا ردِ عمل درپیش ہے۔”
”ہم امید کرتے ہیں کہ یہ سفارتی ردِعمل نتائج دے گا اور ہمارے خطے کے تمام ممالک امن، استحکام اور خوشحالی میں رہیں گے۔”
فیدان نے کہا کہ ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان تنازع نے بین الاقوامی توجہ کو غزہ سے ہٹا دیا ہے، مگر امید ظاہر کی کہ بحران کے نرم پڑنے پر خطّی ممالک دوبارہ غزہ پر توجہ مرکوز کریں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ غزہ میں جنگ بندی مذاکرات کے دوسرے مرحلے کے لیے فریم ورک تک پہنچنے کی کوششیں جاری ہیں جن میں ترکی کی نیشنل انٹیلی جنس آرگنائزیشن (MIT) بھی شامل ہے۔
نیٹو کی جانب رخ کرتے ہوئے، فیدان نے کہا کہ اگلے ماہ انقرہ میں ہونے والے اتحاد کے اجلاس میں متوقع اہم فیصلے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بغیر ممکن نہیں ہوں گے، اور کئی یورپی اتحادیوں کا خیال تھا کہ اجلاس کی میزبانی ترکی ہی کی وجہ سے ٹرمپ کے شریک ہونے کی توقع ہے۔
فیدان نے کہا”کئی یورپی ممالک کہتے ہیں کہ اس حقیقت کی کہ اجلاس ہمارے صدر کی میزبانی میں ترکی میں ہو رہا ہے، صدر ٹرمپ کی شرکت ممکن بننے کی سب سے اہم وجہ ہے،” انہوں نے کہا کہ اگر ہمارے صدر اور اگر ترکی نہ ہوتا تو ٹرمپ شرکت نہ کرتے اور عملی طور پر یہ ظاہر کرتے کہ وہ اجلاس کو اہمیت نہیں دیتے۔
انہوں نے کہا کہ 7-8 جولائی کے اجلاس کی تیاریوں کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے۔
”سب سے اہم مسئلہ یہ ہے کہ نیٹو کے سلسلے میں امریکہ اور یورپ کے نقطۂ نظر کے درمیان باریک فرق کس طرح ظاہر ہوں گے۔ وہاں بہت اہم امور ہیں، اور انہیں ایسے اجلاس میں طے نہیں کیا جا سکتا جس میں امریکی صدر موجود نہ ہوں۔”
فیدان نے یہ بھی کہا کہ ان کی روس میں ملاقاتوں سے ظاہر ہوا کہ دو طرفہ تعلقات یا علاقائی تعاون میں روڑے اٹکانے والے بڑے تنازعات موجود نہیں ہیں اور دونوں ممالک تعاون کو وسعت دینے کے خواہاں ہیں۔ اعلیٰ سطحی دورے جاری ہیں اور مشکل مسائل کے کھل کر زیرِ بحث ہونے کے باوجود تعلقات میں بنیادی تبدیلی نظر نہیں آتی۔
”ہم نے روسیوں کے ساتھ ایک بہت خاص رشتہ استوار کیا ہے۔ جب بھی ہمارے درمیان بہت سنجیدہ اختلافات رہے، ہم نے جانا کہ تعاون اور اعتماد کس طرح قائم کرنا ہے۔ دونوں رہنماؤں کا ایک واضح وژن ہے؛ وہ کچھ اصولوں کے اندر اپنے ممالک کے مفادات کا دفاع کرتے ہیں اور ایک تعمیری نقطۂ نظر اپنانے کے لیے تیار ہیں۔”
روس-یوکرین جنگ کے بارے میں، فیدان نے کہا کہ ماسکو کا موقف غیرمتزلزل رہا۔
”میری روس میں ملاقاتوں کے دوران میں نے محسوس کیا کہ روسی حکام کے خیالات یوکرین کے بارے میں تبدیل نہیں ہوئے۔
وہ کہتے ہیں، ‘ڈونیٹسک کے مسئلے کے حل تک اس کے ہونے کا کوئی امکان نہیں ہے۔’ ”
جنوبی قفقاز کے بارے میں، فیدان نے کہا کہ فریقین نے 3 3 علاقائی پلیٹ فارم کو متحرک کرنے پر اتفاق کیا ہے جس میں ترکی، روس، آذربائیجان، ایران، آرمینیا اور جارجیا شامل ہیں، اور اسے علاقائی تعاون کو مضبوط کرنے کا ایک اہم طریقہ کار قرار دیا۔
”علاقائی ممالک کے طور پر ہمیں مقابلے اور بالا دستی کے تعاقب کے بجائے تعاون کو ترجیح دینی چاہیے۔”
”اسی نقطۂ نظر کے ساتھ ہم اپنی معیشتوں کو مضبوط بنا سکتے ہیں اور جنوبی قفقاز اور وسطی ایشیا میں استحکام بڑھا سکتے
ہیں۔ بالا دستی کے تعاقب کا سلسلہ ختم ہونا چاہیے۔ امن، سکون اور استحکام ہم سب کے مفاد میں ہیں۔ ہمیں اپنے سوچنے کے انداز کو بدلنے کی ضرورت ہے۔”
کچھ ممالک کے مابین مسلسل عدم اعتماد کے باوجود، ترک وزیر خارجہ نے کہا کہ حالیہ بات چیت جو آذربائیجان، ترکی اور جارجیا کے درمیان ہوئی وہ کنیکٹیویٹی پر مرکوز رہی، جس میں مڈل کوریڈور بھی شامل ہے، جو قفقاز اور ترکی کے راستے یورپ اور ایشیا کو جوڑنے والا ایک نقل و حملی راستہ ہے۔
انہوں نے کہا”ہم سمجھتے ہیں کہ اہم اقدامات اٹھائے جا سکتے ہیں،”
آرمینیا کے ساتھ معمول پر لانے کے بارے میں، فیدان نے کہا کہ وزیرِ اعظم نیکول پشینیان کی حکومت نے اہم اقدامات کیے ہیں، جب کہ ترکی نے صدر رجب طیب ایردوآن کی قیادت میں براہِ راست تجارت اور پروازوں سمیت اقدامات آگے بڑھائے ہیں۔
”ہم ضروری شرائط کے پیدا ہوتے ہی معمول پر لانے کے لیے تیار ہیں،”
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کا نیا نقشہ شیئر کر کے اسے ’ٹرمپ اسٹریٹ‘ قرار دیا
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر آبنائے ہرمز کا ایک نیا نقشہ شیئر کرتے ہوئے اسے ’ٹرمپ اسٹریٹ‘ قرار دیا ہے۔ یہ پیش رفت واشنگٹن کی جانب سے ایران کی سات روزہ تجویز مسترد کیے جانے کے فوراً بعد ہوئی، جس کا مقصد تزویراتی اہمیت کی اس آبی گزرگاہ کو دوبارہ کھولنا اور ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات بحال کرنا تھا۔
متعدد امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹرمپ نے ایک بار پھر کہا کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور سوال اٹھایا کہ آیا تہران امریکی مطالبات پر عمل کرے گا۔
امریکی میڈیا نے امریکی حکام کے حوالے سے یہ بھی رپورٹ کیا کہ ٹرمپ نے اپنے معاونین سے کہا ہے کہ وہ نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران کے خلاف نئے حملے شروع کرنے کی توقع رکھتے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق معاملے سے واقف امریکی حکام نے بتایا کہ ایرانی مذاکرات کاروں نے قطر کے ثالثوں کے ذریعے سات روزہ تجویز پیش کی تھی۔
اس تجویز کے تحت ایران آبنائے ہرمز دوبارہ کھولتا اور جوہری مذاکرات بحال کرتا، بشرطیکہ واشنگٹن ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی ختم کر دیتا۔تاہم امریکی حکام نے تہران اور ثالثوں کو بتایا کہ امریکہ ناکہ بندی ختم کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔
ٹرمپ مسلسل خبردار کرتے رہے ہیں کہ ایران کے خلاف دوبارہ فوجی کارروائی کا امکان برقرار ہے، جبکہ واشنگٹن تہران پر اقتصادی اور سفارتی دباؤ بھی جاری رکھے ہوئے ہے۔
دریں اثنا، ایران کے اسلامی پاسداران انقلاب نے تصفیے کی نئی شرائط مسترد کر دی ہیں اور جون میں طے پانے والے ایک ابتدائی معاہدے کی بعض شرائط کی بحالی کا مطالبہ کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاسداران انقلاب نے یہ بھی عندیہ دیا ہے کہ ایران ایک طویل جنگ کے لیے تیار ہے۔
تاہم قطر کے وزیر اعظم اور وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمٰن آل ثانی نے سفارت کاری جاری رہنے کی امید ظاہر کی ہے۔ انہوں نے آبنائے ہرمز کی صورت حال کو ’’بہت مشکل اور چیلنجنگ‘‘ قرار دیتے ہوئے آبی گزرگاہوں کے معاملے میں ’’جوڑ توڑ اور بلیک میلنگ‘‘ ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔انہوں نے کہا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان بالواسطہ مذاکرات میں ’’کچھ مثبت پیش رفت‘‘ ہوئی ہے اور امید ظاہر کی کہ سفارت کاری دونوں فریقوں کو کسی حل تک پہنچا سکتی ہے۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے بھی کہا ہے کہ تہران آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے اور اقوام متحدہ کے جوہری معائنہ کاروں کو ملک میں آنے کی اجازت دینے کے لیے تیار ہے، بشرطیکہ واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی اس کی تجویز قبول کی جائے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
پزشکیان کا آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے اور اقوام متحدہ کے جوہری معائنہ کاروں کو ایران آنے کی اجازت دینے پر آمادگی کا اعلان
نیویارک، ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ تہران آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے اور اقوام متحدہ کے جوہری معائنہ کاروں کو ایران آنے کی اجازت دینے کے لیے تیار ہے۔ ان کے مطابق یہ تجویز امریکہ کے ساتھ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کا حصہ ہے۔
سی بی ایس نیوز کے پروگرام ’فیس دی نیشن‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے پزشکیان نے کہا کہ اگر واشنگٹن تہران کی آبنائے ہرمز کھولنے اور جوہری مذاکرات بحال کرنے کی تازہ تجویز قبول کرتا ہے تو ایران ’’اپنے ہر وعدے کی پابندی کرے گا‘‘۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اس ہفتے تجویز پیش کی تھی کہ آبنائے ہرمز کو سات روز کے اندر دوبارہ کھولا جا سکتا ہے اور وسیع تر جوہری معاہدے کی جانب ابتدائی قدم کے طور پر امریکہ کے ساتھ مذاکرات بھی بحال کیے جا سکتے ہیں۔ یہ تجویز نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر پیش کی گئی تھی، تاہم واشنگٹن نے ابھی تک اس پر کوئی باضابطہ جواب نہیں دیا ہے۔
پزشکیان نے کہا کہ امریکہ کے ساتھ براہ راست ملاقات مشکل ہوگی، کیونکہ دونوں ملکوں کے درمیان پہلے سے ہی ’’بداعتمادی کی فضا‘‘ موجود ہے۔
انہوں نے کہا، ’’جب تک وہ ہمارے خلاف روزانہ عائد کیے جانے والے اقدامات بند نہیں کرتے، ان پر اعتماد کرنا مشکل ہے۔ وہ ہر روز ہم پر پابندیاں بڑھاتے ہیں، ہر روز ہمیں دھمکیاں دیتے ہیں، ہر روز ہم پر حملے کرتے ہیں اور تحریری معاہدوں کی پاسداری بھی نہیں کرتے۔ تو اگر وہ مذاکرات میں شامل ہوتے ہیں تو کیا وہ واقعی اپنے وعدے پورے کریں گے؟‘‘
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے نیویارک کے دورے کے دوران ایرانی حکام سے ملاقات پر آمادگی ظاہر کی تھی، تاہم دونوں رہنماؤں کے درمیان براہ راست ملاقات نہیں ہو سکی۔ اس کے بجائے ثالثوں کے ذریعے بالواسطہ رابطے ہوئے۔
پزشکیان نے کہا کہ ایران جون میں امریکہ کے ساتھ طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کی طرف واپس آنا چاہتا ہے۔ اس سے چند روز قبل ہی انہوں نے کہا تھا کہ ایران واشنگٹن کے سامنے نہیں جھکے گا۔انہوں نے چین کی جانب سے اس معاہدے کو بحال کرنے کی حمایت کا خیرمقدم کرتے ہوئے ایکس پر لکھا کہ ’’ایران بھی اس مؤقف کی حمایت کرتا ہے اور اس مفاہمت کی طرف واپس جانے کی اہمیت پر زور دیتا ہے۔‘‘
اس ہفتے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کی بحالی کے امکانات پیدا ہوئے تھے، تاہم بدھ کو عالمی ادارے سے خطاب میں پزشکیان نے دوٹوک انداز میں کہا تھا کہ ایران امریکہ کے سامنے ’’گھٹنے نہیں ٹیکے گا‘‘۔
ایک روز بعد انہوں نے فاکس نیوز سے کہا کہ ایران جنگ جاری رکھنا ’’نہیں چاہتا‘‘، تاہم اسے ختم کرنا واشنگٹن کے ہاتھ میں ہے۔
ادھر عباس عراقچی نے جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور صدر ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر کے ساتھ بھی ملاقات کی، تاہم ان مذاکرات سے فوری طور پر کوئی پیش رفت سامنے نہیں آئی۔
ٹرمپ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں کہا تھا کہ ایران کے ساتھ معاہدہ کرنے یا اسے ’’تباہ‘‘ کرنے کے حوالے سے انہیں ’’ایک بڑا فیصلہ‘‘ کرنا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ امریکہ کے وسط مدتی انتخابات سے پہلے معاہدہ ہونے کا امکان نہیں ہے۔
آبنائے ہرمز سے متعلق ایران کی تجویز پر واشنگٹن کے جواب کے متوقع وقت کے بارے میں پوچھے جانے پر پزشکیان نے کہا کہ امریکہ کی جانب سے تجویز قبول کیے جانے کے فوراً بعد مذاکرات شروع کیے جا سکتے ہیں۔انہوں نے کہا، ’’اگر یہ پیغام امریکی صدر، ان کے انٹرویو لینے والوں یا مذاکرات میں شامل افراد تک پہنچتا ہے تو جیسے ہی وہ اسے قبول کریں گے، اسی دن سے عمل شروع ہو جائے گا۔‘‘
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ہسپانوی شہر لیئیدا میں عوامی مقامات پر برقع اور نقاب پر پابندی عائد کردی گئی
میڈرڈ، اسپین کے مشرق میں کاتالونیا علاقے کے شہر لیئیدا کے عوامی مقامات پر خواتین کے چہرے ڈھانپنے والی نقاب اور برقع پہننے پر پابندی عائد کر دی گئی۔
لیئیڈا میونسپل کونسل نے “شہری طرزِ عمل اور باہمی زندگی” کے ضوابط کو منظور کیا، جو چہرہ مکمل طور پر ڈھانپنے والے لباس، جیسے برقع یا نقاب کے استعمال پر پابندی عائد کرتا ہے۔
کتالونیا سوشلسٹ پارٹی (پی ایس سی) اور ‘کتالونیا کے لیے اتحاد’ (Junts) کی مقامی حکومت کے حامل لیئیڈا میں منظورہ ضابطے کے تحت برقع اور نقاب پہننے کی خلاف ورزی کرنے والوں کو 400 سے 750 یورو تک جرمانہ کیا جائے گا۔
عبادت گاہیں یا ایسی دوسری جگہیں جہاں اس قسم کے لباس کی اجازت ہو، اس پابندی سے مستثنیٰ رکھی گئی ہیں۔
میئر فیلیکس لاروسا نے کہا کہ یہ فیصلہ لیئیدا میں رہنے والی مسلم برادری کے رہنماؤں سے مشاورت کر کے کیا گیا، جہاں آبادی کا تقریباً 9 فیصد مسلمان ہے۔
برقع اور نقاب پر پابندی کا معاملہ یورپ میں ایک بار پھر اس وقت موضوعِ بحث بنا جب اٹلی کی وزیرِ اعظم جورجیا میلونی نے اس بارے میں بیانات دیے۔
اٹلی کی حکومت نے بھی آج اسکولوں میں برقع اور نقاب جیسے چہرہ ڈھانپنے والے ملبوسات کے استعمال پر پابندی لگانے والا ضابطہ منظور کر لیا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر1 week agoگوریز میں مجوزہ ’تنتر سائلنس‘ ریٹریٹ پر تنازع
-
دنیا1 week agoجنوبی کوریا کا آبنائے ہرمز میں جنگی کردار سنبھالنے سے انکار ، جنگی مقاصد کی تعنیاتی نہیں ہو گی
-
جموں و کشمیر1 week agoاپوزیشن لیڈر سنیل شرما کا جموں و کشمیر اسمبلی تحلیل کرنے کا مطالبہ
-
دنیا1 week agoباب المندب سے بحری جہازوں کی محفوظ آمدورفت کے لیے اٹلی جنگی بحری جہاز تعینات کرے گا
-
دنیا1 week agoایران میں جنگ چھڑنے کے بعد حکومت کے حق میں بڑی ترین ریلی، لاکھوں ایرانی شہری یکجا ہوئے
-
دنیا1 week agoامریکی ویزا سے انکار کے بعد اقوام متحدہ نے فلسطینی صدر عباس کو ویڈیو خطاب کی اجازت دی
-
دنیا1 week agoامریکہ کی سعودی عرب کو 48 ایف-35 طیارے فروخت کرنے کی ممکنہ منظوری
-
دنیا1 week agoایرانی وزیر خارجہ عراقچی کا بین الاقوامی قانون کے بلاامتیاز نفاذ پر زور
-
دنیا5 days agoمیں پورے ایران کو ہوا میں اڑا سکتا ہوں:ٹرمپ
-
جموں و کشمیر1 week agoہائی کورٹ نے معزول حضرت بل امام کی عرضی پر نوٹس جاری کیا، 2024 کی عرضداشت پر غور کی ہدایت
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں میں سالگرہ کی تقریب کے دوران 35 سالہ شخص قتل، 2 گرفتار
-
جموں و کشمیر1 week agoنو قائم شدہ جے کے فور سی متاثرین پر مرکوز طریقہ کار اختیار کرے گا
