دنیا
امریکہ اور جنوبی کوریا کا مشترکہ فوجی مشقوں کا دورانیہ کم کرنے کا فیصلہ: رپورٹ
سیول، جنوبی کوریا اور امریکہ نے جاری الچی فریڈم شیلڈ (یوایف ایس) مشترکہ فوجی مشقوں کا دورانیہ 11 دن سے گھٹا کر پانچ دن کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
جنوبی کوریا کے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف (جے سی ایس) کے حوالے سے کے بی ایس براڈکاسٹر نے بتایا کہ یہ فیصلہ امریکی فریق کی تجاویز پر کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی، فیلڈ ٹریننگ مشقوں کی تعداد بھی نصف کر دی جائے گی۔ پیر سے شروع ہونے والی یہ فوجی مشقیں پہلے 27 اگست تک جاری رہنے والی تھیں۔ جے سی ایس نے بتایا کہ مشترکہ فیلڈ ٹریننگ ایکسرسائز (ایف ٹی ایکس) کی مدت میں بھی جزوی طور پر کمی کا فیصلہ کیا گیا ہے اور دونوں فریق فی الحال اس کی تفصیلی ترتیب پر ہم آہنگی پیدا کر رہے ہیں۔
براڈکاسٹر کے مطابق اس کٹوتی کا اثر زیادہ تر مجوزہ فیلڈ مشقوں پر پڑے گا۔ رواں سال پہلے ہی ان کی تعداد 17 سے گھٹا کر 14 کر دی گئی تھی۔ اب 14 مجوزہ مشترکہ فیلڈ مشقوں میں سے آدھے سے زیادہ کے منسوخ ہونے کا امکان ہے۔ جے سی ایس نے یہ بھی بتایا کہ مشترکہ کمان جنگی وقت کی کمان کے دو مراکز— سی پی ٹیگو اور کیمپ ہمفریز—کا استعمال کرتے ہوئے مشقیں کر رہی ہے۔ براڈکاسٹر کے مطابق، یوایف سی کے دوران عموماً مشترکہ کمان کا ہیڈ کوارٹر صرف سی پی ٹیگو میں ہوتا تھا، لیکن اس بار امریکی جانب سے کیمپ ہمفریز کو بھی استعمال کرنے پر زور دیا گیا ہے۔
براڈکاسٹر نے مشقوں میں کٹوتی کے فیصلے کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ حکم سے جوڑتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے امریکہ-جنوبی کوریا کی مشترکہ فوجی مشقوں کی سطح کرم کرنے کی ہدایت دی ہے۔
گزشتہ 16 اگست کو مسٹر ٹرمپ نے سوشل میڈیا ‘ٹروتھ’ پر کہا تھا کہ شمالی کوریا کے لیڈر کم جونگ ان کے ساتھ ان کے “بہت اچھے تعلقات” ہیں اور انہیں جنوبی کوریا کے ساتھ مشترکہ فوجی مشقوں میں حصہ لینے کے امریکہ کے دیرینہ معاہدے پر اعتراض ہے۔ امریکی صدر نے امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیٹھ کو دونوں ممالک کی مشترکہ فوجی مشقوں کی سطح کو کافی حد تک کم کرنے کی ہدایت کی ہے۔
یواین آئی۔الف الف
دنیا
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر قالیباف عراق کا دورہ کریں گے
تہران، ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقری قالیباف بدھ کو ایک اعلیٰ سطحی پارلیمانی وفد کے ساتھ عراق کا دورہ کریں گے۔
وہ وہاں اعلیٰ عراقی حکام سے بات چیت کریں گے۔ توقع ہے کہ مذاکرات میں دو طرفہ تعلقات، سرحدی سلامتی، انسداد دہشت گردی کے اقدامات اور مغربی ایشیا میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان اقتصادی تعاون پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔
ایران کے سرکاری میڈیا نے کہا کہ وفد کا مقصد “باہمی تعلقات کو مضبوط بنانا، سرحدی حفاظت کو وسعت دینا، انسداد دہشت گردی کی کوششیں، اقتصادی تعاون اور دونوں ممالک کے درمیان معاہدوں پر عمل درآمد میں آگے بڑھنا ہے۔”
ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر بی کے مطابق، مذاکرات میں “مغربی ایشیا میں استحکام اور سلامتی کو فروغ دینے کے لیے مشترکہ اقدامات” پر بھی بات کی جائے گی۔ مسٹر قالیباف کا دورہ خطے کے لیے ایک حساس وقت پر آیا ہے۔ پیر کے روز، امریکہ ایران روڈ میپ معاہدہ بغیر کسی قرارداد کے ختم ہو گیا، جس سے ایران اور امریکہ کے درمیان سفارتی کوششوں میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہو گئی۔ مسٹر قالیباف نے فروری میں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ شروع کرنے کے بعد سے ایران کی سفارتی کوششوں میں کلیدی کردار ادا کیا ہے، مذاکرات کے کئی دور میں چیف مذاکرات کار کے طور پر خدمات انجام دیں۔ عراق کا یہ دورہ اس لیے اہم سمجھا جاتا ہے کیونکہ عراق ایران، امریکہ اور خطے کے دیگر ممالک کے درمیان جاری بڑے تنازع کو سنبھالتے ہوئے اپنی سلامتی اور سیاسی استحکام کو برقرار رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔
توقع ہے کہ ایرانی وفد کی عراقی حکام کے ساتھ بات چیت میں سرحدی سلامتی اور انسداد دہشت گردی کے تعاون کے ساتھ ساتھ موجودہ باہمی معاہدوں پر عمل درآمد اور اقتصادی تعلقات کو فروغ دینے کا احاطہ کیا جائے گا۔ یہ دورہ ایران اور عراق کے نیم خودمختار کردستان علاقے کے درمیان حالیہ تنازع کے بعد ہوا ہے۔ کردستان کی علاقائی حکومت کے وزیر اعظم مسرور بارزانی نے پیر کو ایران پر الزام عائد کیا کہ اس نے ان کے دفتر اور کرد انٹیلی جنس ایجنسی کے سربراہ کی رہائش گاہ پر ڈرون حملے کیے ہیں۔
ایران نے اس الزام کی تردید کی اور کہا کہ یہ واقعہ ایک “فالس فلیگ” آپریشن ہو سکتا ہے (الزام کسی اور پر ڈالنے کی کارروائی)۔
یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب آبنائے ہرمز شدید دباؤ کا شکار ہے اور امریکہ اور ایران کے وسیع تر تنازعے کی وجہ سے تزویراتی آبی گزرگاہ کے ذریعے تجارت کو شدید طور پر روک دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ، ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل باغائی نے کہا کہ ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز کے ذریعے جہاز رانی کے نظام پر بات چیت “تمام سنجیدگی کے ساتھ” جاری ہے، حالانکہ انھوں نے مزید کہا کہ “متعدد فریقوں کی جانب سے اس عمل کو متاثر کرنے کی کوششوں کی وجہ سے معاہدے تک پہنچنے میں تاخیر ہوئی ہے۔”
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
اسرائیل غزہ میں ٹارگٹ کلنگ جاری رکھے گا:نیتن یاہو
تل ابیب، اسرائیل کے ٹی وی چینل ‘کانال 15’ نے رپورٹ دی ہے کہ نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اور داماد جیرڈ کشنر کو بتایا ہے کہ اسرائیل محصور غزہ میں ٹارگٹ کلنگ کا سلسلہ جاری رکھے گا تاہم، کشنر نے اس قتل عام کی مخالفت کی ہے۔
گزشتہ روز اس معاملے سے باخبر ایک ذرائع کے حوالے سے کانال 15 نے بتایا کہ نیتن یاہو اور کشنر کے درمیان ٹارگٹڈ آپریشنز جاری رکھنے کے حوالے سے کوئی معاہدہ طے نہیں پا سکا۔
ذرائع کے مطابق،نیتن یاہو نے واضح کیا کہ وہ ان ہلاکتوں کو جاری رکھیں گے جبکہ کشنر نے اس پر اپنی مخالفت کا اظہار کیا۔
نیتن یاہو نے پیر کے روز اسرائیل میں ٹرمپ کے خصوصی ایلچی کشنر اور امن کمیٹی کے غزہ کے لیے اعلیٰ نمائندے نکولائی ملاڈینوف سے ملاقات کی تھی۔
کشنر اتوار کی شام مصر سے اسرائیل پہنچے تھے، انہوں نے صدر عبدالفتاح السیسی اور فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس کے سیاسی بیورو کے سربراہ خلیل الحیہ کی قیادت میں وفود سے ملاقاتیں کی تھیں۔
نیتن یاہو کا مطالبہ ہے کہ اسرائیل غزہ سے اپنی افواج کا انخلا شروع کرنے سے پہلے حماس کو مکمل طور پر غیر مسلح ہونا چاہیے، جبکہ حماس کا کہنا ہے کہ وہ اپنے ہتھیار اسی صورت میں سپرد کرنے کے لیے تیار ہے اگر اسرائیل خطے سے مرحلہ وار اور منظم طریقے سے پیچھے ہٹے۔
نیتن یاہو نے اس سے قبل غزہ کے لیے 15 نکاتی منصوبے کو مسترد کر دیا تھا اور امن کمیٹی کی جانب سے 31 جولائی کو جاری کردہ روڈ میپ کے باوجود جس میں حماس کو غیر مسلح کرنے اور اسرائیل کے انخلا کو متوازی اور مرحلہ وار آگے بڑھانے کی تجویز دی گئی تھی اس بات پر اصرار کیا تھا کہ حماس پہلے ہتھیار ڈالے۔
ثالثی کرنے والے ممالک 10 اکتوبر 2025 کو نافذ العمل ہونے والے جنگ بندی معاہدے کے نفاذ کو اگلے مرحلے تک لے جانے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
جنگ بندی کے باوجود اسرائیل اپنی خلاف ورزیاں جاری رکھے ہوئے ہے؛ ان خلاف ورزیوں میں اب تک کم از کم 1,262 فلسطینی ہلاک اور 4,168 زخمی ہو چکے ہیں۔
اکتوبر 2023 سے لے کر اب تک، اسرائیل نے اس محصور علاقے میں 73,000 سے زائد فلسطینیوں کو شہید اور 174,000 سے زائد کو زخمی کیا ہے، جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے ہیں۔
اسرائیل نے اس خطے کے ایک بڑے حصے کو ملبے کے ڈھیر میں تبدیل کر دیا ہے اور یہاں کی پوری آبادی کو بے گھر کر دیا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
آبنائے ہرمز میں نامعلوم پروجیکٹائل کی زد میں آنے سے بحری جہاز متاثر، عملے کا ایک رکن زخمی
دبئی، آبنائے ہرمز سے باہر کی جانب سفر کرنے والے ایک بحری جہاز کو منگل کے روز نامعلوم پروجیکٹائل نے نشانہ بنایا، جس سے اس کا انجن روم متاثر ہوا اور عملے کا ایک رکن زخمی ہوگیا۔
برطانیہ کے میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز (یو کے ایم ٹی او) مرکز نے یہ اطلاع دی۔ یو کے ایم ٹی او نے ایک بیان میں کہا، ’’کمپنی کے سکیورٹی افسر نے اطلاع دی ہے کہ آبنائے ہرمز سے باہر کی جانب سفر کے دوران بحری جہاز نامعلوم پروجیکٹائل کی زد میں آیا۔‘‘ بیان کے مطابق حملے کے نتیجے میں انجن روم کو نقصان پہنچا اور عملے کا ایک رکن متاثر ہوا۔ باقی عملے کے ارکان کو عمانی کوسٹ گارڈ کی جانب سے امداد فراہم کی جا رہی تھی۔
یو کے ایم ٹی او نے کہا کہ واقعے کے نتیجے میں ماحول پر کسی اثر کی اطلاع نہیں ہے، جبکہ حکام واقعے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔ ادارے نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کو محتاط رہنے اور کسی بھی مشتبہ سرگرمی کی اطلاع دینے کا مشورہ دیا ہے۔
یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کے باعث اس اہم آبی گزرگاہ کے گرد کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے، جس سے تجارتی جہازرانی اور عالمی توانائی کی رسد میں خلل کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ آبنائے ہرمز، جہاں سے دنیا کی ایک بڑی مقدار میں خام تیل اور مائع قدرتی گیس کی ترسیل ہوتی ہے، تنازع کے دوران کشیدگی کا ایک اہم مرکز بن چکی ہے۔
بحری ٹریفک سے متعلق اعداد و شمار کے مطابق اس آبی گزرگاہ سے گزرنے والی جہازرانی میں نمایاں کمی آئی ہے اور گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران صرف چند تجارتی بحری جہازوں کے وہاں سے گزرنے کی اطلاع ملی ہے۔
یہ واقعہ آبنائے ہرمز میں آزادانہ جہازرانی برقرار رکھنے کے لیے جاری سفارتی کوششوں کے دوران بھی پیش آیا ہے۔ عمان نے آبی گزرگاہ کے ذریعے جہازرانی بحال رکھنے کے معاملے پر واشنگٹن اور تہران کے درمیان مذاکرات میں کردار ادا کیا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عمان کو بمباری کی دھمکی بھی دی تھی، بظاہر اس لیے کہ عمان ایران کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے آبنائے ہرمز سے جہازرانی بحال کرانے کی کوشش کر رہا تھا۔ آبنائے ہرمز سے جہازرانی کی بحالی اس مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کی ایک شرط بھی تھی، جسے ٹرمپ نے ماضی میں مشرق وسطیٰ کا ’’اب تک کا سب سے عظیم امن معاہدہ‘‘ قرار دیا تھا۔ حکام نے ابھی تک یہ شناخت نہیں کی ہے کہ بحری جہاز کو کس قسم کے پروجیکٹائل نے نشانہ بنایا اور نہ ہی یہ بتایا ہے کہ اس واقعے کا ذمہ دار کون ہوسکتا ہے۔ بحری جہاز کی قومیت اور زخمی ہونے والے عملے کے رکن کی حالت کے بارے میں بھی معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر7 days agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
جموں و کشمیر1 week agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا1 week agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا1 week agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا1 week agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
ہندوستان6 days agoملک کی اجتماعی یادداشت کے محافظ اور مستقبل کے تصور کے خالق ہیں فنکار: مرمو
-
دنیا1 week agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا1 week agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا1 week agoموساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
-
دنیا1 week agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا6 days agoلبنان میں ہماری فوج تعینات رہے گی:اسرائیل کاتز
