دنیا
ٹرمپ کی بار بار ’بہت جلد‘ جنگ ختم ہونے کی یقین دہانیوں کے باوجود ایران جنگ چھ ماہ کے قریب پہنچ گئی
واشنگٹن/تہران، ایران جنگ اگلے ہفتے چھ ماہ کا عرصہ مکمل کرنے کے قریب پہنچ رہی ہے۔ اس دوران مسلسل کشیدگی میں اضافے اور امریکی فوج پر بڑھتے دباؤ کے باوجود واشنگٹن اور تہران دونوں اس امید پر قائم ہیں کہ وہ ایک دوسرے کے مقابلے میں زیادہ دیر تک برقرار رہ سکتے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بارہا وعدہ کیا تھا کہ جنگ مختصر اور فیصلہ کن ہوگی اور یہ ’’بہت جلد‘‘ ختم ہو جائے گی۔تاہم جنگ کے طویل ہونے کے باعث قومی سلامتی سے متعلق ایسے معاملات جو پہلے صرف ماہرین تک محدود تھے، اب عوامی بحث کا حصہ بن گئے ہیں۔ ان میں گولہ بارود کے ذخائر، دفاعی معاہدے اور سمندر میں فوجی بحری جہازوں کو دوبارہ رسد فراہم کرنے جیسے معاملات شامل ہیں۔ یہ رپورٹ ایکسیوس نے شائع کی ہے۔
امریکی بحریہ خاص طور پر توجہ کا مرکز بن گئی ہے کیونکہ طویل عرصے تک جاری رہنے والی تعیناتیوں سے جنگی جہازوں، ملاحوں، میرینز اور ان کے خاندانوں پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔
ٹرمپ نے رواں ہفتے کہا کہ وہ امریکہ کی جانب سے آبنائے ہرمز پر قبضہ چاہتے ہیں اور انہوں نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک نقشہ بھی پوسٹ کیا جس میں اس اہم آبی گزرگاہ کو ’’امریکی علاقہ‘‘ قرار دیا گیا۔
انہوں نے عمان کو ’’بری طرح بمباری‘‘ کرنے کی دھمکی بھی دی، حالانکہ خلیجی ملک امریکہ سے ہتھیاروں کی خریداری کرنے والے اہم ممالک میں شامل ہے۔
امریکی بحریہ پر پڑنے والا دباؤ بھی اب زیادہ نمایاں ہو گیا ہے۔ بحرالکاہل میں تعینات امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس جارج واشنگٹن کو مشرق وسطیٰ بھیجا جا رہا ہے تاکہ یو ایس ایس ابراہم لنکن کی جگہ لے سکے، جو 250 سے زائد دن سمندر میں گزار چکا ہے۔
لنکن کی طویل تعیناتی اس وقت مزید توجہ کا مرکز بنی جب رپورٹس سامنے آئیں کہ شدید ذہنی دباؤ کا سامنا کرنے والے کئی ملاحوں نے جہاز سے سمندر میں چھلانگ لگانے کی کوشش کی۔
دوسری جانب پینٹاگون کو جنگ سے متعلق معلومات فراہم کرنے کے طریقہ کار پر بھی تنقید کا سامنا ہے۔
محکمہ دفاع نے کئی ماہ سے کوئی باقاعدہ پریس بریفنگ نہیں کی اور اس پر آن لائن ہلاکتوں کے ریکارڈ کے ذریعے امریکی فوجی اہلکاروں کی ہلاکتوں سے متعلق معلومات چھپانے کا الزام بھی عائد کیا گیا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایران نے امریکہ کے ساتھ ایک اور عارضی جنگ بندی مسترد کردی، ’’مستقل جنگ بندی‘‘ کا مطالبہ
تہران، ایرانی حکام کے مطابق ایران نے امریکہ کے ساتھ ایک اور عارضی جنگ بندی کی تجویز مسترد کرتے ہوئے جنگ کے ’’مستقل خاتمے‘‘ کا مطالبہ کیا ہے۔ 60 روزہ عبوری معاہدے کی مدت ختم ہونے کے بعد سفارتی کوششیں بدستور تعطل کا شکار ہیں۔ یہ بات گلف نیوز نے اپنی رپورٹ میں کہی۔
اسلام آباد مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے 17 جون کو دستخط کیے تھے۔ اس معاہدے میں فوجی کارروائیوں کو فوری طور پر روکنے اور 60 روزہ مذاکراتی مدت شروع کرنے پر اتفاق کیا گیا تھا، جس کے دوران ایران کے جوہری پروگرام اور پابندیوں سمیت دیگر اہم امور پر بات چیت کرکے حتمی تصفیے کی کوشش کی جانی تھی۔
اس معاہدے کی مدت 17 اگست کو کسی پیش رفت یا توسیع کے معاہدے کے بغیر ختم ہوگئی۔ دونوں فریق ایک دوسرے پر معاہدے کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کرچکے ہیں۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے معاہدے کو ’’جنگ کا خاتمہ، جنگ بندی نہیں‘‘ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ تہران نے ابھی یہ فیصلہ نہیں کیا کہ آیا امریکہ کے ساتھ براہ راست مذاکرات دوبارہ شروع کیے جائیں یا نہیں۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر اور اعلیٰ مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے کہا کہ آبنائے ہرمز اس وقت تک بند رہے گی جب تک واشنگٹن ایرانی بندرگاہوں کی اپنی بحری ناکہ بندی ختم نہیں کرتا، تیل پر عائد پابندیاں نہیں ہٹاتا، منجمد ایرانی اثاثے جاری نہیں کرتا اور فوجی دھمکیاں ختم نہیں کرتا۔انہوں نے اس امکان کو بھی مسترد کردیا کہ امریکہ کا بڑھتا ہوا دباؤ تہران کو ان شرائط کو قبول کرنے پر مجبور کرسکتا ہے جو مفاہمتی یادداشت میں شامل نہیں تھیں۔
قالیباف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ واشنگٹن بظاہر یہ سمجھتا ہے کہ ’’ایران پر مزید دباؤ ڈالنے سے ایسی رعایتیں حاصل کی جاسکتی ہیں جو کبھی معاہدے کا حصہ ہی نہیں تھیں۔‘‘
انہوں نے امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ اور وزیر جنگ پیٹ ہیگستھ کی اس نوعیت کا نتیجہ حاصل کرنے کی صلاحیت کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ دونوں عہدیدار ’’اپنی صلاحیت سے کہیں باہر‘‘ کام کر رہے ہیں۔
قالیباف نے مزید کہا، ’’اس مسخرہ ٹیم کے کسی کرتب کے ذریعے آپ کے پیدا کردہ بحران کو حل کرنے کا انتظار کرنا بند کریں۔‘‘
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کے روز کہا کہ ایران کے ساتھ ’’کوئی مذاکرات یا بات چیت جاری نہیں، نہ ہی طے شدہ ہے۔‘‘ انہوں نے مؤقف برقرار رکھا کہ امریکی بحری ناکہ بندی جاری ہے اور آبنائے ہرمز ’’کھلی‘‘ ہے، جو تہران کے مؤقف سے براہ راست متصادم ہے۔
عبوری معاہدے پر دستخط کے فوراً بعد ہی اس میں دراڑیں پڑنا شروع ہوگئی تھیں۔ ٹرمپ نے جولائی کے اوائل میں عمان کے راستے سفر کرنے والے بحری جہازوں پر حملوں کے بعد معاہدے کو ’’ختم‘‘ قرار دے دیا تھا۔ واشنگٹن نے ان حملوں کا الزام ایرانی پاسداران انقلاب (آئی آر جی سی) پر عائد کیا تھا، جبکہ تہران نے چند روز بعد معاہدے کو معطل کردیا۔
اس کے بعد سے لڑائی نسبتاً کم شدت کے ساتھ جاری ہے، تاہم آبنائے ہرمز اور باب المندب کے راستے بحری آمدورفت میں رکاوٹوں کے باعث عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے اور بڑے ٹینکر آپریٹرز نے ان دونوں آبی راستوں سے گریز شروع کردیا ہے۔
دونوں ممالک کے موجودہ مؤقف نے سفارت کاری کے لیے گنجائش انتہائی محدود کردی ہے۔ تہران ایک اور عارضی وقفہ قبول کرنے پر آمادہ نظر نہیں آتا، کیونکہ اسے خدشہ ہے کہ اس سے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو دوبارہ منظم ہونے کا وقت مل سکتا ہے۔ دوسری جانب واشنگٹن مستقل تصفیے کی جانب بڑھنے سے قبل سخت تر معاشی دباؤ اور مسلسل ناکہ بندی کے ذریعے اپنی سودے بازی کی پوزیشن مضبوط کرنا چاہتا ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ کے حالیہ بیانات میں تہران کے خلاف ’’زیادہ سے زیادہ دباؤ‘‘ کی پالیسی پر مسلسل زور دیا گیا ہے، جبکہ ایران پر مالی اور تزویراتی دباؤ ڈالنے کے لیے پابندیاں اب بھی ایک مرکزی ذریعہ ہیں۔
یہ تعطل عالمی توانائی کے شعبے پر بھی سنگین اثرات مرتب کررہا ہے۔ بدھ کی صبح برینٹ خام تیل کی قیمت 91.02 ڈالر فی بیرل پر بند ہوئی، جو تقریباً ایک ماہ کی بلند ترین سطح ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
اگر امریکہ نے جوہری ہتھیار استعمال کیے تو ہم منہ توڑ جواب دیں گے: ایرانی رکن پارلیمنٹ
تہران، ایک ایرانی قانون ساز نے بدھ کے روز کہا کہ اگر امریکہ ایران کے خلاف جوہری ہتھیار استعمال کرتا ہے تو اسلامی جمہوریہ ایران پر ممکنہ جوہری حملے کی خبروں کا حوالہ دیتے ہوئے اس کا جواب دے گا۔
یہ بات ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے رکن فدا حسین مالکی نے ایرانی نیوز میڈیم ‘خبر آن لائن’ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہی۔ امریکہ کی جانب سے ایران پر جوہری حملے کے امکان کے بارے میں پوچھے جانے پر، مسٹر مالکی نے کہا، “میں (امریکی صدر ڈونلڈ) ٹرمپ کی جانب سے کسی غیر ذمہ دارانہ اقدام کے امکان کو مسترد نہیں کرتا، لیکن مجھے نہیں لگتا کہ وہ ایسا کرنے کی ہمت کریں گے، کیونکہ اس طرح کی کارروائی سے دنیا ایک خطرناک جنگ میں ڈوب سکتی ہے۔”
انہوں نے کہا کہ اگر ایسی کارروائی کی گئی تو اسلامی جمہوریہ ایران اس کا جواب دے گا اور اس کا ردعمل ایران کے خلاف استعمال ہونے والے ہتھیاروں کے مطابق ہوگا۔
یہ پوچھے جانے پر کہ کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر امریکہ جوہری ہتھیار استعمال کرتا ہے تو ایران استعمال کرے گا، مالکی نے کہا، “امریکہ جو بھی استعمال کرے گا، ایران جواب دے گا۔” مسٹر مالکی نے واضح طور پر یہ نہیں کہا کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار ہیں۔ انہوں نے امریکہ کو مزید کسی بھی فوجی کارروائی کے خلاف خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے پاس “بہت سے آپشنز” ہیں اور کسی بھی امریکی اقدام کا “اسی سطح یا اس سے بھی زیادہ” جواب دیا جا سکتا ہے۔
مسٹر مالکی نے کہا کہ “ایران کے بہت سے ہتھیاروں اور فوجی صلاحیتوں کے بارے میں ابھی تک انکشاف نہیں کیا گیا ہے۔”
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران ایک دفاعی موقف سے فعال اور جارحانہ مزاحمت کی پوزیشن میں آگیا ہے۔ ایران اور امریکہ کے درمیان تعطل کا شکار بات چیت کا ذکر کرتے ہوئے، مسٹر مالکی نے مسٹر ٹرمپ پر دونوں فریقوں کے درمیان مفاہمت کی یادداشت کے تحت کئے گئے وعدوں کو پورا نہ کرنے کا الزام لگایا۔
انہوں نے کہا کہ ایران اس وقت تک مذاکرات کی میز پر نہیں آئے گا جب تک امریکہ اپنے سابقہ وعدوں کو پورا نہیں کرتا، انہوں نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز اور دیگر مسائل حل طلب رہیں گے۔ مسٹر مالکی نے کہا کہ عمان کے ساتھ یران کی بات چیت ایک الگ دو طرفہ عمل ہے۔ ایران نے ان مذاکرات میں امریکہ کی شمولیت کو مسترد کردیا ہے۔ ایران اور امریکہ نے جون کے وسط میں پاکستان کی ثالثی میں ایک مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے تھے۔ اس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان تنازعات کو ختم کرنا اور حتمی تصفیہ کے لیے مذاکرات کی راہ ہموار کرنا تھا۔ آبنائے ہرمز سے متعلق مسائل سمیت یادداشت پر عمل درآمد پر اختلافات کے درمیان مذاکرات تعطل کا شکار ہیں۔
تازہ ترین کشیدگی 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر مشترکہ حملوں کے بعد سامنے آئی۔ ایران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے پورے خطے میں امریکی اور اسرائیلی اڈوں اور امریکی اثاثوں کو نشانہ بنایا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
امریکی ریفائنریاں وینزویلا کی نصف تیل پیداوار وصول کر رہی ہیں: امریکی عہدیدار
واشنگٹن، امریکی عہدیدار کے مطابق وینزویلا اپنی یومیہ 12 لاکھ 50 ہزار بیرل تیل کی پیداوار میں سے 5 لاکھ سے زائد بیرل خلیجِ میکسیکو کے ساحلی علاقوں میں قائم ریفائنریوں کو بھیج رہا ہے۔
ایک اعلیٰ امریکی عہدیدار کے مطابق وینزویلا اپنی تیل کی پیداوار کا تقریباً نصف حصہ امریکہ برآمد کر رہا ہے۔ یہ پیش رفت واشنگٹن کی جانب سے صدر نکولس مادورو کو حراست میں لیے جانے اور کراکس میں عبوری حکومت قائم کیے جانے کے سات ماہ بعد سامنے آئی ہے۔
امریکی محکمہ توانائی کے انڈر سیکریٹری کائل ہاوسٹویٹ نے منگل کو ہیوسٹن میں تیل کی صنعت سے متعلق ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وینزویلا سے اب روزانہ 5 لاکھ سے زائد بیرل تیل امریکہ پہنچ رہا ہے، جبکہ ملک کی مجموعی یومیہ پیداوار تقریباً 12 لاکھ 50 ہزار بیرل ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ تیل ایسی ریفائنریوں کو بھیجا جا رہا ہے جو ’’خاص طور پر اسی قسم کے خام تیل کو پراسیس کرنے کے لیے بنائی گئی ہیں‘‘۔
امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے مطابق وینزویلا کے پاس دنیا کے سب سے بڑے ثابت شدہ تیل کے ذخائر موجود ہیں، جن کا تخمینہ 303 ارب بیرل ہے۔ یہ عالمی ذخائر کا تقریباً 17 فیصد بنتے ہیں۔
تاہم کئی دہائیوں تک سرمایہ کاری کی کمی اور امریکی پابندیوں کے باعث وینزویلا کی پیداوار عالمی پیداوار کے تقریباً ایک فیصد تک محدود ہو گئی تھی۔ 2025 کے اختتام پر ملک میں روزانہ تقریباً 10 لاکھ بیرل تیل پیدا ہو رہا تھا، جس میں سے تقریباً ایک لاکھ 35 ہزار بیرل یومیہ امریکہ بھیجا جاتا تھا۔
وینزویلا کا خام تیل بھاری اور زیادہ سلفر والا ہوتا ہے، جسے پراسیس کرنے کے لیے امریکی خلیجی ساحل کی ریفائنریاں خاص طور پر تیار کی گئی ہیں۔ اس لیے وینزویلا سے تیل کی درآمد دوبارہ شروع ہونا ان ریفائنریوں کے لیے براہ راست فائدہ مند ہے۔
ہاوسٹویٹ نے کہا کہ واشنگٹن وینزویلا میں تیل کی پیداوار بڑھانے میں بھی مدد کر رہا ہے۔ ان کے مطابق امریکہ روزانہ ایک لاکھ بیرل سے زائد نیفتھا وینزویلا بھیج رہا ہے، جسے وہاں بھاری خام تیل کے ساتھ ملایا جاتا ہے۔انہوں نے اس انتظام کو ’’ایک خوبصورت توانائی شراکت داری‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’’دونوں جانب تجارت سے حقیقی قدر پیدا ہو رہی ہے‘‘۔
اسی تقریب میں وینزویلا کے حکام نے کہا کہ ملک اپنی تیل کی پیداوار میں مزید اضافہ کرنے کی امید رکھتا ہے۔
سرکاری تیل کمپنی پی ڈی وی ایس اے کے نائب صدر جووانی مارٹینیز نے کہا کہ اگست کے اختتام تک وینزویلا کی خام تیل کی پیداوار 12 لاکھ 45 ہزار بیرل یومیہ تک پہنچ جائے گی، جبکہ رواں سال تیل کی برآمدات میں 19.7 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ رواں سال اب تک ایندھن کی پیداوار میں 12.9 فیصد اضافہ ہوا ہے، جبکہ ملک میں مقامی طور پر دستیاب ایندھن میں 5.4 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر1 week agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
جموں و کشمیر1 week agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا1 week agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
ہندوستان6 days agoملک کی اجتماعی یادداشت کے محافظ اور مستقبل کے تصور کے خالق ہیں فنکار: مرمو
-
دنیا1 week agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
ہندوستان6 days agoکھرگے کی توہین پر پرینکا نے جتایا سخت اعتراض، مودی سے مانگا جواب
-
دنیا1 week agoموساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
-
دنیا1 week agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا1 week agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
ہندوستان6 days agoتبدیلی، اتحاد، آئین کے تحفظ کے لیے سیاسی طاقت ضروری: کھرگے
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران سے معاوضے کا مطالبہ، آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا6 days agoلبنان میں ہماری فوج تعینات رہے گی:اسرائیل کاتز
