تجزیہ
نیپال کا تباہ کن سیلاب: وجوہات اوراثرات
خصوصی مضمون: ظفراقبال
نیپال اپنی جغرافیائی ساخت کے اعتبار سے دنیا کے انتہائی حساس ممالک میں شمار ہوتا ہے، ایک طرف ہمالیہ کی بلند و بالا برف پوش چوٹیاں، گلیشیئرز اور برفانی جھیلیں ہیں تو دوسری طرف گہری اور تنگ وادیاں، تیز بہاؤ والے دریا اور پہاڑی ڈھلوانیں، یہی جغرافیہ نیپال کو قدرتی حسن عطا کرتا ہے، لیکن اسے سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ، برفانی تودوں اور زلزلوں جیسے خطرات سے بھی دوچار رکھتا ہے، حالیہ برسوں میں موسمیاتی تبدیلی نے ان خطرات کی نوعیت کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
26 اگست 2026 کو نیپال کے رسووا ضلع اور اس سے ملحقہ علاقوں میں آنے والے اچانک سیلاب نے اس حقیقت کو ایک مرتبہ پھر نمایاں کردیا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق بھوٹے کوشی اور ترشولی دریائی نظام میں پانی کا ایک انتہائی تیز اور اچانک ریلا آیا، جس سے مکانات، سڑکیں، پل، بجلی کے منصوبے، بازار اور سرحدی تنصیبات متاثر ہوئیں۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق رسووا، نواکوٹ، دھادنگ، چتوان، گورکھا اور تنہون سمیت کئی اضلاع متاثر ہوئے اور تقریباً 10 ہزار گھرانوں کو فوری امداد کی ضرورت پیش آئی۔
اس واقعے کی سب سے اہم خصوصیت یہ تھی کہ یہ روایتی مون سون سیلاب جیسا نہیں تھا۔ ابتدائی تحقیقات میں کسی غیر معمولی شدید بارش کو بنیادی سبب نہیں پایا گیا، بلکہ برفانی تودے، برف اور چٹانوں کے ملبے سے دریا کے عارضی طور پر بند ہونے اور پھر اس بندش کے اچانک ٹوٹنے کو اہم ممکنہ سبب قرار دیا گیا۔
عام سیلاب میں پانی کی سطح بتدریج بلند ہوتی ہے اور لوگوں کو کسی حد تک محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کا وقت مل جاتا ہے۔ اس کے برعکس اچانک سیلاب (Flash Flood) چند منٹ یا مختصر مدت میں انتہائی تیزی سے آتا ہے۔ پہاڑی علاقوں میں اس کی رفتار اور تباہ کن قوت کئی گنا زیادہ ہوتی ہے کیونکہ پانی بلندی سے ڈھلوان کی طرف تیزی سے بہتا ہے اور راستے میں مٹی، پتھر، درخت، برف اور دیگر ملبہ بھی اپنے ساتھ بہا لے جاتا ہے۔
نیپال کی جغرافیائی ساخت ایسے سیلاب کو مزید خطرناک بنا دیتی ہے۔ یہاں بلند پہاڑوں کے درمیان دریا انتہائی تنگ اور گہری وادیوں سے گزرتے ہیں۔ جب اچانک بڑی مقدار میں پانی ان وادیوں میں داخل ہوتا ہے تو وہ ایک قدرتی “سرنگ” کی طرح پانی کے بہاؤ کو مرتکز کرکے اس کی رفتار اور طاقت میں اضافہ کر دیتی ہیں۔
26 اگست کے واقعے کے بارے میں ابتدائی تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی کہ ہمالیہ کے بلند علاقے میں برفانی تودہ یا برف و چٹان کا ملبہ دریائے لہینڈے کھولا میں گرا اور اس نے دریا کے بہاؤ کو عارضی طور پر روک دیا۔ اس رکاوٹ کے نتیجے میں پانی جمع ہوتا گیا۔ بعد ازاں جب عارضی بند ٹوٹا تو پانی، برف، چٹان اور مٹی کا ایک زبردست ریلا نیچے کی جانب بہہ نکلا۔
نیپال کے محکمہ آب و ہوا و آب پاشی سے متعلق حکام نے سیٹلائٹ تصاویر کی ابتدائی بنیاد پر بتایا کہ دریا سے تقریباً 20 کلومیٹر اوپر ملبے نے پانی کا راستہ روکا، جس سے ایک عارضی جھیل بن گئی اور پھر وہ اچانک ٹوٹ گئی۔ پانی میں بڑی مقدار میں ملبہ شامل ہونے کی وجہ سے سیلاب کی تباہ کن طاقت کہیں زیادہ ہوگئی۔ابتدائی مرحلے میں ایک زلزلے کو بھی ممکنہ محرک سمجھا گیا تھا، لیکن بعد کی امریکی جیولوجیکل سروے کی تحقیقات نے اس مفروضے کو تبدیل کردیا۔ اضافی سیسمک ڈیٹا اور سیٹلائٹ تصاویر کے تجزیے سے یہ نتیجہ نکلا کہ جس لرزش کو ابتدا میں زلزلہ سمجھا گیا تھا، وہ دراصل گلیشیئر کے انہدام اور ملبے کے بہاؤ سے پیدا ہوئی تھی۔اس واقعے کی یہ خصوصیت خاص طور پر اہم ہے، کیونکہ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر اچانک پہاڑی سیلاب لازماً شدید بارش یا زلزلے کا نتیجہ نہیں ہوتا۔ کبھی گلیشیئر کے ایک بڑے حصے کا ٹوٹنا بھی ایسا سلسلہ شروع کرسکتا ہے جس کا اختتام ایک تباہ کن سیلاب پر ہوتا ہے۔
نیپال کے حالیہ سیلاب کو صرف ایک مقامی قدرتی حادثہ سمجھنا درست نہیں ہوگا۔ ہمالیائی خطہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے۔ بڑھتے ہوئے درجہ حرارت سے گلیشیئرز پگھل رہے ہیں، برفانی جھیلوں کا حجم بڑھ رہا ہے اور بلند پہاڑوں کی چٹانوں اور برف کے درمیان استحکام متاثر ہو رہا ہے۔درجہ حرارت میں اضافے سے برف اور گلیشیئر کے اندر پانی کی مقدار بڑھ سکتی ہے۔ یہ پانی دراڑوں کے ذریعے اندر پہنچ کر برف اور چٹان کے درمیان رگڑ کم کرسکتا ہے۔ نتیجتاً وہ برفانی یا چٹانی ڈھانچے جو طویل عرصے تک مستحکم رہے ہوں، اچانک حرکت کرسکتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ہمالیہ کے گرم ہوتے ماحول میں گلیشیئرز کے عدم استحکام، برفانی تودوں، لینڈ سلائیڈنگ اور سیلاب کا باہمی تعلق مستقبل میں مزید اہم ہوسکتا ہے۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر سیلاب براہِ راست موسمیاتی تبدیلی کا نتیجہ ہے۔ کسی مخصوص واقعے کے لیے محرک برفانی تودہ، جھیل کا پھٹنا، شدید بارش یا دوسری جغرافیائی تبدیلی ہوسکتی ہے۔ تاہم موسمیاتی تبدیلی ان پہاڑی نظاموں کے بنیادی استحکام کو متاثر کرکے ایسے واقعات کے لیے سازگار حالات پیدا کرسکتی ہے۔
نیپال کی ایک بڑی کمزوری اس کی انتہائی پیچیدہ جغرافیائی ساخت ہے۔ ملک کے شمال میں بلند ہمالیہ، درمیان میں پہاڑی علاقے اور جنوب میں نسبتاً ہموار ترائی کا خطہ ہے۔ بہت سے دریا بلند پہاڑوں سے نکل کر انتہائی تنگ وادیوں سے گزرتے ہیں۔اس صورتحال میں اگر اوپر کہیں پانی کا اچانک ذخیرہ بن جائے اور پھر وہ ٹوٹ جائے تو نیچے آباد علاقوں تک پانی پہنچنے میں بہت کم وقت لگ سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ روایتی سیلابی انتباہی نظام ایسے واقعات میں ناکافی ثابت ہوسکتا ہے۔عام طور پر سیلاب کی نگرانی بارش اور دریا کی سطح کی بنیاد پر کی جاتی ہے۔ لیکن اگر آسمان صاف ہو، بارش نہ ہورہی ہو اور اچانک کسی گلیشیئر یا ملبے کی رکاوٹ ٹوٹ جائے تو بارش پر مبنی نظام خطرے کی پیشگی اطلاع نہیں دے پاتا۔ حالیہ نیپالی سیلاب نے اسی کمزوری کو نمایاں کیا ہے۔اچانک سیلاب کا سب سے نمایاں اثر بنیادی ڈھانچے پر پڑتا ہے۔ حالیہ واقعے میں سڑکیں، پل، گھر، بازار، سرحدی تنصیبات اور پن بجلی کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا۔ کئی علاقوں میں مواصلاتی رابطے اور بجلی کی فراہمی بھی متاثر ہوئی۔
نیپال کے لیے پن بجلی خاص اہمیت رکھتی ہے۔ ملک کے پہاڑی دریا بجلی پیدا کرنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں اور متعدد منصوبے دریاؤں کے قریب تعمیر کیے گئے ہیں۔ لیکن یہی منصوبے اچانک آنے والے برفانی سیلاب، ملبے اور چٹانوں کے بہاؤ کی زد میں آسکتے ہیں۔ 2025 میں بھی اسی دریائی نظام میں گلیشیائی جھیل کے پھٹنے سے آنے والے سیلاب نے متعدد پن بجلی منصوبوں کو متاثر کیا تھا۔
قدرتی آفت کا سب سے بڑا نقصان انسانی جانوں کا ضیاع ہے۔ اچانک آنے والے سیلاب میں لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کے لیے بہت کم وقت ملتا ہے۔ پانی کے ساتھ آنے والا ملبہ مکانات کو تباہ کرتا، گاڑیوں کو بہا لے جاتا اور سڑکوں کو ناقابل استعمال بنا دیتا ہے۔سیلاب کے بعد خطرات ختم نہیں ہوتے۔ صاف پانی کی فراہمی متاثر ہونے سے ہیضہ، اسہال اور دیگر آبی بیماریوں کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ تباہ شدہ صحت مراکز کے باعث زخمیوں اور بیماروں کو علاج کی سہولت ملنا مشکل ہوجاتا ہے۔ عالمی ادارہ صحت نے حالیہ سیلاب کے بعد غیر محفوظ پانی و خوراک، متعدی بیماریوں، مچھروں سے پھیلنے والی بیماریوں اور ذہنی دباؤ جیسے خطرات کی نشاندہی کی ہے۔
نیپال کی معیشت میں سیاحت، تجارت، زراعت، پن بجلی اور سرحدی تجارت اہم شعبے ہیں۔ جب سڑکیں اور پل تباہ ہوتے ہیں تو نہ صرف مقامی آبادی متاثر ہوتی ہے بلکہ اشیا کی ترسیل اور تجارتی سرگرمیاں بھی رک جاتی ہیں۔سرحدی راستوں کی بندش کا اثر دونوں جانب پڑتا ہے۔ سیاح، زائرین، تاجر اور مقامی مزدور راستوں کے بند ہونے سے پھنس سکتے ہیں۔ پن بجلی منصوبوں کو نقصان پہنچنے سے بجلی کی پیداوار اور قومی آمدنی متاثر ہوسکتی ہے۔ یوں ایک مختصر دورانیے کا سیلاب طویل مدت تک اقتصادی سرگرمیوں کو متاثر کرسکتا ہے۔
نیپال میں آنے والے اچانک سیلاب کے اثرات صرف نیپال تک محدود نہیں رہتے۔ نیپال سے نکلنے والے کئی دریا ہندوستان میں داخل ہوتے ہیں اور گنگا کے وسیع دریائی نظام کا حصہ بنتے ہیں۔ بھوٹے کوشی، ترشولی اور ناراینی سمیت دریائی نظاموں میں اچانک بڑے پیمانے پر پانی اور ملبے کا اخراج ہندوستان کے بہار، اتر پردیش اور دیگر نشیبی علاقوں میں سیلاب کا خطرہ بڑھا سکتا ہے۔ حالیہ واقعے کے بعد ہندوستان کے بعض نشیبی علاقوں میں بھی سیلابی انتباہ جاری کیے گئے۔یہ صورتحال ہندوستان اور نیپال کے درمیان سرحد پار آبی تعاون کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔ سیلاب، گلیشیئر اور دریائی پانی سیاسی سرحدوں کا احترام نہیں کرتے، اس لیے دونوں ممالک کے درمیان حقیقی وقت میں موسمیاتی، سیٹلائٹ اور دریائی معلومات کا تبادلہ ناگزیر ہے۔
سب سے اہم ضرورت جدید ابتدائی انتباہی نظام کی ہے۔ صرف بارش اور دریا کی سطح کی نگرانی کافی نہیں۔ گلیشیئرز، برفانی جھیلوں، پہاڑی ڈھلوانوں اور ممکنہ برفانی تودوں کی بھی مسلسل نگرانی ضروری ہے۔مصنوعی سیاروں، ڈرونز، سیسمک آلات، ریموٹ سینسنگ اور خودکار پانی ماپنے والے آلات کو ایک مربوط نظام میں شامل کیا جانا چاہیے۔ ایسے مقامات کی نشاندہی کی جانی چاہیے جہاں برفانی جھیل کے پھٹنے یا گلیشیائی انہدام کا امکان زیادہ ہے۔دوسری طرف ہمالیائی علاقوں میں تعمیرات کی منصوبہ بندی بھی نئے سرے سے کرنا ہوگی۔
دریاؤں کے قدرتی راستوں، سیلابی میدانوں اور انتہائی خطرناک وادیوں میں بے ہنگم تعمیرات مستقبل کی تباہ کاریوں کو کئی گنا بڑھا سکتی ہیں۔ سیلابی خطرے کے نقشے تیار کرکے نئی آبادیوں اور بنیادی ڈھانچے کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنا ضروری ہے۔
نیپال کا حالیہ اچانک سیلاب اس بات کا واضح انتباہ ہے کہ ہمالیائی خطے میں قدرتی آفات کی نوعیت تبدیل ہورہی ہے۔ یہ محض مون سون کی بارش سے پیدا ہونے والا روایتی سیلاب نہیں تھا بلکہ برفانی انہدام، ملبے کے بہاؤ، عارضی دریائی بندش اور اچانک پانی کے اخراج جیسے عوامل نے اسے انتہائی تباہ کن بنا دیا۔اس سانحے کا سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ آنے والے برسوں میں ہمالیہ کو صرف سیلاب کے نہیں بلکہ “اچانک اور غیر متوقع” سیلابوں کے خطرے کے لیے تیار ہونا ہوگا۔ موسمیاتی تبدیلی، گلیشیئرز کا عدم استحکام اور پہاڑی علاقوں میں بڑھتی انسانی سرگرمیاں ایک دوسرے سے جڑ کر نئے خطرات پیدا کررہی ہیں۔
نیپال کے لیے ضروری ہے کہ وہ جدید سائنسی نگرانی، مؤثر ابتدائی انتباہ، محفوظ تعمیرات اور مقامی آبادی کی تربیت پر سرمایہ کاری کرے۔ ہندوستان، چین اور نیپال کو بھی مشترکہ ہمالیائی خطرات کے لیے باقاعدہ معلوماتی اور امدادی نظام قائم کرنا چاہیے۔ اگر پیشگی انتباہ، سائنسی تحقیق اور علاقائی تعاون کو ترجیح دی جائے تو قدرتی آفات کو مکمل طور پر روکنا ممکن نہ ہونے کے باوجود ان سے ہونے والی انسانی اور معاشی تباہی کو بڑی حد تک کم کیا جاسکتا ہے۔
(یواین آئی)
تازہ ترین
یوم آزادی اور مسلمان
یوم آزادی ہر قوم کی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ وہ دن ہوتا ہے جب ایک قوم غلامی کی زنجیروں کو توڑ کر آزادی کی نعمت حاصل کرتی ہے۔ ہندوستان کے لیے ۱۵ اگست کا دن اسی اہمیت کا حامل ہے۔ یہ دن ہمیں اپنے اسلاف کی قربانیوں کی یاد دلاتا ہے اور ساتھ ہی یہ احساس بھی دلاتا ہے کہ آزادی کے بعد ہماری ذمہ داریاں کیا ہیں، خصوصاً مسلمانوں کی حیثیت سے ہم پر کیا فرائض عائد ہوتے ہیں۔
مسلمانان ہند نے آزادی کی جدوجہد میں نمایاں کردار ادا کیا اور بے شمار قربانیاں پیش کیں۔ لیکن آزادی کے بعد اصل امتحان شروع ہوتا ہے، کیونکہ آزادی کے ساتھ ذمہ داریاں بھی وابستہ ہوتی ہیں۔ قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: “إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالإِحْسَانِ” (سورۃ النحل: ۹۰) یعنی اللہ تمہیں عدل اور احسان کا حکم دیتا ہے۔ یہ آیت ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ ایک مسلمان کی بنیادی ذمہ داری انصاف اور بھلائی کو فروغ دینا ہے، خواہ وہ کسی بھی معاشرے میں رہتا ہو۔
ایک مسلمان کی حیثیت سے سب سے پہلی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ اپنے ملک کے آئین اور قوانین کی پاسداری کرے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: “المسلمون على شروطهم” (سنن ابی داؤد) یعنی مسلمان اپنے معاہدوں کی پابندی کرتے ہیں۔ اس حدیث کی روشنی میں یہ بات واضح ہوتی ہے کہ جس ملک میں ہم رہتے ہیں، اس کے قوانین اور اصولوں کا احترام کرنا ہماری دینی ذمہ داری ہے۔
یوم آزادی ہمیں اتحاد اور یکجہتی کا پیغام دیتا ہے۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: “وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا” (سورۃ آل عمران: ۱۰۳) یعنی سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ میں نہ پڑو۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ نہ صرف آپس میں اتحاد برقرار رکھیں بلکہ دیگر برادریوں کے ساتھ بھی بھائی چارہ اور ہم آہنگی کو فروغ دیں۔
اسلام امن، محبت اور رواداری کا مذہب ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: “المسلم من سلم المسلمون من لسانه ويده” (صحیح بخاری) یعنی مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے لوگ محفوظ رہیں۔ اس حدیث کی روشنی میں ہمیں یہ سمجھ آتا ہے کہ ایک اچھا مسلمان وہی ہے جو معاشرے میں امن اور سکون کا ذریعہ بنے۔
تعلیم کی اہمیت پر بھی قرآن و حدیث میں بہت زور دیا گیا ہے۔ قرآن کی پہلی وحی ہی “اقْرَأْ” (پڑھو) کے حکم سے شروع ہوتی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: “طلب العلم فريضة على كل مسلم” (سنن ابن ماجہ) یعنی علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔ اس لیے مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ دینی اور عصری تعلیم دونوں پر توجہ دیں تاکہ وہ اپنے فرائض کو بہتر انداز میں ادا کر سکیں اور ملک کی ترقی میں حصہ لے سکیں۔
سماجی ذمہ داریوں کے حوالے سے قرآن میں ارشاد ہوتا ہے: “وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى” (سورۃ المائدہ: ۲) یعنی نیکی اور تقویٰ کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کرو۔ اس آیت کی روشنی میں مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اپنے معاشرے کی اصلاح کے لیے کام کریں، غریبوں اور محتاجوں کی مدد کریں، اور انصاف کے قیام کے لیے جدوجہد کریں۔
سیاسی شعور بھی ایک اہم ذمہ داری ہے۔ اسلام ہمیں مشورے اور اجتماعی فیصلوں کی تعلیم دیتا ہے۔ قرآن میں ارشاد ہے: “وَأَمْرُهُمْ شُورَىٰ بَيْنَهُمْ” (سورۃ الشوریٰ: ۳۸) یعنی ان کے معاملات آپس کے مشورے سے طے ہوتے ہیں۔ اس اصول کی روشنی میں مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ جمہوری عمل میں حصہ لیں، اپنے ووٹ کا صحیح استعمال کریں اور ایسے نمائندوں کا انتخاب کریں جو انصاف اور دیانت کے ساتھ کام کریں۔
یوم آزادی کا تقاضا ہے کہ ہم اپنے ماضی کی قربانیوں کو یاد رکھتے ہوئے حال میں اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں اور مستقبل کے لیے بہتر منصوبہ بندی کریں۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اپنے دین کی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے ایک مثالی شہری بنیں، ملک کی ترقی میں حصہ لیں اور امن و امان کے قیام میں اپنا کردار ادا کریں۔
آزادی ایک عظیم نعمت ہے، اور اس کی حفاظت ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ اگر مسلمان قرآن و سنت کی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے اپنی قومی اور سماجی ذمہ داریوں کو ادا کریں، تو نہ صرف وہ خود ترقی کریں گے بلکہ پورے ملک کی خوشحالی اور استحکام میں بھی اہم کردار ادا کریں گے۔ یہی یوم آزادی کا حقیقی پیغام ہے اور یہی ہماری کامیابی کا راستہ ہے۔
محمد حفیظ الدین
سکریٹری،گنجریا اتحادویلفیئر سوسائٹی
hafiznoori1987@gmail.com
تجزیہ
سوراج: تصاویر، کارٹونوں اور نوادرات کے ذریعے بیان کی گئی ہندوستان کی آزادی کی کہانی
جینت رائے چودھری
نئی دہلی، کوئی ہندوستان کی آزادی کا جشن کیسے مناتا ہے؟ پوسٹروں، تصویروں، کارٹونوں، کیلنڈروں اور یادگار اشیاء کی ایک نمائش، جو آزادی کی طرف اور آزادی کے بعد ہندوستان کے سفر کا جشن مناتی ہے، بشمول پچھلی دو صدیوں کے دوران رونما ہونے والے تمام ہنگامہ خیز واقعات کے بالکل یہی نیویل تولی کا وہ خیال ہے جو انڈیا ہیبیٹیٹ سینٹر میں سوچ سمجھ کر تیار کی گئی نمائش “سوراج” کے پیچھے ہے، جو پوسٹروں، تصویروں، دستاویزات اور یادگاری اشیاء کی ایک نمائش ہے جو آزادی کے لیے ہندوستان کے طویل سفر اور 1947 کے بعد اس کے شاندار، ہنگامہ خیز سفر کا احاطہ کرتی ہے۔
تولی نے 16 ویں صدی میں ہندوستان کے ساحل کے ساتھ فرانسیسی اور ڈچ بستیوں کی تانبے کی تختی کی نقش و نگاری سے لے کر تحریک آزادی کے پوسٹروں، سبھاش چندر جیسی فلموں کے اشتہارات اور فلمساز باسو چٹرجی کے بلٹز کے لیے بنائے گئے سیاسی کارٹونوں تک اپنی نمائش کا جائزہ لینے کے دوران یو این آئی سے بات کرتے ہوئے کہا، “میں نوجوانوں میں تخیل کو بیدار کرنے کے لیے بصری، مقبول ثقافتی تصورات کا استعمال کرتا رہا ہوں تاکہ ہماری جنگِ آزادی کو سمجھنے کی کوشش کی جائے… ہمارا تعلیمی نظام سیکھنے کو محدود کر دیتا ہے، اس طرح کی عوامی نمائش سوچ اور احساس کو ابھارنے کی کوشش کرتی ہے۔”
تاریخ کا ایک ایسا منظر جو سامنے آنے والی کہانی میں کسی کا فریق بنے بغیر سوالات کو جنم دیتا ہے اور ابھارتا ہے اور جوابات فراہم کرتا ہے۔ کانگریس، کمیونسٹ، اور عسکری انقلابی تحریکیں سبھی کی نمائندگی کی گئی ہے، جیسا کہ آر ایس ایس کی ہے۔
یہ نمائش آزادی کی جنگ کے روایتی مطبوعہ بیانیے سے آگے دیکھنے کی کوشش کرتی ہے۔ یہ پچھلی دو صدیوں کا سفر کرتی ہے، ان واقعات، شخصیات اور تحریکوں کو اکٹھا کرتی ہے جنہوں نے برصغیر کو نوآبادیاتی تسلط اور مزاحمت سے تبدیل کیا؛ 1857 کی بغاوت؛ قوم پرستی کا عروج؛ بنگال کی نشاۃ ثانیہ؛ سودیشی تحریک؛ گاندھی اور عوامی تحریکیں؛ انقلابی جدوجہد؛ دونوں عالمی جنگیں؛ تقسیم اور آزادی۔
تاہم، سوراج 15 اگست 1947 پر ختم نہیں ہوتا۔ سفر جاری ہے — چین کے ساتھ 1962 کی جنگ، 1971 کی بنگلہ دیش کی آزادی، اور محترمہ اندرا گاندھی اور راجیو گاندھی کے قتل اس دور کے اخبارات کے صفحات کے ذریعے اور پوسٹروں اور کارٹونوں کے ذریعے آپ کو گھورتے ہیں۔
ہندوستان کو ایک ایسے ملک کے طور پر دکھایا گیا ہے جیسا کہ وہ تھا، انتشار کا شکار، متنوع، اور پھر بھی ایک مشترکہ منزل کی طرف گامزن۔ ایک ایسی قوم جو تقسیم، مہاجروں، جنگوں، رجواڑہ ریاستوں کے انضمام، آئین کی تشکیل، ریاستوں کی لسانی تنظیم نو، سیاسی اتھل پتھل، اقتصادی تبدیلی، ایمرجنسی، لبرلائزیشن اور ان ڈرامائی تبدیلیوں کا سامنا کر رہی ہے جنہوں نے آزادی کے بعد کی دہائیوں میں ہندوستان کو نئی شکل دی ہے۔
بھولے ہوئے سیاسی کارٹون نگاروں اور ہندوستان کے معاشی مسائل، اندرونی کشمکش، اور برصغیر کو متاثر کرنے والی جغرافیائی سیاست پر ان کے شاندار طنز کو تاریخ پر روشنی ڈالنے کے لیے واپس لایا گیا ہے۔
پاپ کیلنڈر جو بوس کو بھارت ماتا کو حتمی قربانی پیش کرنے کے لیے اپنا سر کاٹتے ہوئے دکھاتے ہیں، ایک سوچ میں ڈوبے ہوئے جواہر لعل نہرو کی کیلنڈر آرٹ کے ساتھ رکھے گئے ہیں، اس کے ساتھ بڑی سیاہ و سفید تصاویر ہیں جو 1950 کی دہائی کے “جدید ہندوستان کے مندر” کہلانے والے اسٹیل ملز اور کارخانوں کے جوش و خروش کو زندہ کرتی ہیں، بھولی ہوئی یادوں کو واپس لاتی ہیں یا نئی یادوں کو بیدار کرتی ہیں۔
پس منظر میں موسیقی ہلکے سے پرانے گانے بجاتی ہے، اور ناظرین “چھوڑو کل کی باتیں… ہم ہندوستانی” اور “آؤ بچوں تمہیں دکھاؤں جھانکی ہندوستان کی” جیسے دل کو چھو لینے والے گانوں کے ساتھ سُر ملاتے ہیں، جو 1950 اور 1960 کی دہائی کے حب الوطنی کے پاپ نغموں میں سب سے بہترین ہیں۔
پوسٹر، نایاب تصاویر، اخبار کے صفحات، سیاسی کارٹون، خطوط، سرکاری دستاویزات، اشتہارات، ذاتی یادگاری اشیاء، اور دیگر تاریخی نوادرات، جنہیں تولی نے سوراج کو تیار کرنے کے لیے اکٹھا کیا ہے، ہر دور کے ماحول کو دوبارہ تخلیق کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
ایک لحاظ سے، یہ جدید ہندوستان کی ایک غیر معمولی بصری تاریخ ہے، کسی ایک سیاسی نظریے یا ماضی کے کسی ایک ورژن کا جشن نہیں ہے، بلکہ ہندوستانی تجربے کے غیر معمولی دائرہ کار کو سمیٹنے کی ایک کوشش ہے۔
جیسے ہی بھیڑ نمائش کے درمیان گھومتی ہے، سیلفیاں بناتی ہے، تولی اپنے ماتھے کا پسینہ پونچھتے ہیں اور مسکراہٹ کے ساتھ کہتے ہیں، “لوگ اس لیے جڑتے ہیں کیونکہ نمائش، موسیقی، سبھی مل کر اس بات کا احساس دلاتے ہیں کہ ہندوستان نے کیا کچھ برداشت کیا۔”
نیویل تولی اور ان لوگوں کے لیے جو پاپ جدید تاریخ کی ان کی تیار کردہ سمجھ کو دیکھنے کے لیے جمع ہوئے ہیں، آزادی کا جشن منانے کا یہی مطلب ہے — یہ یاد رکھنا کہ ہم کہاں سے آئے ہیں، ان اتھل پتھل کو سمجھنا جنہوں نے ہمیں شکل دی، اور اس ہندوستان پر غور کرنا جسے ہم نے آزاد ہونے کے بعد سے تعمیر کیا ہے۔
یو این آئی ایف اے
تجزیہ
کاکروچ جنتا پارٹی کا احتجاج، بڑھتی ہوئی جی ڈی پی اور روزگار کے مواقع میں کمی
از: جینت رائے چودھری
نئی دہلی، دوپہر ڈھل چکی ہے، دہلی کی دھندلی دھوپ میں ہزاروں نوجوان لڑکے اور لڑکیاں جمع ہیں، وہ ایک ایسے احتجاج میں شریک ہیں، جو کئی دنوں سے جاری ہے، لیکن جمعہ کو کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کی جانب سے وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کے مطالبے پر ملک گیر تحریک کے اعلان کے بعد اس میں نئی جان آ گئی ہے،جن پتھ پر واقع عالیشان امپیریل ہوٹل سے جے پور کے سوائی مان سنگھ کی تعمیر کردہ اٹھارویں صدی کے اوائل کی رصد گاہ جنتر منتر کی جانب جانے والی تنگ سڑک کو پولیس نے بیریکیڈ لگا کر بند کر دیا ہے۔
فسادات پر قابو پانے والی پولیس کی تین قطاریں تعینات ہیں، لیکن اس کے باوجود دہلی اور اس کے آس پاس کی یونیورسٹیوں کے طلبہ بلکہ گوہاٹی سے پونے تک مختلف شہروں سے آئے نوجوان، پولیس کی ناکہ بندی سے بچتے ہوئے احتجاج میں شامل ہو رہے ہیں۔ اس احتجاج نے اب عالمی توجہ حاصل کر لی ہے۔
غازی آباد کے 21 سالہ انجینئرنگ کے طالب علم کوستوو دت نے کہا، “میں اس لیے آیا ہوں کیوں کہ پیر کے روز طلبہ کو بلاوجہ بری طرح پیٹا گیا۔ ہمارا تعلیمی نظام ٹوٹ چکا ہے۔ طلبہ صرف امتحانات میں شفافیت کا مطالبہ کر رہے تھے، پھر ان کے ساتھ مجرموں جیسا سلوک کیوں کیا گیا؟”
چند ہفتے قبل سی جے پی نے مئی میں منعقد ہونے والے نیشنل ایلیجبلٹی کم انٹرنس ٹیسٹ (نیٹ) میں مبینہ پرچہ لیک ہونے اور دیگر بے ضابطگیوں کے خلاف احتجاج شروع کیا تھا۔ پیر کو پولیس کی کارروائی، جس میں متعدد طلبہ کو دوڑا کر مارا گیا اور درجنوں زخمی ہوئے، جن میں کئی کی آنکھوں اور سر پر چوٹیں آئیں، کے بعد یہ احتجاج مزید شدت اختیار کر گیا۔
لیکن ہندوستان کے نوجوانوں کے لیے ناقص امتحانی نظام اور پولیس سے تصادم دراصل برسوں سے بڑھتی ہوئی بے چینی کا آخری سبب ثابت ہوا۔ 1990 کی دہائی سے ملک کی نوجوان آبادی، تعلیم کی شرح اور مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) میں مسلسل اضافہ ہوا، مگر روزگار کے مواقع اسی رفتار سے پیدا نہیں ہو سکے، جس کے نتیجے میں نوجوانوں میں شدید مایوسی جنم لیتی رہی۔
ہندوستان میں 15 سے 29 برس کی عمر کے تقریباً 36 کروڑ 70 لاکھ نوجوان ہیں، جو دنیا کی سب سے بڑی نوجوان آبادیوں میں شمار ہوتے ہیں۔ ایک وقت میں اسے ملک کا “یوتھ ڈیوڈنڈ” قرار دیا جاتا تھا، لیکن اس صلاحیت کو معاشی ترقی میں تبدیل کرنا اتنا آسان ثابت نہیں ہوا۔
اگرچہ ہندوستان کی جی ڈی پی کئی برسوں تک سات فی صد سے زیادہ کی رفتار سے بڑھتی رہی، لیکن سینٹر فار مانیٹرنگ انڈین اکانومی کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق رواں سال جون میں بے روزگاری کی شرح تقریباً 6.64 فی صد رہی۔
اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں میں یہ شرح اس سے بھی زیادہ ہے۔ عظیم پریم جی یونیورسٹی کی رواں سال جاری کردہ رپورٹ کے مطابق 25 سے 29 برس کی عمر کے گریجویٹس میں بے روزگاری کی شرح تقریباً 20 فیصد ہے۔
جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کے سابق پروفیسر معاشیات ڈاکٹر بسواجیت دھر نے یو این آئی سے کہا، “یہ احتجاج اس بات کی علامت ہے کہ ہم اپنی نوجوان آبادی کو وہ معاشی مواقع فراہم کرنے میں ناکام رہے ہیں جن کا وعدہ ایک زیادہ تعلیم یافتہ نسل سے کیا گیا تھا۔”
‘اسٹیٹ آف ورکنگ انڈیا 2026’ رپورٹ کے مطابق 05-2004سے 2023 تک ہر سال تقریباً 50 لاکھ نئے گریجویٹس سامنے آئے، لیکن ان میں سے صرف 28 لاکھ کو روزگار مل سکا۔ ان میں بھی مستقل تنخواہ والی ملازمت حاصل کرنے والوں کی تعداد بہت کم رہی، جس کے نتیجے میں گریجویٹ بے روزگاری میں اضافہ اور آمدنی کی رفتار میں کمی دیکھی گئی۔
کانپور سے تعلق رکھنے والی پوسٹ گریجویٹ طالبہ پریتی مشرا، جو جنوبی مشرقی دہلی میں ایک پیئنگ گیسٹ رہائش گاہ میں رہتی ہیں اور مختلف سرکاری و یونیورسٹی ملازمتوں کے امتحانات دے رہی ہیں، کہتی ہیں، “جہاں ملازمتیں موجود بھی ہیں وہاں ابتدائی تنخواہ اتنی کم ہے کہ والدین کو ہماری مالی مدد جاری رکھنی پڑتی ہے۔”
ہیومن ریسورس کمپنیوں کے مطابق ملک کے کئی حصوں میں انجینئروں کی ابتدائی تنخواہ آج بھی تقریباً 30 ہزار روپے ماہانہ ہے، اور گزشتہ آٹھ سے دس برس میں اس میں کوئی خاص اضافہ نہیں ہوا۔ پریتی مشرا کہتی ہیں، “معیاری ملازمتیں بہت کم ہیں، اسی لیے مسابقتی امتحانات کی دوڑ لگی ہوئی ہے اور اب نوجوانوں کو یہ خوف بھی ہے کہ ان امتحانات میں بھی ان کے ساتھ ناانصافی ہو رہی ہے۔”
اس کے باوجود ہندوستان میں اعلیٰ تعلیم میں داخلے کی شرح سن 2000 کے تقریباً 10 فی صد سے بڑھ کر 2026 میں 30 فی صد تک پہنچ گئی ہے، جس کا مطلب ہے کہ ملک میں پہلے سے کہیں زیادہ تعلیم یافتہ نوجوان موجود ہیں۔
کوستوو دت کہتے ہیں، “یہ تمام باتیں ہمیں پریشان کرتی ہیں۔ میرے والد کسان ہیں اور انہوں نے قرض لے کر ہم بہن بھائیوں کو پڑھایا ہے۔ کیا ہمیں ایسی ملازمت ملے گی جس سے ہمارے خاندان کی حالت بہتر ہو سکے؟ یا پھر ہمیں ملازمتوں میں امتیاز اور امتحانات میں دھوکے کا سامنا کرنا پڑے گا؟”
اسی دوران ہجوم میں زور دار نعرے گونجنے لگتے ہیں۔ سی جے پی کے رہنما ابھیجیت دیپکے اعلان کرتے ہیں کہ اب سب لوگ کھڑے ہو کر قومی ترانہ گائیں۔
پسینے اور شاید فخر سے چمکتے ہوئے چہرے روشن ہو اٹھتے ہیں جب وہاں موجود مجمع قومی ترانہ ‘جن گن من ‘ گاتا ہے۔
طلباء کو ضرورت پڑنے پر قابو میں رکھنے کے لیے لاٹھیوں کے ساتھ گھومنے والے پولیس اہلکار بھی مودب انداز میں کھڑے ہو جاتے ہیں۔ دہلی کے ابر آلود آسمان سے سورج بھی چند لمحوں کے لیے جھانکنے لگتا ہے۔
یواین آئی۔ م س ۔ م الف
-
تازہ ترین1 week agoیوم آزادی اور مسلمان
-
دنیا7 days agoایرانی صدر مسعود پزشکیان کو ملک کو درپیش ’’بہت سے مسائل‘‘ کا اعتراف، امریکہ کے ساتھ معاہدہ جنگ سے نکلنے کا بہترین راستہ
-
دنیا7 days agoنئی اقتصادی پابندیوں سے قبل ایران ’’مکمل طور پر تباہی کی طرف بڑھ رہا ہے‘‘:ٹرمپ کا دعویٰ
-
ہندوستان6 days agoذات پرمبنی مردم شماری کے طریقۂ کار پر کھرگے اور راہل نے تشویش کا اظہار کیا، مودی کو لکھا مشترکہ خط
-
دنیا1 week agoایران کا آبنائے ہرمز میں قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے بحری جہازوں کے خلاف کارروائی کا انتباہ
-
ہندوستان4 days agoہفتے کے روز ازبکستان اور کرغزستان کے چار روزہ دورے پر جائیں گے مودی
-
جموں و کشمیر7 days agoبجلی کے کرایوں میں اضافہ “غیر منصفانہ، بوجھل اور مکمل طور پر ناقابل برداشت:طارق قرہ
-
ہندوستان6 days agoہندستانی دفاعی صنعتوں کو ملے گی ڈی آر ڈی او کے روایتی میزائل نظام کی ٹیکنالوجی
-
دنیا1 week agoپاکستان کے آرمی چیف ایک بار پھر ایران میں، امن مذاکرات کا تعطل ختم کرا نے کی کوشش
-
دنیا7 days agoامریکہ، ایران کے خلاف ’’اقتصادی ڈی ڈے‘‘ میں داخل ہو گیا ہے: بیسنٹ
-
دنیا1 week agoامریکہ-کینیڈا تجارتی جنگ پھر بھڑک اٹھی، مذاکرات ناکام، اوٹاوا کا ڈالر کے بدلے ڈالر ٹیرف عائد کرنے کا اعلان
-
ہندوستان7 days agoاشیائے خوردونوش کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور روزگار کے بحران پر جے رام رمیش نے مرکزی حکومت کو نشانہ بنایا
