جموں و کشمیر
لداخ میں آب پاشی اور آبی تحفظ کے لیے روزانہ 9 کروڑ لیٹر برفانی پانی استعمال کیا جانے لگا
سری نگر، آبی اور زرعی تحفظ کی سمت ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے لداخ اپنے پگھلتے ہوئے گلیشیئرز کے پانی کو کھیتوں کے لیے زندگی کی لکیر میں تبدیل کر رہا ہے۔
روزانہ تقریباً 9 کروڑ لیٹر گلیشیائی پانی، جو پہلے بغیر استعمال کے دریائے سندھ میں بہہ جاتا تھا، اب ہزاروں ایکڑ اراضی کی آب پاشی کے لیے استعمال کیا جارہا ہے۔
یہ پہل لداخ کے لیفٹیننٹ گورنر ونائی کمار سکسینہ کی قیادت میں شروع کی گئی ہے۔ اس کے تحت لیہہ کے اسٹوگ گاؤں نالہ سے آنے والے گلیشیائی پگھلے پانی کو ایگو-پھے آب پاشی نہر میں منتقل کیا جارہا ہے۔ اس منصوبے سے تقریباً 12 گاؤں مستفید ہوں گے اور ایک ہزار ایکڑ سے زائد ایسی اراضی کو آب پاشی کی سہولت ملے گی جو پانی کی کمی کے باعث پہلے بنجر اور خشک پڑی رہتی تھی۔
حکام کے مطابق اس اہم منصوبے میں سادہ زمینی کام کے ذریعے گلیشیائی پانی کے بہاؤ کو موڑ کر استعمال میں لایا جارہا ہے اور اس پر کسی بڑے سرمایہ جاتی اخراجات کی ضرورت نہیں پڑی۔ اسے لداخ کو سرسبز، آبی طور پر محفوظ اور خود کفیل خطے میں تبدیل کرنے کی سمت ایک تاریخی قدم قرار دیا جارہا ہے۔
اگرچہ لداخ گلیشیئرز اور برف پگھلنے سے حاصل ہونے والے پانی کے وسیع ذخائر سے مالا مال ہے، لیکن اس کی بڑی قابلِ کاشت اراضی کو تاریخی طور پر آب پاشی کے شدید بحران کا سامنا رہا ہے۔ بڑی مقدار میں دستیاب لیکن غیر استعمال شدہ پانی اور خشک زرعی زمینوں کے درمیان یہ عدم توازن طویل عرصے سے دیہی معیشت اور روزگار کی راہ میں رکاوٹ بنا ہوا تھا۔
اس اہم مسئلے کو محسوس کرتے ہوئے لیفٹیننٹ گورنر سکسینہ نے مختلف دیہات کے دوروں کے دوران ایسے مقامات کی نشاندہی کے لیے ایک جامع اور منظم مہم شروع کی جہاں گلیشیئر کا بڑی مقدار میں پانی دریائے سندھ کی طرف بہہ جاتا ہے۔
اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ گلیشیئر اور برف پگھلنے سے حاصل ہونے والا پانی ضائع ہونے کے بجائے مفید کام میں آئے، لیفٹیننٹ گورنر نے سب سے پہلے اسٹوگ گاؤں نالہ کی نشاندہی کی، جہاں سے پانی کو موجودہ نہر میں منتقل کیا جاسکتا تھا۔ اسٹوگ نالہ لیہہ کے قریب اسٹوگ کانگری گلیشیئر سے پانی حاصل کرتا ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر کی ہدایت پر محکمہ آب پاشی و سیلاب کنٹرول نے 14 اگست کو نالے کے مرکزی آبی راستے سے اضافی گلیشیائی پانی کو ایگو-پھے نہر میں منتقل کرنے کے لیے جے سی بی مشین کی مدد سے دو خندقیں بنا کر کامیابی سے پانی کا رخ موڑ دیا۔
جاری۔یواین آئی۔ ظا
جموں و کشمیر
کرّا نے امریکی سفیر کے بیان پر سوال اٹھایا، کہا جموں و کشمیر ہندوستان کا اٹوٹ حصہ ہے
سری نگر، جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی (جے کے پی سی سی) کے صدر طارق کرّا نے جمعرات کو ہندوستان میں امریکی سفیر سرجیو گور کے اس بیان پر سوال اٹھایا جس میں انہوں نے جموں و کشمیر کو ’’ہندوستان کا ایک اہم حصہ‘‘ قرار دیا تھا۔ کرّا نے کہا کہ یہ خطہ ہمیشہ سے ہندوستان کا اٹوٹ حصہ رہا ہے۔
گور کے جموں و کشمیر کے پہلے دورے کے دوران دیے گئے بیان پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کرّا نے کہاکہ ’’جموں و کشمیر ہندوستان کا اٹوٹ حصہ تھا، ہے اور ہمیشہ اٹوٹ حصہ رہے گا۔ ہمیں پہلی مرتبہ یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ ہم اہم ہیں۔‘‘
ہندوستان میں امریکی سفیر سرجیو گور نے بدھ کو مرکز کے زیر انتظام علاقے جموں و کشمیر کے اپنے پہلے دورے کے دوران اسے ’’ہندوستان کا ایک اہم حصہ‘‘ قرار دیا تھا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا تھا کہ امریکہ اس خطے کے لیے اپنی سفری ہدایات پر نظرثانی کرے گا۔
کرّا نے کہا کہ جموں و کشمیر اپنے جغرافیائی محلِ وقوع اور متعدد ممالک، بشمول ’’دو انتہائی مخالف پڑوسی ممالک‘‘ سے قربت کی وجہ سے اسٹریٹجک اعتبار سے اہم ہے۔
انہوں نے بی جے پی کی قیادت والی حکومت کی خارجہ پالیسی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور الزام لگایا کہ موجودہ حکومت کے دور میں تیسرے فریق کی مداخلت میں اضافہ ہوا ہے، حالانکہ شملہ معاہدہ ایسی مداخلت کو مسترد کرتا ہے۔
کرّا نے کہاکہ ’’اگر کسی کے ذہن میں یہ بات ہے کہ وہ مختلف بہانوں سے ہماری آڑ میں اپنی بندوقیں نصب کرے گا تو یہ ہمیں ہرگز قبول نہیں ہے۔‘‘
پاکستان کی جانب سے گور کے بیان کے خلاف باضابطہ شکایت درج کرانے کے بارے میں پوچھے جانے پر کرّا نے کہاکہ ’’انہیں اس معاملے پر تبصرہ کرنے کا مینڈیٹ حاصل نہیں تھا۔‘‘
انہوں نے ایک بار پھر کہا کہ کانگریس جموں و کشمیر کو ہندوستان کا اٹوٹ حصہ مانتی ہے اور یہ خطہ ’’ہندوستان کا اٹوٹ حصہ رہے گا۔‘‘
یواین آئی۔ طا
جموں و کشمیر
ڈی جی پی نالن پربھات نے پیر پنجال میں عارضی آپریشنل اڈوں کا جائزہ لیا
سری نگر، جموں و کشمیر کے پولیس سربراہ (ڈی جی پی) نالن پربھات نے بدھ کو پیر پنجال پہاڑی سلسلے کے شمالی حصے میں قائم عارضی آپریشنل اڈوں (ٹی او بی) کی کارروائیوں کا جائزہ لیا۔
پولیس کے مطابق ڈی جی پی کے ہمراہ کشمیر زون کے انسپکٹر جنرل آف پولیس وی کے برڈی، وسطی کشمیر کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل راجیو پانڈے، بڈگام کے ایس ایس پی ہری پرساد کے کے اور دیگر پولیس اہلکار موجود تھے۔
دورے کے دوران ڈی جی پی نے عارضی آپریشنل اڈوں کی سرگرمیوں اور آپریشنل انتظامات کا جائزہ لیا۔
پولیس بیان کے مطابق یہ جائزہ ایسے وقت میں لیا گیا ہے جب اونچے پہاڑی علاقوں اور جنگلاتی خطوں میں سکیورٹی پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ ملی ٹینٹوں کی نقل و حرکت کو روکنے کے لیے سکیورٹی فورسز نے ان علاقوں میں اپنی موجودگی مزید مضبوط کر دی ہے۔
سیکورٹی نظام کے تحت بلند پہاڑی چوٹیوں اور حساس جنگلاتی راستوں پر مسلسل نگرانی اور غلبہ برقرار رکھنے پر خصوصی توجہ مرکوز کی جا رہی ہے۔
یو این آئی ۔ م س ۔ م الف
جموں و کشمیر
سرینگر میں دریائے جہلم کے سیلابی علاقے میں غیر قانونی تعمیرات پر اے سی بی نے مقدمہ درج کرلیا
سرینگر، انسدادِ بدعنوانی بیورو (اے سی بی)، سرینگر نے بدھ کے روز سرینگر ڈیولپمنٹ اتھارٹی (ایس ڈی اے) اور سرینگر میونسپل کارپوریشن (ایس ایم سی) کے کئی سابق افسران سمیت دو مستفیدین کے خلاف سرینگر کے راج باغ علاقے میں دریائے جہلم کے سیلابی حوض اور دریا کے کنارے کے علاقے میں کثیر منزلہ عمارت کی مبینہ غیر قانونی تعمیر کے معاملے میں مقدمہ درج کیا ہے۔
اے سی بی کے ایک بیان کے مطابق ماحولیاتی اعتبار سے حساس علاقے میں غیر مجاز تعمیرات کے الزامات کی بنیاد پر مشترکہ اچانک جانچ اور بعد ازاں تصدیق کے بعد ایف آئی آر نمبر 10/2026 درج کی گئی۔
جانچ کے دوران عمارت کی منظوری اور بعد میں تعمیراتی اجازت نامے میں کی گئی ترمیم کے سلسلے میں کئی بے ضابطگیاں سامنے آئیں۔
تفتیش کاروں کے مطابق متعلقہ محکموں سے لازمی عدم اعتراض سرٹیفکیٹ (این او سی) حاصل کیے بغیر عمارت کے زیریں حصے کے رقبے اور اونچائی میں نمایاں اضافہ کیا گیا۔
تحقیقات میں تقریباً 2.9 کنال سرکاری اور کہچرائی اراضی پر مبینہ قبضے کا بھی انکشاف ہوا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ تعمیرات نکاسیٔ آب کے بنیادی ڈھانچے کے اوپر بھی کی گئی تھیں اور دریا کے کنارے کے ممنوعہ علاقے تک پھیلی ہوئی تھیں۔
ایف آئی آر میں نامزد افراد میں ایس ڈی اے کے سابق سینئر ٹاؤن پلانر منیر احمد خان ، ایس ایم سی کے سابق جوائنٹ کمشنر پلاننگ آر کے ٹٹو ، ایس ایم سی کی سابق انچارج اسسٹنٹ ٹاؤن پلانر الفت جان ، دیگر متعلقہ افسران اور مستفیدین گلزار احمد شیخ اور پروینہ اختر شامل ہیں۔
اے سی بی نے کہا کہ ملزمان کے خلاف سرکاری عہدے کے مبینہ ناجائز استعمال، مجرمانہ سازش، غیر مجاز تعمیرات اور تجاوزات میں سہولت فراہم کرنے کے الزامات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
یہ مقدمہ جموں و کشمیر انسدادِ بدعنوانی ایکٹ، ایس وی ٹی 2006** کی دفعہ 5(1)(d) بمعہ دفعہ 5(2)، رنبیر پینل کوڈ کی دفعات 447-اے، 468 اور 120 سمیت دیگر متعلقہ دفعات کے تحت درج کیا گیا ہے۔ اے سی بی نے بتایا کہ معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔
یو این آئی۔ م س۔ م الف
-
جموں و کشمیر1 week agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
ہندوستان7 days agoملک کی اجتماعی یادداشت کے محافظ اور مستقبل کے تصور کے خالق ہیں فنکار: مرمو
-
دنیا1 week agoکولمبیا کے صدر نے معاشی ہنگامی حالت نافذ کی
-
ہندوستان1 week agoکھرگے کی توہین پر پرینکا نے جتایا سخت اعتراض، مودی سے مانگا جواب
-
ہندوستان1 week agoتبدیلی، اتحاد، آئین کے تحفظ کے لیے سیاسی طاقت ضروری: کھرگے
-
دنیا1 week agoلبنان میں ہماری فوج تعینات رہے گی:اسرائیل کاتز
-
جموں و کشمیر1 week agoمعروف کشمیری مصنف سروا نند کول ‘پریمی’، ان کے چھوٹے بیٹے ویریندر کول کے قتل کیس میں جموں و کشمیر میں نو مقامات پر چھاپے
-
دنیا1 week agoکولمبیا:زلزلے سے ہلاک شدگان کی تعداد496ہو گئی،قومی سوگ کا اعلان
-
دنیا1 week agoموساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
-
دنیا6 days agoغزہ سٹی کے پولیس سربراہ اسرائیلی حملوں میں ہلاک، اسرائیل کی مہلک کارروائیاں جاری
-
دنیا1 week agoعمان کے تباہ حال ٹینکر سے ساحل تک تیل پہنچ گیا، 40 کلومیٹر ساحلی پٹی متاثر
-
جموں و کشمیر6 days agoکشمیری پنڈتوں کے لیے ’گھر سے کام‘ کا کوئی حکم جاری نہیں کیا گیا: ڈویژنل کمشنر
